اندھیر نگری (دادا جان سے سنی ہوئی ایک کتھا)

|تحریر: صبغت وائیں|

میرے دادا جان  مجھے بچپن میں گورو نانک، بھائی مردانے اور موُلے کی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کہانی کچھ یوں تھی:

ایک دفعہ گورو نانک جی اور ان کے دونوں چیلے ایک ایسے نگر میں چلے جاتے ہیں، جس میں ہر چیز انت کی سستی تھی۔

 لوگ آوازیں لگا رہے تھے، ٹکے سیر ’’بھاجی‘‘ لے لو۔ یہ ’’کھاجا‘‘ لے لو ٹکے سیر۔

چیلے بڑے خوش ہوتے ہیں گورو جی سے کہتے ہیں کہ کیوں وہ تینوں ساری دنیا میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ یہ سُکھ کی نگری مل گئی ہے، چلیں ہم یہیں پر جیون کے باقی دن شانتی سےبتاتے ہیں۔

لیکن گورو جی پر اس سب کا الٹا اثر ہوا ۔وہ ان سے کہنے لگے کہ موُرکھو بھاگو یہاں سے، مجھے بھی مرواؤ گے، یہ اندھیر نگری ہے۔ جہاں ہر چیز سنسار سے ہٹ کر چل رہی ہو، وہاں سے بھاگ جانا ہی اچھا ہے۔

چیلوں کو لگا کہ گورو کی بدھی نشٹ ہو گئی ہے۔ انہوں نے ٹھان لی کہ گوروکے بغیرہی چلیں گے۔یہ سوچ کر انھوں نے

گورو جی سے کہا کہ ان کی شکشا پوری ہوئی۔ ان سے تو جس سورگ کا، جس پریم نگر کا گیان گورو کی کرپا نے دیا تھا وہ سب آج سپھل ہوا۔ ہماری تو منو کامنا پوری ہوئی آپ ہمیں آگیا دے کر آگے سدھار لیں، ہم تو یہیں براجیں گے۔

گورو جی ان کی بے وفائی اور مورکھتا پر کڑھتے ہوئے ترنت وہاں سے نکل لیے۔

چیلوں کی تو موج ہو گئی۔ ٹکے سیر ہر چیز۔ گھر سے خاصا روپیہ لائے تھے۔ وہیں سارا دن بیٹھے کھاتے اور مزے کی نیند سو جاتے۔

غرض یہ دونوں یوں ہی روز حلوے مانڈے کھاتے خوب خوب موٹے دُنبے بن گئے۔

اب بھاگے میں کیا لکھا ہے، کس کو خبر؟

ہوا کیا کہ ان دنوں اندھیر نگری میں ایک چورکسی کے گھر آیا اور پکڑا گیا۔ ان کے ’’شانتی نگر‘‘ میں تو ایسا کبھی ہوا نہیں تھا۔ وہ چور بے چارہ ساتھ والے دیش سے آیا تھا۔ جہاں کال پڑا تھا اور بھوک ننگ کا راج تھا۔

لوگ چور کو پکڑ کر راجہ کے پاس لے گئے۔

راجہ بھی بس راجہ ہی تھا۔

(اب تو مجھے لگتا ہے کہ راجہ ویسے ہی چنا گیا ہو گا جیسا کہ گلیورز ٹریولز میں للی پٹیئنز وزیروں کا چناؤ کرتے تھے۔ کہ ایک رسی لگا دی اس پر چل کر دکھاؤ۔ چھلانگ لگا کر رسی پار کرو۔ سر زمین پر لگا کر پندرہ قلابازیاں لگاؤ۔ یا گیند بلا کھیل کر دکھاؤ۔ ۔ ۔ وغیرہ)

تو راجہ سے جب نیائے مانگا گیا تو ظاہر ہے راجہ کی اپنی شانتی بھنگ ہوئی۔

اس نے فوراً کہا کہ اس کو پھانسی سے لٹکا دو۔

پھانسی تیار کی جاتی ہے۔

پھندا چور کے گلے میں ڈال کر راجہ جی کی آگیا سے رسا کھینچ لیا جاتا ہے۔

لیکن چور وہیں کھڑا ہے اور رسی اوپر چلی گئی۔ سارے پنڈال میں تماشا دیکھنے والے ہنسنا شروع ہو گئے۔

بے چارے بھوکے چور کی گردن اتنی پتلی تھی کہ پھندا ہر بار اس میں سے نکل جاتا۔

اس پر راجہ طیش میں آ گیا۔ اس نے آخر اس سمسیا کا حل تلاش لیا اور حکم دیا کہ فوراً ایک ایسا بندہ ڈھونڈو جس کے گلے میں پھندا پورا آ جائے۔

اب پھندا بنانے والے سے  پھندا کافی بڑا بن چکا تھا۔ وہ کسی کی گردن میں پورا ہی نہیں آ رہا تھا۔

جس کے گلے میں ڈالتے پھندا نکل کر اوپر چلا جاتا، اور لوگ مارے ہنسی کے لوٹ پوٹ ہوتے جا رہے تھے۔

وہیں تماشا دیکھنے کے لیے گورو جی کے دونوں چیلے بھی آئے ہوئے تھے۔

ریاستی جلادوں کی نظر جیسے ہی ان دنبوں پر پڑی تو ان کی آنکھوں میں چمک، چہروں پر رونق اور جان میں جان آئی۔ کہ بیٹھے بٹھائے مفت میں بیگار بھوگنی پڑ گئی تھی، لگتا ہے کہ جان چھُٹ گئی۔

ان میں سے پہلے کے گلے میں ڈال کر پھندا دیکھا تو ایسا چست آیا جیسے بنا ہی اس کے لیے تھا۔

ریاستی جلادوں نے اس کو پکڑا اور لے گئے راجہ کے پاس۔

راجہ نے کہا لگا دو اسی کو پھانسی۔

دونوں خوب چیخے چلائے، منت سماجت کی بین ڈالے روئے پیٹے، لیکن اندھیر نگری تھی، وہاں کون سنتا ہے؟

. . . نامکمل


کہانی کا بقیہ حصہ دوست اگر کہیں گے تو لکھ دوں گا۔

لیکن میں اس کہانی کی یونیورسیلٹی پر حیران ہوں۔

کہ کیا ایسی سرکاریں، ایسی ریاستیں اور ایسے دیس بھی کہیں ہوتے تھے؟

جہاں چھکڑے کو گھوڑے کے آگے جوتا جاتا تھا؟

جہاں پھندا جس کے گلے میں فٹ آتا پھانسی کا سزاوار ٹھہرتا؟

جس کو مار دیا جاتا، مجرم ثابت ہو جاتا؟

کیوں کہ یہ سرکار کے ہاتھوں مر گیا، لہٰذا یہ مجرم ہے؟

یہ پکڑ لیا گیا ہے اس لیے یہ غدار ہے؟

پرانی داستانوں میں ایسی ریاستوں کے آثار ملتے ہیں۔

جیسے کہ طلسم ہوشربا میں ایک ایسے شہر کا بیان موجود ہے، جس کو ’’شہرِ ناپُرساں‘‘ کہتے تھے۔

جس میں کوئی کچھ بھی کرے اس کو پوچھا نہیں جاتا تھا۔

اور تو اور بائبل کے عہد نامہ قدیم میں اس کا ذکر موجود ہے کہ ’’جو کاٹھ (یعنی صلیب) پر مارا گیا وہ لعنتی ٹھہرا‘‘۔ اسی لیے یہودیوں نے چاہا تھا کہ مسیح کو صلیب پر مار دیا جائے جو کہ اس کی عدم سچائی کی ’’دلیل‘‘ ہو گا۔

Comments are closed.