کمیونسٹ سے پوچھیے! ماحولیاتی تبدیلی کیا ہے، اس کی تباہ کاریاں کیا ہیں اور اسے کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

پوری دنیا میں اس وقت ماحولیاتی تباہ کاریاں اپنا اظہار طوفانی بارشوں اور سیلابوں، خوفناک گرمی اور سردی کی لہروں اور سطح سمندر میں بڑھوتری کی شکل میں اپنا اظہا رکر رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے شہروں میں سیلاب آ رہے ہیں اور کھیتوں کی بویائی متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان میں بھی کئی علاقے اس موسم گرما طوفانی بارشوں اور دیوہیکل ہیکل سیلابوں کی زد میں رہے جس نے دیہی اور شہری زندگی کو مفلوج کیا اور زراعت اور مویشی بانی پر تباہ کن اثرات بھی مرتب کئے۔ بطور سنجیدہ نظریاتی انقلابی ہمارے لئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں کیا ہیں، کیوں رونما ہو رہی ہیں اور ان کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں سے مراد درجہ حرارت اور موسم میں طویل معیاد تبدیلیاں ہیں۔ اگرچہ کچھ تبدیلیاں قدرتی ہوتی ہیں لیکن موجودہ تیز تبدیلیوں کی سب سے بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ فاسل فیول کو بطور ایندھن استعمال کرنا ہے۔ اس کا سب سے بڑا اثر گرین ہاوس گیسیں ہیں یعنی انسانی سرگرمیاں فضاء میں ایسی گیسیوں کی بھرمار کر دیتی ہے جو سورج کی گرمی کو فضا میں قید کر دیتی ہے اور قدرتی طریقہ کار سے خاج نہیں ہونے دیتی۔ ان گیسوں میں کلیدی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جو توانائی اور ٹرانسپورٹ کے لئے استعمال ہوتی ہے جبکہ اس کا ایک حصہ جنگلوں کی کٹائی سے بھی بڑھتا ہے کیونکہ جنگل زمین کے قدرتی پھیپڑے ہیں جو اس گیس کو جذب کر کے آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ دوسری گیس میتھین کے جو مویشیوں، کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں اور تیل اور گیس سے خارج ہوتی ہے۔ تیسری گیس نائٹرس آکسائیڈ ہے جو زرعی کھاد اور فاسل فیول کے جلنے سے پیدا ہوتی ہے۔

اس سب سرگرمی کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کا درجہ حرارت اس وقت قبل از صنعت کاری (1850-1900ء) دور کے مقابلے میں 1.3-1.4 سنٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ پچھلے 10 سال خاص طور پر انسانی تاریخ کے گرم ترین سال ریکارڈ ہوئے ہیں۔ پیش گوئی یہ ہے کہ اگر اس بڑھوتری پر قابو نہیں پایا جاتا اور عمومی درجہ حرارت 1.5 ڈگری سنٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے تو ماحولیات کی تبدیلی پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہوں گے جس کے انسانی، حیوانی اور نباتاتی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے بلکہ حیات کی بقاء ہی خطرے کا شکار ہو جائے گی۔ سرمایہ دار طبقے اور اس کے زرخرید دانشوروں کی جانب سے یہ غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ تمام انسانی سرگرمیاں ہیں جن میں عام عوام بھی شامل ہے۔ تحقیقات کے مطابق دنیا میں 74 فیصد گرین گیس اخراج کی ذمہ دار 74 سب سے بڑی اجارہ دار کمپنیاں ہیں۔ کمپنیوں کے اخراج میں نصف سے زیادہ حصہ 36 کمپنیوں کا ہے جن میں دنیا کی سب سے بڑی فاسل فیول کمپنیاں شامل ہیں جبکہ ممالک میں سب سے بڑے صنعتی ممالک جیسے امریکہ، چین، انڈیا، روس اور یورپی ممالک ہیں۔

درحقیقت یہ سرمایہ دارانہ طرز پیداوار ہے جس میں فاسل فیول کا بے دریغ استعمال، خام مال کا استخراج اور ماحولیات کی بربادی، فیکٹریوں کا کیمیکل، فضلہ، دھواں وغیرہ کسی علاج کے بغیر سماج میں بے دریغ اخراج، اور پیداوار کا مسلسل بغیر کسی منصوبہ بندی کے پرانتشار پھیلاو ہے۔ پھر سماج میں موجود امراء کی ذاتی گاڑیوں، ہوائی اور بحری جہازوں، ہیلی کاپٹروں، رہائش میں توانائی کی کھپت وغیرہ کا عام عوام کی توانائی کھپت سے موازنہ کیا جائے تو یہاں بھی طبقاتی فرق پوری شدت کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں ایک طرف گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی سطح اور درجہ حرارت دونوں بڑھ رہے ہیں جو خوفناک بارشوں، تاریخی طوفانوں اور سیلابوں کو جنم دے رہے ہیں اور دوسری طرف جنگلات کی بربادی خشکی، گرمی کی شدید لہروں اور جنگلات میں بے قابو آگ کے طوفانوں کو جنم دے رہے ہیں۔ اس سب کا سب سے زیادہ تباہ کن اثر عام عوام پر پڑ رہا ہے کیونکہ ان سب اثرات سے بچاو کے لئے جو سازو سامان اور سہولیات درکار ہیں اس کو خریدنے اس میں سکت ہی نہیں ہے۔ سادہ الفاظ میں سرمایہ داری میں توانائی کا استعمال انیسویں صدی کا ایندھن اور بیسویں صدی کی صنعت کاری، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر ہے جو کرہ ارض کو تباہ و برباد کر رہاہے۔

1970ء کی دہائی سے یہ بربادیاں اور ان کا ماحولیات پر اثر واضح ہو چکا ہے لیکن سرمایہ داری کی تاریخی متروکیت اور سرمایہ دار طبقے میں جدت کا مکمل فقدان اس مسئلہ کو حل نہیں ہونے دے رہا۔ حالانکہ آج وہ ٹیکنالوجی موجود ہے جس کے ذریعے ان تمام تباہ کاریوں کو روکا تو کیا ختم کیا جا سکتا ہے۔ انسانی سرگرمیاں ہمیشہ ماحولیات پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ہوتی رہیں گی لیکن درست منصوبہ بندی کے ذریعے ان کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً شمسی، فضائی، ہائیڈرو، جوہری، جیو تھرمل، سمندری لہروں وغیرہ کی توانائی کو بروئے کار لاتے ہوئے فیکٹریوں، بجلی گھروں وغیرہ میں فاسل فیول، کوئلہ اور قدرتی گیس کے استعمال کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ سمارٹ اور توانائی موثر عمارات اور برقی آلات کی تعمیر اور سیمنٹ کا متبادل لاتے ہوئے بہت بڑا فرق ڈالا جا سکتا ہے۔ سب سے بڑا ماحولاتی آلودگی کا سیکٹر یعنی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر الیکٹرک پر تبدیل کر کے انسان دوست بنایا جا سکتا ہے۔ شہروں، دیہات میں وافر شجر کاری اور جنگلات کی افزائش کے ذریعے عالمی ماحول کو ایک مرتبہ پھر ترو تازہ کر کے درجہ حرارت کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ دیگر ٹیکنالوجی ترقی کے ساتھ منصوبہ بندی کرتے ہوئے فیکٹریوں اور دیگر انسانی سرگرمیوں سے زہریلی گیسوں اور فضلے کا بے دریغ اخراج ختم کیا جا سکتا ہے۔

دہائیوں سے سرمایہ دار طبقہ عوامی دباو اور اب تیز تر ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ”گرین انقلاب“ کا ڈرامہ کرتا نظر آ رہا ہے لیکن حقیقی اقدامات نا ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ڈیڑھ صدی میں بننے والے دیوہیکل سیکٹر جیسے ٹرانسپورٹ، توانائی، صنعتوں وغیرہ کے مفادات اور عمومی سرمایہ دارانہ منافع خوری ہے جس کی بنیاد پر سنجیدہ منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کی بنیادی تبدیلی ناممکن ہے۔ انسانیت کو درپیش تمام معاشی اور سماجی مسائل کی طرح اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے بھی ایک سوشلسٹ انقلاب درکار ہے جس کے ذریعے انسانیت کو ہمیشہ کے لئے ان مسائل سے آزاد کرایا جا سکتا ہے۔

Comments are closed.