|تحریر: زلمی پاسون|

12 نومبر 2025 ء کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی کی جانب سے ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی جس کا عنوان تھا، ”From Return To Rebuild“۔ یہ رپورٹ مجموعی طور پر 13 صفحات پر مشتمل ہے جو کہ جولائی 2025ء اور اگست 2025ء میں ایک سروے کے بعد شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کے لیے مذکورہ ادارے نے پورے افغانستان میں 48711 خاندانوں کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا تھا جس میں سے 1505 حال ہی میں دیگر ممالک سے نکالے جانے کے بعد واپس آئے تھے۔
رپورٹ کے مندرجات میں جانے سے پہلے اگر ہم مختصر جائزہ لیں تو اس سے چند اہم چیزیں بہت واضح ہیں مثال کے طور پر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2023ء سے اگست 2025ء یا پھر نومبر 2025ء تک کم و بیش 4.5 ملین سے 4.8 ملین لوگ جبری طور پر پاکستان اور ایران سے بے دخل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر رپورٹوں میں ترکی اور دیگر ممالک سے جبری بے دخلی کے شکار افراد کو بھی شامل کر کے کل تعداد چھ ملین تک پہنچ جاتی ہے جوکہ لگ بھگ افغانستان کی موجودہ آبادی کا 12 سے 13 فیصد بنتا ہے۔ جبری بے دخلی کی سب سے بڑی تعداد ایران سے وقوع پذیر ہوئی ہے جہاں کم از کم 32 لاکھ کے قریب لوگوں کی جبری بے دخلی کی گئی ہے۔
اس تحریر میں ہم اقوام متحدہ کے اس رپورٹ، عینی شاہدین اور دیگر اطلاعات کے بنیاد پر افغان محنت کشوں پر گزرنے والی قیامت کی روداد تحریر کریں گے جس میں سیاسی طور پر سامراجیت کے سوال اور پاکستان و ایران کی ریاستوں کی جانب سے اپنائے جانے والے عوام دشمن رویے کا بھی جائزہ لیں گے جنہوں نے شاید انسانی تاریخ میں ظلم، جبر اور استبداد کی ایک نئی مثال قائم کی۔ رپورٹ کی مندرجات کو زیر بحث لانے سے قبل ہم افغانستان کی مجموعی معاشی و سماجی صورتحال کا ایک مختصر جائزہ پیش کریں گے تاکہ ہمارے قارئین افغانستان کے موجودہ حقیقی صورتحال کے پیش نظر افغان محنت کشوں کی جبری بے دخلی کے اثرات کا درست طریقے سے اندازہ لگا سکیں کہ وہ اس وقت کن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
بی بی سی کی افغان معیشت پر رپورٹ، اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ
بی بی سی اردو کی رپورٹ افغانستان میں معاشی ’تیزی‘کو جی ڈی پی میں اضافے، کم افراطِ زر اور آمدن بڑھنے جیسے اشاریوں کے ذریعے مثبت انداز میں پیش کرتی ہے، لیکن اس بیانیے میں طبقاتی زاویہ مکمل طور پر غائب ہے۔ جی ڈی پی جیسے پیمانے سرمائے کی گردش اور قدرِ زائد کے ارتکاز کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ محنت کش طبقے کے معیارِ زندگی کو۔ ایسے حالات میں جہاں بیروزگاری، کم اجرتیں اور سماجی جبر غالب ہوں، وہاں معاشی نمو کے یہ دعوے عوامی بہتری کے بجائے حکمران طبقے کے مفادات کی عکاسی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کم افراطِ زر کو معاشی استحکام سے جوڑا گیا ہے، حالانکہ افغانستان میں مہنگائی میں کمی کی بنیادی وجہ عوامی کھپت کی شدید کمی ہے۔ جب محنت کشوں کی قوتِ خرید ختم ہو جائے تو قیمتوں کا جمود پیدا ہوتا ہے۔ یہ کیفیت خوشحالی نہیں بلکہ گہری غربت اور معاشی بدحالی کی علامت ہے، جسے توڑ مروڑ کر ’استحکام‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔

اسی طرح آمدن میں اضافے کا دعویٰ بھی غیر واضح ہے۔ رپورٹ یہ واضح نہیں کرتی کہ کس طبقے کی آمدن بڑھی ہے اور کن حالات میں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ اضافہ تجارت، کرنسی ایکسچینج اور ریاستی ڈھانچے سے جڑی محدود پرتوں تک محدود ہے، جبکہ اکثریتی محنت کش آبادی بدستور عدم تحفظ اور شدید محرومی کا شکار ہے۔ یوں افغان سماج کو ایک زندہ طبقاتی حقیقت کے بجائے محض مجرد اعداد و شمار کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔مجموعی طور پر بی بی سی کی یہ رپورٹ افغان محنت کشوں، غریب کسانوں اور خواتین کے زندگی کے تجربات کی ترجمانی نہیں کرتی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور افغانستان کی حکمرانوں کے نقطہ نظر کو تقویت دیتی ہے۔ نام نہادترقی اور استحکام کی لفاظی میں طبقاتی استحصال کو معمول بنا کر پیش کرنا اس رپورٹ کا بنیادی تضاد ہے اور اس کی بورژوا حدود کو بے نقاب کرتا ہے۔
افغانستان کی معاشی و سماجی صورتحال کی حقیقت
اس ضمن میں ہم نے مفصل تحریریں لکھی ہیں مگر مختصراً بتانا ضروری ہے کہ اس وقت افغانستان کی معاشی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان کی نصف سے زائد آبادی (23.8 ملین لوگ) انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یعنی روزانہ تقریبا تین ڈالر سے بھی کم پر گزارا کر رہے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق ایک کروڑ کے قریب لوگ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں بالخصوص یہ شرح خواتین اور بچوں میں زیادہ موجود ہے۔
بے روزگاری کی شرح کے حوالے سے کوئی حقیقی اعداد و شمار تو نہیں ہیں مگر ان دو اہم عناصر کی بنیاد پر روزگار کی موجودگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق 2020 ء میں جی ڈی پی 20.7 ارب ڈالر تھا جس کا مطلب فی کس سالانہ آمدنی 486.8 ڈالر تھی۔ پورے ملک میں صنعت کا کوئی نام و نشان نہیں ہے، ملکی آبادی کا انحصار ہمسایہ ممالک سے ہونے والی درآمدات پر ہے۔ معاشی اور سماجی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال نے مالیاتی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو محدود کرتے ہوئے مزید مشکلات پیدا کی ہیں۔
بالخصوص اگر ہم افغانستان کی دیہی آبادی کی بات کریں کیونکہ افغانستان کی آبادی کی اکثریت اب بھی دیہی آبادی پر مشتمل ہے،تو وہاں صورتحال اور بھی زیادہ ابتر ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع ناپید ہیں،رہی سہی کسر جبری بے دخلی کے شکار افغان محنت کشوں نے پوری کر دی ہے۔ جس کی وجہ سے معاشی بوجھ اور سماجی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ طالبان حکومت کی رجعتی پالیسیوں نے سماج کے نصف آبادی یعنی خواتین کو مکمل طور پر سماجی سرگرمیوں سے کاٹ دیا ہے جس کی وجہ سے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ مختصرا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان آج ایک ایسے بحران سے گزر رہا ہے جو صرف اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور ثقافتی بھی ہے۔
بیرونی امداد میں کمی، مالیاتی تنہائی، تجارتی خسارے، بے روزگاری اور غذائی بحران نے ملک کو ایک طویل اور خطرناک معاشی تنزل کی جانب دھکیل دیا ہے۔ عالمی سرمایہ داری و سامراجیت کی بھینٹ چڑھنے والے افغان محنت کش عوام اس پورے کھلواڑ میں ہمیشہ کی طرح پس رہے ہیں۔
جبکہ دیگر حکمران طبقات کی طرح طالبان رجیم اور اس کے ہمنوا محض پرانی رجیم سے میراث میں ملنے والی پروجیکٹس کی میڈیا پر تشہیر اور پچھلے عرصے میں پاکستان کے ساتھ پیدا ہونے والی مخاصمت کی بنیاد پر عوام کو ٹرخانے میں مصروف عمل ہیں۔ حقیقی صورتحال اور حکمران طبقے کی تشہیری پروپیگنڈوں میں زمین آسمان کا فرق موجود ہے۔ اس پوری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم رپورٹ کی مندرجات پر بات رکھیں گے۔
جبری بے دخلی کے شکار محنت کشوں کی آباد کاری
طالبان کی وزارت نے اعلان کیا تھا کہ ہم نے 13,895 ایکڑ زمین افغانستان کے مختلف صوبوں (کابل،غزنی،اورزگان،فراہ،کندھار،جوزجان، سمگان، پنجشیر اور بامیان) میں الاٹ کی ہے جہاں ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے مہاجرین کو آباد کیا جائے گا۔ یو این ڈی پی کے رپورٹ کے مطابق مہاجرین کی بڑی اکثریت کو دیہاتوں میں بھیجا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور پاکستان سے واپس جانے والوں کی اکثریت بالترتیب ہزارہ اور پشتون ہیں گوکہ اس میں تاجک اور ازبک اقوام کی بھی کثیر تعداد شامل ہے۔ لیکن ایک بڑی تعداد مذکورہ بالا دو اقوام کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں واپس ہونے والوں میں صرف ایک تہائی کے پاس اپنے گھر ہیں جبکہ دو تہائی کے پاس اپنے گھروں یا آبائی جائیداد کی کوئی دستاویزات نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو ان کے قریبی رشتہ داروں نے ان پر قبضہ کیا ہوا ہے اس لیے 100 میں سے 66 فیصد خاندان واپس جانے کے بعد اب وہاں بھی دربدر کی ٹھوکریں کھائیں گے یعنی خود کو وہاں کے باسی بنانے اور زندگی کو معمول پر لانے کے لیے نسلوں کی قربانیاں دینے پر مجبور ہوں گے۔
ذریعہ معاش اور روزگار کا بحران
جیسے ہم نے پہلے بتایا تھا کہ کم و بیش 5 ملین واپس ہونے والے مہاجرین نے افغانستان کی تباہ حال معیشت اوربنیادی انفراسٹرکچر پر شدید بوجھ ڈالا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور پاکستان سے جبری بے دخلی کے شکار محنت کشوں میں بے روزگاری کی شرح 85 سے 90 فیصد ہے جن میں نوجوان محنت کشوں کی ایک کثیر تعداد شامل ہے جبکہ یہ محنت کش ایران اور پاکستان میں کسی نہ کسی روزگار سے وابستہ تھے۔
رپورٹ کی تفصیل میں افغانستان میں ان مہاجرین کا 67 فیصد معمولی دیہاڑی پر کام کرنے پر مجبور ہے جبکہ افغانستان میں مجموعی طور پر 52 فیصد خاندانوں کی کفالت اجرتی مزدوری، 45 فیصد زراعت، 24 فیصد چھوٹے کاروبار سے ہوتی ہے۔ واپس آنے والوں میں اکثریت کے پاس ہنر ہے مگر معاشی تنگدستی کی وجہ سے وہ فی الوقت اپنا کوئی روزگار شروع نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 88 فیصد مہاجرین خاندان، 85 فیصد آئی ڈی پیز اور 81 فیصد مقامی خاندان بے روزگاری کا شکار ہیں جبکہ 33 فیصد مہاجرین اور 25 فیصد مقامی خاندان قرضوں کے سہارے گزر بسر کر رہے ہیں۔ مہاجرین خاندانوں کی ماہانہ آمدنی 6,623 افغانی یعنی 101 امریکی ڈالر جبکہ مقامی خاندانوں کے ماہانہ آ مدنی 8,475 افغانی یعنی 130 امریکی ڈالر ہے۔
اس پوری صورتحال پر بحث کرنے کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ تمام تر مشکلات اور مصیبت جھیلنے والے افغان محنت کش سامراجی کھلواڑ کا شکار ہوئے ہیں جس پر سامراجی ممالک کے حکمران اور ان کے گماشتے جن میں مختلف عالمی و مقامی این جی اوز بھی شامل ہیں، مگرمچھ کے آنسو روتے ہیں۔
مہاجرین کے 42 فیصد خاندان اور آئی ڈی پیز کے 40 فیصد خاندان غذائی قلت کا شکار ہیں۔ چار میں سے ایک خاندان کی کفالت کرنے کی ذمہ داری خواتین کی ہے مگر طالبان کی رجعتی پالیسیوں کے کارن خواتین کو اس ضمن میں سخت دشواری اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں محض 6 فیصد خواتین چھوٹے پیمانے پر گھروں میں کام کر رہی ہیں۔ یعنی 25 فیصد خاندان اپنی کفالت کے لئے بھیک مانگنے یا نام نہاد امدادی سرگرمیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔
اپنے خاندانوں کی بھوک مٹانے کی خاطر 31 فیصد مقامی کمیونٹی، 36 فیصد مہاجرین اور 43 فیصد آئی ڈی پیز گھرانے اپنی قیمتی اشیاء، جسمانی اعضاء اور بعض اوقات بچیوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ گوکہ یو این ڈی پی کی رپورٹ میں محض گھریلو اشیاء کی فروخت کا ذکر ہے لیکن سوشل میڈیا پر ایسے رپورٹس اور شواہد اب بھی موجود ہیں جہاں بچیوں کی خرید و فروخت کی منڈیاں دکھائی گئی ہیں۔ 90 فیصد گھرانے مجموعی طور پر بھوک مٹانے کی خاطر قرض لینے، کھانے میں کمی کرنے یا پھر گھریلو اشیاء فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 64 فیصد مہاجرین گھرانے، 83 فیصد آئی ڈی پیز گھرانے اور 76 فیصد مقامی گھرانے کسی بھی قسم کی امدادی سامان کے حصول سے اب تک محروم رہے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ بارہا نام نہاد عالمی برادری کو مطلع کر چکی ہے کہ امدادی سرگرمیوں کے لیے فنڈز درکار ہیں مگر جو امداد مل رہی ہے وہ کہاں جا رہی ہے، اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے مگر طالبان کی جانب سے ان تمام عالمی اداروں پر پابندی سے اس بات کا اندازہ ہم لگا سکتے ہیں کہ ان پابندیوں کا مقصد یہی ہے کہ عالمی اداروں سے ملنے والے فنڈز طالبان کی مرضی سے تقسیم ہوں تاکہ ایک طرف انہیں بڑے پیمانے پر خورد برد کیا جا سکے جبکہ دوسری طرف ان فنڈز اور امدادی سامان کی تقسیم کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر سماج پر اپنے کنٹرول کو بڑھاوا دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دستاویزات جیسے (پیدائش سرٹیفیکیٹ، نکاح نامہ یا شناختی کارڈ) وغیرہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے کرائے پر مکان لینے، جائیداد کی خرید و فروخت کرنے اور سکولوں میں بچوں کے داخلوں میں بے تحاشہ مشکلات پیش آرہی ہیں۔
بنیادی ضروریات زندگی اور انفراسٹرکچر کا بحران
مہاجرین کے آنے سے پہلے بھی افغانستان کا بنیادی انفراسٹرکچر نہ ہونے کے برابر تھا۔ آبادی کی اکثریت اب بھی دیہاتوں میں رہنے پر مجبور ہے جن کے پاس پانی، بجلی، گیس، تعلیم اور صحت کا فقدان شروع دن سے موجود رہا ہے اور اب اگر ہم مہاجرین کے پس منظر میں اس ساری صورتحال کو دیکھیں تو رپورٹ دل دہلا دینے والی ہے۔ مثلا پورے افغانستان میں بالخصوص جنوب، جنوب مشرق اور مغرب میں لوگوں کو صحت کا بنیادی انفراسٹرکچر دستیاب نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق 55 فیصد مہاجرین، 48 فیصد آئی ڈی پیز اور 43 فیصد مقامی کمیونٹی علاج کو چھوڑ کر اپنی جمع پونجی خوراک حاصل کرنے یا بھوک مٹانے پر لگاتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر دن میں 500 مریضوں کا چیک اپ کرنے پر مجبور ہے۔
افغانستان میں پینے کے پانی کا بحران پہلے سے موجود رہا ہے جہاں لوگ دریاؤں، چشموں اور کنوں سے ہی پانی پیتے ہیں یعنی پانی کی ترسیل گھروں تک نہیں ہے اور یہ صرف افغانستان کی کہانی نہیں بلکہ اس پورے خطے کی اکثریتی دیہی آبادی کا المیہ ہے اور صاف پانی نہ پینے کی وجہ سے اکثر اوقات قابل علاج بیماریوں سے لوگوں کے اموات واقع ہوتی ہیں۔ مہاجرین کے پس منظر میں اگر اس معاملے کو دیکھا جائے تو 45 فیصد مہاجر گھرانے، 28 فیصد مقامی خاندان وسطی افغانستان میں چشموں یا کنوں کے پانی پر منحصر ہیں۔ مغربی افغانستان میں لوگ پینے کے پانی کے حصول کے لیے 30 سے 45 منٹ روز پیدل سفر کرتے ہیں اس کے علاوہ 20 سے 25 افراد ایک ہی لیٹرین استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
تعلیم کے سلسلے میں طالبان کی پالیسیاں تو ساری دنیا پر واضح ہیں جہاں بالخصوص بچیوں کو تعلیم کے حق سے یکسر محروم رکھا گیا ہے اور ان رجعتی پالیسیوں کو بعض ناسمجھ لوگ افغان سماج کے عمومی رجحان سے تعبیر کرتے ہیں جوکہ بالکل غلط ہے۔ گوکہ تعلیم کے معاملے میں پاکستان یا دیگر ممالک بھی کوئی بہت آگے نہیں ہیں لیکن افغانستان کے ساتھ موازنے میں پاکستان جیسے سماج میں باقی جو بھی مشکلات ہوں، لیکن تعلیم اور خاص کر خواتین کی تعلیم پر پابندی نہیں ہے۔
یو این ڈی پی کی مذکورہ رپورٹ کے تحت پورے افغانستان میں بچیوں کی سکولنگ پر تو پابندی لیکن بچوں کو سکولنگ کی اجازت ہونے کے باوجود بھی شدید مسائل کا سامنا ہے۔ وہ غربت، زیادہ فاصلے اور سکولوں کی مناسب تعداد میں عدم موجودگی کے باعث تعلیم کے حصول سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک طرف اگر سکول پہنچنے کے لئے بچوں کو اوسطاً کم از کم 90 منٹ کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے تو دوسری جانب ایک استاد 70 سے 100 بچوں کو پڑھانے پر مجبور ہوتا ہے۔ جنوبی صوبوں میں 33 فیصد مہاجرین، 12 فیصد آئی ڈی پیز اور 15 فیصد مقامی خاندانوں کے بچے اپنے خاندانوں کی کفالت پر مجبور ہیں۔
رہائش
رہائش کے حوالے سے جو اطلاعات منظر عام پر آرہی ہیں وہ محض جھوٹ اور پروپیگنڈا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت 52 فیصد مہاجرین، 35 فیصد آئی ڈی پیز اور 35 فیصد مقامی آبادیوں کے پاس سونے کے لیے درکار مناسب جگہ اور دیگر لوازمات نہیں ہیں۔ وسطی افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں ایران سے آنے والے مہاجرین کی 76 فیصد گھرانے، 52 فیصد مقامی خاندان اور 71 فیصد آئی ڈی پیز کے پاس موزوں گھر اور دیگر لوازمات نہیں ہیں۔ مشرقی افغانستان جہاں زلزلے نے تباہی مچائی تھی مجموعی طور پر ان تمام گروپس کے 60 فیصد لوگ رہائش کے مسائل کا شکار ہیں۔
ان پناہ گزین یا مہاجرین کو بار بار ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے، پچھلے سال 18 فیصد مہاجرین دوبارہ منتقلی کا شکار ہوئے تھے جبکہ 6 فیصد لوگوں کو ان کے آباد شدہ مقامات سے نکال دیا گیا ہے۔ کرایوں میں 100 سے 300 فیصد مجموعی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں 3 ہزار سے 5 ہزار افغانی ماہانہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ مغربی افغانستان کے بیشتر اضلاع میں مہاجرین کی بڑی اکثریت ٹینٹوں میں مقیم ہے۔ ہرات میں مقیم مہاجرین کی 70 سے 80 فیصد آبادی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہی ہے۔ اپنے حالات کو بہتر بنانے کے چکر میں یہ آبادی قرض لینے، کھانا کم کرنے یا پھر گھریلو اشیاء کی فروخت کرنے پر مجبور ہے۔ پچھلے سال آنے والے زلزلوں نے مزید تباہی پھیلائی جس کی وجہ سے حالات مزید تباہ کن ہوگئے ہیں۔
خواتین اور لڑکیوں کی ابتر صورتحال
نام نہاد لبرلز خواتین کے سوال کو بہت اچھال رہے ہیں اور طالبان کے تمام جرائم کو محض خواتین تک محدود کرتے ہیں۔ گوکہ خواتین پر ہونے والی جبر ایک قابلِ مذمت اور قابلِ مزاحمت تلخ حقیقت ہے، مگر وہ خواتین کی محض لبرل آزادیوں کے نقطہ نظر سے یہ بات کرتے ہیں۔ بطور کمیونسٹ ہم خواتین کے سوال کو نہ صرف یہ کہ بہتر سمجھتے ہیں بلکہ لبرلز اور ملا کی نسبت خواتین کی حقیقی صنفی آزادی پر یقین بھی رکھتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ لبرلز اور ملا دونوں سرمایہ داری کے مختلف چہرے ہیں، دونوں کے ہاں خواتین کے سوال پر کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوتی۔ ایک طرف لبرلز خواتین کے سر سے زبردستی دوپٹہ ہٹا کر انہیں مارکیٹ کی زینت بناتے ہیں دوسری جانب ملا خواتین کو شٹل کاک پہنا کر گھر کی چار دیواری میں قید کرتے ہیں۔ خواتین کی آزادی سب سے پہلے انہیں ایک مکمل انسان تسلیم کرنے سے شروع ہوتی ہے جوکہ پھر سماج میں مرد کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرنے،بنیادی سہولیات زندگی کے حصول اور ہر قسم کی قید و بند کی پابندیوں سے آزاد ی کے لیے معاشرے کی بنیادی انقلابی تبدیلی کی متقاضی ہے۔ اس کے بغیر باقی سب محض ڈھکوسلہ ہے۔
طالبان کی جابرانہ پابندیوں اور مہاجرت میں سب سے زیادہ خواتین متاثر ہو رہی ہیں جیسے پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ مہاجرین کے 25 فیصد خاندانوں کی کفالت خواتین پر منحصر ہے اور یہ افغانستان کی مجموعی آبادی کے تناسب پر بھی درست ہوگا کیونکہ سامراجی مداخلتوں نے افغانستان کے سماج کو تخت و تاراج کرتے ہوئے جو قتل عام کیا ہے اس کی وجہ سے بیشمار خواتین اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
اس وقت افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کو رسمی آزاد زندگی بھی میسر نہیں ہے مطلب کہ ان کے کام کرنے، تعلیم و دیگر بنیادی ضروریات زندگی پر اعلانیہ قدغن ہے۔ گھریلو تشدد، کم عمری میں شادی، تعلیم و روزگار کے حق سے محرومی اور بالخصوص صحت عامہ کے مسائل میں خواتین کو دوسرے یا تیسرے درجے پر رکھا جاتا ہے۔ صحت کے حوالے سے خواتین کے مسائل میں سب سے پہلی رکاوٹ مہنگائی ہے جس کی خاطر لوگ علاج نہیں کرواتے، دوسری رکاوٹ ہسپتال یا ڈسپنسریز کی دوری اور ایک اور اہم ایشو محکمہ صحت میں خواتین سٹاف کی قلت ہے۔ یہ تینوں رکاوٹیں خواتین کو صحت یا علاج کے حصول سے روکتی ہیں۔ صنفی اور جنسی تشدد کے کارن 50 فیصد مہاجرین اور 33 فیصد مقامی خاندانوں کی خواتین میں خوف پایا جاتا ہے جبکہ طالبان کی کنواری لڑکیوں سے زبردستی کی شادیوں کے قصے زبان زد عام ہیں۔

انسانی امداد، طالبان کا کنٹرول اور اصلاحات کی محدود گنجائشاس تمام تر بحث کے نتیجے میں صورتحال کا جائزہ اگر لیا جائے تو ایک بات تو طے ہے کہ اس پوری بربادی اور تباہی کی سب سے بڑی ذمہ دارعالمی سامراجی طاقتیں اور بالخصوص امریکی سامراج ہے، جنہوں نے نہ صرف افغانستان کو تباہ کیا بلکہ افغانستان کے پانچ کروڑ سے زائد محنت کش عوام کو جبر اور استبداد کے ذریعے تاریخ کی اس ڈگر پر پہنچایا ہے جہاں ایک انقلابی تبدیلی کے بغیر افغانستان کے سماج کو دوبارہ تعمیر کرنے کی تمام تر کوششیں عبث ثابت ہوں گی۔
اس وقت سر دست مسائل کو مذکورہ بالا بحث میں واضح کیا جا چکا ہے لیکن چند ایسے فوری اصلاحات کی جا سکتی ہیں جن کے ذریعے افغانستان کی پورے سماج اور بالخصوص مہاجرین کی زندگی کو کچھ نہ کچھ سہولیات سے آراستہ کیا جا سکتا ہے۔ اور بطور کمیونسٹ ہم عوام کی زندگیوں کو بہتر کرنے والی اصلاحات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام میں یہ سب کچھ ممکن ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں طالبان کے موجودہ جبر پرمبنی حکومت کا احاطہ کرنا ہوگا۔ ان مہاجرین کی باعزت سیٹلمنٹ کے لیے ایک منصوبے کی ضرورت ہے جوکہ طالبان حکومت اور اس کے سامراجی آقاؤں کے پاس موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب افغانستان میں نام نہاد عالمی برادری اگست 2021ء سے 31 جولائی 2024ء تک مجموعی طور پر طالبان حکومت کو 20.71 ارب ڈالر رقم بطور’امداد‘ دے چکی ہے جس میں امریکہ سب سے بڑا ڈونر رہا ہے۔ رپورٹس میں یہ وضاحت بار بار موجود ہوتی ہے کہ امریکہ یا عالمی برادری کی جانب سے انسانی امداد کے نام پر ملنے والی رقم طالبان حکومت کو نہیں جانی چاہیے بلکہ یہ عالمی اداروں کو دی جاتی ہے مگر یاد رہے کہ ان تمام عالمی امدادی اداروں کی مقامی سرگرمیوں پر طالبان کی کڑی نگرانی ہوتی ہے اور وہ ان کی مرضی کے خلاف نہیں جا سکتے۔ حال ہی میں چند رپورٹس بھی میڈیا کی زینت بنی ہیں جہاں طالبان ان اداروں پر پابندی لگا رہے تھے جو انہیں بائی پاس کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
غربت کا خاتمہ، مگر کیسے؟
افغانستان میں غربت کے خاتمے کے لیے ہم بورژوا میڈیا کے دو اہم رپورٹس کے تحت تخمینہ پیش کرتے ہیں۔ جس میں پہلی آکسفیم ادارے کی طریقہ کار کے مطابق ہے، جس میں پوری دنیا میں 3.8 ارب افراد کو غربت سے نکالنے کے لئے فی کس سالانہ لاگت تقریبا 434 امریکی ڈالر بنتی ہے۔ اس فی کس لاگت کے حساب سے پورے افغانستان کے تقریبا 44 ملین لوگوں کو غربت سے نکالنے کے لیے ایک سال میں تقریبا 19.1 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
دوسرے بین الاقوامی معیار کے مطابق اگر عالمی بینک کے تازہ ترین 3 ڈالر فی کس روزانہ کے پیمانے کو استعمال کیا جائے تو پورے افغانستان کے لیے سالانہ لاگت تقریبا 48.2 ارب ڈالر اور 5 ملین مہاجرین کے لیے تقریبا 5.48 ارب ڈالر بنتی ہے۔پرانے عالمی معیار 2.155 ڈالر فی کس روزانہ کے حساب سے یہ اعداد وشمار بالترتیب 34.5 ارب ڈالر اور 3.92 ارب ڈالر بنتے ہیں۔ یہ حساب محض نقد ٹرانسفر کی بنیاد پر کیا گیا ہے جبکہ حقیقت میں غربت ختم کرنے کے لیے روزگار، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر جیسے عوامی پروگرامز بھی ضروری ہیں۔
عالمی بینک کا فی کس تین ڈالر یومیہ غربت کا پیمانہ بنیادی انسانی زندگی کے کم از کم اخراجات پر مبنی ہے جس میں صرف ضروری ترین چیزیں شامل ہوتی ہیں جیسے کم از کم غذائی ضروریات (یومیہ کیلوریز پوری کرنے کے لیے آٹا، چاول، دال وغیرہ) بہت بنیادی رہائش یا کرائے کا ایک چھوٹا سا کمرہ، معمولی کپڑے، بنیادی صحت کی سہولیات (ابتدائی ادویات اور چھوٹا علاج معالجہ) تعلیم تک محدود رسائی،مقامی سطح کی سستی نقل و حرکت اور پانی و صفائی جیسی بنیادی ضروریات۔ جبکہ اس معیار میں معیاری صحت کی سہولیات، معیاری تعلیم، محفوظ اور مناسب رہائش، مستحکم آمدنی، بہتر غذا، نقل و حمل کا اچھا انفراسٹرکچر، سماجی تحفظ یا باعزت زندگی شامل نہیں۔ مختصراً 3 ڈالر یومیہ فی کس محض انسان کو زندہ رکھنے کے لیے کم از کم اخراجات کی علامت ہے نہ کسی ایک باعزت اور محفوظ زندگی گزارنے کے لیے۔
مہاجرین کے رہائش کے سوال کو کیسے حل کریں؟
مہاجرین کے نقطہ نظر سے اگر ہم ان کے گھروں کی تعمیر کی بات کریں تو IOM, UNHCR اور عالمی بینک کے سابقہ ری کنسٹرکشن پروگراموں کے اندازوں کی بنیاد پر ایک معمولی گھر (جس میں مٹی یا اینٹ کی دیواریں، ٹین یا لکڑی کی چھت، ایک سے دو کمرے اور بنیادی سے واش روم اور پانی کی سہولیات شامل ہوں) تقریبا 2,500 سے 5,000 ڈالر میں تیار ہو سکتا ہے جبکہ قدر ے بہتر، پائیدار اور درمیانی معیار کے گھر کی لاگت 6 ہزار سے 12 ہزار ڈالر تک جا پہنچتی ہے جس میں کنکریٹ کی بنیاد، مضبوط چھت، دو سے تین کمرے اور سخت موسم کے خلاف بہتر تحفظ شامل ہوتا ہے۔
اگر افغانستان کے 5 ملین مہاجرین کو گھر فراہم کرنا مقصود ہو تو ایک افغان خاندان کے اوسط سائز 6 افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریبا 830,000 گھروں کی تعمیر کی ضرورت بنتی ہے۔ اس حساب سے بنیادی معیار کے گھروں کے لیے کم از کم 2 سے 4.2 ارب ڈالر اور بہتر معیار کے گھروں کے لیے 5 سے 10 ارب ڈالر درکار ہوں گے اس طرح مجموعی تخمینہ 2 سے 10 ارب ڈالر بنتا ہے جو اس بات پر منحصر ہے کہ گھروں کا معیار کیا ہونا چاہیے اور موسمی حالات کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔

یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 2001 ء سے 2021ء تک افغانستان میں جنگ، قبضے اور نام نہاد”دہشت گردی کے خلاف جنگ“کے نام پر کھربوں ڈالر جھونک دیے، جن کا براہِ راست نتیجہ افغانستان کی سماجی، معاشی اور انسانی تباہی کی صورت میں نکلا۔ اگر ان ہی بیس برسوں میں خرچ کیے گئے اس بے پناہ سرمائے کا ایک معمولی سا حصہ بھی افغانستان کے سماج کی تعمیرِ نو، روزگار، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر لگایا جاتا تو آج نہ صرف غربت بلکہ مہاجرت جیسے مسائل کو بڑی حد تک ختم کیا جا سکتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی دوبارہ تعمیر کے لیے درکار وسائل، ان کھربوں ڈالر کے مقابلے میں کئی گنا کم ہیں جو سامراجی جنگی مشینری کی نذر کیے گئے۔ مگر یہاں سوال محض وسائل کی دستیابی کا نہیں بلکہ اس فرسودہ، گلے سڑے سرمایہ دارانہ نظام کا ہے جس میں تباہی پر دولت لٹانا ممکن ہے مگر انسانی سماج کی تعمیر ایک ناممکن خواب بنا دی جاتی ہے۔ اسی لیے سرمایہ داری کے دائرے میں افغانستان کی حقیقی بحالی ناممکن ہے، اور اس کا واحد حقیقی حل سوشلسٹ انقلاب ہے، یعنی اقتدار اور وسائل کا محنت کش طبقے کے ہاتھوں میں آنا، جو اس سماج کی ازسرِنو تعمیر کو ممکن بنا سکتا ہے۔
بحث کا اختتامیہ اس بات پر کیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ افغان مہاجرین کی مکمل بحالی اور افغانستان کی مجموعی تعمیر نو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ داری،رجعتی قبضہ گیری اور سامراجی مداخلت کے خاتمے کی متقاضی ہے لیکن ان مہاجرین کے موجودہ حالات میں کسی حد تک فوری بہتری بھی کی جا سکتی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ یہاں پر حق ”حقدار“ کو ملنے کے بجائے افغانستان پر مسلط قبضہ گیر گدھوں کے جیبوں میں مختلف طریقوں سے جا رہا ہے۔ دوسری جانب نام نہاد این جی اوز کا کردار اس ضمن میں شروع دن سے بہت واضح ہے کہ وہ محض اپنا کاروبار چلانے اور کرپشن کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ انسانی ہمدردی کے نام پر سب سے بڑی ڈرامے بازیاں کرنے والے یہ نام نہاد ادارے انسان کی تذلیل کرتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ افغان مہاجرین سمیت دنیا بھر میں پناہ گزین اور مہاجرین کا مسئلہ ایک سلگتا ہوا سوال ہے جس کو حل کرنے کی ذمہ داری محنت کش طبقے کی ہے اور محنت کش طبقہ اس سوال سمیت دیگر سوالات کو حل کرنے کے لیے عملی میدان میں کودنے لگا ہے۔ جس کا اظہار ہم نے فلسطینیوں کے قتل عام پر اطالوی محنت کشوں کی ہڑتالوں میں دیکھا، اس کے علاوہ پوری یورپ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف محنت کش طبقے کی ایک للکار دیکھنے کو ملی جبکہ دوسری جانب دنیا بھر میں ابھرنے والی مختلف عوامی تحریکوں نے سرمایہ داری کے مستقبل پر ایک واضح چوٹ لگائی ہے۔ مگر محنت کش طبقے کے عملی اقدامات کے ساتھ تشنہ لب سوال ایک انقلابی متبادل کا ہے جوکہ محنت کش طبقے کی قوت اور طاقت کو صحیح سمت میں استعمال کرے۔ ظلم، جبر و استبداد اور استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑنے کے علاوہ دنیا بھر کے محنت کش طبقے کے پاس کوئی دوسرا متبادل یا حل موجود نہیں ہے۔















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance