لاہور: یونیورسٹی آف لاہور کے طالبعلم اویس کی خودکشی یا پاکستان کے تعلیمی نظام کی طرف سے کیا گیا قتل؟

|رپورٹ، انقلابی کمیونسٹ پارٹی، لاہور|

کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی آف لاہور میں فارمیسی کے طالبعلم اویس نے محض اٹینڈنس پوری نہ ہونے کی بنیاد پر امتحان میں بیٹھنے سے روکے جانے کے بعد یونیورسٹی کی عمارت کے چوتھے فلور سے کود کر اپنی جان لے لی۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ اس پورے تعلیمی نظام پر ایک گہرا سوال ہے جو طلبہ کو انسان نہیں بلکہ منافع کمانے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔

اویس کی ہلاکت کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ نے بجا طور پر بھرپور احتجاج کیا۔ اس احتجاج کو دبانے کے لیے انتظامیہ نے پہلے روایتی ہتھکنڈے استعمال کیے، کہیں طلبہ کو دھمکیاں دی گئیں، کہیں زبانی یقین دہانیاں کرائی گئیں۔ اس سانحے کے اگلے ہی دن یونیورسٹی کے مالک اور چیئرمین اویس رؤف، جو درحقیقت تعلیم فروخت کرنے والے ایک کاروباری شخص ہیں، نے ایک نام نہاد تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی۔ اس کمیٹی میں طلبہ کی کوئی نمائندگی شامل نہیں تھی بلکہ چند پولیس اہلکار اور خود یونیورسٹی انتظامیہ کے نمائندے اس کا حصہ تھے۔ یعنی مدعی بھی وہی، منصف بھی وہی۔

اس کمیٹی کی رپورٹ میں اویس کو ”دماغی طور پر ڈسٹرب“ قرار دیا گیا۔ اس مضحکہ خیز اور توہین آمیز نتیجے کی بنیاد یہ بتائی گئی کہ اویس ڈراؤنی فلمیں دیکھتا تھا اور گیمز کھیلتا تھا۔ گویا اب پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کی نفسیات کا فیصلہ کریں گی اور گیمز کھیلنا یا فلمیں دیکھنا ذہنی بیماری کی علامت قرار پائے گا۔ یہ سب اس لیے کیا گیا تاکہ اصل مجرم، یعنی منافع خور تعلیمی نظام اور اس کی انتظامیہ کو بری الذمہ قرار دیا جا سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ یونیورسٹی کے طلبہ کے مطابق اویس کی صرف ایک مضمون میں اٹینڈنس کم تھی، جس کی بنیاد پر اسے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ محض ایک پیپر کی وجہ سے کون خودکشی کرتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو ہزاروں طلبہ روز اپنی جان لے چکے ہوتے۔ اصل مسئلہ ایک پیپر نہیں بلکہ وہ مسلسل ذہنی دباؤ، بے بسی اور استحصال ہے جو نجی جامعات میں پڑھنے والا ہر طالبعلم روزانہ جھیلتا ہے۔

اس واقعے کے صرف ایک ہفتے بعد یونیورسٹی آف لاہور کی ایک طالبہ نے ایک اور بھی خودکشی کی، اور اس بار بھی اسی طرز کے الزامات گردش کرنے لگے۔ اس کے بعد یونیورسٹی کو 19 جنوری تک بند کر کے آن لائن کلاسز شروع کر دی گئیں، تاکہ احتجاج دب جائیں، سوالات خاموش ہو جائیں اور منافع کا پہیہ چلتا رہے۔ لوگ مرتے رہیں، مگر کاروبار متاثر نہ ہو۔

نجی جامعات کا یہ نظام درحقیقت ایک جیل کی مانند ہے، جہاں تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ فیسیں نچوڑی جاتی ہیں۔ ایک سمسٹر کی بھاری فیس ادا کرنے کے باوجود اگر طالبعلم کو کسی ایک مضمون میں امتحان دینے سے روک دیا جائے تو اسے پورا سمسٹر دوبارہ کرنا پڑتا ہے اور فیس بھی دوبارہ ادا کرنی ہوتی ہے۔ صرف فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی مثال لیں تو اویس کا یہ پانچواں سمسٹر تھا، جس کی فیس دو لاکھ چالیس ہزار پانچ سو روپے تھی۔ ایک محنت کش یا متوسط طبقے کے خاندان کے لیے یہ رقم محض فیس نہیں بلکہ زندگی بھر کی جمع پونجی ہوتی ہے۔

یہی وہ تعلیمی کاروبار ہے جو بارش کے بعد کھمبیوں کی طرح اُگ آیا ہے۔ ان اداروں کے لیے منافع کمانا اسی وقت ممکن ہے جب تعلیمی اداروں کو ٹارچر سیلوں میں بدلا جائے، جہاں طلبہ کو خوف، دباؤ اور غیر یقینی کیفیت میں رکھا جائے۔ اویس جیسے ہزاروں طلبہ اس منافع کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور یونیورسٹی آف لاہور کا مالک اویس رؤف بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔

اس سارے معاملے میں میڈیا کا کردار بھی ہمیشہ کی طرح عوام دشمن ہے۔ زیادہ تر چینلز اس واقعے کو محض ”ایک نجی ادارے“ سے جوڑ کر پیش کر رہے ہیں، مگر اس نجی ادارے کا نام، یونیورسٹی آف لاہورہے اور اس کے مالک اویس رؤف کا ذکر کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پنجاب گروپ آف کالجز (PGC) میں ریپ کے واقعے کے وقت دنیا نیوز نے اور پی جی سی کے مالک میاں عامر کا نام لینے سے اجتناب کیا۔ وجہ واضح ہے کہ میڈیا مالکان بھی خبر نہیں، منافع بیچتے ہیں۔

یہ سب کچھ ایک بڑے عالمی اور ملکی تناظر کا حصہ ہے، جہاں آئی ایم ایف کے احکامات کے تحت پاکستان، خصوصاً پنجاب میں، تعلیم کو تیزی سے پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے۔ تعلیم، صحت اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات کو محنت کش عوام کی پہنچ سے دور کر کے انہیں منافع کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے اور یونیورسٹی آف لاہور جیسے ادارے اسی پالیسی کا عملی اظہار ہیں۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی واضح طور پر کہتی ہے کہ محض ایک احتجاجی مظاہرہ اس مسئلے کا حل نہیں۔ یہ پورا تعلیمی نظام روزمرہ کی بنیاد پر طلبہ کو ذہنی دباؤ، استحصال اور عدم تحفظ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس نظام کو چیلنج کرنے اور اس کے خاتمے کی منظم جدوجہد کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ خود آگے بڑھیں، جمہوری طور پر منتخب ایکشن کمیٹیاں تشکیل دیں اور نجی تعلیمی اداروں کے منافع خور ڈھانچے کے خلاف اجتماعی جدوجہد کریں۔

ہم اس جدوجہد کو اس مطالبے کے ساتھ جوڑتے ہیں کہ تعلیم کو منافع کے کاروبار سے نکال کر ایک بنیادی انسانی حق بنایا جائے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب منظم انداز میں طلبہ آپس میں جڑیں گے اور طلبہ اپنی ایکشن کمیٹیاں تشکیل دیں گے اس کے لیے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے ہم پورے پاکستان میں طلبہ کو اور مزدوروں کو انقلابی نظریات کے گرد اکٹھا کر رہے ہیں تاکہ یہاں سے سرمایہ داروں کے منافع پر مبنی نظام سرمایہ داری کا خاتمہ کیا جا سکے۔

Comments are closed.