کمیونسٹ فیض فیسٹیول: ادب، مزاحمت اور انقلاب کی گونج

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، لاہور|

11فروری کو انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے زیرِ اہتمام لاہور کے لیبر ہال میں کمیونسٹ فیض فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ یہ محض ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ مہنگائی، غربت، لاعلاجی، سرمایہ دارانہ استحصال، ریاستی جبر اور ثقافتی پسماندگی کے خلاف ایک واضح سیاسی و نظریاتی احتجاج تھا۔ فیسٹیول میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، پنجاب یونیورسٹی سمیت لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ اس کے علاوہ مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے محنت کش شریک ہوئے، بالخصوص سول سیکرٹریٹ لاہور کے سامنے سراپا احتجاج لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ایک وفد کی شرکت نے اس تقریب کو حقیقی معنوں میں عوامی رنگ عطا کیا۔

تقریب کے دوران وقفے وقفے سے ہال انقلابی نوجوانوں کے فلک شگاف نعروں سے گونجتا رہا، جو اس بات کا اظہار تھا کہ فیض کی شاعری محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ آج بھی زندہ سیاسی قوت ہے۔

اس کے علاوہ کمیونسٹ بک سٹال کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں لال سلام پبلیکیشنز کی کتب، کمیونسٹ اخبار اور رسالہ جات موجود تھے جس کا مقصد ہے کہ نوجوانوں کو نظریاتی طور پر کمیونسٹ انقلاب کے لیے تیار کیا جا سکے۔

تعارفی کلمات

فیسٹیول کا آغاز انقلابی نوجوان ثاقب اسماعیل کے تعارفی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے فیض کے نام پر ہر سال الحمرا میں منعقد ہونے والے سرکاری و لبرل میلوں کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکمران طبقہ ہمیشہ انقلابی شخصیات کو ”قابل قبول اور محفوظ“ بنا کر پیش کرتا ہے۔ فیض کے نام پر کاروبار کیا جاتا ہے جبکہ اس کے نظریات کی انقلابی دھار کو کند کر دیا جاتا ہے۔

بالکل اسی طرح جیسے ریاست ہر انقلابی کے ساتھ کرتی ہے۔ جیسا کہ ولادیمیر لینن نے کہا تھا کہ حکمران طبقہ زندہ انقلابیوں کو کچلتا ہے اور مرنے کے بعد انہیں بے ضرر علامت میں بدل دیتا ہے۔

ثاقب اسماعیل نے زور دیا کہ فیض احمد فیض محض رومانوی شاعر نہیں بلکہ ایک کمیونسٹ انقلابی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی ظلم، آمریت اور سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف جدوجہد میں گزاری اور اس کی قیمت جیلوں اور جلاوطنی کی صورت میں ادا کی۔ انہوں نے فیض کی نظم ”یہ کون سخی ہیں جن کے لہو کی اشرفی چھن چھن“ پیش کی جو ایران کے انقلاب اور نوجوانوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

پہلا سیشن: فیض احمد فیض؛ ادب اور انقلاب

پہلا سیشن ”فیض احمد فیض؛ ادب اور انقلاب“ کے عنوان سے منعقد ہوا جس کی نظامت کامریڈ ثناء اللہ جلبانی نے کی جبکہ خطاب انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی راہنما آفتاب اشرف نے کیا۔ انہوں نے مارکسی نقطہ نظر سے ”ادب برائے ادب“ کے تصور پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ عظیم ادب کبھی خلا میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ اپنے عہد کی طبقاتی کشمکش کا اظہار ہوتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اعلیٰ ادب دراصل ”ادب برائے زندگی“ ہوتا ہے۔ ایسا ادب جو انسان کو سماجی حقیقت سے جوڑتا ہے اور شعور کو بلند کرتا ہے۔ اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ مارکسزم اور مارکسسٹ فن پر جبر مسلط نہیں کرتا بلکہ سماجی آزادی کے ذریعے تخلیقی قوتوں کو وسعت دیتا ہے۔ ان کے خطاب کے بعد طلبہ نے بھرپور سوالات کیے جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے اور ایک زندہ نظریاتی مکالمہ دیکھنے میں آیا۔

اس کے بعد کامریڈ سلمیٰ ناظر نے لاہور میں عام سرکاری ملازمین کی نجکاری اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف چلنے والی اگیگا کی تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قراداد پیش کی اور اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بلوچستان گرینڈ الائنس کے تحت چلنے والی عام سرکاری ملازمین کی تحریک اور ریاست کی جانب سے جبری گمشدگیوں کی مذمت کی اور جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ خیبرپختونخوا میں ریاستی جبر اور دہشتگردی کے خلاف چلنے والی عوامی تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی ریاست مینیسوٹا میں لنے والی محنت کشوں اور طلبہ تحریک کے ساتھ یکجہتی کی قرارداد پیش کی گئی۔ آخر میں انجمن مزارعین پنجاب کی جانب سے کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف چلنے والی مزارعین کی تحریک کے ساتھ یکجہتی کی گئی اور فارمز پر دہائیوں سے کام کرنے والے مزارعین اور کسانوں کے حق مالکی کی حمایت کی گئی۔ فیسٹیول میں موجود تمام شرکا نے پیش کی جانے والی ان تمام قراردادوں کے حق میں ووٹ دیا۔

دوسرا سیشن: فیض مشاعرہ

دوسرا سیشن ایک پرجوش مشاعرے پر مشتمل تھا جس کی نظامت نوجوان شاعر آصف علی نے کی جبکہ صدارت نامور شاعر اسد فاطمی نے کی۔

نوجوان شاعروں نے اپنا انقلابی اور سماجی موضوعات پر مبنی کلام پیش کیا جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔ اس مشاعرے نے واضح کیا کہ نئی نسل کے شعور میں مزاحمت اور تبدیلی کی خواہش کس شدت سے موجود ہے۔

شعراء میں اسد فاطمی (صدارت)، آصف علی (نظامت)، جعفر علی جعفر، عاطف سیال، آصف محمود آصف، کاشف افضل، کامران عباس، رائے اسد، حیدر عباس، نقی بخاری، ساحر رانا نے اپنی کلمات سنائے۔

تیسرا سیشن: موسیقی

فیسٹیول کے آخر میں موسیقی کا سیشن منعقد ہوا۔ اریز مرتضیٰ، جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طالب علم اور ابھرتے ہوئے نوجوان گلوکار ہیں، نے فیض کا کلام ”بہار آئی“ بہت خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا اور اپنی سریلی آواز سے حاضرین کو مسحور کر دیا۔

اس کے بعد محسن لاشاری نے گٹار اور گائیکی کے ذریعے ماحول کو مزید پرجوش بنا دیا، جس سے واضح ہوا کہ انقلابی ثقافت محض نظریاتی بحث تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی احساس اور جدوجہد کی توانائی بھی پیدا کرتی ہے۔

کمیونسٹ فیض فیسٹیول نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ فیض کو محض ثقافتی علامت یا رومانوی شاعر بنا دینا دراصل اس کی انقلابی روح سے غداری ہے۔ فیض کی شاعری محکوم طبقات کی آواز ہے۔ ایک احتجاج، ایک امید اور ایک ایسے سماج کا خواب جہاں استحصال کا خاتمہ ہو۔

یہ فیسٹیول اس حقیقت کا اعلان تھا کہ جب نوجوان، طلبہ اور محنت کش ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہیں تو ادب محض الفاظ تک محدود نہیں رہتا بلکہ انقلاب کی تیاری کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کمیونسٹ فیض فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد بھی یہی ہے کہ انقلابی پارٹی کی شکل میں ایک ایسی قوت تعمیر کی جائے جس کے ذریعے فیض کے ادھورے مشن، جو کہ ایک کمیونسٹ انقلاب تھا، کو پایہئ تکمیل تک پہنچایا جائے اور سرمایہ داری کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کر کے سماج کو ہمیشہ کے لیے بھوک، غربت، لا علاجی اور استحصال کے مرض سے نجات دلائی جائے۔

فیض تیرا مشن ادھورا، ہم سب مل کر کریں گے پورا!

Comments are closed.