نئے سال میں انقلابی جوش، ولولے اور عزم کے نام۔۔۔’’تیز چلو‘‘
ظلمت کو ضیا کیا کہنا
جواں آگ!
دیوار کو آتوڑیں، بازار کو آ ڈھائیں!
بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا دیوار ہے وہ اب تک جس میں تجھے چنوایا دیوار کو آتوڑیں، بازار کو آ ڈھائیں انصاف کی خاطر ہم سڑکوں پر نکل آئیں مجبور کے سر پر ہے شاہی کا وہی سایا بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا تقدیر کے قدموں پرسر […]
نذرِمارکس
صدا آرہی ہے میرے دل سے پیہم
صدا آرہی ہے میرے دل سے پیہم. . کہ ہو گا ہر اِک دشمنِ جاں کا سر خم