کراچی: انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی کمیونسٹ سکول (سرما2025ء) کا انعقاد!

2025ء کے ہنگامہ خیز سال کے اختتام پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں کمیونسٹ سکول (سرما 2025ء) کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ملک بھر کے دور دراز علاقوں سے انقلابی کمیونسٹوں نے شرکت کی۔ پاکستان میں عام عوام اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی حالات کا سامنا کر رہی ہے۔ معیارِ زندگی مسلسل گِر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تباہی، دہشت گردی اور بنیادی انسانی حقوق پر شدید پابندیاں محنت کش عوام سے بنیادی زندگی گزارنے کی ہر سہولت چھینتی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں مارکسزم کے بنیادی نظریات کو سمجھنے کے لیے تین روزہ کمیونسٹ سکول کا انعقاد بہت بڑی کامیابی ہے۔

کمیونسٹ سکول سے ایک دن پہلے کراچی کے ضلع ملیر میں کراچی کی تاریخ کا پہلا اور بڑا کمیونسٹ فیسٹیول بھی کیا گیا جو ثابت کرتا ہے کہ آج کے عہد میں کمیونزم کے نظریات میں نوجوان نسل کی دلچسپی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔

کمیونسٹ سکول 5 سیشنز پر مشتمل تھا۔ عالمی و پاکستان تناظر، انقلابات کی تاریخ کا سائنسی مطالعہ، کارل مارکس کی تصنیف داس کیپیٹل کے پندرہویں باب ”مشینری اور جدید صنعت“، اخلاقیات اور طبقاتی جنگ اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر کے موضوعات پر تفصیل سے بحثیں کی گئیں۔

سکول کا پہلا سیشن عالمی و پاکستان تناظر تھا جس پر بحث کا آغاز لاہور سے کامریڈ ارسلان دانی نے کیا اور چئیر کراچی سے کامریڈ آنند پرکاش نے کیا۔ کامریڈ ارسلان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت تیز ترین ڈرامائی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ عالمی سرمایہ داری کا نامیاتی بحران شدید ترین معاشی، سماجی اور سیاسی بحرانات کو جنم دے رہا ہے۔ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار نے گلوبل ورلڈ آرڈر کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ روس یوکرائن جنگ کے بعد یورپ میں طاقتوں کا توازن مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ یوکرائن جنگ، جو امریکی سامراج کی پراکسی جنگ تھی، میں امریکی و یورپی حکمران طبقہ واضح شکست کھا چکا ہے اور روس یورپ میں طاقتور ملک کر طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ امریکہ و یورپ کا اتحاد ختم ہو رہا ہے۔ امریکہ یورپ کی ہر طرح کی امداد سے ہاتھ اٹھاتا جا رہا ہے۔ یورپ کی عالمی سیاست میں حیثیت کم ہو چکی ہے۔

دوسری طرف فلسطین میں اسرائیلی بربریت نے بھی عالمی شعور کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ دنیا کے کونے کونے میں اسرائیلی بربریت کے خلاف فلسطین یکجہتی تحریک جاری ہے۔

جین زی کی انقلابی تحریکیں پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے ہی بلغاریہ میں جین زی نے حکومت گرا دی ہے جس کا آغاز بنگلہ دیش کے بعد نیپال، انڈونیشیا اور مڈاغاسکر سے ہوا تھا۔ اس کی علاوہ مشرقی تیمور، پیرو، فلپائن، مراکش میں اٹھنے والی تحریکوں نے حکمران طبقے کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔

کامریڈ ارسلان نے پاکستان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حالات بھی مختلف نہیں ہیں۔ زوال کا شکار سرمایہ دارانہ نظام کا اظہار یہاں بھی ہر طرح کے بحرانات کی صورت میں ہو رہا ہے۔ حکمران طبقہ جو پاکستان کی عوام سے ہر طرح کی سہولیات چھین چکا ہے، کی آپسی لڑائیاں بھی کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ حکمران طبقہ جس کی قیادت ہمیشہ ملٹری جرنیلوں کے پاس رہی ہے، کے خلاف عوام میں شدید نفرت موجود ہے۔ حکمران سیاسی جماعتوں کی حمایت ختم ہو چکی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت بھی اس کے سیاسی پروگرام کی وجہ سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ مخالف ہونے کی وجہ سے ہے۔

بلوچستان میں قومی جبر کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرد بہت بڑی تحریک موجود ہے اس کے علاوہ بلوچستان میں ملازمین بھی مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ سندھ میں بھی کارپوریٹ فارمنگ اور پانی کے مسئلے کے خلاف تحریک کے بعد ملازمین کی تحریک بھی تنخواہوں اور دیگر مسئلوں کے خلاف موجود ہے۔ پنجاب کے ملازمین بھی نجکاری اور تنخواہوں میں کٹوتیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ کے پی کے میں دہشت گردی کے خلاف ہزاروں لوگ احتجاجوں اور دھرنوں میں غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان اور نام نہاد ”آزاد“ کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے گرد بنیادی حقوق کے لیے لاکھوں لوگ تاریخی جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان میں کسی بھی وقت نیپال اور باقی ممالک کی طرز کی انقلابی تحریک ممکن جس کا یہاں کے حکمران طبقے کو بھی بخوبی ادراک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران طبقہ اپنا جبر بڑھاتا جا رہا ہے مگر جبر انقلابات کو روک نہیں سکتا۔

لیڈ آف کے بعد ڈی جی خان سے آصف لاشاری، گوادر سے عبدالحئی، لاڑکانہ سے سرفراز، لاہور سے شعیب اختر، کشمیر سے عاقب اورکامریڈ آدم پال نے عالمی و ملکی صورتحال اور تناظر کے مزید پہلوؤں پر بات کی۔ کامریڈ ارسلان نے سیشن کا سم اَپ کرتے ہوئے کہا موجودہ عہد میں انقلابات کو کامیاب کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلابات میں بدلنے کے لیے واحد طریقہ جلد از جلد بنیادوں پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر ہے۔ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اسی کے ساتھ سیشن کا اختتام ہوا۔

لنچ بریک کے بعد دوسرا سیشن انقلابات کی تاریخ کے سائنسی مطالعے پر تھا۔ اس سیشن کو چئیر گوادر سے کامریڈ عبدالحئی نے کیا جبکہ لیڈ آف حیدرآباد سے کامریڈ علی عیسیٰ نے دی۔ علی نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح فطرت کے ہر ذرے میں مختلف قوانین کارفرما ہیں؛ عین اسی طرح سماج کی تاریخ کے بھی قوانین ہوتے ہیں جو انسانی دماغوں میں نہیں بلکہ معروضی دنیا میں وجود رکھتے ہیں۔ جس کو تاریخ میں پہلی دفعہ مارکس نے دریافت کیا جہاں یہ کارنامہ ایک طرف تاریخ کو شخصی فتوحات اور حادثاتی واقعات کی بجائے سائنسی بنیادیں فراہم کرتا ہے وہیں یہ قوانین انسان بالخصوص محنت کش طبقے کو وہ اوزار فراہم کرتے ہیں جو تاریخ کی حرکیات کو سمجھتے ہوئے اس کو تبدیل کریں۔ لہٰذا ہم کمیونسٹوں کا فریضہ ہے کہ نہ صرف اس اوزار کو لبرل، پوسٹ کالونیلسٹ، فرقہ پرور اور اصلاح پسندی کی غلاظتسے صاف رکھیں بلکہ اس کو مزید تیز کریں تاکہ طبقاتی جنگ میں فتح حاصل کی جا سکے۔

علی نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ لبرل لیفٹ اور بالخصوص لبرل دانشوروں کی جانب سے تاریخ کو سائنس نہ سمجھنے کی روایت کو دوام بخشا جا رہا ہے۔ مشہور لبرل دانشور پروفیسر یوول نوح ہراری اپنی کتاب سپین میں لکھتے ہیں کہ تاریخ سائنس نہیں تو ہم اس سیانے کوے کے آگے یہ گستاخی کرنے کی اجازت چاہتے ہیں کہ اگر تاریخ سائنس نہیں تو کیا ہے؟ کیا سائنس کے بغیر بھی کسی چیز کو سمجھا جا سکتا ہے؟ مختصراً ان مکتبہ فکر کا مقصد یہ ہے کہ تاریخ کو نہ پڑھا جائے نہ اس سے سیکھا جائے چونکہ اگر تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ تاریخ میں ہر مروجہ نظام کو بذریعہ انقلاب ختم کیا گیا ہے۔ ڈارون نے فطرتی سائنس میں انسانی ارتقا میں کچھ مسنگ لنکس ادھورے چھوڑ دیے تھے جس کو سوشل سائنسز میں مارکس اور اینگلز نے دریافت کیا، یہ مسنگ لنکس اور کچھ نہیں انقلابات ہوتے ہیں۔

اس سیشن میں کوئٹہ سے احسان، لاہور سے آفتاب اشرف، کراچی سے پارس جان، لاہور سے سلمیٰ ناظر اور آدم پال نے کنٹری بیوشنز کیں۔ کامریڈ علی عیسیٰ نے سم اَپ کرتے ہوئے کہا کہ انقلابات کی کامیابی کے لیے درست نظریات بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے جرمنی اور اٹلی کے انقلابات کی مثال دی کہ جہاں نظریاتی قیادت نہ ہونے کی وجہ سے انقلابات کامیاب نہیں ہو سکے۔ انقلابِ روس کی کامیابی کی واحد وجہ درست نظریات پر مشتمل محنت کشوں کی پارٹی بالشویک پارٹی موجود تھی۔

دوسرے دن کا پہلا سیشن کارل مارکس کی کتاب داس کیپیٹل کے پندرھویں باب ”مشینری اور جدید صنعت“ پر تھا۔ لیڈ آف لاہور سے کامریڈ ثناء اللہ جلبانی نے دی اور سیشن کو چیئر کشمیر سے کامریڈ عبید زبیر نے کیا۔ اس میں سرمایہ دارانہ نظام کے تحت مشینوں کے کردار اور اس کے محنت کش طبقے پر اثرات کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

ثناء نے وضاحت کی کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت مشینری کا بنیادی مقصد محنت کی پیداواری صلاحیت بڑھانا نہیں بلکہ قدرِ زائد (Surplus Value) میں اضافہ کرنا ہے۔ مشینوں کے ذریعے سرمایہ دار محنت کش کی مہارت کا زیادہ استحصال کرتا ہے اس کے علاوہ غیر ہنر مند مزدور، عورتیں اور بچے بھی فیکٹریوں میں کھپائے جاتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں اجرتیں کم ہوتی ہیں اور محنت کشوں کے حالات بدتر ہو جاتے ہیں جبکہ سرمایہ داروں کے منافعوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

مارکس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام میں مشینری محنت کے اوقات کم کرنے کی بجائے انہیں بڑھا دیتی ہے۔ فیکٹری نظام کے تحت کام کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے، محنت کش جسمانی اور ذہنی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ مشینیں انسان کی جگہ لے لیتی ہیں۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ مسئلہ مشین نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ تعلقاتِ پیداوار ہیں، جن میں مشین انسان کو آزاد کرنے کی بجائے اسے غلام بنا دیتی ہے۔ جدید صنعت طبقاتی کشمکش کو مزید تیز کرتی ہے اور بالآخر سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی مادی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

اس کے بعد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے متعلق بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سوالات کے بعد اس سیشن میں کراچی سے جلال جان، لاہور سے رائے اسد، آفتاب اشرف اور آدم پال نے کنٹریبیوشنز کیں۔ کامریڈ ثناء اللہ جلبانی نے سیشن کا سم اَپ کرتے ہوئے کہا کہ سوشلسٹ انقلاب کے بعد ہی ایک انسان واقعی انسان بن سکتا ہے اور ہماری لڑائی محض روٹی، کپڑے، مکان کے حصول کی لڑائی نہیں ہے بلکہ انسان کو انسان بنانے کی لڑائی ہے۔

لنچ بریک کے بعد دوسرے دن کے دوسرے سیشن کا آغاز ہوا جو کہ اخلاقیات اور طبقاتی جنگ پر تھا۔ اس سیشن کو چئیر لاہور سے کامریڈ علیشہ نے کیا جبکہ گفتگو کا آغاز کراچی سے کامریڈ پارس جان نے کیا۔ کامریڈ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ عموماً اخلاقیات کو سماجی بقا، لڑائی اور تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی عملی جدوجہد سے کاٹ کر دیکھا جاتا ہے۔ یہ مسلط کردہ اخلاقیات سماج کی بقا کی جدوجہد کے لیے کوئی بھی مثبت کردار ادا نہیں کرتیں بلکہ منفی کردار ادا کرتی ہیں۔

کامریڈ پارس نے مزید بات کرتے ہوئے مذہبی اخلاقیات اور نشاط ثانیہ کے عہد کی اخلاقیات پر بات کی جب مذہبی طرزِ استدلال کو چیلنج کیا گیا، عقلیت پسندی کا دور آیا۔ جہاں یہ تصور تھا کہ جو چیز تعقلی ہے وہی اخلاقی ہے۔ پھر انیسویں صدی میں لبرل مفکرین میں سے ہی ایک اور تصور آیا جو کہ افادیت پسندی (Utilitarianism) کا تصور تھا جہاں خوشی کے حصول کو بنیادی پیمانہ اور معیار بنایا گیا۔ یعنی ہر وہ چیز جو خوشی دیتی ہے، اطمینان دیتی ہے وہ اخلاقی طور پر درست ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ مقاصد کی دوسری شکل میں ترجمانی تھی کہ آپ کو جو چیز زیادہ خوشی دیتی ہے آپ اسی کے پیچھے لگ جائیں۔ آخری تجزیے میں اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمائیں اور خوش رہیں۔ یہ اخلاقیات غیر انسانی شکل اختیار کر چکی ہیں۔

پارس جان نے مارکس وادیوں کے نقطہء نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں تاریخی لازمیت وہ عنصر ہوتی ہے جس کی بنیاد پر سماج کے قاعدے یا ضوابط ترویج پاتے ہیں۔ تاریخی عمل کے اندر جو ارتقاء ہے، جو تبدیلی ہے، جو فطرت کے اوپر انسان کے کام کرنے سے تبدیلی آتی ہے، جس میں فطرت اور انسان دونوں کے اندر تبدیلی آتی ہے اور اسی تبدیلی کے عمل میں ایک وقت تک رائج الوقت سماجی اشکال تبدیل ہو رہی ہوتی ہیں۔ ان کے اندر موجود Content تبدیل ہو رہا ہوتا ہے۔ پھر مقداری تبدیلیاں ایک خاص نہج پر معیار کو جنم دیتی ہیں اور Form کی تبدیلی آتی ہے۔ اس تبدیلی کے آنے سے قبل ایک بحران جنم لیتا ہے۔ جو بنیادی طور پر ایک انقلابی بحران ہوتا ہے۔ اس بحران کے اندر اخلاقیات کا بحران بھی جنم لیتا ہے۔ اسی سماج کے بطن سے بیک وقت دو قسم کی اخلاقیات سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس تضاد کی بنیاد پر تاریخی حرکت آگے بڑھ رہی ہوتی ہے۔ وہ تضاد، وہ کشمکش اس نہج پر پہنچ جاتی ہے جہاں پر پرانی اخلاقیات کے دم گھٹنے، مرنے، اس کے گلنے سڑنے کی وجہ سے جو تعفن پیدا ہوتا ہے، اس تعفن کو صاف کرنے کے لیے اس کے متوازی، ایک نئی، ترو تازہ، راحت بخش اور نجات دہندہ اخلاقیات کا جنم ہوتا ہے۔ وہ تاریخی لازمیت بن چکی ہوتی ہے جس کو اپنا آپ لڑ کر منوانا ہوتا ہے۔ اس رائج الوقت اخلاقیات کو سماج کو آگے بڑھانے کے لیے نئے راستے تشکیل دینے کے لیے ضروری ہوتا ہے وہ اقدار فروغ پائیں جن کا ماضی میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح سے تاریخی لازمیت اپنا اظہار ہر سماج کے ہر شعبہ ہائے زندگی کے اندر جہاں پر کرتی ہے اس کا اظہار اخلاقی بحران کے اندر بھی ہوتا ہے اور ایک مرتی ہوئی اخلاقیات اور ایک جنم لیتی ہوئی اخلاقیات کے درمیان ایک تصادم ہوتا ہے۔ اور یہ تاریخی لازمیت کہاں سے جنم لیتی ہے؟ مارکس نے ذرائع پیداوار کی تبدیلی کے ساتھ اس کا تعلق جوڑا ہے۔

کامریڈ پارس کی لیڈ آف کے بعد کوئٹہ سے کریم پرہار، لاڑکانہ سے یونس، لاہور سے عدیل زیدی، رائے اسد اور آدم پال نے اس سیشن میں کنٹری بیوشنز کیں۔ کامریڈ نے سم اَپ میں سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کی کامیابی کے لیے انقلابی پارٹی کی تعمیر کو تاریخی لازمیت کہتے ہوئے کہ ایسی پارٹی کی تعمیر کو آگے بڑھانے کی جانب اٹھایا جانے والا ہر قدم اخلاقی ہے۔ اس کے لیے جو کرنا پڑے کیا جانا چاہیے۔

اسی کے ساتھ ہی دوسرے دن کے سیشنز اختتام پذیر ہوئے۔ سکول میں لال سلام پبلیکشنز کی جانب سے کمیونسٹ بک سٹال بھی لگایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ لاہور سے استاد ناصر خان اور طبلہ نواز شارون خان موجود تھے۔ سکول کے دونوں دنوں کے اختتام پر استاد شرکا کو اپنی موسیقی سے محظوظ کرتے۔

سکول کے تیسرے اور آخری دن کا آخری سیشن انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر پر تھا۔ اس سیشن کو چئیر کراچی سے کامریڈ جلال جان نے کیا جبکہ اس پر لیڈ آف لاہور سے کامریڈ ثاقب اسماعیل نے دی۔ کامریڈ ثاقب نے لیڈ آف دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا تناظر کہ موجودہ عہد انقلابات، ردِ انقلابات، بحرانات، جنگوں اور خانہ جنگیوں کا عہد ہے۔ 2025ء میں پوری دنیا میں اٹھنے والی تحریکوں نے ہمیں یہی سبق دیا ہے کہ انقلابات کی کامیابی کا واحد ذریعہ درست نظریات سے مسلح انقلابی پارٹی ہے۔ موجودہ عہد میں اٹھنے والی تمام انقلابی تحریکوں میں انقلابی پارٹی کی غیر موجودگی کی وجہ سے انقلابات کو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی طرف نہیں بڑھایا جا سکا۔ ہم ایک نئے عہد میں داخل ہو چکے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام زوال پذیر ہے اور اس نظام سے نئی نسل کا اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی محافظ ہر سیاسی پارٹی چاہے وہ کئی سو سال پرانی ہی کیوں نہ ہو ختم ہوتی جا رہی ہے اور زیادہ ریڈکل نعرے اور پروگرام پیش کرنے والی ہر پارٹی اور راہنما ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ انقلابی عہد میں محنت کش عوام بغور اپنے ارد گرد کی دنیا کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہی وقت ہے لوگ جاننا چاہتے ہیں ان کے مسائل کی وجہ کون ہے؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ لہٰذا جو پارٹی زیادہ ریڈکل اور انقلابی سیاسی پروگرام پیش کرے گی لوگ اس کی حمایت کریں گے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی واحد پارٹی ہے جس کا اس نظام کے خاتمے کا انقلابی پروگرام ہے۔ ہمیں جلد از جلد اس پارٹی کی تعمیر کی جانب بڑھنا ہو گا۔

ثاقب نے مزیدکہا کہ 2024ء کے آخر میں جب ہم نے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا اعلان کیا، اس کے بعد ہزار سے زائد لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ہماری پارٹی کا حصہ بننے کے لیے رابطہ کیا۔ جس میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ اصل سوال ان کو انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا عملاً حصہ بنانا ہے۔ جس کے لیے ہمیں کیڈرز کی پرت کی تعمیر کی جانب بڑھنا ہو گا کیونکہ کیڈرز ہی انقلابی پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں اور پارٹی کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور ہم ایک کیڈر بیسڈ پارٹی بنا رہے ہیں۔

لیڈ آف کے بعد مختلف ریجنز سے نمائندوں نے اپنے اپنے ایریاز اور ریجنز کے کام کے حوالے سے رپورٹس دیں اور آگے کے ٹارگٹس سامنے رکھے۔ ملک گیر ممبر شپ کیمپین کے حوالے سے بھی ٹارگٹس لیے گئے۔

سکول کے سم اَپ کے لیے کامریڈ آدم پال کو دعوت دی گئی۔ کامریڈ آدم نے کامیاب کمیونسٹ سکول اور کامیاب کمیونسٹ فیسٹیول کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا اصل کام اب شروع ہوتا ہے کہ ہم سکول اور فیسٹیول میں شرکت کرنے والوں کو پارٹی کا حصہ بنائیں۔ اس کے بعد انہوں عالمی سطح پر انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی تعمیر پر بھی بات کی جہاں ہمیں شاندار کامیابیاں مل رہی ہیں۔ پوری دنیا میں انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل تیزی سے تعمیر ہو رہی ہے اور پاکستان میں بہت بڑا پوٹینشل موجود ہے جس کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔

اسی کے ساتھ ہی محنت کشوں کے عالمی گیت انٹرنیشنل کے ساتھ سکول کا اختتام ہوا۔

Comments are closed.