|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، ڈیرہ غازی خان|
8مارچ، محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ڈیرہ غازی خان میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان، قریبی رابطوں اور محنت کش خواتین اور طلبہ نے شرکت کی۔ 8 مارچ کی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں ڈیرہ غازی خان شہر میں بھرپور کمپیئن کی گئی۔ کمپیئن کے دوران کشمیر پارک اور ڈی ایچ کیو ہسپتال، ڈیرہ غازی خان میں نرسز پیرامیڈیکس اور ڈاکٹرز میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے شائع کردہ 8 مارچ کا لیف لیٹ اور پروگرام کا دعوت نامہ خواتین میں تقسیم کیا گیا۔
کامریڈ حماد حسن نے پروگرام میں چیئر کے فرائض سر انجام دیے اور محنت کش خواتین کے عالمی دن کا تعارف پیش کیا اور تفصیلی گفتگو کے لیے کامریڈ آصف لاشاری کو دعوت دی۔
کامریڈ آصف لاشاری نے اپنی گفتگو میں 8 مارچ، محنت کش خواتین کے عالمی دن کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ دن محض رسمی تقاریب کا نہیں بلکہ طبقاتی جدوجہد کی علامت کا دن ہے۔ اس دن کا آغاز بھی دوسری انٹرنیشنل کی کمیونسٹ خواتین نے کیا تھا اور اس کا مقصد دنیا بھر کی محنت کش خواتین کو انقلابی نظریات کے جھنڈے تلے جمع کرنا تھا۔ انہوں نے تفصیل سے بیان کیا کہ کس طرح سرمایہ دارانہ نظام محنت کش طبقے کی خواتین کا استحصال کرتا ہے، جبکہ پیداواری عمل میں بھی انہیں کم اجرت اور غیر محفوظ حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محنت کش خواتین نہ صرف معاشی استحصال بلکہ پدرشاہی کے جبر کا بھی شکار ہیں اور یہی دوہرا جبر ان کی زندگی کو مزید اجیرن بناتا ہے۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے سوویت یونین کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ روس میں 1917ء میں سوشلسٹ انقلاب کے بعد کس طرح گھریلو غلامی کا خاتمہ کر کے اور ہزاروں سالوں سے جبری طور پر خواتین سے لیے جانے والے گھریلو مشقت کے کاموں کو سماجی کاموں میں تبدیل کر کے خواتین کی حقیقی آزادی کا راستہ ہموار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل نے نہ صرف خواتین کو معاشی غلامی سے نکالا بلکہ انہیں عملی طور پر پیداواری اور سیاسی عمل کا فعال حصہ بنایا، جو حقیقی آزادی کی طرف ایک اہم قدم تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ آج بھی خواتین کی آزادی کے لیے ایسے ہی اجتماعی اور انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے، جو انہیں گھریلو جکڑ بندیوں سے نجات دلا سکیں۔
دیگر مقررین میں کامریڈ آصف اقبال نے محنت کش خواتین کی عملی جدوجہد کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ خواتین ہر میدان میں اپنی طاقت منوا رہی ہیں اور انہیں مزید منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ سید تنویر نے کہا کہ خواتین کے مسائل کو سماجی و معاشی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے، محض اخلاقی اپیلیں کافی نہیں۔
ضامن شاہ نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ مزدور تحریک میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ جدوجہد کو وسعت دی جا سکے۔ صاحبہ نے خواتین کو درپیش روزمرہ مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہے۔
علیشہ نے نوجوان خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو اس جدوجہد میں آگے بڑھ کر حصہ لینا ہو گا تاکہ ایک بہتر اور مساوی سماج کی بنیاد رکھی جا سکے۔
پروگرام کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ محنت کش خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کو مزید منظم اور تیز کیا جائے گا اور انہیں طبقاتی شعور سے لیس کر کے ایک مضبوط انقلابی تحریک کا حصہ بنایا جائے گا۔ پروگرام میں شریک نئے ساتھیوں کو انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا حصہ بننے اور پارٹی کی ہونے والی سالانہ کانگریس میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی۔


















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance