|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، لاہور|

کوئین میری سکول انتظامیہ نے بچوں کی فیسوں میں 70 فیصد تک اضافہ کر دیا، جبکہ ٹرانسپورٹ فیس میں 100 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں اور یونیفارم کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ طلبہ کے والدین نے فیسوں میں اضافہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مہنگائی کے دور میں جب پہلے ہی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہو رہی،ایسے میں 5 فیصد اضافہ بھی نا قابلِ قبول ہے۔ والدین نے اجتماعی طور پر فیصلہ لیتے ہوئے اضافہ شدہ فیسوں کی ادائیگی سے انکار کر دیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نا کیے گئے تو احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
کوئین میری سکول ایک نیم خودمختار ادارہ ہے، جو کہ بورڈ آف گورنرز کے ماتحت ہے۔ یہ حکومت کی نجکاری پالیسیوں کا ہی ایک تسلسل ہے، جو در حقیقت پچھلی تین دہائیوں سے چلا آرہا ہے۔ 1990ء سے ہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے دباؤ کے تحت حکومت نے صحت اور تعلیم پر سرکاری اخراجات کم کرنا (کرنسی کی حقیقی قوت خرید کے حساب سے) شروع کر دیے۔ اس وقت ہی یہ پالیسی آئی کہ حکومت عوامی سہولیات پر اپنے اخراجات کم کرے اور عوامی ادارے اپنی آمدن خود پیدا کریں۔ اسی دور میں ’خود مختاری‘اور’بورڈ آف گورنرز‘کی اصلاحات سامنے آئیں۔ 2002ء میں کئی بڑے کالجز کو بورڈ آف گورنرز کے ماتحت کر دیا گیا۔ جس میں لاہور کاکوئین میری کالج، کنیئرڈ کالج، گورنمنٹ کالج فار ویمن اور چند دیگر بڑے ادارے شامل تھے۔ تب سے ان تعلیمی اداروں نے اخراجات کا تمام تر بوجھ طلبہ پر ڈالنا شروع کر دیا اور فیسیں بے تحاشا بڑھتی گئیں۔ نا صرف فیسوں میں اضافہ ہوا بلکہ ان اداروں کا تعلیمی معیار بھی مسلسل گرتا گیا، جس میں کوئن میری سکول و کالج سرِفہرست ہے۔ آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کہ کوئن میری سکول و کالج کی نیم خود مختاری اور بورڈ آف گورنرز کے ماتحت آنے سے پہلے اس کا تعلیمی معیار کیسا تھا؟ یقینا تب سے لے کر اب تک اس کا معیار بہت حد تک گر چکا ہے۔ ”نجکاری مسائل کا حل ہے“ کا راگ الاپنے والے حکمرانوں کے دعوے یہاں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی والدین کے تمام مطالبات کی حمایت کرتی ہے اور ان سے اظہارِ یکجہتی کرتی ہے۔ ہم کسی بھی احتجاجی تحریک میں والدین اور طلبہ کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں تعلیم کو مکمل طور پر مفت ہونا چاہیے۔ تعلیمی اداروں کی نجکاری ان کی تباہی کی وجہ بنتی ہے۔ لہٰذا جن تعلیمی اداروں کی نجکاری کر دی گئی ہے، انہیں فوری طور پر واپس ریاستی ملکیت میں لیا جانا چاہیے۔ اسی طرح نیم خودمختار یا مکمل طور پر خود مختار اداروں میں نام نہاد بورڈ آف گورنرز کا خاتمہ کرتے ہوئے ان کے اخراجات کی مکمل ذمہ داری حکومت کو لینی چاہئے جو ہر سال ملک کے محنت کش عوام کی ہڈیوں سے 12000 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس نچوڑتے ہیں۔مزید برآں تعلیم کے کاروبار پر مکمل پابندی ہونی چاہئے، تمام نجی تعلیمی اداروں کو ریاستی ملکیت میں لیا جانا چاہئے اور تعلیم کے سرکاری میں بجٹ میں کم از کم پانچ گنا اضافہ کرتے ہوئے ہر شہری کو تعلیم کی مفت و معیاری سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ فیسوں میں اضافوں، ہراسمنٹ سمیت بے تحاشا مسائل کا شکار ہیں۔ یہ مسائل کسی ایک تعلیمی ادارے تک محدود نہیں، ہر تعلیمی ادارہ اس طرح کے مسائل سے بھرا پڑا ہے۔ اسی لیے کوئین میری کالج کے طلبہ اور والدین کو دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ اور ان کے والدین کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔ حکومت اس وقت بڑے پیمانے پر نجکاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس میں واپڈا، ریلوے، پی آئی اے، سرکاری ہسپتال اور تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں کے محنت کش وقتا ًفوقتاً زبردست نجکاری مخالف احتجاج بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان، کے پی کے، گلگت بلتستان، سندھ میں مختلف مسائل کے گرد عوامی تحریکیں موجود ہیں۔ محنت کش طبقے اور عوام کی ان تمام تحریکوں سے یکجہتی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔خاص کر ٹریڈ یونینز، مزدور ایسو سی ایشنز اور ترقی پسند طلبہ کیساتھ جڑت بنانا نہایت ضروری ہے۔ عوام جو مہنگائی، لاعلاجی، بے روزگاری، بد امنی، ماحولیاتی تباہی جیسے بے تحاشا مسائل کا شکار ہیں ان سے بھی یکجہتی کی اپیل کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کو تیز کیا جائے۔ جہاں حکمران مختلف طریقوں سے محنت کش عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہیں محنت کشوں کی طاقت ان کا اتحاد اور جڑت ہے،جس کا عملی مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے اپنے مطالبات منوائے جا سکتے ہیں۔
فیسوں میں اضافہ نامنظور!
جینا ہے تو لڑنا ہوگا!