راولاکوٹ: 8 مارچ، محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے سیمینار کا انعقاد

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، ”آزاد“ کشمیر|

محنت کش خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے رالاکوٹ میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے زیر اہتمام 6 مارچ کو گرین ویلی ہوٹل میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے علاوہ پرائیویٹ سکولوں کی اساتذہ، پونچھ یونیورسٹی کی طالبات اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے شرکت کی۔ کامریڈ حنا نے اسٹیج سیکریٹری کے فرائض سر انجام دیے جبکہ کامریڈ آمنہ نے محنت کش خواتین کے عالمی دن کی تاریخی اہمیت اور موجودہ عہد میں دنیا بھر میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں میں محنت کش خواتین کے نمایاں کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس کے ساتھ کامریڈ آمنہ نے یہ وضاحت بھی کی کہ ”آزاد“ کشمیر جیسے پسماندہ خطے میں خواتین کا اپنے مسائل کے حل کی جدوجہد کے ساتھ بالعموم پورے سماج کی انقلابی تبدیلی کی جدوجہد میں سرگرم شرکت کرنا کیوں ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کس طرح کشمیر کی تین برس سے جاری عوامی حقوق کی تحریک کے مشکل ترین مرحلے میں خواتین کی تحریک میں شمولیت نے حکمران طبقے کو عوامی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تحریک میں خواتین کے قائدانہ اور انتہائی جرات مندانہ کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستانی ریاست کی جانب سے بلوچ خواتین پر کیے جانے والے ریاستی جبر اور بلوچ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کرنے جیسے گھناؤنے مظالم کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس تقریب کو بلوچستان کی بہادر خواتین کی تاریخی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کی تقریب قرار دیا۔

اس کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز ضلع پونچھ کی صدر میڈم صفیہ نے خطاب کرتے ہوئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی اپنے مسائل کے حل کے لیے جاری تحریک پر تفصیلی گفتگو کی اور ہیلتھ ورکرز کی تحریک کے ساتھ یکجہتی اور عملی شمولیت کے لیے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جدوجہد کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گی۔ گھریلو تشدد اور ہراسمنٹ کے خلاف آگاہی مہم کا آغاز کرنے والی یونیورسٹی گریجویٹ میڈم آسیہ نے خواتین کے ساتھ ہراسمنٹ اور گھریلو تشدد جیسے مسائل کی تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح تعلیم یافتہ خواتین بھی عزت اور غیرت جیسے دقیانوسی ڈھکوسلوں اور توہمات کا شکار ہیں اور اسی لیے ہمیں ان مسائل کے حوالے سے کھل کر بات کرنے اور ان کے خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈگری کالج راولاکوٹ کی طالبہ مہک نے پدر شاہی کے جبر کی تفصیلی وضاحت کی اور اس کے خاتمے کی جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔ کامریڈ عمر ریاض نے ایک قرارداد پیش کی جس میں بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کے فوری خاتمے اور بلوچ خواتین کو جبری لاپتہ کرنے کے سلسلے کو فوری بند کرنے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ایران پر سامراجی جارحیت کی مذمت، ہیلتھ ورکرز کی اپنے حقوق کے لیے جاری تحریک کی مکمل حمایت جیسے اہم نقاط شامل تھے جسے شرکاء نے اتفاق رائے سے منظور کیا۔

پروگرام کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کامریڈ یاسر نے وضاحت کی کہ کیوں سرمایہ داری کے زوال کے اس عہد میں اصلاحات کی کوئی بھی تحریک اس وقت تک حتمی کامیابی حاصل نہیں کر سکتی جب تک اسے سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا اور اسی لیے یہ ضروری ہے کہ اس نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو تیز تر کرنے کے لیے ہمیں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر کے کام کو تیز تر کرنا ہو گا۔

Comments are closed.