|تحریر: سیدہ فاطمہ موسوی|

کیا عورت کی محکومی اور مردوں کا ان پر تسلط فطری ہے؟ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ موجودہ خاندانی ساخت مرد کا عورت پر غالب آنا یا اس پر تشدد کرنا سب ایک فطری نظام کے تحت چلا آ رہا ہے جو کہ ازل سے اسی طرح موجود ہے۔جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، انسانی تاریخ چند ہزار سالوں پر نہیں بلکہ لاکھوں سالوں پر مشتمل ہے اور سماج کی موجودہ شکل تاریخی ارتقا کا نتیجہ ہے جس کی ایک بنیادی وجہ ذرائع پیداوار میں ترقی ہے۔ جوں جوں نجی ملکیت کا آغاز ہوا اور انسان اوزار بناتا گیا جس سے ذرائع پیداوار میں ترقی ہوئی اور اسی ترقی کی وجہ سے خاندان کی شکل بھی بدلنے کی طرف گئی۔
اٹھارہویں صدی میں ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح صنعتی انقلاب نے بھی موجودہ سماج کی تشکیل میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سے پہلے بھی عورتیں کھیتی باڑی اور کپڑا بُننے جیسے کام کیا کرتی تھیں، مگرسرمایہ دارانہ انقلابات کے بعد تاریخ میں پہلی بار عورت اجرت کے بدلے مزدوری کرنے کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی طرف گئی۔
یہاں سے عورت پر ایک نئے قسم کے جبر کا آغاز ہوا چونکہ بظاہر سرمایہ درانہ نظام عورت کو آزاد اور خودمختار بنانے کا دعویدار تھا لیکن درحقیقت اس نظام کی ایک ایک اینٹ اس طرح پیوست کی گئی تھی کہ جس سے فقط سرمایہ دار طبقے کی ہی دولت میں اضافہ واقع ہو۔ صنعتی انقلاب آنے کے بعد آنے والی مشینی ترقی نے سرمایہ دار کو انسانی بازو کے زور پر چلنے والے آلات سے آزاد کر دیا تھا اب سٹیم انجن نے تمام تر مراحل کو مزدور کے لیے نہایت آسان اور تیز رفتار بنا دیا تھا اور وہیں دوسری جانب عورت اس نظام میں پس رہی تھی جہاں نہ اس کی تعلیم کا کوئی تصّور تھا نہ ہی جائیداد رکھنے کا حق، نہ ہی اپنی کوئی پہچان، وہ محض ایک کارآمد جنسی شے تھی جو کہ شادی سے پہلے باپ اور پھر شوہر کی ملکیت سمجھی جاتی تھی۔ اس کا مقصد فقط بچے جنم دینا اور مردوں کو مختلف سہولیات فراہم کرنا تھا، وہ خود پدرشاہی کو مزید مضبوط کرنے والا ایک اوزار بن کے رہ گئی تھی۔
چونکہ صنعتی انقلاب کے بعد اب بڑی بڑی فیکٹریاں لگ چکی تھیں اور سرمایہ دار طبقہ پیدا وار کے لیے اب کسی مشقت سے چلنے والی مشینیوں کا محتاج نہیں رہا تھا اب سب کچھ آسان ہو چکا تھا۔ ایک لیور گھمانے اور بٹن دبانے سے ہی کام ہو جاتا تھا لہٰذا عورتوں کو بھی صنعتوں میں مزدوری پر رکھا جانے لگا۔ اس سے موقع ملا کہ اسے بھی اس کی محنت کے عوض اجرت ملے اور اس طرح اسے پہلی بار آزادی کا احساس دلایا گیا اور پھر نہ صرف خواتین بلکہ بچوں کو بھی بڑی تعداد میں فیکٹریوں میں بھرتی کیا گیا۔ اور یوں فیکٹریوں میں چودہ سے سولہ گھنٹے خواتین اور بچوں کا بیدریغ استحصال کرنے کے عوض انہیں آزادی کا چورن ان کی اجرت کی صورت میں بیچا گیا۔

اب گھر کے بچے سے لے کر عورت اور مرد سب سرمایہ دار کے ماتحت تھے کیونکہ عورت پہلے ہی پدرشاہی کے بہیمانہ جبر سے تنگ آ چکی تھی لہٰذا وہ مرد سے آدھی اجرت پہ بھی کام کرنے کو تیار ہو گئی اور آزادی کے سراب میں اب وہ دُگنی مشقت کرنے پر مجبور ہوگئے۔اب نہ صرف پورا خاندان سرمایہ دار کا غلام تھا، ساتھ ہی ساتھ عورت دوہرے جبر کا شکار ہو رہی تھی۔ اب اسے جہاں گھر کے تمام تر کام کاج دیکھنے ہوتے تھے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اسے فیکٹریوں میں ناجائز استحصال بھی برداشت کرنا پڑتا۔ اس آزادی نے عورت کو ایک بشر نہیں بلکہ ایک اوزار کی مانند بنا کر رکھ دیا جو بیک وقت خاندان اور اس نظام دونوں کے لیے بے دریغ مشقت کر رہی تھی اور وہ سرمایہ دار کے لیے سستی لیبر ہونے کے ساتھ ساتھ ریزروّ لیبر کا کردار بھی ادا کر رہی تھی۔ خاص کر جنگوں کے موقع پر جب بھی مرد سرحدوں پر روانہ ہو جاتے تو عورتوں کو بڑی تعداد میں فیکٹریوں میں بھرتی کر دیا جاتا تھا اور جنگ ختم ہونے پر دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر فارغ کر دیا جاتا تھا۔ اس کی ہمیں کئی مثالیں ملیں گی قریب ہمارے پڑوسی ملک ایران میں 19080-88ء میں جب ایران عراق جنگ ہوئی جب لاکھوں مرد محاذ پر تھے تو ملک کی معیشت کو چلانے کی اور اسپتال، اسکول اور دفاتر کو فعال رکھنے کے لیے خواتین نے بڑی تعداد میں ذمہ داریاں سنبھالی اور معاشرے میں خواتین کے کام کرنے کی قبولیت کو بڑھایا کیونکہ یہ اس وقت کی ضرورت بن چکا تھا۔
پدر شاہی پر مبنی اس سماج میں تمام اخلاقی مبلغین کا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ عورت کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ ایک بے مثال ماں یا ایک پاکیزہ بیٹی یا اپنے مجازی خدا کی تابع رہے اور اسی میں اس کی بقا ہے۔ اس کا مقصد فقط اس شے کی مانند ہے جو رشتوں میں توسیع تلاش کرتی رہے اس کا اپنا وجود جیسے بے معنی ہو۔ کبھی اسے ایک نازک پھول کی طرح صنف نازک تو کبھی خاتون خانہ جیسے القابات دے کر اسے ذہنی طور پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ یہی اس کی حقیقت اور اصل مقصد ہے۔
میڈیا اور عورت دشمنی
اگر بات میڈیا کی کی جائے تو جس طرح کا کانٹینٹ ہم کنزیوم کر رہے ہیں، یہ ذہنی طور پر معاشرے کومفلوج کررہا ہے، ایک دور تھا جب پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں کوانٹم فزکس، کمرشل اینڈ ٹریڈیشنل فائن آرٹس تو کبھی خواتین ایف ون ریس جیسے ٹاپکس اور کار کی موڈیفیکیشنز کے بارے میں بات کرتی ہوتی دکھائی دیتی تھیں مگر آج سارا زور ہیروئن کے لکس سے لے کر تھرڈ کلاس رومینٹک سٹوری لائنز پر ہوتا ہے یا ساس بہو کی سازشیں ان سب کے ذریعے عورت کو انتہائی مصنوعی مخلوق بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور وہیں مرد کو عورت سے اوبسیسڈ ہونے سے لے کر اسٹاک کرنا اور بلیک میل کرنا ان تمام گھٹیا حرکتوں کو رومینٹسائز کر کے پیش کیا جاتا ہے اور پھر کچی عمر کے بچے ایسی لو لائف کو آئیڈیلائز کرنے لگتے ہیں اور اسی طرح یہ تمام ناقابلِ قبول حرکتیں سوسائٹی میں نارملائز ہونے لگتی ہیں۔
آج کے دور میں سینما جیسا میڈیم اور ڈرامہ انڈسٹری اور اب ساتھ ہی ساتھ سوشل میڈیا آرٹ نہیں بلکہ صرف و صرف ٹرینڈز کو جنریٹ کرنے والا ایک آلہ بن کر رہ گئے ہیں۔ آئے دن ٹاکسک میسکیولیٹنیٹی کو نئے طریقے سے سیلیبریٹ کرنا تو کبھی ان ریلسٹک بیوٹی اسٹینڈرڈز کو پروموٹ کرنا۔ جہاں اگر کبھی کسی ایک خودمختار عورت کی منظرکشی کرنی ہو تو پرفیکٹ سلکی اسموتھ بال اور مینیکیور پیڈیکیور کی ہوئی ٹپ ٹاپ لڑکی کو اس رول میں فٹ کر دیا جاتا ہے جو کہ ایک ورکنگ کلاس عورت کی نمائندگی ہی نہیں کرتی۔ یہاں پہ بھی فقط ایک کلاس تک محدود کر دیا جاتا ہے اس کی آزادی کو عجیب طریقے سے سمبلائز کر دیا جاتا ہے، بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان میڈیمز کا کام صرف مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے مقابل لانا، اندر سے کھوکھلا کر دینا اور انہیں انسیکیورٹیز بیچنا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام ایسا کبھی نہیں چاہے گا کہ مرد اور عورت اپنے حقیقی وجود میں محفوظ محسوس کریں اور یہی وجہ ہے کہ کبھی الفا میل، سگما میل اور مسینڈرس جیسے آئیڈیالوجیز کو مختلف میڈیمز کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں انجیکٹ کر رہا ہے۔ اگر ہم اس سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں بلکہ یہ نظام ہمارا دشمن ہے جو اپنے مفاد کے لیے ہمارا خون چوس رہا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ معاشرہ مرد اور عورت کے باہمی تعاون سے ہی کامیاب خوشگوار ہو سکتا ہے اور تبھی دونوں مل کر اس غیر فطری غیر انسانی نظام سے جنگ کر سکتے ہیں اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب صنفی جنگ کو ختم کر دیا جائے۔
کاسمیٹک انڈسٹری
اس سرمایہ دارانہ نظام میں ایک بہت بڑی شاخ کاسمیٹک انڈسٹریزکی بھی ہے جسے پروموٹ کرنے میں آج سنیما اور تمام تر ایڈورٹائزمنٹ کمپنیز ایک بہت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ انڈسٹری مرد اور عورت کو نہ جانے کون کون سے انسیکیورٹیز دکھاتی ہیں جو حقیقت میں موجود بھی نہیں ہیں۔ پاکستانی ڈراموں سے لے کر ترکش کورین انڈسٹریز اور بالی وڈ میں بھی خواتین کے چائلڈ لائک لکس کو پروموٹ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو کہ بالکل غیر فطری ہے۔ ادھیڑ عمر کے بھی مردوں کے ساتھ ہمیں چھوٹی عمر کی لڑکیاں ہیروئن کا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ مخصوص قسم کے لکس کو پروموٹ کیا جاتا ہے۔ بچوں جیسے اسکن یا بچوں جیسے لپس اور آئیز اس طرح کی چیزوں کو پرموٹ کرتے ہوئے دکھایا جاتاہے، یہ چیزیں ہمیں پہلے تو شاید تھوڑی نارمل لگتی مگر اب ایپسٹن فائلز کے بعد ان سب چیزوں کو دیکھا جائے تو یہ مزید بھیانک شکل اختیار کر لیتی ہے کہ کس طرح ہمارے ذہنوں کو پہلے سے بیمار کر دیا جاتا ہے آنے والے وائرس کے لیے اور ان ڈائریکٹلی اس طرح مختلف ذرائع کے ذریعے چاہے وہ میمز ہو یا کوئی فلم ان تمام کے ذریعے باڈی شیمنگ اور ایج شیمنگ کی جاتی ہے اور ان انسیکیورٹیز کو غلیظ پروپیگنڈا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔ پھر اس کا علاج بنا کے بیچا جاتا ہے اور یوں جو چیز بالکل غیر فطری ہے اس سے ہتھیار بنا کر یہاں بھی منافع خوری کی جاتی ہے۔ یہ ہے اس نظام کا بدصورت چہرہ یا یوں کہہ لیں حقیقی چہرہ۔
انقلاب اور خواتین
مارکس وادیوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ خواتین کی انقلابی طاقت کو سمجھیں۔ ایلن وڈ کہتے ہیں کہ تقابلی طور پر عورت میں مردوں سے زیادہ انقلابی جذبہ ہوتا ہے اور کوئی شک نہیں ماضی میں ہمیں اس کی کئی مثالیں ملیں گی۔خواہ وہ جرمن محنت کش طبقے کی قیادت کرتی ہوئی روزا لکسمبرگ ہوں یا بلوچوں کی مزاحمتی تحریک کی نمائندگی کرتی ہوئی ماہرنگ بلوچ یا تیئس سالہ گریٹا تھمبرگ جو اس وقت فلسطینیوں کی آواز بنی جب تمام ممالک کے حکمران اندھے اور گونگے ہو چکے تھے اور مظلوم فلسطینیوں کی آواز سننے اور ان پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے سے قاصر ہو چکے تھے۔
عورت صرف کسی کے گھر کی زینت نہیں بلکہ آنے والے وقتوں میں وہ انقلاب کی طاقت بن سکتی ہے۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ جب خواتین کسی تحریک کا حصہ بن جاتی ہیں تو وہ غیر معمولی جوش، جذبے، ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان تحریکوں کے نتائج بھی غیر معمولی ہوتے ہیں۔لینن کو لگتا تھا کہ خواتین کے بغیر انقلاب نامکمل ہے۔اسی مقصد کے لیے ایک میگزین ’Rabotnitsa (رابطنیتسا)‘ کا اجرا کیا گیاجس کا مطلب ہے ’خاتون مزدور‘۔ یہ 1914ء میں پہلی دفعہ شائع ہوا اورروس کا ایک اہم اور تاریخی میگزین بنا۔ یہ خاص طور پر محنت کش خواتین کے حقوق اور ان کی زندگیوں پر مبنی تھا اس کا بنیادی مقصد خواتین کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کرنا، انہیں سیاست میں شامل کرنا اور سماجی و اقتصادی برابری کے لیے تیار کرنا تھا۔ اس میگزین کی اشاعت سے لیکر تقسیم تک، سب مزدور خواتین خود کیا کرتی تھیں۔ مزدور عورت کی حالت مردوں سے زیادہ بدتر ہے کیونکہ وہ سرمایہ دار کی باہر اور گھر پر خاندان کی غلام ہوتی ہے اور مرد اور عورت دونوں کا دشمن نظام ہی ہے جس سے نجات کا راستہ بھی ایک ہی ہے۔

روس میں زارشاہی کے دور میں بھی خواتین کی حیثیت فقط شوہر کی جاگیر کی سی تھی، سوویت یونین میں پہلی بار عوامی کچن، عوامی ریسٹورینٹس، عوامی لانڈریز اور نرسریز کا آغاز ہوا عورت کو کچن سے نکال کر سماج اور سیاست میں فعال کیا گیا۔ ٹراٹسکی کا نظریہ تھا کہ عورت کی آزادی کا تعلق پورے سماج کی آزادی سے ہے۔ جب بچوں کی تعلیم، پبلک لانڈریز، ریسٹورنٹس اور دیگر ذمہ داریاں ریاست نے سنبھالنی شروع کیں تو میاں اور بیوی کا رشتہ مجبوری نہیں بلکہ محبت کی بنا پر بننے لگا۔عورت کو قانونی طور پر برابری دی گئی۔ ووٹ دینے سے لے کے سیاست میں حصہ لینے اور ملازمت کرنے کے حقوق کی ضمانت فراہم کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ عورت کے لیے طلاق کو آسان بنایا گیا۔ شادی کو مذہبی کی بجائے ایک سول معاملہ قرار دیا گیا جس سے عورتوں کے لیے جبری شادی اور ناخوشگوار شادی سے نکلنے کا راستہ ہموار ہوا۔ عورت کی آزادی کے لیے ضروری ہے کہ گھر کے کام صرف اس کی ذمہ داری نہ ہوں بلکہ اس کے لیے ڈے کیئر سینٹر، نرسریاں بنانے کی کوشش کی گئی تاکہ عورتیں بھی سماجی اور معاشی زندگی میں حصہ لے سکیں۔ 1920ء میں سوویت ریاست دنیا کی پہلی ریاست بنی جس نے اسقاط حمل کو قانونی قرار دیا۔
آج بھی عورت کی دہری غلامی سے نجات کا واحد رستہ یہی ہے کہ 1917ء کے روس کی طرز پر ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کیا جائے۔یہ جنگ فقط عورت کی جنگ نہیں بلکہ مرد اور عورت کو مل کر اس جنگ میں حصہ لینا ہوگا اور جب تک سرمایہ د ارانہ نظام اور اس کے تحت صنفی غلامی اور قدامت پسندی رہے گی تب تک عورت کی، مرد کی اور اس پورے معاشرے کی حقیقی آزادی صرف ایک خواب ہے۔















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance