پاکستان: ہولناک بحران کی لپیٹ میں

|تحریر: پارس جان|

پاکستانی معیشت، ریاست اور سماج کا بحران کبھی نہ دیکھی گئی سطح پر پہنچ چکاہے۔ آئے روز ایسے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ جن کو سن کر سماج کی بھاری اکثریت کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان تمام بحرانوں کی بنیاد سرمایہ داری کا عالمی زوال ہی ہے مگر پاکستان کی ستر سالہ نا اہل سرمایہ داری کی مخصوص ثقافتی و تکنیکی پسماندگی کے باعث یہاں اس عالمی معاشی بحرا ن کے اثرات عالمی معیارات سے کہیں زیادہ گھناؤنے اور ہولناک ہیں۔ اب صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ ایسے بہت سے دانشور، صحافی اور درمیا نے طبقے کے شرفابھی، جو پہلے ہمیشہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ملک کے بہتر مستقبل کے لیے پرامید رہتے تھے، اب ملک کی سلامتی اوربقا کے حوالے سے انتہائی قنوطی قسم کے تبصرے کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ سرمایہ داروں، ججوں، جاگیرداروں، ملاؤں، جرنیلوں اور بیوروکریٹوں کے مکروہ اکٹھ پر مشتمل حکمران طبقے کی باہمی رسہ کشی اپنی جگہ مگر ان کے اپنے تمام تر تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز بھی ملک کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی پن کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاستدانوں سے لے کر جرنیلوں تک سب کے سب اپنی اولادیں اور جائیدادیں یورپ اور امریکہ میں منتقل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر ان کا المیہ یہ ہے کہ یہ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر یہ ان ممالک میں مستقل سکونت اختیارکر لیتے ہیں تو اپنی مسابقت کی نا اہلی کے باعث یہ وہا ں حکمران طبقے کا حصہ بن کر نہیں رہ سکتے بلکہ عام شہری کے طور پر زندگی گزارنی پڑے گی۔ ملک کے اندر جو ان کی رعونت، جاہ و جلال اوردبدبہ ہے، اس سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ اور ان کو اب اس رعونت اور جاہ و جلال کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ ان کے لیے اب اس کے بغیر زندہ رہنا بھی ایسے ہی ہے جیسے مچھلی کو خشکی پر چھوڑ دیا جائے۔ یہاں کے سیاستدان جب تک تھانے میں کسی غریب آدمی کی چھترول نہ کروالیں اس وقت تک ان کاکھانا ہضم نہیں ہوتا۔ اور یہ جرنیل جب تک اپنی خدائی شان و شوکت کا دکھاوا نہ کر لیں، چین کی نیند سو ہی نہیں سکتے۔ اب تو نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ ان کی بہو بیٹیاں بھی ’بلڈی سویلینز‘کو ان کی اوقات یاد دلانے میں لمحے بھر کے توقف کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حکمران اور ریاستی ناخدا جہاں بیرون ملک جائیدادیں بنانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں ہر دم کوشاں رہتے ہیں وہیں اپنی اس رعایا کو بھی مستقل خیرباد نہیں کہنا چاہتے۔ یہ ملک آج بھی ان کے لیے سونے کی چڑیا ہے اور اس کی مزید لوٹ مارکی ہوس ان کو آج بھی داخلی تنازعات میں سرگرم رکھے ہوئے ہے۔

 

ریاستی اداروں میں رتی برابر بھی پروفیشنل ازم باقی نہیں بچا۔ ملکی مفاد کسی بھی ادارے کی ترجیحات میں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ تمام ادارے مختلف فرقوں اور گروہوں میں منقسم ہو کر اندر سے مکمل طور پرکھوکھلے ہو چکے ہیں۔ حکمران طبقے کے کسی نہ کسی دھڑے یا عالمی و علاقائی آقاؤں کی خوشنودی اور اس کے نتیجے میں ملنے والی مالی و لاجسٹک مراعات کی خاطر اداروں کے سر براہان اور ان کے اتحادی اب اداروں کا گلہ گھونٹنے میں بھی کسی قسم کی ہچکچاہٹ کامظاہرہ نہیں کرتے۔ گزشتہ دنوں ایک ریٹائرڈ جرنیل کی پاکستانی سفارتخانہ فروخت کر دینے کی خبر نے بھی سب کو چونکا دیا تھا۔ اپنی مخصوص مجبوریوں کے باعث بورژوا میڈیا میں تو اس پر زیادہ تبصرے نظر نہیں آئے مگر سوشل میڈیا پر عوامی حیرت اور تشویش اپنی انتہاؤں پر نظر آئی۔ حال ہی میں کراچی سے آئی جی پولیس کے اغواکی خبر سن کر لوگ ششدر رہ گئے تھے۔ غیر ملکی میڈیا میں تو پولیس اور فوج کے مابین باقاعدہ تصادم کی خبریں بھی گرد ش کرتی رہیں اگرچہ ملکی میڈیا یا حکومتی سطح پر نہ تو اس کی تردید دیکھنے میں آئی اور نہ ہی تصدیق کی گئی۔ بہرحال یہ انتہائی غیر معمولی صورتحال ہے۔ کسی بھی ریاست میں داخلی تصادم جب اس سطح تک پہنچ جائے تو پھر ریاست کے وجود کے سامنے ہی بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جایا کرتا ہے۔ ریاست پہلے ہی بین الاقوامی تعلقات میں ہونے والی سنگین اتھل پتھل کے باعث غیر معمولی اور فیصلہ کن شناخت کے بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ امریکی سامراج کی ناراضگی کے سبب ریاست کو کشمیر پالیسی کے اوپر بھی بہت بڑا سمجھوتہ کرنا پڑا ہے۔ کشمیر چونکہ پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون رہا ہے، اس لیے اس اچانک بزدلانہ سمجھوتے نے ریاست کے انتہائی دائیں بازو کے اندر بھی شدید برہمی اور مایوسی کو جنم دیا تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے نہ صرف یہ کہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک سو اسی ڈگری کے زاویے پر تبدیل کر لیا ہے بلکہ وہ اور امریکہ بہادر پاکستان پر بھی اس حوالے سے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ عالمی معاشی بحران کے باعث تیل کی عالمی منڈی میں غیر مستحکم مانگ نے ان ممالک کو متبادل معاشی پالیسیوں کے لیے سوچ وچار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ معاشقے کی وجوہات بھی بنیادی طور پر معاشی ہی ہیں۔ ان حالات میں پاکستانی ریاست کوئی بھی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ہر دو صورتوں میں اداروں کے آپسی اور داخلی تصادم کی باقاعدہ خانہ جنگی کی طرف حرکت برق رفتار ہو سکتی ہے۔

یہ درست ہے کہ معیشت تن تنہا سماج کی حرکت کا تعین نہیں کرتی، ثقافتی و جغرافیائی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر موجودہ حالات میں تما م تر جغرافیائی و ثقافتی عناصر بھی ملکی معیشت کے عمومی زوال آمادہ رجحان کو تقویت ہی بخش رہے ہیں، اور یہ تمام عوامل مل کر ایک کلیت میں ریاست کی طبعی عمر کی میعاد مکمل ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کا دباؤ وفاقی حکومت کو مجبور کر رہا ہے کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کسی بھی قیمت پر تسلی بخش سطح پر برقرار رکھے جائیں۔ اس کے لیے وفاق اپنے اخراجات کو کم کرنے پر مجبور ہے، یہی مجبوری مختلف ادارو ں کو اپنی اپنی مراعات اور بندر بانٹ کے دفاع کے لیے ایک دوسرے سے الجھا رہی ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وفاقی ادارے صوبوں کے وسائل پر جھپٹ رہے ہیں تاکہ اپنے اخراجات کم نہ کرنے پڑیں۔ این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی بحث کے بعد اب جزائر کے وفاقی تسلط کے صدارتی آرڈیننس نے بھی قومی اور صوبائی محرومی کو مزید جلا بخشی ہے اور وفاق کی لایعنیت اور قبضہ گیریت کے خلاف شدید رد عمل بھی جنم لے رہا ہے۔ ایسے میں ریاست کے ہمیشہ سے وفادار حلقوں کی طرف سے بھی دھمکی آمیزلب و لہجے کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ ریاست کے پالتو ملاؤں کے اہم حصے بھی شدید ناراض دکھائی دیتے ہیں اور لبرل قوم پرستوں کی نعرے بازی بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ حالات اب اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان جیسا جرنیل پرور ملاں بھی کھل کر جرنیلوں کو للکار رہا ہے۔ موجودہ حکومت اور فوجی اشرافیہ کو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں لیکن زیادہ سنجیدے حلقے اسے ملکی سلامتی کے بحران کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

موجودہ حکمران انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ ملکی معیشت کی مسلسل بہتری کے قصے سناتے رہتے ہیں۔ کبھی کہاجاتاہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کر لیا گیاہے، کبھی زرِ مبادلہ کے ذخائرمیں اضافے کی نوید سنا دی جاتی ہے۔ اصل میں سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے سربراہان بخوبی جانتے ہیں کہ اعدادو شمار کے تمام تر ہیرپھیر کے باوجود ملکی معیشت کو قرضوں کے وینٹی لیٹر سے اتارنے کا تصور بھی نہیں کیاجا سکتا۔ کرونا ریلیف فنڈ کا بہت بڑا حصہ ڈکارنے کے باوجود یہاں کے صنعتکار پیداواری معیشت کے مسلسل سکڑاؤ میں کمی لانے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ سی پیک میں کیے گئے معاہدوں نے مقامی صنعت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا ہے۔ ایکسپورٹروقتاً فوقتاً حکومت سے مراعات لے کر بھی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکے۔ تجارتی خسارے میں اگر کبھی تھوڑی بہت کمی ریکارڈ بھی کی جاتی ہے تو اس کی بڑی وجہ برآمدات میں اضافے کی بجائے درآمدات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی گراوٹ ہوتی ہے، جس کی بنیادی وجہ ملکی منڈی کی طلب میں شدید ترین گراوٹ ہوتی ہے۔ یا پھر ملکی زرعی اجناس کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے اپنے ایکسپورٹرمافیا کے ایما پراندھا دھند برآمد کر دیا جاتا ہے اور پھر جب ملکی منڈی میں طلب آسمان پر پہنچ جاتی ہے تو وہی مافیا ہنگامی درآمد کے نام پر اربوں کی لوٹ مار کر لیتا ہے۔ رہی سہی کسرذخیرہ اندوز پوری کر دیتے ہیں جن کے موجودہ حکومتی نیٹ ورک سے فعال رابطے اور بھرپور اثرو رسوخ کے باعث کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

چینی اور گندم کے ساتھ ساتھ اب ادویات کا بحران بھی خوفناک حد تک شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اب یہ معمول بن چکا ہے کہ ہر ماہ ادویات کی مصنوعی قلت پیداکر دی جاتی ہے اور پھر قیمتوں میں اضافے کروا کر یہ سپلائی بحال کر دی جاتی ہے۔جان بچانے والی بہت سی ادویات کی قیمتوں میں تین سو فیصد تک بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یوں ان طفیلیوں کی شرح منافع کو انتہائی بحران کے دنوں میں بھی آسمان پر پہنچا دیا گیا ہے۔ بینک حکومتی پیپرز میں سرمایہ کاری کے ذریعے اب بھی اربوں روپے کے مافع بٹور رہے ہیں اور حکومت آئی ایم ایف، ورلڈبینک، چینی بینکوں اور داخلی قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کے تسلسل کو برقرار اور بحال رکھنے کے لیے عوام کو بے دریغ ذبح کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف سے انتہائی سخت شرائط پر کیے جانے والے قرضوں نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ بجلی اور گیس سمیت تمام حکو متی سبسڈیز ختم کی جا رہی ہیں۔ پنشنز کے خاتمے جیسے جابرانہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نجکاری، ڈاؤن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ کے ذریعے لاکھوں محنت کشوں کوبیروزگاری کی دلدل میں غرق کیا جا رہا ہے۔ صنعتوں کی بندش کے باعث بیروزگار ہونے والے کروڑوں محنت کش اس کے علاوہ ہیں۔ افراطِ زر اور بالخصوص اشیائے خوردونوش میں افراطِ زر میں پاکستان ایشیا میں سب سے آگے ہے۔ ملکی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ محنت کشوں کی تنخواہوں میں اتنے بھیانک افراطِ زر کے باوجود کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اتنے شدید معاشی قتل عام کے ذریعے ملکی معیشت کو زندہ رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کروڑوں چولہے ٹھنڈے کر کے بھی ملکی معیشت کا پہیہ چلتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ معیشت اور ریاست کا یہی تناؤ سیاسی انتشار کو بھی بڑھاوا دے رہا ہے۔

ان دنوں ملک میں سیاسی گہماگہمی پھر اپنے عروج پر پہنچی ہوئی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کی گیارہ پارٹیوں پر مبنی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نامی اتحاد نے ملک بھر میں احتجاجی جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جبکہ ایک طویل عرصے کے بعد ملک میں مختلف اداروں کے محنت کشوں نے اپنے اوپر ہونے والے معاشی و سیاسی حملوں کے خلاف مشترکہ پلیٹ فارمز تشکیل دے دیئے ہیں اور پھر مختلف صوبوں کے اتحادوں نے بین الصوبائی اتحاد بھی تشکیل دیئے ہیں جونہایت جرأت کے ساتھ میدان عمل میں اتر رہے ہیں۔ اپوزیشن کے احتجاجی جلسوں کی پذیرائی چونکہ الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا پر زورو شور سے ہو رہی ہے، اس لیے ہمارے بہت سے علمی، سیاسی و سماجی حلقوں میں صرف اسی تحریک کو زیربحث لایاجا رہاہے جبکہ محنت کش طبقے کی تحریک پر زیادہ بات نہیں کی جا رہی۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اس وقت تک گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ میں تین بڑے جلسہئ عام منعقد کر چکی ہے۔ ان جلسوں میں ہونے والی شرکت کو میڈیا پر بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ ان جلسوں میں ہونے والی مبینہ بڑی شرکت کے دو اہم پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ گیارہ پارٹیوں کی اپنی بقا کے لیے کی گئی اپنی استعداد سے بڑھ کر کی جانے والی کاوشوں کا نتیجہ ہیں اور دوم یہ کہ خود حامدمیر جیسے تجزیہ نگار بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کے اپنے کارکنوں کے علاوہ اگر کچھ عوامی حلقے ان جلسوں میں شریک ہوئے بھی ہیں تو وہ اپوزیشن پارٹیوں اور قیادتوں کی محبت میں نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں سے نفرت کا اظہار کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔ کراچی میں ہونے والا پی ڈی ایم کا جلسہ ابھی تک کا سب سے بڑا جلسہ تھا۔ پیپلز پارٹی نے جہاں تمام تر صوبائی حکومتی ذرائع استعمال کر کے سندھ بھر سے لوگوں کو جمع کیاوہیں مولانا فضل الرحمان نے کراچی اور سندھ کے باقی اضلاع میں موجود سینکڑوں مدارس سے بھیڑ بکریوں کی طرح لوگوں کو جمع کیا۔ ان اجتماعات کو کسی صورت بھی عوامی سرکشی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی جلسے کی صورتحال کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب کچھ ٹی وی چینلزنے شرکا سے بات کی تو اس میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کو پتہ تک نہیں تھا کہ ان کو یہاں کیوں لایا گیا ہے۔ ایک دیہی عورت نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ بلاول کی برسی میں شرکت کرنے کے لیے کراچی آئی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کے دامن میں حکومت جتنے ہی چھید ہیں۔

اپوزیشن کے ان جلسوں کا سب سے اہم اور قابل توجہ پہلو اب تک میاں نواز شریف کی طرف سے فوج کے کچھ جرنیلوں کا نام لے کر کی جانے والی باز پرس ہے۔ اس پر ہمارے دیسی لبرلز اور سابقہ بائیں بازو کے ریڈی میڈ دانشور پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ یہ سادہ لوح کتنی آسانی سے فراموش کر دیتے ہیں کہ ابھی بہت زیادہ وقت نہیں گزرا جب اسی اپوزیشن نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں پارلیمان سے قرارداد پاس کروانے میں اپنی جمہوری خدمات پیش کی تھیں۔ پھر اچانک ایسا کیا ہو گیا۔ یہ درست ہے کہ حکمران طبقے کی اس داخلی لڑائی اور ایک دوسرے کی لعن طعن سے عوامی شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوامی شعور کے اندر ہونے والے اضافے کا پیمانہ کیا ہے؟عوامی شعور میں ہونے والا ہر اضافہ انہیں روایتی سیاسی قیادتوں سے اور دور لے جاتا ہے، ریاست کے اداروں پر ان کا اعتماد مزید کم ہو جاتا ہے اور وہ اس طبقاتی نظام کی اصلیت کو اس کے جمہوری ملبوس کو اتار کر بالکل عریاں دیکھنے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔ ایسے میں یہ سٹالنسٹ اور لبرل دانشور عوام کا ریاست کے اداروں پر اور روایتی سیاسی قیادتوں پر اعتماد بحال کروانے کی کوششوں میں سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ اس کی واضح مثال اس وقت سامنے آئی جب سندھ پولیس کے آئی جی کے مبینہ اغوا کے بعد آئی جی سمیت سندھ پولیس کے بہت سے افسران احتجاج ریکارڈ کروانے کی غرض سے چھٹی پر چلے گئے۔ ایسے میں ہمارے بہت سے لبرل دانشور سندھ پولیس کے آئی جی کو انقلابی بنا کر پیش کر رہے تھے اور کھلم کھلا یہ فرما رہے تھے کہ سندھ اور ملک بھر کے تمام پڑھے لکھے اور باشعور عوام کو سندھ پولیس کے پیچھے کھڑا ہو جانا چاہیے۔ ہم مارکس وادیوں نے اس موقع پر پھر اپنی واضح پوزیشن اختیار کی اور وضاحت کی کہ ریاست کا بحران مسلسل بڑھنے کی وجہ سے اب وہ ادارے بھی اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں جو پہلے اس میں براہ راست برباد نہیں ہو رہے تھے۔ پولیس کا ادارہ بھی اب اس ریاستی بحران کی حدت کو محسوس کر رہا ہے اور ایسے میں سندھ پولیس کے افسران نے اپنے اس علامتی احتجاج سے ریاست کے پروردگاروں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ ریاست کے روزمرہ معمولات کو چلانے کے لیے پولیس کی خدمات اور ضرورت کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ حکمران طبقات کی مراعات اور ملکیت کے تحفظ کے لیے فوج کو تو بطور ادارہ شاذ و نادر ہی متحرک ہونا پڑتا ہے۔ یہ پولیس ہی ہوتی ہے جو طبقاتی جبر اور نظم و نسق کو معمول پر رکھنے کے فرائض سرانجام دے رہی ہوتی ہے۔ عوامی تحریک کے نقطہئ عروج پر پہنچنے سے پہلے ریاستی اداروں میں طبقاتی بنیادوں پر پھوٹ اکثر اوقات ناممکن ہی ہوتی ہے۔ اس لیے پولیس ایک رجعتی ترین ادارے کے طور پر ہی کام کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ کمتر برائی کے نام پر اس ادارے یا اس کے رجعتی اور عوام دشمن افراد کی حمایت ایک سنگین جرم ہو گا۔ اگر کوئی اکا دکا شخص ان اداروں کے اندر کام کرتے ہوئے بھی کوئی حقیقی ترقی پسندانہ رجحان رکھے گا یا اس کی طرف مائل ہو گا تو اس کے اپنے ادارے اس کے خلاف صف آرا نظر آئیں گے۔ لیکن لبرل خوش فہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہو رہا ہے۔ جنرل ایوب خان کے خلاف ہونے والی عوامی بغاوت اور جنرل ضیا کے خلاف چلنے والی تحریکوں میں بھی اس لبرل لیفٹ کا یہی کردار رہا تھا اور بدقسمتی سے انہوں نے ابھی تک تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔

یہ درست ہے کہ فوج کی سیاسی اجارہ داری کو چیلنج کیا جانا چاہیے۔ فوج کوسرمایہ دارانہ آئینی حدود میں کام کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا نواز شریف یا فضل الرحمان کی طرف سے جرنیلوں کو کی جانے والی لعن طعن کافی ہے؟ ہر گز نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان جس کی فوجی آشیرباد کا یہ اپوزیشن رہنما ڈھنڈوراپیٹ رہے ہیں، نواز شریف کا معروف و مقبول بیانیہ ہی یہ ہے کہ اس کی لڑائی عمران خان سے نہیں اس کو لانے والی خلائی مخلوق سے ہے، تو پھرعمران خان کی طرف سے ماضی میں کی گئی جرنیلوں، اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی لعن طعن کو کس کھاتے میں ڈالا جائے گا۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ جرنیلوں کی باہمی رسہ کشی میں سیاستدانوں کے ذریعے ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے کی روش نئی نہیں ہے۔ جرنیلوں کے مابین تضاد کسی حد تک کالی اور سفید معیشت کا تضاد بھی بن چکا ہے۔ پاکستان کے تاجر اور بہت سے سرمایہ دار واقعی انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف ہمیشہ سے تاجروں کا نمائندہ رہا ہے اور وہ جرنیل جو اپنی کالی کمائی کو کافی حد تک پہلے ہی سفید کر چکے ہیں، ان کے مفادات بھی ریاست کی جمہوری شاہراہ کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس مولانا فضل الرحمان پاکستانی ریاست پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے دباؤ کے خدشات کے پیش نظر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور افغانستان اور کشمیر پالیسی پر پلنے والے انتہائی دائیں بازو کے فوجی افسران اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اپنی باری کے منتظر جرنیل صاحبان باجوہ صاحب کی مدت میں توسیع سے زیادہ خوش نہیں تھے۔ امریکی سامراج بھی پاکستانی ریاست کے چین سے معاشقے پر شدید نالاں ہے اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کی امریکہ میں کمپنیوں اور اثاثوں کے سکینڈل کی علامتی اہمیت توجہ کی مستحق ہے۔

مذکورہ بالا حالات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور اس کی قیادت کے بارے میں یہ بڑے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملک میں کسی جمہوری انقلاب کی قیادت کے نا تو اہل ہیں اور نہ ہی ان کا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ جوں ہی ان میں سے کسی کو بھی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے گرین سگنل ملے گا یہ جمہوریت کی دوشیزہ کا دل توڑ کر آمریت کی بانہوں میں پڑے ہوئے نظر آئیں گے۔ جیسے جیسے یہ اقتدار کے قریب جائیں گے ان کو ریاستی اداروں کی ضرورت بڑھتی جائے گی اور قتدار میں آکر چونکہ یہ عوام کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے کی اہلیت نہیں رکھتے، اس لیے عوامی ردعمل کے خلاف یہ پھر انہی ریاستی اداروں کا استعمال کرنے کے لیے پھر ان کمزور اور پسپا ہوتے ہوئے اداروں کو خود مضبوط اور مستحکم کریں گے۔ جب گوجرانوالہ میں جمہوریت کے معرکے میں شرکت کے لیے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پنجاب پہنچے تھے تو عین اس وقت جناح ہسپتال کراچی میں اپنے جمہوری حقوق مانگنے کے جرم کی پاداش میں پیرامیڈیکس اور ڈاکٹرز پر سندھ پولیس لاٹھیاں برسا رہی تھی، یاد رہے کہ سندھ میں گزشتہ تیرہ سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ پیپلز پارٹی کا ریاست سے مفاہمت کا ایک طویل ماضی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی شکست خوردہ فوج کو خود مضبوط کیا تھا اور بلوچستان میں ان کو ایک نیا محاذ کھولنے کی اجازت بھی دے دی تھی۔ آج بھی پیپلز پارٹی سندھ کے حقوق کی وکالت کا جتنا بھی ناٹک کر لے حقیقت یہی ہے کہ سندھ کے جزائر پر وفاقی تسلط کے صدارتی آرڈیننس سے سندھ حکومت لا علم نہیں تھی اور انہوں نے اس وقت تک کسی قسم کا کوئی رد عمل نہیں دیا تھا جب تک سندھ سے بڑے پیمانے پر عوامی غم و غصے سامنے نہیں آیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام پارٹیاں محنت کش طبقے کی سماجی حمایت سے یکسر محروم ہو چکی ہیں۔ ہم مارکس وادیوں اورلبرل دانشوروں کی آرا میں موجود معیاری فرق، درحقیقت، محنت کش طبقے اور درمیانے طبقے کے شعور کا فرق ہے۔ اگر آپ محنت کش طبقے کے افراد سے پوچھیں کہ آپ حکومت، فوج یا اپوزیشن میں سے کس کی حمایت کرتے ہیں تو ان میں سے زیادہ تر کا جواب ہو گا کہ یہ سب چور ہیں اور ہم کسی کی حمایت نہیں کرتے۔ اب محنت کش طبقے پر ہونے والے بڑے پیمانے کے معاشی حملے محنت کش طبقے کی نسبتاً خوابیدہ پرتوں کو بھی بیدار کر رہے ہیں۔ دوسری طرف طلبہ، کسانوں اور مظلوم اقوا م کی تحریکیں بھی ابھر رہی ہیں۔ ریاستی اداروں کے خلفشار، حکمران طبقے کی ٹوٹ پھوٹ سمیت یہ تمام عوامل مل کرایک انقلابی صورتحال کی طرف تیز ترین پیش رفت کی غمازی کر رہے ہیں۔ ایسے میں انقلابیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں محنت کش طبقے کو منظم اورمتحد کرنے کے لیے وقف کر دیں۔ ٹریڈیونین کی روایتی قیادتیں بھی اب زیادہ دیر تک محنت کش طبقے کے سیاسی شعورمیں روڑے نہیں اٹکا سکیں گی۔ معروضی حالات خود محنت کش طبقے کو ایک ملک گیر عام ہڑتال کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ایک عام ہڑتال اس انقلابی سفر میں وہ معیاری جست ثابت ہو گی جہاں سے منزل صاف صاف دکھائی دینا شروع ہو جائے گی۔

Comments are closed.