اداریہ: مزدور اپنا جشن آزادی کب منائیں گے؟
71سالہ ’نیا‘ پاکستان: آزاد یا برباد؟
|تحریر: پارس جان| برِ صغیر کے خونی بٹوارے کو 71 سال ہو گئے ۔سرحد کے آر پار ان زخموں سے آج بھی خون رس رہا ہے۔کیا ہی حسین اتفاق ہے کہ پاکستان کی نئی پارلیمان میں حلف برداری کی تقریب نام نہاد ’جشنِ آزادی‘سے صرف ایک روز قبل منعقد کی گئی۔ بلند و بانگ دعوؤں […]
اداریہ ورکرنامہ: 70سال بعد‘ بٹوارے کے رِستے زخم
ہندوستان کے خوانی بٹوارے کے 70سال بعد بھی گدھ نیم مردہ لاشوں کو نوچتے چلے جا رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ برطانوی سامراج کی مسلط کردہ تقسیم کے بعد برپا ہونے والے خونی مناظر آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہیں۔ اس وقت ہاتھوں میں برچھیاں اور خنجر لیے جنونی وحشیوں کے جتھے مذہب […]
آزاد پاکستان یا مظلوم طبقات اور قومیتوں کا جیل خانہ
اصل میں ہم جس میں رہتے ہیں وہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں۔ ایک امیروں کا پاکستان اور دوسرا غریبوں کا پاکستان۔ ایک جاگیرداروں کا پاکستان اور دوسرا ہاریوں اور کسانوں کا پاکستان۔ ایک سرمایہ داروں کا پاکستان اور دوسرا محنت کشوں کا پاکستان۔ ایک بیوروکریٹوں، جرنیلوں، ججوں اور میڈیا مالکان کا پاکستان اور دوسرا نہتے، لاچاروں، بیماروں اور مسکینوں کا پاکستان۔
بلوچستان: سوگ کے سماں میں جشن کی ناٹک بازی!
تحریر: |سہراب بلوچ| برصغیر پر بیرونی حملہ آوروں اور قابضین کا صدیوں پر محیط جبر و استبداد عوامی شعور پر وہ تاریخی غلامی کے نقش چھوڑ گیا جس نے غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارا پانے اور آزادی کے احساس کو اجاگر کیا اور شاندار انقلابی بغاوتوں کو جنم دیا جس سے انگریز سامراج تک کو […]
14اگست: آزادی نہیں درماندگی کا جشن!
تحریر: |راشد خالد| 69سال پہلے برصغیر کی خونی تقسیم کے نتیجے میں دو ’’آزاد‘‘ ملک معرض وجود میں آئے؛ ہندوستان اور پاکستان۔ اور ان پچھلے تمام تر سالوں میں ان دونوں ممالک کے حکمران طبقات اپنی عوام کو یہ باور کروانے میں مشغول ہیں کہ ہم ایک آزاد اور خودمختار ملک ہیں۔ بالخصوص ہر سال […]
رینگنے کی آزادی!
[تحریر: پارس جان] عمران خان نے اپنے 14 اگست کے مارچ کا مقصد ’’آزادی‘‘ کا حصول قرار دیا ہے۔ گویا دائیں بازو کے اس ’’محب الوطن‘‘ سیاست دان نے بالواسطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس ملک کو ابھی تک آزادی نصیب ہی نہیں ہوئی۔ سنا ہے کہ انسانی تہذیب کے اس کھنڈر اور […]