کراچی: سانحہ گل پلازہ اور بے حس حکمران

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، کراچی|

17جنوری کی رات گل پلازہ میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا سانحہ پیش آیا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ رات تقریباً 10 بجے پھولوں کی ایک دکان سے شروع ہونے والی آگ نے ہزاروں دکانوں کو خاک کے ڈھیر میں بدل دیا۔ اس سانحے میں قریب 80 افراد جاں بحق ہوئے اور آگ پر قابو پانے میں 48 گھنٹوں سے زائد وقت لگا۔ ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں کئی لوگ آگ لگنے کے گھنٹوں بعد تک زندہ دکھائی دیتے ہیں، مگر سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے باعث اتنا بڑا جانی نقصان ہوا۔ ریسکیو کی گاڑیاں بھی کئی گھنٹوں بعد پہنچیں، جس کی بنیادی وجہ کراچی کا تباہ حال انفراسٹرکچر ہے۔

یہ آگ لگنے کا پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے بھی میلینیم مال سے لے کر آر جے مال تک کئی آتش زدگی کے واقعات پیش آ چکے ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ اس سانحے کے بعد سندھ حکومت نے ہوش کے ناخن لیے ہوں۔ اس کے بعد بھی سبزی منڈی اور صدر موبائل مارکیٹ میں آگ لگنے جیسے واقعات سامنے آئے اور نتائج وہی رہے۔

مسئلے کی بنیاد کو سمجھنے کے لیے چند اعداد و شمار پیش کرنا ضروری ہے۔ صرف سال 2024ء میں کراچی میں تقریباً 2900 آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے زیادہ واقعات کے باوجود گل پلازہ کی آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں دو گھنٹے بعد کیوں پہنچیں؟ اس کی بنیادی وجہ کراچی کی بوسیدہ سڑکیں ہیں، جہاں چند منٹوں کا فاصلہ بھی گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کراچی کی تقریباً 70 سے 80 فیصد عمارتوں میں بنیادی فائر سیفٹی نظام موجود ہی نہیں، نہ فائر الارم، نہ اسپرنکلرز، نہ ہائیڈرینٹس اور نہ ہی ہنگامی راستے۔ یہ صورتحال برسوں سے جاری سرکاری غفلت اور ریگولیٹری اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح جنوری میں کیے گئے فائر آڈٹ کے مطابق جب کراچی کی 266 عمارتوں، مارکیٹوں اور بازاروں کا جائزہ لیا گیا تو 200 عمارتوں میں کسی قسم کا فائر سیفٹی نظام سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔

ان تمام اعداد و شمار سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز منافع کی غرض سے بنائی جاتی ہے، چاہے وہ پہننے کے کپڑے ہوں یا کھانے کی غذا۔ یہ کموڈیٹی پروڈکشن کا نظام ہے۔ اسی طرح رہائشی عمارتیں، فیکٹریاں، مارکیٹیں اور بازار تعمیر کرتے وقت بھی سرمایہ دار طبقہ کم سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے فائر سیفٹی اور دیگر حفاظتی اقدامات کو ”اضافی خرچ“ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ دارانہ ریاست بھی نجی ملکیت اور سرمائے کے تحفظ کے لیے سرگرم رہتی ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ نام نہاد آڈٹ رپورٹس ہیں جن کے بعد کسی قسم کی عملی کاروائی نہیں کی جاتی۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، لیکن ہر ایسے سانحے کے بعد جب کراچی کے نوجوان احتجاج کرتے ہیں یا میئر صاحب (جو دن رات کراچی کی ”بہتری“ کے دعوے کرتے ہیں) سے تلخ سوالات کیے جاتے ہیں تو جواب میں یہی کہا جاتا ہے کہ ”سیاست نہ کریں“۔ حالانکہ سادہ سا سوال یہ ہے کہ ڈھائی سے تین کروڑ آبادی والے شہر میں محض 25 فائر اسٹیشن کیوں ہیں، جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ایک فائر اسٹیشن ہونا چاہیے۔ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ عام لوگوں کا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہی حقیقی سیاست ہے۔

یہاں پاکستان پیپلز پارٹی ان تمام جرائم میں برابر کی شریک ہے، مگر دہائیوں سے کراچی پر حکمرانی کرنے والی ایم کیو ایم بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے اور دیگر تمام سیاسی پارٹیاں، جن میں جماعت اسلامی صفِ اول میں ہے۔ یہ جماعتیں کراچی کے مسائل پر بڑے بڑے بینرز اور سیاسی مہمات تو چلاتی ہیں، مگر اس واقعے کے بعد عوام کے غم و غصے کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتی دکھائی دیں۔ دنیا بھر کی جین زی انقلابی تحریکوں کی بے ہودہ نقالی کی گئی۔ تمام مسائل کا ذمہ دار صرف میئر کراچی اور پیپلز پارٹی کو ٹھہرایا گیا۔ پورا ایک ہفتہ سوشل میڈیا مارکیٹنگ کے ذریعے احتجاج کی کال دی گئی۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ جماعت اسلامی کو اپنی احتجاجی ویڈیوز ہِپ ہاپ میوزک پیجز سے بھی چلوانی پڑیں۔ اس کے باوجود نوجوانوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی، کیونکہ جماعت اسلامی مسائل کی بات تو کرتی ہے مگر اس نظام سے باہر حل تلاش کرنے کو تیار نہیں، حالانکہ ان مسائل کی اصل جڑ سرمایہ دارانہ نظام ہی ہے۔

اگر ہم ایم کیو ایم اور مہاجر قوم پرستوں کی بات کریں تو یہ بھی کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ہر سانحے کے بعد عوامی غصے کو قومی تعصبات میں بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ”کراچی کو وفاق کے ساتھ جوڑا جائے“ جیسے نعرے مصطفیٰ کمال اور دیگر مہاجر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سننے کو ملے۔ حالانکہ ایم کیو ایم خود کراچی کی موجودہ حالت کی ذمہ دار ہے، کیونکہ وہ ماضی اور حال کی تقریباً ہر حکومت میں کسی نہ کسی صورت شامل رہی ہے۔ دوسری طرف وہ سندھی قوم پرست بھی ریاست کی ”تقسیم کرو اور حکمرانی کرو“ کی پالیسی پر لبیک کہتے نظر آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دونوں جانب نفرت انگیز بیانات سامنے آتے ہیں، جس سے حکمران طبقے کو فائدہ اور محنت کشوں کے اتحاد کو نقصان پہنچتا ہے۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس نسل پرستانہ سیاست کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتی آئی ہے۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ کراچی یہاں بسنے والے تمام محنت کشوں کا شہر ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی قوم سے ہو۔

اگر ہم صرف کراچی میں آگ لگنے کے مسئلے کو ہی لے لیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ محض اصلاحات کافی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی درکار ہے۔ ایسے نظام میں جہاں فائر سیفٹی کو اضافی خرچ سمجھا جائے اور جہاں ریاست کے تمام ادارے سرمائے کا تحفظ کریں، وہاں انسان دوست انفراسٹرکچر کیسے ممکن ہے؟ اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کو اکھاڑ پھینک کر سوشلسٹ نظام قائم کیا جائے، جس میں ارب پتیوں کی دولت ضبط کر کے اور نجی ملکیت کو ریاستی کنٹرول میں لے کر ایسا انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے جو انسانیت کی اجتماعی فلاح کے لیے ہو، نہ کہ چند لوگوں کے منافع کے لیے۔

Comments are closed.