پاکستان کا آئی ٹی شعبہ: روشن سکرینیں، تاریک زندگیاں

پاکستان میں اعلانات تو بہت ہوتے ہیں، لیکن ان میں خوشی کے اعلانات آٹے میں نمک کے برابر ہی ہیں۔ ان میں ایک اعلان پاکستان کی اونچی اڑان بھرنے کا ہوتا ہے، معاشی انقلاب کا ہوتا ہے۔ اور یہی بکواس سن سن کر لوگ آج اسے خوشی کا اعلان کم، مذاق سمجھ کر زیادہ محظوظ ہوتے ہیں۔ اونچی اڑان میں قابلِ ذکر نام آئی ٹی انڈسٹری کا ہوتا ہے۔ ویسے تو ملکِ خداداد میں 1960ء میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت قائم کر دی گئی تھی، یہ الگ بات ہے کہ اس کا پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں کردار اتنا ہی ہے جتنا وزن اٹھانے میں کانوں کا ہوتا ہے۔

پاکستان میں اس وزارت کے ہوتے ہوئے بارود اور منشیات کی نئی نئی شکلیں تو ہم نے دیکھ لی ہیں، لیکن ایسی کوئی چیز نہیں بنا سکے جو یہاں کے کروڑوں انسانوں کے پیٹ کی آگ بجھا سکے، یا لاکھوں منشیات کا شکار ہوتے انسانوں کو بہتر زندگی کی کوئی صورت میسر آ سکے، یا یہاں کوئی ایسی انڈسٹری لگ سکے جس سے روزگار پیدا ہو۔ اس وزارت نے ایک ایسے دکاندار کا کردار ادا کیا ہے جو لال مرچ کے نام پر اینٹوں کی خاک بیچتا ہے۔ اور یہ مسئلہ صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ہر خطے میں، خاص کر پسماندہ ممالک میں موجود ہے۔ باہر کی ٹیکنالوجی ہی آج تک یہاں بکتی رہی ہے اور استعمال ہوتی آئی ہے، جو اب بھی ہو رہی ہے، اور بدقسمتی سے اس ٹیکنالوجی کی بھی تھرڈ کاپی۔ اس نظام میں منافع تبھی ممکن ہوتا ہے جب لاگت کم ہو اور بنانے کا دورانیہ مختصر ہو یعنی تھوڑے وقت میں زیادہ پیداوار ہو اور اس میں شامل انسانی محنت جس سے کوئی چیز تیار ہوتی ہے اس کا زیادہ سے زیادہ استحصال ہوکیونکہ کسی بھی شے میں قدر انسانی محنت ہی پیدا کرتی ہے۔

تاریخ کے دھارے میں دیر سے شامل ہونے کی وجہ سے یہ ریاست اور اس کے پروردہ سرمایہ دار ایک دلال کے کردار کو ہی نبھاتے آئے ہیں۔ یہ نام نہاد سائنس وٹیکنالوجی کی وزارت باقی کچھ دیکھتی ہو یا نہ دیکھتی ہو، لیکن آپ کے میسج اور بھیجے گئے فوٹو ضرور دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہاں موجود لاکھوں انسانوں کا روزگار اور زندگیاں آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ہیں، جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اس شعبے کی حالت بھی باقی شعبوں کی طرح زبوں حال ہے۔ پاکستان کی معاشی بدحالی اور سرمایہ داری کے عالمی و ملکی زوال سے یہ شعبہ بھی شدید متاثر ہے۔ لیکن باقی شعبوں کی نسبت اسے روزگار کے حصول کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے، اور نوجوانوں کی بڑی تعداد اس شعبہ زندگی کا انتخاب کر رہی ہے۔ جہاں پوری دنیا میں ذرائع پیداوار کی ترقی کے نتیجے میں انسان ڈیجیٹل دنیا تخلیق کر چکا ہے، وہاں پاکستان میں کروڑوں انسان آج بھی اسمارٹ فون استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی اکثریت میں ہے۔ آبادی کا لگ بھگ 65 سے 70 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جس میں ایک بڑی تعداد جنریشن زی سے ہے، اور سب سے زیادہ بیروزگاری میں بھی یہ ملک سرِ فہرست ممالک میں شامل ہے۔

یہاں حکومت، جماعتِ اسلامی، وقار زکا سمیت ڈکی بھائی جیسے کردار آئی ٹی کے کورسز کرواتے ہوئے اور موبائل و لیپ ٹاپ سے اربوں روپے کمانے کے طریقے بتاتے نظر آتے ہیں۔ ان کے کورسز کے معیار کی بات کیا ہی کی جائے، جہاں نوجوان آبادی کا بمشکل ایک فیصد یونیورسٹیوں کا منہ دیکھ پاتا ہے، وہاں ایسے چورن بیچنا بہت آسان ہوتا ہے۔اب ان لاکھوں نوجوانوں میں سے اگر کچھ واقعی سیکھ بھی لیتے ہیں تو ان کے سامنے کام ملنے کا سوال کھڑا ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی اسکلز کے معیار پر بات ہم پھر کسی وقت کریں گے، یہاں اس شعبے میں موجود ان لوگوں کی بات کرتے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کیونکہ اکثریت تو بیروزگاری کی چکی میں ہی پستی رہتی ہے۔ فری لانسنگ کے حوالے سے ہم پہلے ہی بہت کچھ لکھ چکے ہیں، جو آپ ہماری ویب سائٹ پر پڑھ سکتے ہیں۔

پاکستان میں ایسی آئی ٹی کمپنیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جو حقیقی معنوں میں کوئی ریسرچ ورک کر رہی ہوں۔ لاکھوں کی تعداد میں یہاں آئی ٹی کمپنیوں کے نام پر فراڈ کرنے والے کال سینٹر موجود ہیں، جنہیں عام زبان میں ”ڈبہ سینٹر“کہا جاتا ہے۔ ہاں، چند ایک لیگل کال سینٹر بھی موجود ہیں، جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، جہاں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوان لڑکیاں اور لڑکے کام کرتے ہیں اور اپنی زندگی کی سانسوں کی ڈوری کو بمشکل باندھے رکھتے ہیں۔ ان میں بی ایس فلسفہ سے لے کر بی ایس اردو اور مطالعہ پاکستان تک کے گریجویٹس شامل ہیں۔ پاکستان میں ہر یونیورسٹی کے باہر کال سنٹر کی نوکری کے اشتہار چسپاں ہوتے ہیں جس میں تقریباً سارے ہی ڈبہ سنٹر اور دو نمبر دھندے کے ہوتے ہیں۔ انہی یونیورسٹیوں کی انتظامیہ طلبہ سیاست کا کوئی پوسٹر دیوار پر دیکھ لیں تو طلبہ کو یونیورسٹی سے نکالنے کا حکم صادر کر دیتے ہیں جبکہ دو نمبر دھندے کے اشتہارات پر کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔

ڈبہ سینٹر کا کام انتہائی مشکل اور ذہنی طور پر تباہ کن ہوتا ہے۔ ان کا آپریشن ٹائم رات کا ہوتا ہے کیونکہ انہیں امریکہ اور یورپ کی منڈی کو ٹارگٹ کرنا ہوتا ہے۔ اس شعبے میں تقریباً تمام نوجوان مجبوری اور بیروزگاری کے باعث آتے ہیں۔ تنخواہیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، جو حکومتی اعلان کردہ کم از کم اجرت (38 ہزار روپے ماہانہ) سے بھی کم ہوتی ہیں، عموماً 20 ہزار سے 50 ہزار روپے کے درمیان۔ ا بھی پہلے دو تین مہینے کی تنخواہ”ٹریننگ“کے نام پر ہڑپ لی جاتی ہے۔شدید ترین استحصال اور محنت کی لوٹ مار کے باوجود یہاں ورکرز کے لیے مستقل نوکری کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی، نہ ہی صحت، سوشل سکیورٹی، ای او بی آئی، میڈیکل الاؤنس، سالانہ چھٹیاں، میٹرنٹی لیو یا اوور ٹائم جیسے بنیادی لیبر حقوق فراہم کیے جاتے ہیں۔ سب سے بڑی مراعات یہاں ایک وقت کی چائے یا کافی ہوتی ہے۔ یہاں نہ لیبر لاز کو خاطر میں لایا جاتا ہے اور نہ ہی ان پر عملدرآمد کا کوئی تصور موجود ہے۔ یہ قوانین محض کاغذ کے ٹکڑے ہیں جن کا مزدور کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس شعبے میں موجود لاکھوں انسان انتہائی غیر انسانی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور جسمانی و ذہنی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

اگر ہم سافٹ ویئر ہاؤسز کی بات کریں تو وہاں صورتحال کال سینٹرز کے مقابلے میں قدرے بہتر ضرور ہے، لیکن کسی صورت بھی تسلی بخش نہیں۔ یہاں کام دن کا بھی ہوتا ہے اور رات کا بھی۔ تنخواہیں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں، لیکن عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مڈ لیول سافٹ ویئر انجینئر کو پاکستان میں اوسطاً 40 سے 130 ہزار روپے دیے جاتے ہیں، جبکہ یہی کام عالمی مارکیٹ میں 3 سے 5 ہزار ڈالر ماہانہ میں کیا جاتا ہے (World Bank اور PayScale رپورٹس کے مطابق)۔اگر مجموعی طور پر بات کریں تو اکثر کام کی جگہوں پر موبائل لانا یا استعمال کرنا منع ہوتا ہے، یہاں تک کہ واش روم جانے کے لیے بھی دن میں محدود دفعہ اجازت دی جاتی ہے۔ ورکرز کو مسلسل کیمروں کے ذریعے مانیٹر کیا جاتا ہے اور بغیر وقفے کے کام کروایا جاتا ہے۔ اس شعبے میں موجود مزدوروں کو عملاً دنیا سے کاٹ دیا جاتا ہے کیونکہ کام کی نوعیت اور اوقاتِ کار ہی ایسے بنائے جاتے ہیں۔ کئی جگہوں پر آٹھ گھنٹوں کے بجائے دس یا بارہ گھنٹے کام کروایا جاتا ہے اور ہفتہ وار چھٹی بھی نہیں دی جاتی۔کام کے اس شدید دباؤ کے نتیجے میں اس شعبے میں کام کرنے والے بہت سے نوجوان منشیات کی لت کا شکار ہو رہے ہیں۔ مختلف غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق اس شعبے سے وابستہ 50 سے 70 فیصد نوجوان کسی نہ کسی قسم کی نشہ آور اشیاء استعمال کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جن میں نشہ آور ادویات، سگریٹ،چرس اور آئس شامل ہیں۔ اس شعبے سے وابستہ لوگ زیادہ عرصے تک کام نہیں کر پاتے اور کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہو کر اسے خیرباد کہہ دیتے ہیں۔ یہاں موجود خواتین ورکرز کا دوہرا استحصال ہوتا ہے۔ انہیں کم اجرت، ملازمت کے عدم تحفظ اور ہراسانی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعدد کیسز میں خواتین کو مرد ورکرز کے مقابلے میں آدھی اجرت پر کام کرنا پڑتا ہے، جبکہ ہراسانی کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے کیونکہ نوکری جانے کا خوف سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

اس شعبے سے وابستہ لوگ ہر وقت عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں کیونکہ کوئی جاب سکیورٹی موجود نہیں۔ انہی مسائل کی وجہ سے لاکھوں نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے میں کوئی سنجیدہ اور ٹھوس کام نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے یہ پورا شعبہ نجی سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جہاں منافع سب کچھ ہے اور انسان کی زندگی کی کوئی وقعت نہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سرمایہ دارانہ نظام میں محنت کشوں کی زندگی بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے اور استحصال میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ماضی میں انقلابی بغاوتوں اور محنت کشوں کی جدوجہد سے جو حاصلات جیتی گئیں تھیں وہ بھی وقت کے ساتھ ختم ہوتی جارہی ہیں۔ پاکستان میں جین زی اور نوجوان نسل کے حالات تو ہمارے سامنے ہیں جس کے پاس نہ تو حال میں کوئی بہتر زندگی ہے اور نہ ہی مستقبل میں کوئی امید ہے۔ آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں انقلابی بغاوتیں جنم لے رہی اور نوجوان نسل اس نظام کے خلاف سڑکوں پر موجود ہے اور بہت سے ملکوں میں تو حکومتوں کا تختہ بھی الٹ چکی ہے۔

بہت سے ملکوں میں آئی ٹی ورکرز نے یونینز بنانے کا آغاز کیا ہے اور بہت سی جگہوں پر یہ بن بھی چکی ہیں۔ ان یونینز کا کام کرنے کا طریقہ بھی جدید ہے جو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے محنت کشوں کو منظم کر رہی ہیں اور ہڑتالوں کے ذریعہ اپنے آپ کو منوا بھی رہی ہیں۔ پاکستان میں آئی ٹی ورکرز کی یونینز نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن پاکستان میں تو خیر صنعتی مزدوروں کو بھی عملاً یونین بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور یونین سازی کی جدوجہد کرنے والے مزدوروں کو موقع پر ہی نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ آج سرمایہ دارانہ نظام کے نامیاتی بحران سے کوئی شعبہ اور کوئی ادارہ نہیں بچا ہوا۔ بہتر مستقبل کے لئے اور بہتر زندگی کے ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے منصوبہ بند سوشلسٹ معیشت کی طرف بڑھنا پڑے گا جس میں ٹیکنالوجی کی ترقی انسانیت کے عذابوں میں اضافہ نہ کرے بلکہ انسان کو ان سے آزاد کرے۔ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اوقات کار کم کیے جائیں، جو کام مشین کر سکتی ہے اس کے لئے انسان ذلیل نہ ہو رہے ہوں۔ آج لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں موجود آئی ٹی ورکرز اگر کام روکتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری دنیا رک سکتی ہے۔ ضرورت اس طاقت کے ادراک کی ہے، اس طاقت کو محسوس کرنے کی ہے کہ دنیا کو محنت کش طبقہ ہی چلا رہا ہے اور جب وہ اسے بند کرنا چاہے تو بند بھی کر سکتا ہے۔

Comments are closed.