|تحریر: ثناء اللہ جلبانی|
8مارچ دنیا بھر میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری دنیا کے ہر چھوٹے بڑے شہر، کھیت، کھلیان، تعلیمی اداروں، فیکٹریوں اور عوامی جگہوں پر محنت کش خواتین پر ہونے والے جبر، پدرشاہی، ریپ و ہراسمنٹ، گھریلو غلامی اور موجودہ انسان دشمن نظام سرمایہ داری کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور دیگر سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔ اس دن دنیا بھر کے انقلابی محنت کش، نوجوان، طلبہ اور کسانوں کی جانب سے مسلسل گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور درپیش تمام مصائب و آلام کے خلاف بغاوت اور نئے سماج کی تعمیر کے لیے تجدید عہد کیا جاتا ہے۔ 8 مارچ کے دن دنیا کے ظالم حکمرانوں، جابر ریاستوں اور اس نظام کے معذرت خواہوں کو یہ چتاونی دی جاتی ہے کہ کسی صورت بھی ڈھائے گئے مظالم کو برداشت نہیں کیا جائے گا بلکہ اس نظام کا تختہ الٹ کر ہی دم لیا جائے گا۔ مختصراً یہ کہ سماج کو بدلا جا سکتا ہے، انقلابی تبدیلی لا کر صدیوں کے دکھوں، زخموں اور ذلتوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ دن 1910ء میں جرمنی کی کمیونسٹ انقلابی راہنما کلارا زیٹکن نے محنت کشوں کی عالمی کمیونسٹ پارٹی ’دوسری انٹرنیشنل‘ کے ایک اجلاس میں تجویز کیا تھا۔ تب سے یہ دن محنت کشوں کی انقلابی تحریک میں بہت نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن کو محنت کش خواتین کے عالمی دن کے طور پر منانے کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ خواتین اور مرد محنت کشوں کے مسائل بالکل متضاد ہیں، یا پھر خواتین کو اپنے مسائل سے نجات کی جدوجہد اکیلے کرنی ہو گی۔ بلکہ اس دن کا مقصد محنت کش خواتین پر ہونے والے جبر، اجرتوں میں کمی، زیادہ اوقات کار، ہراسمنٹ، گھریلو جبر، صنفی جبر، پدرشاہی، سیاسی حقوق سے محرومی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے مرد محنت کشوں کے شانہ بشانہ جدوجہد میں شریک ہو کر سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ داری کا خاتمہ کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ لیکن یہ بات حکمرانوں اور سرمایہ داروں کو بھلا کیسے گوارا ہو سکتی ہے، انہوں نے خواتین محنت کشوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بجائے اس دن کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ ’تقسیم کرو اور حکمرانی کرو‘ کے فارمولے کے تحت اس دن کو مردوں کا دشمن یا بالکل جداگانہ جدوجہد کرنے کا دن بنانے کا زہر گھولنے کی کوشش کی گئی، لیکن کمیونسٹ انقلابیوں نے ریاستی اور حکمران طبقے کی اس سازش کو واضح کر کے اسے ناکام بنایا ہے۔ انقلابی کمیونسٹ واضح کرتے ہیں کہ مرد اور خواتین محنت کشوں کے حقوق ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کے مسائل سے جڑے ہوئے ہیں اور ان مسائل کی بنیاد طبقاتی نظام ہے جسے ختم کر کے ہی عورت اپنی حقیقی آزادی حاصل کر سکتی ہے اور اس کے لیے مرد محنت کشوں کے ساتھ مل کر حکمران طبقے کے خلاف ایک طبقاتی جنگ لڑنے کی ضرورت ہے۔
انسانی تاریخ کا عظیم محنت کشوں کا انقلاب، انقلاب روس 1917ء، دراصل محنت کش خواتین کے عالمی دن سے منسوب احتجاجات کے تسلسل، جس میں بعد میں جوق در جوق محنت کش، نوجوان اور کسان شامل ہوتے گئے اور’زار ِروس‘ کی بادشاہت کا خاتمہ کیا گیا اور پھر اس کے تسلسل میں کچھ ماہ بعد ایک دوسرے انقلاب کے ذریعے روس کے اندر بالشویک پارٹی کی قیادت میں سرمایہ داری کا خاتمہ کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب برپا کر کے محنت کش طبقے نے اپنی سوشلسٹ ریاست تعمیر کی۔ محنت کش طبقے نے پورے ملک کے وسائل سرمایہ داروں کے قبضے سے چھین کر اپنی جمہوری کمیٹیوں کے تحت ملک چلایا، جسے ’سوویت یونین‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے بعد اجتماعی کچن اور اجتماعی لانڈریاں قائم کر کے خواتین کو گھریلو مشقت سے نجات دلائی گئی، بچوں کی نگہداشت کے لیے ڈے کیئر سنٹر بنائے گئے، خواتین کو ووٹ کا حق حاصل ہوا، ہر شہری اور خاتون کے لیے روزگار یقینی بنایا گیا، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور سماجی ترقی میں خواتین اپنی مثال آپ قائم کرنے کے قابل ہوئیں، پدر شاہی اور جنسی ہراسمنٹ کے خلاف فیصلہ کن انداز میں اقدامات کیے گئے، طلاق اور اسقاط حمل میں حائل رکاوٹوں کو مسمار کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ روس میں یہ سب کامیابیاں محنت کشوں بالخصوص محنت کش خواتین پر جبر کی بنیاد نجی ملکیت، طبقاتی نظام اور سرمایہ دارانہ نظام کے مکمل خاتمے سے ہی ممکن ہو پائیں۔ ہم کمیونسٹوں کی جدوجہد محض قانونی، اخلاقی رویوں کی تبدیلی اور چھوٹی موٹی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ ہم محنت کش خواتین کو محکوم و مجبور بنانے والے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا علم سر بلند کیے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محنت کش خواتین پر جبر کی بنیاد کو ختم کیے بغیر محنت کش خواتین کو نجات نہیں دلائی جا سکتی۔ یہی بنیاد جو محنت کش خواتین کو محکوم بناتی ہے، محنت کش مردوں کو بھی غلامی کے طوق پہنائے ہوئے ہے۔ اسی لیے خواتین اور مردوں کی لڑائی ایک ہی ہے، یعنی کہ سرمایہ داری کا خاتمہ اور سوشلسٹ انقلاب سے مزدور راج کا قیام۔ ہمارا نعرہ ہے ’سماج آزاد، عورت آزاد۔۔۔ عورت آزاد، سماج آزاد‘، ’اطاعت نہیں، بغاوت! راہِ نجات، سوشلسٹ انقلاب!‘
پاکستان، نوجوان اور انقلاب!
پاکستان اس وقت خواتین کے لیے ایک جہنم سے کم نہیں۔ یہاں پر خواتین کو درپیش مسائل پر بات کرنا انتہائی اہم ہے۔ چاہے وہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں یا پھر کسی فیکٹری یا کام کی جگہوں پر اپنی قوت محنت بیچ رہی ہوں، ہر جگہ پر انہیں دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے۔ ہراسمنٹ، استحصال اور صنفی جبر ایک اژدھے کی مانند منہ پھاڑے ہوئے ان کی تاک میں رہتا ہے۔
اگر تعلیم کی بات کریں تو لڑکیوں کی تعلیم کو خاندان کی سب سے آخری ترجیح پر رکھا جاتا ہے۔ عوام دشمن حکمرانوں کے تعلیم پر حملوں بشمول بجٹ میں ظالمانہ کٹوتیوں، تعلیمی اور صحت کے اداروں کی نجکاری سے سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوتی ہیں۔ محنت کش گھرانوں سے وابستہ لڑکیوں کے لیے تعلیم تو کبھی نہ پورا ہونے والا ایک خواب ہی بن چکا ہے، وہ تو ہوش پکڑتے ہی کسی دولتمند کے گھر میں غلام کے طور پر بیچ دی جاتی ہیں یا پھر کم عمری میں ہی فیکٹریوں اور کم تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ لیکن اب مڈل کلاس یا نسبتاً بہتر معیار زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے بھی بچیوں کو تعلیم دلوانہ مشکل ہو چکا ہے۔ لہٰذا، اگر کوئی خاندان اپنی جمع پونجی اور زیورات بیچ کر بچیوں کو تعلیم بھی حاصل کروا لے تو روزگار اور نوکریاں نہیں ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تمام مسائل کا سامنا کرنے اور قربانیاں دینے کے بعد بھی ان کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔
دوسری طرف ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بحران کے اثرات کو دیکھ کر وہ کسی بھی طرح کسی بھی نوکری پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ اب صرف گھر کے مردوں کے کمانے سے گھر کا چولہا نہیں چل پا رہا۔ بڑی تعداد میں خواتین مارکیٹ کے رحم و کرم پر آ جاتی ہیں جہاں ان کے مالکان یا باس ان کا استحصال کرتے ہیں۔ خواتین کا بڑی تعداد میں نوکری کرنا خاندان اور سماج میں ایک طرح سے مثبت اثرات بھی ڈال رہا ہے۔ جہاں ایک طرف ایک خاتون جو گھر کو چلانے میں معاشی کردار ادا کر رہی ہے تو خاندانی اور سماجی فرسودہ، توہم پرستانہ رسم و رواج کے خلاف بغاوت جنم لے رہی ہے تو دوسری طرف سماج کے اندر اس کا سیاسی کردار بھی بڑھ رہا ہے۔ وہ تنخواہوں میں اضافے، پنشن اور بونس کی کٹوتی کے خلاف اور نجکاری سمیت محنت کشوں کو درپیش دیگر مسائل کے خلاف تحریکوں کا حصہ بھی بن رہی ہے۔ اسی کے نتیجے میں تمام مروجہ سیاسی پارٹیوں پیپلز پارٹی، نون لیگ، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، جے یو آئی اور دیگر قوم پرست پارٹیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے حقیقی مزدور اور عورت دشمن کردار سے بھی روشناس ہو رہی ہے۔ لہٰذا، اس کے شعور میں انقلابی سیاست اور سماج کو مکمل بدلنے کی خواہش اور تڑپ میں کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔
اس غیر یقینی کی صورتحال میں خاندان کی طرف سے خواتین پر شادی کا پریشر بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ کیونکہ پاکستان جیسے پسماندہ سماج میں شادی زندگی کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی اچھی نوکری والے لڑکے سے رشتہ ازدواج میں آ کر ساری زندگی اس کی خدمت کرنا خواتین کا مقصد ٹھہرتا ہے۔ لڑکی کو تعلیم دلوانے کا مقصد اچھے رشتے کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب یہ صورتحال بھی بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اس وقت ملک میں بے روزگاری اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ لہٰذا ’سٹیبل خاندان‘ نامی پری اب رخصت ہو چکی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ملک میں خاندان کے ٹوٹنے یا طلاق کی شرح میں بے تحاشا اضافہ ہو اہے۔ اسی طرح شادی کی اوسط عمر میں بھی اضافہ ہوا ہے؛ جو کہ 30 سال سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس تمام پریشر کے باعث خواتین ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا شکار بھی ہو رہی ہیں۔ شادی، روزگار اور کیریئر کا منہدم ہوتے جانا خواتین بالخصوص نوجوان لڑکیوں میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما کر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہیں ملک کے سیاسی، ریاستی اور معاشی بحران کا حل کسی پارٹی کے پاس نظر نہیں آ رہا۔ لیکن مایوس ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے، اکثریت اس گھن چکر سے آزادی حاصل کرنے کے لیے نبرد آزما ہے اور انقلابی نظریات کو جاننا اور سمجھنا چاہتی ہے تاکہ اس سماج کو بدلا جا سکے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ محض خاندانوں میں فرسودہ رسم و رواج کے ٹوٹنے اور خواتین کے سیاسی کردار میں اضافہ ہونے سے خواتین کے مسائل کم نہیں ہوئے ہیں، بلکہ موجودہ سرمایہ داری کے نظام میں خواتین کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہی ہوا ہے۔
ملک کے اندر حالیہ تحریکوں میں خواتین کا کردار بہت نمایاں رہا ہے، جس میں بلوچ مسنگ پرسنز کی رہائی کے لیے چلنے والی تحریک میں نوجوان لڑکیوں کی پر جوش و بھرپور شرکت اور اس پوری تحریک کی قیادت کرنا قابلِ ذکر ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر اور گلگت میں جاری تحریکوں میں خواتین کا کردار اس خطے میں تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ پنجاب میں نجکاری اور پنشن کی کٹوتی اور عام سرکاری ملازمین کے دیگر مسائل کے خلاف جاری عام سرکاری ملازمین کی تحریک آل گورنمنٹ گرینڈ الائنس (اگیگا) کی تحریک میں خواتین شاندار کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں موجود بچیوں اور خواتین کے اندر بھی اپنے مسائل کے خلاف شدید غصہ پنپ رہا ہے اور وہ ابھی اپنے مسائل کے حل کے لیے حقیقی نظریات اور جدوجہد کی متلاشی ہیں۔
آنے والے عرصے میں خواتین کا سیاسی کردار مزید بڑھے گا۔ سماج کی تبدیلی کی جدوجہد سے دنیا کی کوئی طاقت انہیں نہیں روک سکتی۔ محنت کش خواتین اور طلبہ کے لیے یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ اس وقت سرمایہ دارانہ نظام عالمی سطح پر بحران سے دوچار ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی وہاں کے حکمران طبقے کی جانب سے محنت کشوں اور بالخصوص خواتین کے حقوق پر ڈاکہ زنی کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف پوری دنیا میں بغاوتیں جنم لے رہی ہیں۔ اس نظام کا خاتمہ کر کے ہی تمام مسائل سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ انقلاب روس برپا کرنے والے محنت کشوں کے پاس کمیونزم کے انقلابی نظریات اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی موجود تھی۔ اس انقلاب کے ذریعے محنت کش خواتین نے وہ حقوق اور فوائد حاصل کیے جس کی انسانی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ آئیں ایسا سماج تعمیر کریں جس میں کم تنخواہوں، گھریلو غلامی، ہراسمنٹ، پدر شاہی، صنفی جبر اور طبقاتی جبر جیسے غلیظ مسائل کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے۔ یہی 8 مارچ محنت کش خواتین کے عالمی دن کا حقیقی پیغام ہے۔ ہم پاکستان میں کمیونزم کے انقلابی نظریات پر مبنی انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر کر رہے ہیں۔ یہ پارٹی تمام محنت کشوں، طلبہ، کسانوں اور خواتین کی پارٹی ہے۔ ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا ممبر بن کر اس جدوجہد کا حصہ بنیں!




















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance