ہالی وڈ فلم انڈسٹری: آرٹسٹوں کی بغاوت کی تاریخ

آرٹ اپنی سرشت میں ہی باغی ہوتا ہے۔ جی ہاں! ایسا ہی ایک عظیم آرٹسٹ کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے۔ آرٹسٹ جہاں ایک طرف انتہائی نفیس اور حساس ترین ہوتا ہے، وہیں پر وہ زبردست انقلابی اور سیاسی حوالے سے لڑاکا کردار کا بھی حامل ہوتا ہے۔ آرٹسٹوں کے اس پہلو پر اکثر جان بوجھ کر پردے ڈالے جاتے ہیں۔ کہ آرٹسٹ کا سیاست سے کیا عمل دخل وہ بس اپنے کام سے کام رکھے۔ بس”اچھا“ آرٹ تخلیق کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ کیا اچھا آرٹ سماج سے کٹا ہوا اور سماجی تضادات کی عکاسی سے لاتعلق بھی ہو سکتا ہے؟ خیر سیاست سے دور رہنے کے بھاشن طلبہ اور بالخصوص محنت کشوں کو بھی دیے جاتے ہیں۔ لیکن زندگی سب سے بڑی درسگاہ ہوتی ہے اس کے دروازے ان بے بنیاد واعظوں سے کہاں بند کیے جا سکتے ہیں۔ اس تحریر میں ہم ہالی وڈ کے آرٹسٹوں کی عظیم بغاوتوں پر سے نام نہاد میڈیا اور دانشوروں کے سفید جھوٹ کے غلاف نوچ پھینکنے کی کوشش کرینگے۔ ایسے جھوٹ جن پر فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم، ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے۔

آج ہالی وڈ کی فلمیں دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں اور ان میں کام کرنے والے فنکاروں کو دنیا بھر میں پذیرائی ملتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس فلم انڈسٹری کی انقلابی تاریخ سے واقفیت رکھتے ہیں۔ اس فلم انڈسٹری کو جہاں امریکی سامراج پوری دنیا پر اپنے نظریات اور اپنا پراپیگنڈا مسلط کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس انڈسٹری کے مالکان ہر سال سینکڑوں ارب ڈالر کے منافع نچوڑتے ہیں وہاں اس صنعت میں کام کرنے والے محنت کشوں کی اکثریت بد ترین استحصال کا شکار ہے اور اس کیخلاف بغاوت بھی کر رہی ہے۔ اس صنعت کے محنت کشوں کی بھی جدوجہد کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں شاندار ہڑتالیں بھی ہوئی ہیں اور اس صنعت سے وابستہ محنت کشوں نے اپنے نظریات کو سکرین تک پہنچانے میں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ درحقیقت اس فلمی صنعت کو تعمیر کرنے میں انقلابی نظریات اور کمیونسٹ تحریک سے وابستہ فنکاروں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ چارلی چپلن کی”ماڈرن ٹائمز“ اور حقیقت نگاری پر مبنی دیگر فلموں سے لے کر 1960ء میں بننے والی فلم ”سپارٹیکس“ تک اور پچھلے سال ریلیز ہونے والی ”ون بیٹل آفٹر این آدر“ تک بہت سی ایسی فلمیں ہیں جن میں انقلابی نظریات کو عوام کی وسیع تر پرتوں تک پہنچایا گیا۔ دوسری جانب امریکہ کے حکمران طبقے اور اس صنعت کے مالکان نے اپنے نظریات اور پراپیگنڈے کو مسلط کرنے کی بھی بھرپور کوششیں کیں اور پوری دنیا میں اپنے سامراجی عزائم کے لیے اس فلم انڈسٹری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اس میں ”ریمبو3“ نامی فلم جیسی فلمیں بھی شامل ہیں جن میں افغانستان میں امریکی سپانسرڈ ڈالر جہاد کو پرموٹ کیا گیا اور امریکی سامراج کے انسان دشمن عزائم کا پرچار کیا گیا۔ ہالی وڈ میں نظریات کی یہ لڑائی آج بھی جاری ہے اور یہاں بھی امریکی سماج میں جاری طبقاتی کشمکش، ٹرمپ کے اقدامات کیخلاف موجود تحریکیں اور کمیونسٹ نظریات کی بڑھتی ہوئی پذیرائی اپنے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

1940 ء کی دہائی میں ہالی وڈ کی تاریخ میں سب سے زیادہ منظم جدجہد دیکھنے کو ملی، جہاں ٹیکنیشنز، پینٹرز، ایڈیٹرز، کوریوگرافرز، سنگرز اور اداکاروں کی بڑی تعداد یونین میں منظم تھی۔ 1930ء کی دہائی عظیم کساد بازاری اور عالمی جنگ کے نتیجے میں محنت کشوں اور عوام کے حالات زندگی شدید متاثر ہوئے تھے۔ اسی اثنا میں سٹوڈیوز کے مالکان نے بھی آرٹسٹوں کی سہولیات میں بہت کمی کی تھی۔ بڑی پروڈیوسنگ کمپنیاں اربوں ڈالر کما رہی تھیں اور آرٹسٹ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ اس اجارہ دارانہ اور مافیا راج کے خلاف آرٹسٹوں نے مزاحمت کے لیے کمر کس لی تھی۔اس عہد میں فلمی صنعت میں ٹریڈ یونین کی موجودگی لگ بھگ 90 فیصد کو پہنچ چکی تھی۔

اسی دوران آرٹسٹوں کی عظیم الشان، ہڑتالیں، احتجاج اور بائیکاٹ دیکھنے کو ملے۔ پولیس اور ایجنسیوں کی بھاری تعداد ان کے تعاقب میں تھی اور مالکان کے منافعوں کے تحفظ میں بر سرِپیکار تھی۔ مالکا ن کی طرف سے ہزاروں آرٹسٹوں کو کام سے نکال کر بے روزگار بھی کیا گیا۔ جس نے مزید جلتی پر تیل کا کردار ادا کیا اور 12 مارچ 1945ء کو آرٹسٹوں نے ہڑتال کر دی۔ ایک رپور ٹ کے مطابق ”کل تقریباً 60 فیصد فلمی پیداوار بند رہی، اور 12000 فلمی کارکنان نے کام نہیں کیا، جبکہ سکرین سیٹ ڈیزائنرز، ڈیکوریٹرز اور السٹریٹرز نے تمام بڑے سٹوڈیوز کے سامنے کام چھوڑ ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھااور صنعت کے ایک درجن بڑے شعبوں کے کارڈ ہولڈرز بھی ساتھ ہو گئے“اس طرح ہالی وڈ میں تاریخی طور پر کام کے تعطل کا سامنا رہا۔ یہ ہڑتال ہالی وڈ کی یادگار ہڑتالوں میں شامل ہوتی ہے۔ اسی طرح 5 اکتوبر کو ’وارنر برادرز‘ سٹوڈیو کے سامنے ہزاروں آرٹسٹوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

بہرحال اس جدوجہد کے بعد آرٹسٹوں نے جزوی طور پر اپنے مطالبات منوالیے اور مالکان اور ریاستی اداروں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ لہٰذا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس صنعت میں بھی منافع خور سرمایہ دار سینما اور فلموں کے معیار کو بہتربنانے اور آرٹسٹوں کے مفادات کے خلاف ہی رہے ہیں۔ اس طرح مالکان آزادی اظہارِ رائے پر قدغنیں لگاتے رہے ہیں اور حکمرانوں کے سیاسی مفادات کے سامنے سجدہ ریز ہوتے آئے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی ریاست کی طرف سے کمیونزم اور سوشلزم سے خوفزدہ ہوکر ہر شعبہ زندگی سے وابستہ لوگوں پر شدید جبر کیا گیا، جس میں محنت کشوں کی یونینز، عدلیہ، صحافیوں، آرٹسٹوں، بالخصوص ہالی وڈ کو جبر کا نشانہ بنایا گیا اور ہزاروں فنکاروں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا۔ اس بلیک لسٹ میں اداکاروں، لکھاریوں، ہدایتکاروں کے علاوہ ٹی کیمرہ مین، لائٹ مین اور دیگر ٹیکنیشن بھی شامل تھے جن سے ہر طرح کی جمہوری اور سیاسی آزادیاں سلب کر لی گئی تھیں۔ ایف بی آئی اور سی آئی اے نے رونلڈ ریگن جو اس وقت ’سکرین ایکٹرزگلڈ‘ (SAG) کا صدر بھی تھا کی سربراہی میں جاسوسوں اور انفارمرز کا ایک وسیع نیٹورک قائم کیا تاکہ ہالی وڈ پر شب خون مار کر آرٹسٹوں کو ہراساں کیا جا سکے اور حقیقت کو چھپایا جا سکے۔ 1951ء میں ہالی وڈ پر حملہ کیا گیا جس میں نامور اداکاروں اور ڈائریکٹرز کو گرفتار کیا گیا، اس وقت پولیس کی طرف سے رہائی کا واحد راستہ یہی دیا گیا کہ اپنے جیسے انقلابی اور محنت کشوں یا عوام سے یکجہتی کرنے والے ساتھیوں کے ناموں کی فہرست دی جائے لیکن آرٹسٹوں نے اس کا کھل کر مقابلہ کیا۔ ان میں ایک نام ’ہینس ایزلر‘ کا ہے جو نازی جرمنی سے بچ کر امریکہ میں پناہ گزیں تھا، جسے”میوزک کی دنیا کا مارکس“بھی کہا جاتا ہے۔ اس نے نام بتانے سے انکار کیا تو بدلے میں واپس جرمنی ڈیپورٹ کر دیا گیا!

اسی طرح 300 سے زائد نمایاں آرٹسٹوں کو ہالی ووڈ سے بلیک لسٹ کیا گیا، ان کے کیریئر مسمار کر دیے گئے، ان میں سے کچھ جلاوطن ہو نے مجبور ہوئے تو کچھ نے اپنے ضمیر اور فن کی سچائی سے وفادار رہتے ہوئے فاقہ کشی کی موت کو گلے لگایا، لیکن آرٹ سے غداری نہیں کی۔ ان میں اک بڑا نام ’ڈالٹون ٹرمبو‘ ہے جس نے بلیک لسٹ ہونے کے باعث اپنے خفیہ نام ’رابرٹ رچ‘ سے کام جاری رکھا، جو کہ ’’جونی گاٹ ہز گن‘‘ اور ”سپارٹیکس“ کا مصنف ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ اسے آسکر ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ سیاہ فام گائک ’پال روبسن‘ نے پھانسی کا پھندہ چومتے ہوئے خود کو امر بنا دیا۔عظیم اداکار چارلی چیپلن نے بھی کئی دہائیاں جلاطنی کو قبول کیا۔ ان باغیوں میں نامور نام ’جاہن وین‘، ’کلارک گیبل‘، ’گرے کووپر‘، ’اورسن ویلز‘ اور ’جاہن فورڈ‘ کا بھی ہے۔

ان آرٹسٹوں نے بے خوف اور بے باک ہوکر امریکی ریاست کے گھناؤنے کریک ڈاؤن کو شرمندہ کر دیا اور جدوجہد کی تاریخ میں نامور ستارے بن کر آج تک چمک رہے ہیں۔ یہاں عام طور پر یہ خیال پروان چڑھایا جاتا ہے کہ حکومت اور اداروں کی مرضی کے مطابق کام کرنا چاہیے، حکمرانوں، منسٹروں کی خوشامد اور چاپلوسی کو فرض سمجھا جاتا ہے کہ”بھائی ہم تو آرٹسٹ ہیں، ہمارا تو سیاست اور عوام سے کیا تعلق!“ ان بھیڑیوں سے خبردار رہیے، حقیقی آرٹسٹ ایسے نہیں ہوتے۔ سچے آرٹسٹ باغی ہو تے ہیں۔

2023ء میں رائیٹرز گلڈ نے بڑھتے استحصال اور بدتر ہوتے حالات زندگی پر اپنے مطالبات کی لسٹ ’الائنس آف موشن پکچرز اینڈ ٹیلی ویژن پروڈیوسرز‘(AMPTP) کو جمع کروائی لیکن اس نے ماننے سے انکارکر دیا۔ ’گیم آف تھرونز‘ کے نامور مصنف برائن کوگمین کا کہنا تھا کہ ”بنیادی طور پر ہمیں بے دخل ہونے کا کہہ دیا گیا ہے، اور بے شمار اہم مسائل پر کوئی جوابی پیش کش تک نہیں کی گئی“۔ ایک اور آرٹسٹ کا کہنا تھا کہ ”وال سٹریٹ نے کھیل کے اصول بدل دیے ہیں“۔ یعنی اب واضح طور پر منافع خوری اور کمرشلائزیشن کے تحت آرٹسٹوں کو دردبد کیا جا رہا ہے۔ نہ صرف ’نیٹ فلکس‘، ’امیزان‘، ’ایپل‘ بلکہ’ڈزنی‘، ’پیراماؤنٹ‘، ’یونیورسل‘ اور ’وارنربرادرز‘ نے ہزاروں آرٹسٹوں کی عزت اچھالنا شروع کی۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید مشینری کا استعمال کر کے آرٹسٹوں کے استحصال میں مزید اضافہ کیا جارہا تھا۔ جس کے خلاف رائیٹرز گلڈ نے جمہوری طور فیصلہ کرتے ہوئے کام بند کر دیا۔ 97 فیصد سے زیادہ آرٹسٹوں نے ہڑتال کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس ہڑتال کو برطانیہ، کینیڈا کے لکھاریوں، ڈائریکٹرز سمیت عالمی سطح کے آرٹسٹ اتحاد ”انٹرنیشنل الائنس آف تھیٹریکل سٹیج امپلائیز‘ (IATSE) کی طرف سے بھی بہت یکجہتی ملی۔

اس سال ہالی وڈ کی قابل دید کاروائی صرف ’باربی‘ یا ’اوپن ہائمر‘ فلمیں نہیں تھیں بلکہ لکھاریوں اور اداکاروں کی تقریباً مشترکہ مطالبات کے تحت کی گئی ہڑتال بھی تھی۔ سکرین ایکٹرز گلڈ((SAC نے ایک لاکھ ساٹھ ہزار اداکاروں کے ساتھ کام مکمل طور پر بند کر دیا۔ عالمی سطح پر بھی فلم میکنگ کے عمل اور فلموں کی تشہیر کو بھی روک دیا گیا۔’اگلی بیٹی‘ کے ایکٹر’ڈیوڈ بلو‘کا کہنا تھا کہ ”میں ایسے کئی سیریز اور شوز کے لیڈ اداکاروں کو جانتاہوں، جو حالیہ عرصے میں اپنے والدین کے گھرمیں رہنے پرمجبور ہیں کیونکہ وہ خود اپنے گھر کا کرایہ تک برداشت نہیں کر پارہے“ اسی طرح ’لوک کوک‘ نے کہا کہ” SAG کے 95فیصد اداکاروں کا گزر بسر صرف ایکٹنگ سے نہیں ہو پارہا، انہیں روزی روٹی کمانے کے لیے اضافی کام (سائیڈ ہسلز) بھی کرنے پڑتے ہیں“، معروف اداکارہ ’فرین ڈریسچر‘ نے کہا کہ ”بالآخر عوام ورسائے محل کو توڑ دیتے ہیں، اور پھر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، ہم بالکل اسی مرحلے پر کھڑے ہیں“ اس کی مراد عظیم فرانسیسی انقلاب تھا۔ اس نے درست طور پر یہ بھی کہا کہ ”دنیا کی نظریں بالخصوص محنت کشوں کی نظریں ہماری جدوجہد پر ہیں“ جی بالکل۔ سرمایہ دارانہ نظام محنت کشوں کی طرح آرٹسٹوں سے بھی زندگی کا حق چھین رہا ہے۔

لہٰذا فنکاروں کو بھی اس وقت اس نظام کے خلاف جاندار سپاہیوں کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ہمارا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پروپیگنڈا آرٹ تخلیق کیا جائے بلکہ عمدگی کے ساتھ فن کے معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادانہ طور پر عہد کے تضادات کا پردہ چاک کرتے ہوئے نئے انسان دوست سماج سوشلزم کے لیے راہ ہموار کرنے کا فرض ادا کرنا چاہیے کہ جہاں زندگی کی ضمانت منافع خور سرمایہ داروں کے رحم وکرم پر نہیں ہوگی۔ کیونکہ آرٹسٹ کا کام حقیقت کی محض تصویر کشی کرنا نہیں، بلکہ اسے نئی صورت دینا بھی ہے۔

فلسطین کے ساتھ یکجہتی کی بے نظیر مثال

حال ہی میں فلسطین پر جاری سامراجی اور اسرائیلی یلغار کے خلاف ہالی وڈ کے آرٹسٹوں نے اپنی مثال آپ قائم کر دی ہے۔ کئی ایکٹرز نے احتجاجاً ایوارڈز واپس کر دیے، فلموں سے بائیکاٹ، سخت ترین مذمتی بیانات اور اس سے بڑھ کریکجہتی میں ہونے والے احتجاجوں کو منظم کرنے، آنلائن یکجہتی مہم چلانے اور ان میں شرکت کرتے ہوئے کھل کر سامراجی عزائم کے خلاف اعلان جنگ کرنے تک جیسے شاندار اقدامات اٹھائے ہیں، جس کی مثال شاید انسانی تاریخ میں نہ ملے۔ ان فنکاروں میں کیلین مرفی، مارک روفیلو، سیمول ایل جیکسن، ڈینزل واشنگٹن، جاویئر بارڈیم، برائن کوکس، راخیل زیگلر، اینجلینا جولی، حانہ اینبنڈر، جیمز کیمرون، رامے یوسف، اینڈریو گارفیلڈ، جیکی چین، فلورینس پف، پیڈرو پاسکل، بین ایفلیک، اوڈیسہ ایزیون، زین ملک، بیلا حدید، جولیا رابرٹس، بیلی ایلیش اور جوآکن فینکس سمیت سینکڑوں نے اپنے کیریئر داؤ پر لگاتے ہوئے ایک آرٹسٹ ہونے کا فرض ادا کر دیا۔ المختصر موسیقار، گائیک، لکھاری، مصور، رقاص اور اداکار ودیگر فنکار بغاوتوں کی صف اول میں شامل رہے ہیں۔ بڑے آرٹسٹوں نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا ہے اور ظلم و جبر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے ہیں۔

رت بدلنے لگی رنگ ِدل دیکھنا!

انقلاب روس کے قائد لیون ٹراٹسکی نے اپنی کتاب لٹریچر اور انقلاب میں لکھا تھا کہ ”انقلابی ہیجان کے زمانے میں آرٹ میں بھی شدید ہلچل اورانقلاب برپا ہو جاتے ہیں“۔ ہم اس وقت سماجی اتھل پتھل اور تاریخ کے ہنگامہ خیز عہد میں جی رہے ہیں۔ انقلابات، رد انقلاب، جنگیں اور خانہ جنگیاں ایک معمول بنتا جارہا ہے۔ یقینا یہ ایک غیر معمولی عہد ہے، 2026ء کے پہلے مہینے کے چند ہفتوں میں ہی ثابت ہو گیا ہے کہ یہ سال ماضی سے معیاری طور بلنداور مختلف ہوگا۔بالخصوص طبقاتی صف بندی کے حوالے اس کا کوئی ثانی نہیں ہوگا۔ لہٰذا ہم کمیونسٹ کسی طور پر بھی مایوس نہیں ہیں، بلکہ ہمیں یقین ہے کہ دوبارہ سے عظیم آرٹ تخلیق ہوگا۔ ہم محض اس کے استقبال میں سرِ راہ کھڑے نہیں بلکہ سازگار ماحول اور انسان کی سرمایہ پر حتمی کامیابی کے لیے انتہائی اہم سنگ میل بھی عبور کر رہے ہیں۔ ہم آپکو دعوت دیتے ہیں کہ کمرشلائزیشن اور منافع خوری کی زنجیروں سے آرٹ کو نجات دلانے کے لیے سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کاحصہ بنیں۔ بقول کرشن چندر کہ آؤ ایسی دنیا تشکیل دیں جو بچے کی معصوم مسکراہٹ کی طرح پاکیزہ ہو۔

 

Comments are closed.