”دستک“
خیرات اور ڈیم
|تحریر: صبغت وائیں| مجرم ہمیشہ قانون سے ایک قدم آگے کی سوچتا ہے۔ کیوں کہ اس کے سامنے پچھلا سارا ریکارڈ ہوتا ہے۔ باہر کے ملکوں میں ٹیکس بچانے کے لیے سرمایہ داروں کو وکیل مشورہ دے کر ٹرسٹ بنوا دیتے ہیں۔ یا ’’خیرات‘‘ کے ادارے بنوا کر ٹیکس بچایا جاتا ہے۔این جی اوز والوں […]
دن بدن بڑھتا سرطان اور خیراتی علاج!
|تحریر: علی شاذف| ایک اندازے کے مطابق پاکستان بھر کے کینسر کے مراکز میں لائے جانے والے کم سے کم 40 فیصد سرطان کے مریضوں کا تعلق خیبر پختونخوا، افغانستان اور بلوچستان سے ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مقامات پر اس کے مہنگے علاج کی سہولیات سرے سے موجود ہی نہیں […]
خیرات کا زہر اور این جی اوز کی غلاظت
|تحریر: آفتاب اشرف| خیرات محنت کشوں کے طبقاتی شعور اور جدوجہد کی نفسیات کے لئے ایک میٹھے زہر کا درجہ رکھتی ہے۔ خیرات کے نظریے کو بنیاد بناتے ہوئے جہاں ایک طرف ہمیں محنت کش طبقے کی پیدا کردہ قدرزائد کو ہڑپ کر کے امیر ہو جانے والے نام نہاد ’’مخیر حضرات‘‘ اس لوٹی ہوئی […]
کیاخیرات مسائل کا حل ہے؟
تحریر: |ناصرہ وائیں، صبغت وائیں| گذشتہ روز ایک نجی چینل پر عطیہ کو دیکھ کر نہایت مسرت ہوئی کہ ایک غریب لڑکی جس کے کالج جانے کے سپنے دم توڑ چکے تھے اب اس کی زندگی میں امید پھر سے لوٹ آئی ہے۔ اس نجی چینل کے دعوئے کے مطابق ان کی اُجاگر کی گئی […]