لاہور: پنجاب کے عام سرکاری ملازمین کا لاہور میں احتجاجی دھرنا دسویں دن ختم! آگے کیسے لڑا جائے؟

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، لاہور|

لاہور میں ایک بار پھر پنجاب بھر سے آئے سرکاری ملازمین نے سول سیکرٹریٹ کے باہر آل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائنس (اگیگا) کے پلیٹ فارم سے دس دن دھرنا دینے کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دیے جانے کے بعد دھرنا ختم کر دیا ہے۔ جبکہ روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے اداروں کی تالا بندی جاری رہے گی۔ اس کے علاوہ ڈویژنل سطح پر احتجاجی جلسوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا جس میں 24 فروری کو راولپنڈی، 26 فروری کو فیصل آباد، 03 مارچ کو بہاولپور 05 مارچ ملتان / ڈی جی خان، 10 مارچ کو ساہیوال، 12 مارچ کو سرگودھا، 26 مارچ کو گوجرانوالہ اور پھر 31 مارچ کو لاہور میں جلسہ کیا جائے گا اور مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 31 مارچ سے پھر دھرنا دیا جائے گا۔

ہم سرکاری ملازمین کو ایک مسلسل اور انتھک جدوجہد کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ پنجاب کے سرکاری ملازمین گزشتہ کئی سالوں سے وفاقی طرز پر 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس، لیو انکیشمنٹ، پنشن، رول 17 اے کی بحالی اور اداروں کی نجکاری کے خلاف بار ہا احتجاجوں اور دھرنوں کے لیے لاہور آتے رہے ہیں مگر ہر بار ”نام نہاد“ مذاکرات کے نام پر یہی کرپٹ بیوروکریسی اور حکومتی وزراء مسلسل ملازمین کے ساتھ وعدہ خلافیاں کرتے رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی ایما پر حکمران طبقہ محنت کشوں کے اداروں کی نجکاری اور کٹوتیوں کی پالیسیوں پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

وسائل کی کمی کا رونا رونے والے حکمران طبقے کے پاس اپنی عیاشیوں اور مراعات کے لیے تو وسائل موجود ہیں مگر جب بات محنت کش ملازمین کی آتی ہے تو وسائل کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب حکومت نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی آمد و رفت کے لیے 11 ارب روپے کی مالیت کا لگژری جہاز خریدا ہے۔ یہ پہلے سے موجود طیاروں کے علاوہ ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ کے موقع پر اسمبلیوں میں بیٹھے اراکین نے اپنی تنخواہوں میں سو سو اور ہزار ہزار فیصد اضافہ کیا۔ وسائل کی کمی کا ڈھنڈورا جھوٹ اور فریب ہے۔ محنت کش ملازمین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے حکمران طبقہ کبھی بھی ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں ہو گا۔ حکمران طبقہ صرف آج ہی نہیں ہمیشہ سے بحران کا سارا بوجھ محنت کشوں پر ڈالتا آیا ہے۔

کیسے لڑا جائے؟

شدید مہنگائی کے بوجھ تلے پسے سرکاری ملازمین کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ کیسے ان مسائل کے حل کے لیے لڑا جائے؟

لاہور میں دیا جانے والا موجودہ دھرنا آل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائنس (اگیگا) کی وفاقی قیادت کی کال پر دیا گیا تھا جبکہ پنجاب کی اگیگا قیادت نے بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔ میڈیا پر دھرنے کے خلاف پروپیگنڈا بھی کیا جاتا رہا۔ یہی قیادت ہے جو ماضی میں بارہا احتجاجی تحریک کو آگے بڑھانے کی بجائے رکاوٹ بنی رہی ہے اور عام سرکاری ملازم اس بات کو بخوبی سمجھ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے سرکاری ملازم ان نام نہاد لیڈروں سے شدید نفرت کرتا ہے اور متبادل قیادت کی تلاش میں ہے۔ محنت کش ملازمین کو جلد از جلد بکی ہوئی قیادتوں سے جان چھڑانا ہو گی۔

وفاقی قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ حکمران طبقے کو محنت کشوں کی زندگیوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ان سے رحم کی امید رکھنا بے سود ہے۔ محنت کش ملازمین کو اپنے طاقت کی بنیاد پر ہی مطالبات منوانے ہوں گے۔ پاکستان میں موجود تمام ادارے بلکہ پورا سماج محنت کش ہی چلاتے ہیں۔ اگر محنت کش ایک دن کے لیے کام کرنا چھوڑ دیں تو نظامِ زندگی معطل ہو کر رہ جائے گا۔ واپڈا کے محنت کش، ٹرانسپورٹ کے محنت کش، ریلوے کے محنت کش، مختلف سرکاری اداروں میں کام کرنے والے محنت کش ملازمین، کھیتوں میں کام کرنے والے کھیت مزدور، فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنت کش۔ یہ وہ طاقت ہیں جو سماج کو چلا رہی ہے نہ کہ بیوروکریسی اور اسمبلیوں میں بیٹھے حکمران۔

محنت کش ملازمین کو ان تمام اداروں و فیکٹریوں کے محنت کشوں اور کسانوں کو اپنے ساتھ جوڑنا ہو گا۔ اس کے علاوہ طلبہ جو بھاری بھرکم فیسوں کے بوجھ تلے دھنسے جا رہے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر مسائل کا شکار ہیں، ان کو بھی ساتھ جوڑنا ہو گا۔

سرکاری ملازمین صرف پنجاب میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں انہی مسائل کے گرد لڑائی لڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر مسائل کے گرد پاکستان بھر میں مختلف تحریکیں موجود ہیں۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور وسائل کی لوٹ مار کے خلاف تحریک، کے پی کے میں دہشت گردی کے خلاف تحریک۔ نام نہاد ”آزاد“ کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی صورت میں بنیادی مسائل کے حل کے لیے تحریک، گلگت بلتستان میں بھی بنیادی مسائل کے گرد تحریک، اسی کے ساتھ پنجاب میں مزارعین کی تحریک۔ ملک میں موجود ان تمام تحریکوں کا آپسی جڑت بنانا ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ ان تمام تحریکوں کا اپنے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانا لازمی ہو چکا ہے۔ مشترکہ لائحہ عمل بناتے ہوئے ملک گیر سطح پر انقلابی مزدور تحریک کے ذریعے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام جو کہ اشرافیہ کا نظام ہے، کے خلاف حتمی لڑائی لڑنی ہو گی اور سوشلسٹ انقلاب کی صورت میں مزدور راج کی طرف بڑھنا ہو گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو محنت کش عوام کو تمام دکھوں اور تکالیف سے نجات دلا سکتا ہے۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی پاکستان میں اسی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا حصہ بنیں تاکہ اس جدوجہد کو تیز تر کیا جا سکے۔

Comments are closed.