|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، کراچی|
7 مارچ کو کراچی میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی، کراچی کی طرف محنت کش خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ایوانِ جوش میں ”خواتین کی آزادی اور انقلابی کمیونزم“ کے عنوان سے لیکچر پروگرام رکھا گیا۔ اس سیشن کو کامریڈ نقش فاطمہ نے چیئر کیا اور لیڈ آف کامریڈ سیدہ فاطمہ موسوی نے دی۔
کامریڈ فاطمہ موسوی نے اس موضوع پر تفصیلی بات رکھی۔ انہوں یہ بتایا کہ تاریخ میں کس طرح سے خواتین کے جبر کا آغاز ہوا۔ وہ بتاتی ہیں: ”گھر کے بچے سے لے کر عورت اور مرد سب سرمایہ دار کے ماتحت تھے کیونکہ عورت پہلے ہی پدرشاہی کے بہیمانہ جبر سے تنگ آ چکی تھی، لہٰذا وہ مرد سے آدھی اجرت پہ بھی کام کرنے کو تیار ہو گئی اور آزادی کے سراب میں اب وہ دُگنی مشقت کرنے پر مجبور ہوگئی۔“
اس کے بعد سیشن میں مختلف سوالات ہوئے جن میں ایک سوال مارکسزم اور فیمنزم کی وضاحت کا سوال تھا۔ اس سوال کا جواب کامریڈ آنند نے دیا اور بتایا کہ کس طرح فیمنزم کا نظریہ محنت کش طبقے اور اس کی جدوجہد کو جنسی بنیادوں میں تقسیم کرتا ہے۔ مارکسزم دراصل عورت کی آزادی کو سماج اور محنت کش طبقے کی آزادی کے ساتھ جوڑتا ہے۔
سیشن میں اگلی کنٹری بیوشن کامریڈ وحید نادان کی طرف سے کی گئی جنہوں نے بلوچ خواتین، جن کو ریاست کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے، ان پر تفصیلی بات کی۔ کامریڈ نے واضح کیا گزشتہ ایک سال سے بلوچستان میں ریاستی جبر کا سلسلہ نئی انتہاؤں کو چھو چکا ہے۔ پہلے جبری گمشدگیوں کا شکار صرف بلوچ مردوں کو بنایا جاتا ہے جو کہ ریاست پاکستان کا بلوچستان میں جبر کے خلاف لوگوں کو خاموش کرنے کا ایک طریقہ کار ہے۔ لیکن اب تین مہینوں سے بلوچ خواتین کو بھی جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس کے بعد آخر میں کامریڈ جلال نے اپنی کنٹری بیوشن میں فیمنزم کے عورتوں کو گھریلو کام کی اجرت دینے کے مطالبے پر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح مارکس نے اس بات کی وضاحت کر دی تھی۔ مزید انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام اس تمام تر بحث کا محض ایک آغاز ہے، اس بحث کو انقلابی کمیونسٹ پارٹی ہر محلے، سکول، کالج اور یونیورسٹی تک لے کر جائے گی۔ آخر میں مزدوروں کا ترانا ’انٹرنیشنل‘ گا کر پروگرام کا اختتام کیا گیا۔

















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance