تاریخی مادیّت کیا ہے؟ (پہلا حصہ)

| تحریر: مِک برْوکس، ترجمہ: صبغت اللہ وائیں |

مک بروکس کے مضمون ’’تاریخی مادیت کیا ہے؟‘‘ کا پہلا حصہ شائع کیا جا رہا ہے۔ انگریزی میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تاریخی مادیّت، تاریخی ارتقاکو جاننے کے لئے اْس پر مارکسی سائنس کے اطلاق کا نام ہے۔ تاریخی مادیت کا بنیادی قضیہ ایک فقرے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:’’انسانوں کا شعور انسان کے وجود کا تعین نہیں کرتا، بلکہ اس کے برعکس انسان کا سماجی وجود اس کے شعور کا تعین کرتا ہے۔‘‘ (مارکس، سیاسی معیشت کی تنقید پر مراسلے کا دیباچہ) اس بات کا مطلب کیا ہے؟ روزنامہ ’’مِرر‘‘ کے قارئین’پیریشرز‘ کے کارٹون سٹرِپ سے بخوبی آگاہ ہوں گے جس میں بوڑھا کتا ‘ویلنگٹن’ گھومتا گھامتا ایک کیکڑوں سے بھرے جوہڑ پر جا نکلتا ہے۔ کیکڑے اس پراسرار اْلوہیت کے بارے اندازہ لگاتے ہیں، جیسے ’’آسمان میں آنکھیں ہیں‘‘ ، انہیں تو یہی دِکھ رہا تھا۔
بات یہ ہے کہ اگر تو آپ کی کْل کائنات ایک جوہڑ ہی ہے تو آپ چیزوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟ آپ کے شعور کا تعین آپ کا وجود ہی کرتا ہے۔ سوچ نوع کے تجربات کے دائرے تک محدود ہے۔ یہ بات ہم بہت ہی کم جانتے ہیں کہ قدیم انسان کیسے سوچتا ہو گا۔ لیکن یہ جانتے ہیں کہ کن چیزوں کے بارے میں وہ سوچ ہی نہ سکتا تھا۔ اسے کبھی یہ تشویش نہیں رہی ہو گی کہ فٹ بال میچ کون جیتے گا۔ ‘لِیگ فٹ بال’ والے پہلے سے یہ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ بڑے شہروں میں میچ کروانے سے اتنی آمدنی ہو جائے گی کہ پیشہ ور کھلاڑیوں اور کلب کے تمام عملے کی ادائیگیاں کی جا سکیں۔ صنعتی شہر محض اسی وقت نمو پذیر ہوسکتے ہیں جب محن (قوت محنت) کی افزودگی اس نکتے تک ارتقا کر جائے کہ سماج کے ایک حصے کو باقی ماندہ معاشرہ کھِلا سکے اور وہ حصہ خوراک کے حصول کی بجائے دیگر احتیاجات کی پیداوار پر دھیان دے سکے۔ دوسرے لفظوں میں ایک بڑے پیمانے پر تقسیمِ محن کا ہونا ضروری ٹھہرتا ہے۔ اسی چیز کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ لوگ لازمی طور پر صرف روپیہ کمانے کے معمول میں بندھ جائیں اورضرورت کی اشیا دوسروں سے خریدیں، جس میں فٹ بال ٹکٹ بھی شامل ہیں، قدیمی سماج میں یقیناً ایسا نہیں تھا۔
یوں اس سادہ مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح سے پیشہ ورانہ فٹ بال جیسی معمولی چیزیں بھی سماج کے حصولِ روزگار کے طریقوں سے جْڑی ہیں، یعنی لوگوں کے ’’سماجی وجود‘‘ پر انحصار کرتی ہیں۔ آخر نوعِ انسانی ہے کیا؟ عظیم عینیّت پرست فلسفی ہیگل نے کہا تھا”انسان باشعور ہستی ہے۔” درحقیقت ہیگل نے عام مذہبی خیال ہی کو ایک خاص قسم کی ہاتھ کی صفائی دکھاتے ہوئے ذرا نئی شکل میں پیش کر دیا تھا، جس کے مطابق خالق نے انسان کو دماغ اپنی صناعی کی تحسین و ستائش کے لئے عطا کیا تھا۔
یہ سچ ہے کہ سوچنا ایک ایسا عمل ہے جو کہ ہمیں کیڑے مکوڑوں اور چھپکلیوں سے ممتاز کرتا ہے۔ لیکن انسان نے سوچنے کی صلاحیّت کیوں کر حاصل کی؟ قریباً سو سال قبل اینگلز نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ‘سیدھا کھڑے ہونا’ ہی وہ تبدیلی تھی جس نے انسان کو بن مانس سے ممتاز کیا، یہ بالکل مادی توجیح تھی۔ اس نظریے کی توثیق ماہرینِ بشریات کی جدید ترین تحقیقات نے کی ہے، جیسے کہ ‘لیکی’ کی تحقیقات نے۔
سیدھا کھڑے ہونے نے مخالف انگوٹھے کے ذریعے پکڑ بنانے کے لئے ہاتھوں کو آزاد کر دیا۔ اسی نے اوزاروں کا استعمال اور ان کا ارتقا ممکن کیا۔ اسی سیدھا کھڑے ہونے نے ابتدائی انسان کو اس قابل بھی بنا دیا کہ وہ گِرد کی دنیا کو جاننے کے لئے دیگر حسیّات کے بجائے آنکھوں پر زیادہ انحصار کرے۔ ہاتھوں کے استعمال نے دماغی صلاحیّتوں کو آنکھوں کی وساطت سے ارتقا دیا۔
اینگلز ایک جدلیاتی مادیت پسند تھا۔ اس نے کسی بھی طرح سے سوچ کی اہمیت کو کم نہیں کیا بلکہ اس نے وضاحت کی تھی کہ سوچ پیدا کیسے ہوئی۔ ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اٹھارھویں صدی کے امریکی سیاستدان اور موجد بنجامن فرینکلن کی سوچ ہیگل کی نسبت زیادہ مادیت پسند تھی جب اس نے انسان کی تعریف ایک اوزار بنانے والے جانور کے بطور کی۔
ڈاروِن نے سو برس قبل بتایا تھا کہ بقا کے لئے ایک جدوجہد موجود ہے اورانواع فطرتی چناؤ کے ذریعے بقا پذیر رہتی ہیں۔ بظاہر تو ابتدائی انسان کے پاس اپنے حفاظت کیلئے کچھ خاص نہ تھا، نہ تو اس کے پاس چیتے کی سی رفتار تھی، نہ شیر کی سی طاقت اور نہ ہی وہ ہاتھی کا سا دہلا دینے والا ڈیل ڈول رکھتا تھا، اس کے باوجود انسان پورے کرہ ارض پر غالب آیا، اور موجودہ دور میں تو ان خوفناک جانوروں کو معدومیت کی حد تک پہنچا دیا ہے۔
وہ کیا چیز ہے جو بنی نوع انسان کا ادنیٰ درجے کے جانوروں سے فرق کرتی ہے؟ ہمیں یہ گمان ہو سکتا ہے کہ بعض جانور تو خود کفیل ہیں، جیسے کہ شیر۔ لیکن آخری تجزیے میں ان سب جانوروں کو اپنے ارد گرد کی فطرت اسی طرح سے قبول کرنا پڑتی ہے، جیسی کہ وہ انہیں مِلتی ہے۔ لیکن جہاں تک انسان کا تعلق ہے، وہ فطرت پر بتدریج قابو حاصل کرتا جاتا ہے۔ وہ عمل جس کے ذریعے انسان نے فطرت پر قابو پایا، محنت ہے۔ مارکس کی قبر پر کھڑے ہو کر، اینگلز نے کہا تھا کہ اس کے دوست کی عظیم دریافت یہ تھی کہ ’’انسان نے لازمی طور پر سب سے پہلے کھانے، پینے، رہائش اور لباس کے مسئلوں کو حل کیا، لہٰذا سیاست، سائنس، آرٹ اور مذہب وغیرہ کی طرف آنے سے پہلے اسے کام کرنا پڑا۔‘‘
ایک اور جگہ جدلیاتی اصول بتاتے ہوئے اینگلز کہتا ہے کہ “ہاتھ نہ صرف یہ کہ محنت کرنے کا عضو ہے بلکہ یہ خود محنت کی پیداوار بھی ہے۔” اگرچہ ہم اپنے قدیمی انسانوں کے ذہن پڑھ تو نہیں سکتے، مگر اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں کہ تقریباً ہر وقت ان کو صرف ایک ہی فکر رہتی تھی، وہ تھی خوراک۔ انسانی تاریخ کا بڑا حصہ اس جدو جہد پر مشتمل ہے جو کہ ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ مارکسیوں کو اکثر ‘معاشی جبریت پسند’ (Economic Determinist) ہونے کا ملزم ٹھہرایا جاتا ہے۔ درحقیقت مارکسی لوگ، تاریخ میں عام لوگوں کے خیالات یا ان کے عملی کردار کی اہمیت کے انکار سے کوسوں دور ہیں۔ لیکن مختصراً یہ بتایا جاسکتا ہے کہ ہم سرگرمیاں کرتے ہیں تو ان ہی کے ذریعے ہمیں ایک طرف یہ معلوم پڑتا ہے کہ ہماری انفرادی سرگرمیوں کی آزادی کی حدود کیا ہیں اور دوسری طرف اس حقیقت کا بھی علم ہوتا ہے کہ اپنے خیالات اور سرگرمیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سازگار سماجی حالات کا پہلے سے موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔
ہمارے مکتبی مخالفین عمومی طور پر سست اور بَد بِین لوگ ہیں جو کہ نرم و ملائم آرام کرسیوں میں نیم دراز ہو کر سرخ شراب اور دیگر لوازمات میں سے انفرادی سرگرمی کو برآمد کر رہے ہیں۔ یہاں ہم مارکس کی مدد سے سمجھ سکتے ہیں کہ لوگ “اپنی تاریخ خود بناتے ہیں لیکن جن براہ راست درپیش حالات کے تحت وہ ایسا کرتے ہیں، وہ ماضی کی عطا اور ماضی ہی سے گزر کر آئے ہوتے ہیں۔” ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس سارے عمل میں سماج کیسے ترقی کر رہا ہے۔ اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ مارکسزم ایک تناظر کی سائنس ہے۔
زبان جو کہ خیالات کی کرنسی ہے بذاتِ خود محنت کی تخلیق ہے۔ ہم اس بات کو گیدڑوں اور دوسرے شکاری جانوروں تک میں دیکھ سکتے ہیں جو اپنا شکار مارنے کے لئے محض وحشیانہ طاقت یا رفتار کی بجائے گروہی عمل پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے ہاں بھونکتے ہوئے احکامات اور انتباہات کا پورا ایک سلسلہ ہے جو کہ زبان کی شروعات کے مراحل ہیں۔ اس طرح سے لوگوں کے مل کر محنت کرنے کے نتیجے میں ان کے مابین زبان نے اپنے ارتقاکے مراحل طے کئے۔ اعلیٰ درجے کے بن مانسوں میں منطقی سوچ کے جراثیم اوربعض جانوروں میں آلات کا محدود استعمال کرنا ابھی تک ابتدائی مرحلے پر ہے۔ جبکہ کامیابی صرف حضرتِ انسان ہی کے ہاتھ لگی۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ محنت بنی نوع انسان کو دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے، یعنی محنت کے ذریعے انسان فطرت کو بتدریج تبدیل کرتا ہے اورایسا کرتے ہوئے یہ خود کو تبدیل کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی تاریخ کی تمام کم بختیوں اور غلطیوں کے اندر ہی ترقی کا ایک حقیقی معیارموجود ہے، مردوں اور عورتوں کی وہ بڑھتی ہوئی صلاحیت، جس کے ذریعے وہ فطرت پر اختیار حاصل کرتے ہیں اور اس کی تسخیر اپنی ضروریات کے مطابق کرتے ہیں: دوسرے لفظوں میں “محن کی بڑھتی ہوئی افزودگی۔” پیداواری قوتوں کے ارتقا کا ہر مرحلہ پیداواری تعلقات کے ایک مخصوص مجموعے سے مطابقت میں ہوتا ہے۔

پیداواری تعلقات
پیداواری تعلقات سے مراد لوگوں کا خود کو اس طور سے منظم کرنا ہے کہ وہ اپنی روز مرہ کی روزی روٹی حاصل کر سکیں۔ لہٰذا پیداواری تعلقات ہر شکل کے معاشرے کا ڈھانچہ ہوتے ہیں۔ یہ سماجی وجود کے وہ حالات مہیّا کرتے ہیں جو کہ انسانی شعور کو متعین کرتے ہیں۔ مارکس نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ پیداواری قوتوں کا ارتقا کس طرح سے مختلف پیداواری تعلقات اور طبقاتی سماج کی مختلف بْنتریں پیدا کرتا ہے۔ ‘طبقے’ سے ہماری مراد معاشرے کے اندر لوگوں کا ایک ایسا گروہ ہے جن کا ذرائع پیداوار سے ایک سا تعلق ہو۔ جس طبقے کی ملکیت اور اختیار میں ذرائع پیداوار ہوتے ہیں، وہ معاشرے پر حکومت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ملکیت اسے اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ محنت کش طبقے کو اپنی جان حکمران طبقے کے مفادات کے لئے مارنے پر مجبور کر دے۔ محنت کش طبقہ ایسی فاضل پیداوار کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے جس پر حکمران طبقے کی گْزر ہوتی ہے۔
مارکس اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے: “مخصوص معاشی ہیئت جس میں غیر ادا شدہ فاضل محنت ‘براہِ راست پیدا کاروں’ میں سے نچوڑی جاتی ہے، حاکم اور محکوم کے تعلق کا تعینکرتی ہے۔ اسی ایک بنیاد کے اوپر سارے کا سارا معاشی سماج تشکیل پاتا ہے، جو کہ پیداواری تعلقات کے فی الذات اندر سے برآمد ہوتا ہے؛ اسی کارن اس کے ساتھ ساتھ اس کی مخصوص سیاسی بْنتر بھی… اس کے ساتھ ہمیں اس سیاسی بْنتر کا تعلق بتاتا ہے کہ کس طبقے کے پاس اختیارِ اعلیٰ ہو گا اور کون سا طبقہ رعایا ہو گا۔ مختصر یہ کہ اس تعلق کے مطابق بنتی ہوئی ریاست کی مخصوص شکل۔” (سرمایہ، جلد سوئم)

قدیمی کمیّونزم
سماج کے ابتدائی ترین مرحلوں میں یہ تو نہیں تھا کہ لوگ فیکٹریوں میں جا کر وہ اشیا بناتے ہوں گے جو کہ ان کے لئے کارآمد نہیں تھیں، لیکن جن کے بدلے ہفتے کے آخر میں ان کو ایسے رنگین کاغذ دے دئیے جاتے جن کو دوسرے لوگ کھانے اور کپڑے وغیرہ کے عوض آسانی سے قبول کرنے پر تیار ہوتے، جن کی انہیں ضرورت ہوتی تھی۔ اس طرح کی باتیں تو ہمارے اجداد کے سان گمان میں بھی نہیں تھیں۔ نہ ہی اس وقت جدید معاشرے کے بہت سے وہ دوسرے خصائص موجود تھے جنہیں ہم فطری طور پر موجود سماج کا حصہ سمجھتے ہیں۔ کس سوشلسٹ نے یہ دلیل نہیں سْنی کہ “لوگ اپنی لالچ اور چھینا جھپٹی کی خواہشوں کے غلام ہیں، آپ سوشلزم نہیں لا سکتے، کیوں کہ آپ انسانی فطرت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔” حالاں کہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے سماج کو طبقوں میں بٹے ہوئے ابھی کوئی 10,000 سال سے زیادہ کا عرصہ بھی نہیں گزرا، جو کہ اس کرہ ارض پر نوعِ انسانی کی موجودگی کے عرصے کا محض سووّاں حصہ (ایک فیصد) ہے۔ باقی 99 فیصد عرصے میں کسی قسم کے طبقاتی سماج کا وجود ہی نہیں تھا، یعنی نہ تو کسی قسم کی عدم مساوات مسلط تھی، نہ ہی کوئی ریاست تھی اور نہ ہی دورِ جدید کے معنوں میں کوئی خاندان۔
اس کی یہ وجہ نہیں کہ قدیمی لوگ ہم سے بہت زیادہ پارسا تھے، بلکہ پیداواری تعلقات نے ایک مختلف قسم کے معاشرے کی تشکیل کی تھی، جس وجہ سے ‘انسانی فطرت’ بھی کچھ اور تھی۔ وجود شعور کو متعین کرتا ہے اور اگر لوگوں کا سماجی وجود مختلف ہے، اگروہ سماج جس میں وہ رہتے ہیں مختلف ہے، تو ان کی سوچ بھی مختلف ہی ہو گی۔
قدیمی معاشرے کی بنیاد خوراک اکٹھا کرنے اور شکار کرنے پر تھی۔ صرف ایک ہی قسم کی تقسیمِ محن موجود تھی، وہ مرد اور عورت کے درمیان تھی، وہ بھی کْلّی طور پر فطرتی حیاتیاتی بنیادوں پر تھی، کیوں کہ عورتوں پر زیادہ تر وقت چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کا بوجھ رہتا تھا۔ مرد شکار کرنے جایا کرتے تھے تو وہ پیچھے ساگ پات اور کھانے کی سبزیاں وغیرہ اکٹھا کیا کرتی تھیں۔ اس طرح سے پیداوار میں دونوں جنسوں نے ایک اہم کردارادا کیا۔ قبائل کا مطالعہ کرتے ہوئے اور ان پر کی گئی تحقیق کی بنیاد پر، جیسے کہ کالاہاری صحرا اور جنوبی افریقہ کے کنگ قبائل(جو کہ ابھی تک قدیمی کمیونزم کی حالت میں رہ رہے ہیں) یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ خوراک کی فراہمی میں عورت کا حصّہ مرد کی نسبت زیادہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔
یہ تمام قبائلی سماج ایک جیسی خصوصیات کے حامل تھے۔ شکار گاہیں قبیلے کی مشترکہ ملکیت کے طور پر لی جاتی تھیں۔ وہ لوگ لالچی یا خود غرض ہو بھی کیسے سکتے تھے جبکہ شکار خود ایک اجتماعی سرگرمی ہے؟ صفحہ ہستی سے مِٹ جانے کا یقینی خطرہ ہی ہمیں اشتراک کی طرف لے جاتا ہے۔ مثلاً مردہ دریائی گھوڑے کو اپنے ساتھیوں سے چھپانا اچھا ہو بھی نہیں سکتا، اس سے پہلے کہ آپ اس کو کھا پائیں، وہ سڑ جاتا، اور ایسے موقعے تو یقیناً اور بار بار آ سکتے ہیں جب آپ مصیبت میں ہوں اور قبیلے کے دوسرے افراد کے پاس ضرورت سے زائد خوراک موجود ہو۔ یہی بات عام فہم لگتی ہے بانٹ لیا جائے، اور ایک سا بانٹا جائے۔
نجی ملکیت، ذاتی ہتھیاروں اور اوزاروں کی حد تک موجود تھی، لیکن ایک دوسرے سے بالکل مختلف قبائلی معاشروں میں بھی ایک اصول بہرحال مشترک تھا کہ وہ لوگ ان اشیا کو عدم مساواتی اجماع سے بچنے کی خاطر ان کے مالک کے جسم کے ساتھ ہی جلا دیتے، یا دفن کردیتے تھے۔ یہاں تک کہ ان قبائل میں زراعت کی ابتدا کے بعد بھی زمین کی ایک مسلسل باز تقسیم موجود رہی، اس قدر طاقتور تھے قدیمی کمیونزم کے قاعدے قانون۔ روم کے مورخ ‘ٹیسی ٹس’ نے جرمن قبائل میں اس طرح کے رواجوں کا ذکر کیا ہے۔
اس طرح کے معاشروں میں عورت کو اعلیٰ مقام حاصل تھا۔ وہ قبیلے کی دولت میں کم از کم برابر کا حصہ ضرور ڈالتی تھیں۔ انہوں نے الگ قسم کی مہارتیں حاصل کرلی تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ظروف سازی عورتوں نے ایجاد کی، بلکہ یوں کہیں کہ عورت نے زراعت کی دریافت میں حتمی طور پر فیصلہ کْن کردار ادا کیا۔
ریاست جیسے اداروں کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ سماج میں پھاڑ پیدا کرنے والے بنیادی متحارب طبقاتی مفادات کا کہیں وجود ہی نہیں تھا۔ انفرادی جھگڑے قبیلے کے اندر ہی چْکا دیئے جاسکتے تھے۔ قبیلے کے بڑے بوڑھے، جن کے پاس تجربہ ہوتا تھا، لازمی طور پر قبیلے کے فیصلے کرنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ وہ لوگ سردار تھے، بہرکیف بادشاہ نہیں تھے۔ ان کا اختیار اگر مانا لیا جاتا تو ٹھیک، وگرنہ دھونس نہیں تھی۔ یہاں تک کہ تیسری صدی عیسوی کے آخر تک (حالانکہ وقت کی مناسبت سے یہ مشکوک نظر آتا ہے) اتھانارِک، ایک جرمن قبیلے، ‘ویزی گوتھ’ کے سردار نے کہا تھا کہ “میرے پاس اختیار ہے، طاقت نہیں۔”
معاشرے نے ارتقا کیا، کیوں کہ اس کو ایسا کرنا پڑا۔ افریقہ کے گرم مرطوب خطے پر جنمی آبادی، انسانی زندگی کے لئے نامناسب حصوں کو پْر کرتی ہوئی پھیلتی چلی گئی۔ لوگوں کے لئے دو ہی راستے تھے یا تو اپنی سوچ اور محنت کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ارتقا کریں یا پھر نابود ہو جائیں۔ درحقیقت زمین کی کاشت کاری کے ذریعے ساگ پات کا یقینی طور پردسترس میں آجانا پھل اور خشک میوے وغیرہ اکٹھے کرنے سے ایک قدم آگے تھا۔ شکار سے کھیتی باڑی کی جانب یہ ایک ایسا قدم تھا جب جانوروں کو پکڑا جانے لگا۔ قبائلی اقدار بدستور برقرار رہیں۔
زراعت، بنی نوعِ انسان کی تاریخ کا پہلا عظیم انقلاب تھا جسے نیولیتھِک انقلاب کہا جاتا ہے۔ اناج کو چْنا اور بویا جانے لگا، اور زمین میں کھینچنے والے جانوروں کی مدد سے ہل چلایا جانے لگا۔ پہلی مرتبہ ایک زائد پیداوار، کثیر پیمانے پر وجود پذیر ہوئی تھی جو کہ محنت کشوں کی بنیادی ضروریات سے کہیں بڑھ کے تھی۔ یہ تو صاف ظاہر ہے کہ قدیمی کمیونزم میں ایک نکمے اور ناکارہ طبقے کی گنجائش کہیں نہیں نکلتی تھی۔ جہاں لوگ اپنی ضروریات بمشکل پوری کر پاتے تھے وہاں کسی دوسرے کو غلام بنانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا تھا۔ بہر طور اب (نیولیتھک انقلاب کے بعد) کچھ لوگوں کا کام نہ کرنا ممکن ہو گیا تھا، لیکن تاحال انسانیت اس قابل نہ ہو سکی تھی کہ ہر کوئی ایسی زندگی گزار پاتا۔ یہی وہ اساس تھی جس پر طبقاتی معاشرہ اْبھرا، معاشرے قابض اور محنت کش طبقات کے مابین تقسیم ہو گئے۔
زمانوں سے طبقاتی کشمکش میں سب سے بڑا مسئلہ محنت کش کی پیدا کی گئی زائد پیداوار پر قبضے کی کشمکش کا رہا ہے۔ وہ طریقہ جس سے یہ پیداوار حاصل کی جاتی تھی، چھین لیا گیا، یہ مختلف پیداواری طبعوں پر انحصار کرتا تھا جو کہ زراعت کی دین تھا۔ اس تبدیلی نے سماجی زندگی کو یکسر تبدیل کر دینے کی بنیاد فراہم کی۔ قبائلی قدریں بہت مشکل سے ختم ہوئیں۔ پہلے پہل، زمین کی بازتقسیم کی گئی۔ یہاں تک کہ جاگیردارانہ یورپ کے کچھ علاقوں کی دیہی آبادیوں میں، قدیمی کمیونزم کی قدیم زرعی زمینوں کی باز تقسیم کی یہ روایات ایک تبدیل شدہ شکل میں جاری رہیں۔ لیکن شکار کے بر عکس، زراعت ایک انفرادی سا عمل تھا۔ آپ زیادہ محنت کر کے زیادہ پیداوار حاصل کر سکتے تھے، اور جب ہر کوئی بقاکی دہلیز پر زندگی گزار رہا ہو تو اس بات کی اہمیت کہیں بڑھ جاتی ہے۔ اور اس پر زرعی انقلاب، جس میں کھینچائی کے جانوروں کی مدد سے ہل چلایا جاتا تھا، جو کہ بنیادی طور پر مردوں کا کام تھا۔ اس نے عورت کو مجبور کیا کہ وہ اب اس خام مال پر ہی کام کرے جو کہ اس کو مرد فراہم کرے گا، پیداوار میں براہِ راست کردار کی یہ وہ محرومی تھی جس نے عورت ذات کو تاریخی شکست سے دوچار کیا۔ مرد چاہتے تھے کہ اپنی غیر مساویانہ ملکیت ایک نرینہ وارث کو منتقل کریں۔ قدیمی کمیونسٹ سماج میں نسب عورت کی نسبت سے چلتا تھا (تب وراثت غیر اہم تھی) اب مرد کی نسبت سے وراثت چلنے لگی۔
ہمیں یقینی طور پر اس بات کا علم نہیں کہ طبقاتی سماج کیسے وجود میں آیا، لیکن ہم اس کہانی کو ان شواہد کے ٹکڑوں کی مدد سے جوڑ سکتے ہیں جو کہ ہمیں دستیاب ہیں۔ ہم اس عمل کو انقلاب کہتے ہیں، اور یہی اس لفظ کا معقول ترین استفہام تھا۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مختلف اقسام کے معاشروں میں، نئی قِسموں کے مکمل طور پر پرانی قِسموں کی جگہ لے لینے سے قبل لازمی طور پر، سینکڑوں، بلکہ ہوسکتا ہے کہ ہزاروں برس کی عبوری شکلوں میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہوں۔ انسانی ترقی کی پیش رفت یکساں طور پر نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ ایک مشترک اور ناہموار ارتقا کے اصول کے تحت ہوئی۔
یہ استوائی افریقہ کے خوشحال لوگ نہ تھے بلکہ گرم علاقوں کے (غالباً مشرق کے نزدیک) لوگ تھے جو کہ زراعت کو اپنانے کے لئے سب سے پہلے مجبور ہوئے تھے۔ اپنے آغاز میں زراعت یقیناً بہت ابتدائی نوعیّت کی تھی، جو کہ غالباً جنگلات کو کاٹنے اور جلانے سے زرعی میدان حاصل کرنے پر مشتمل تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ قبیلہ مسلسل حرکت میں رہتا تھا، کیوں کہ صاف کی گئی زمین محض چند سال ہی کے لئے اچھی فصل دیتی اور پھر پیداوار کم کر دیتی۔
اس طرح سے قبائلی معاشرہ قائم تو رہا مگر اس میں تبدیلیاں آتی گئیں۔ ٹیسی ٹس نے اپنے وقت کے جرمن قبائل کی فوجی جمہوریت کا ذکر کیا ہے، جس میں ایک جنگی سردار کے ایک آئین، بزرگوں کی کونسلوں اور جنگ جوؤں کی مجلس کا ذکر ہے۔ عورتیں اب اس جمہوری حق سے محروم کر دی گئی تھیں۔ ارتقا کے اس مرحلے پر قبائل کا اب یہ خاصہ تھا۔ اگرچہ مجلس (اپنے نیزے اپنی ڈھالوں پر بجا کر) تمام فیصلوں کو تسلیم یا رد کر سکتی تھی، پھر بھی ہم جنگی سردار کی شکل میں بادشاہ اور بزرگوں کی کونسل میں ایک حکمران اشرافیہ کی ابتدائی شکل دیکھ سکتے ہیں۔ روم کے زمین دار حکمران سینٹ (“بوڑھے لوگ”) میں منظم ہو گئے اور اینگلو سیکسن بادشاہ کو ایک وٹان (“عقل مند آدمیوں کی جماعت”) مشورہ دیتی تھی، یہ دونوں ایک جمہوری قبائلی آئین کی باقیات تھیں جو کہ اپنے خود کے تضاد میں تبدیل ہو گئی تھیں۔ اب جرمن قبائل جنگ کے لئے منظم ہو گئے کیوں کہ ایک زائد پیداوار موجود تھی، تاہم یہ غیر محفوظ تھی، اگر اس کا دفاع نہ کیا جاتا تو چھینی جاسکتی تھی۔
ماہرینِ بشریات جیسے کہ لیکی نے ثابت کیا ہے کہ، ڈیسمونڈ موریس (ننگا بن مانس) اور رابرٹ آرڈرے (شکاری مفروضہ) جیسے لکھاریوں کے نقطہ نظر کے برعکس انسان موروثی طور پر جارح فطرت کا حامل نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ قدیمی کمیونسٹ معاشروں میں بھی لڑائیاں ہوئیں، مثال کے طور پر، کمیاب شکارگاہوں پر، لیکن جنگیں تاریخ کی ایک طے شدہ اور باقاعدہ صورت میں محض اس مرحلے پر شروع ہوئیں جب کچھ ایسا موجود تھا جس پر کہ لڑا جا سکے۔
ہم نے زراعت کی بات کی ہے جو کہ سماج کے لئے ایسی دریافت کے بطور سامنے آئی جس میں ضرورت سے زائد پیداوار پیدا کی جا سکتی تھی۔ درحقیقت محن کی افزودگی میں ہونے والی ترقی نے زراعت کے ذریعے ایک زیادہ جامع تقسیمِ محن کو ممکن بنایا۔ لوگ اپنے ہاتھوں کو دوسری چیزوں کے پیدا کرنے کے لئے استعمال کر سکتے تھے۔ لہٰذا زرعی انقلاب کاری گری (جیسے کہ برتن سازی اور دھات سازی) میں اور اس کے ساتھ ساتھ سارے سماجی ڈھانچے میں اپنے ساتھ جْڑے ہوئے انقلاب لے کر آیا۔ مختلف قبائلی لوگوں اور اس کے ساتھ ساتھ قبیلوں کے اندر بھی عدم مساوات پیدا ہو گئی۔ جغرافیائی اور دوسری وجوہات کی بِنا پر کچھ قبائل گلّہ بانی اور کچھ مچھلیاں وغیرہ پکڑنے کی طرف ہو گئے۔
جیسے جیسے زرعی لوگوں نے اپنی زائد پیداوارکی حفاظت کے لئے گاؤں کے گرد قلعہ بند ہو کے رہنا شروع کیا (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ زائد پیداوار نے ان میں سے کچھ کو اپنی حفاظت میں لگا لیا) ان گلّہ بانوں اور مچھلیاں پکڑنے والے لوگوں نے اشیاکے تبادلے کے کام پر قبضہ کر لیا۔ اس سے پہلے تبادلہ، قبائل جو کہ اپنے سفر کے دوران ملا کرتے تھے، کے مابین ایک بے ضابطہ عمل تھا۔ اب یہ ایک باقاعدہ ضرورت بن گیا تھا۔
دھات یقیناً اہم ترین تجارتی اشیا میں سے ایک تھی۔ یہودی گلّہ بان لوگوں میں سے معروف ترین تھے (بائبل میں ہمیشہ ابراہام کی دولت گلّوں کی صورت میں ناپی جاتی ہے) جنہوں نے مصری اور میڈی ٹیرینی تہذیبوں کے مابین بطور تاجر ارتقا کیا۔ تجارت کا ارتقا قبائل کے درمیان روائتی تحائف کے تبادلے سے ہوا۔ بھلا تحفے کی قدر کا پیمانہ کیا تھا؟ جیسے ہی لوگوں میں اس خیال کی کوئی واضح تصویر بنی ہو گی کہ وصول کردہ تحفے کی تیاری میں وقت کتنا لگا ہو گا، انہوں نے تحفہ دینے والوں کو بدل میں زیادہ محنت سے تیار شدہ مصنوعات دے کر فیاضی میں مات دینے کی کوشش کی ہو گی۔ جیسے جیسے تجارت میں زیادہ باقاعدگی آتی گئی فطری طور پر اس ضرورت کا احساس بڑھتا گیا کہ کوئی عالمگیر بدل ہونا چاہئے، کوئی ایسی چیز جو کہ تجارت میں آسانی سے مبادلے کے طور پر استعمال ہو سکے اور جسے ہر کوئی قدر کو ماپنے کے لئے بطور ایک عمومی پیمانہ قبول کر لے۔
سب سے پہلے یہ ضرورت مویشیوں کے ذریعے پوری کی گئی۔ لاطینی زبان کا لفظ ‘پیکونیا’ جس کا مطلب ‘پیسہ’ کے ہیں، ‘پیکس’ یعنی مویشی سے اخذ کیا گیاہے۔ [پنجابی کا پَشو یعنی مویشی بھی پیسے سے ملتا جلتا ہے، ویسے پنجابی لوگ اپنے ڈھور ڈنگر کو عام طور پر مال بھی کہتے ہیں جو کہ دولت اور مویشی دونوں کا معنی دیتا ہے۔ مترجم]
بعد ازاں اس ضرورت کو دھاتی ڈلوں کے ذریعے زیادہ آسانی سے پورا کر لیا گیا جس میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تجارت ہوئی، ان پر وزن کی ضمانت کے لئے سلطانوں کی مہر لگا دی جاتی تھی۔ روائتی تحائف عام طور پر سردار کو قبیلے کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے دئیے جاتے ہوں گے۔ جوں جوں معاشرہ زیادہ دولتمند ہوا، سردار ہونا زیادہ اہمیت کا حامل ہو گیا۔ سردار کا گھر گاؤں میں ایک شروعاتی منڈی بن گیا۔
نیکی بدی کرنے کے لئے دھات سازی نے انسان کے ہاتھ ایک ہیبت ناک طاقت تھما دی۔ دھاتیں، خاص طور پر تانبہ اور کانسہ کمیاب تھیں۔ ان نئے معاشروں کی پہلی ضرورت اپنے ان معیاراتِ زندگی کا تحفظ تھا جن کی انہوں نے تعمیر کی تھی۔ قدرتی طور پر قبیلے کے سردارکو لڑاکا قائد ہونے کی وجہ سے جنگی حکمتِ عملی میں کام آنے والے ساز و سامان سے استفادہ پانے والا سب سے مقدم فرد ہونا چاہیے تھا۔ اس بات کے منطقی نتائج قدیم یونانی شاعر ہومر کی کہانیوں میں نظر آتے ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ ٹرائے کا شہر ایک ایسی یونانی فوجی اشرافیہ کی حفاظت میں تھا جو کہ کانسے کی زرہوں سے لیس تھی۔ وہ یہ کہیں نہیں بتاتا کہ زیادہ تر فوج عام سپاہیوں پر مشتمل تھی، جو کہ محض پتھر کی انّی والے نیزوں سے مسلح تھے اور یہی سپہ زیادہ تر لڑنے اور مرنے مارنے کا کام کرتی تھی۔ صاف ظاہر ہے کہ انہیں ادبی لطافتوں کے موضوع بننے کا ’سزاوار‘ نہیں سمجھا گیا تھا۔
ہومر کی قدیم کہانیاں ایک ایسے سماج کی شبیہہ کھینچتی ہیں جہاں قدیمی کمیونزم کو قبائلی سرداروں کی جنگوں اورلوٹ مارسے بھری زندگی نے پرے دھکیل کر ارتقا پذیر ہوتی ہوئی اشرافیہ اور بادشاہوں کا تانا بانا بْن دیا تھا۔ اب ایک حکمران طبقہ پْراثر اور مسلح طاقت کی اجارہ داری کا مالک تھا۔ اس طرح قبائلی سماج کے ارتقا نے غیرطبقاتی مساوات کا خاتمہ کرتے ہوئے اپنی قبر کھودنے والے خود پیدا کئے۔
اتفاق سے، جرمن ساگا بھی جرمن قبائلی سماج کے خاتمے میں سے اسی سے ملتی جلتی شکل کے مرحلے میں اْبھرے۔ ان کے “سورمائی دور” نے بھی اسی جیسی فنی بْنتریں پیدا کیں (جیسے کہ رزمیہ شاعری) اور یہاں تک کہ ویسا ہی خداؤں کا ایک نظام، جو کہ قدیم یونان میں پیداوار کے ارتقا کی مطابقت میں اْسی جیسے مرحلے میں تھا۔ ہومرکے بیان کردہ کانسے کے دور کا ڈورین یورشوں نے صفایا کر دیا تھا۔ مغربی یورپ کے تاریک دور کے برابر کے عرصے، یعنی سینکڑوں سال تک، تاریخی ریکارڈ مردہ ہو گئے۔ لیکن حملہ آور اپنے ساتھ کچھ نیا بھی لے کر آئے تھے، اور یہ تھا لوہا۔
لوہا، کانسے کے مقابلے میں وافر مقدار میں پایا جاتا تھا۔ ہومر کا حکمران طبقہ اسے عام جنتا کو مسلح کرنے کے لئے استعمال کر ہی نہیں سکتا تھا، کیوں کہ ایسا کرنا انہیں اپنی فوجی اجارہ داری، جو کہ ان کی سماجی طاقت کی بنیاد تھی، سے محروم کر دیتا۔ لہٰذا وہ ان حملہ آوروں کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوئے جو کہ ابھی تک قبائلی تھے۔ حملہ آوروں کا سماج طبقاتی نہ تھا۔ لہٰذا ان سب نے لوہے کے ہتھیار استعمال کئے اور اپنے وقت میں ناقابلِ تسخیر رہے۔ کئی بار نسلِ انسانی کو آگے بڑھنے کی خاطر چند قدم پیچھے کی جانب جانا پڑتا ہے۔

ایشیائی طبع پیداوار
تہذیب مختلف جگہوں پر مختلف انداز میں ارتقا پذیر ہوئی۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے، یہ سب سے پہلے مصر کے دریائے نیل کے ڈیلٹا اور میسوپوٹیمیا(موجودہ عراق)میں اْبھری، حالانکہ حالیہ دریافتیں ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ ہوسکتا ہے یہ انڈیا (انڈس یعنی دریائے سندھ کے گرد کی زمین) اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی آزادانہ طور پر ارتقا پذیر ہوئی ہو۔ مصر اور عراق دونوں ہی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمران طبقہ سرداروں کی بجائے، پروہتوں کے ارتقا میں سے پھوٹا ہے، جو کہ باقی معاشرے سے بالا تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان مذہبی راہنماؤں کو اتنی فارغ البالی میسّر تھی کہ وہ کیلنڈر بنا سکیں، جو کہ انہیں اس قابل بناتا تھا کہ وہ اس بات کی پیشین گوئی کر سکیں کہ نیل میں سیلاب کب آئے گا، اور ریاضی کو ترقی دے سکیں، جس کی بدولت مرکزی منصوبہ بند آب پاشی کاربند تھی، جس نے سب سے پہلے ڈھیروں کے حساب سے زائد کی پیداوار دی۔ اس نہج سے مصری کاہنوں کی ریاضی اور فلکیات میں دلچسپی کوئی اتفاقی امر نہ تھا، بلکہ اس کی جڑیں پیداوار کی احتیاج میں تھیں۔
مارکس وضاحت کرتا ہے: “اس وقت اجتماعی حالات محنت کے ذریعے حقیقی طور پر زائد پیداوار ہتھیانے کے لئے، جیسے کہ آبپاشی کا نظام (جو کہ ایشیائی لوگوں میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے)، ذرائع ابلاغ وغیرہ، ایک عظیم بالا دست ہستی کے کام کے طور پر نمودار ہوئے، یعنی مطلق العنان حکومت جو کہ چھوٹی چھوٹی آبادیوں سے کہیں اوپر جا کر باضابطہ مسلط کر دی گئی۔”ایشیائی ریاست (جو کسی بھی طور دیہی آبادیوں کو جوابدہ نہیں تھی) زائد پیداوار کو بطور خراج ہتھیانے میں حق بجانب سمجھی جاتی تھی۔ یہ خراج ریاست زمین کی ملکیت کی بدولت بٹورتی تھی: ” انہیں آپس میں جوڑنے والا طبقہ ان تمام چھوٹی چھوٹی آبادیوں سے بالا موجود تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہر شے سے بالا تر یا پھر بلا شرکت غیر مالک لگتا تھا۔ حقیقی طبقہ تو صرف موروثی قابضوں ہی کو کہا جا سکتا تھا۔”
“پیداوار کی عمومی شرائط” (آبپاشی، وغیرہ) کو برقرار رکھنے کے لئے ریاست کو خراج (ایک طرح کا ٹیکس)دینے والے یہاں کے دیہات بڑے پیمانے پر خود کفیل تھے۔ ہر گاؤں کے اندر ہی دست کاری اور زراعت اکٹھی موجود تھی۔ یہ بکھرے ہوئے تتر بتر گاؤں اس قابل نہیں تھے کہ اپنے استحصال کے خلاف خود کو منظم کر پاتے، اس طرح سے پورے کا پورا نظام ہی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ مارکس اور اینگلز نے جب ان معاشروں کو “تاریخ سے باہر” قرار دیا تو ان کا اصل مطلب بھی یہی تھا۔ مثال کے طور پر ہندوستان ایک کے بعد ایک حملہ آوروں کی زد میں رہا ہے، لیکن ان میں سے کسی ایک بھی سیاسی تبدیلی کے اثرات نیچے کی پرتوں تک نہ پہنچ پائے۔
سکندر کے جانشین، بطلیموسی، ایسے سماج میں سے آئے تھے جہاں زمین کی نجی ملکیت ان کے سماجی نظام کی بنیاد تھی۔ انہوں نے جب مصر پر قبضہ کیا تو نظام کو جوں کا توں چھوڑ دیا۔ بہرحال وہ اس نظام سے حاصل کردہ مال و زر سے بہت مطمئن تھے۔ یہ تو کوئی ہزاروں برس بعد کی بات ہے، جب برطانیہ نے ہندوستان پر قبضہ کیا۔ انہوں نے مقامی زراعت اور دست کاری کے ایکے کو توڑنے کے لئے زمین کی نجی ملکیت کو بڑی جانفشانی سے متعارف کروانے کی کوششیں کیں، اور سرمایہ داری کے ابتدائی حالات تشکیل دیئے۔ جس سے ایشیائی طبعِ پیداوار کا بیڑہ ہی آخر کار غرق ہو گیا۔ اس کا نتیجہ آبپاشی کے نظام میں زوال اور پوری انیسویں صدی میں ہولناک قحطوں کے ایک سلسلے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس کے باوجود کہ ایشیائی طبع پیداوار میں زمین کی مشترکہ جتائی جیسے قدیمی اشتراکیت کے خصائص موجود تھے، پھر بھی اس نے طبقاتی سماج کا پہلا ارتقا دیکھا۔ اس طرح دنیا کے ان وسیع و عریض خِطوں میں ایک ایسے سماج کی صورت اْبھری جو کہ مغربی یورپ کی نسبت ہر لحاظ سے مختلف تھی۔ غلامی معلوم تو تھی، لیکن یہ ایک غالب طبعِ پیداوار نہ تھی۔ مغربی یورپ کی جاگیرداری کے بالکل برعکس، زائد پیداوار کو بجائے اس کے کہ جاگیردار اینٹھ لیتا، مرکزی ریاست بٹورتی تھی۔
ایک بار جب تہذیب قائم اور مستحکم ہوگئی تو یہ ضروری ٹھہرا کہ اس کے اثرات اس کے ارد گرد تیزی سے پھیل جائیں، خواہ یہ جنگ کے ذریعے پھیلیں یا تجارت کے۔ مصر تجارت کے لئے ہمیشہ ہی سے بیرونی علاقوں کا دست نگر تھا، چنانچہ کرِیٹ کی تہذیب کو پیش رفت کرنے کی تحریک ملی اور اسی وجہ سے یونانی ساحلی علاقوں کے تجارتی سماج کو ارتقا لئے ایک زبردست قسم کا محرک ملا۔ نجی زمینوں کی ملکیت نے نجی دولتمندی کو لامحدود مہمیز کیا جو کہ نسلِ انسانی کو دوبارہ ایک قدم اور آگے لے جانے کے قابل ہوا۔

قدیم یونان
اس طرح سے یونان کے غلامی اور جمہوریت کے دور کی تاریخی ریکارڈ میں آمد، ہومرکے دور کے طبقاتی ڈھانچے سے بہت مختلف تھی۔ ساحلی علاقوں میں ہر طرف تجارتی شہر پھوٹ پڑے تھے۔ یہ تمام شہر پہلے پہل مالکانِ زمین کے چھوٹے چھوٹے حکمران طبقوں کے زیرِ اثر تھے جنہوں نے سیاسی حقوق پر اجارہ قائم کر لی۔ ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ مالکانِ زمین ہی شہروں کی مرکزی قلم رو کے حقیقی قابض رہے ہوں گے۔
جیسے جیسے تجارت نے ارتقا کیا ہو گا زمین کی قیمتیں آسمان پر جا چڑھی ہوں گی، اور مالکانِ زمین اپنی حیثیت پیداوار کی منڈی کو قابو کرنے کے لئے استعمال کرنے کے قابل رہے ہوں گے۔ یقیناً اْنہوں نے اپنی بالادست حیثیت کو ارد گرد بسنے والے غریب شہریوں کو بیج اْدھار دینے کے لئے استعمال کیا ہو گا، اور بہت سوں کو قرضے کے بوجھ تلے داب ڈالا ہو گا ( ویسے یہ مسئلہ ابھی تک تحقیق طلب ہے، آیا کہ دیہاتی لوگ اپنی زمینوں کو گِروی رکھا کرتے تھے یا خود اپنے آپ کو)
جیسے جیسے تجارت کا ارتقا ہوا، تاجر اور دست کار طبقات اہمیت پکڑتے چلے گئے، اور اس کے ساتھ ہی ساتھ غریب کسانوں کی سیاسی حقوق کے لئے جدوجہد بھی پروان چڑھی۔ جب ایک بار طبقاتی معاشرے نے اپنے قدم جما لئے، تو اس نے آبادی کے بڑے حصے میں جنگ وجدل کے ذریعے پاؤں پھیلانے شروع کر دیئے، ہر کوئی اس تاک میں تھا کہ زائد پیداوار کا کوئی پارچہ لپک لے۔ یونان اور روم کی تمام شہری ریاستیں اسی ایک اصول کے تحت قائم تھیں۔ جملہ شہری ریاست (یونانی زبان میں ‘پولِس’) ہر دوسری شہری ریاست کے خلاف متحد تھی، لیکن خود اپنے اندر انتشار کا شکار۔ ایک طرف تو طبقاتی لکیریں ان میں پھاڑ ڈالے تھیں اوردوسری طرف شہری اور غلام ہونے کی۔
پہلے پہل تو غریب شہریوں کو (جنہیں روم میں ‘پیلے بیئن’ کہا جاتا تھا) ہر قسم کے سیاسی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ ان کی جدوجہد سیاسی تھی، یعنی ریاست کی فیصلہ سازی میں اظہار رائے کے حصول کی۔ فوجی بقابھی ایک لازمی امر تھا، جس کے لئے ریاست رعایا کے فوج کے ساتھ تعاون کی محتاج تھی۔ دولت مند مالکانِ زمین کے طبقے کو غریب شہریوں کی ضرورت تھی کہ وہ ان کی خاطر لڑیں۔ اسی وجہ سے طبقہ بالا کے ایک نمائندے سولون نے 594 قبلِ مسیح میں ایتھنز میں (ہماری بہترین معلومات کے مطابق)، زمین کو پیلے بیئنز (ادنیٰ طبقے) میں واقعتاً دوبارہ تقسیم کیا تھا۔
ایتھنز میں، جو کہ اس وقت کا سب سے بڑا تجارتی مرکز تھا، جس میں بڑے پیمانے پر تاجر اور دستکار جمع ہو چکے تھے، بالآخر چھوٹے طبقے کے لوگ پورے جمہوری حقوق حاصل کرنے کے قابل ہو ہی گئے۔ غریب لوگوں کو خدمت عامہ کرنے کا معاوضہ دیا جاتا تھا، اور تقریباً 5,000 شہری اسمبلی میں پالیسیوں پر بحث کرنے کے لئے باقاعدگی سے جمع ہوا کرتے تھے۔
جمہوریت کے لئے کی گئی جدوجہد بہت سے مرحلوں سے ہو کر گزری تھی۔ پہلے پہل تو ایک شہر سے دوسرے شہر میں قائم چند سِری حکومتوں کو آمروں نے اْکھاڑ پھینکا۔ ان لوگوں میں ہمیں بعد میں آنے والے ان مطلق العنان بادشاہوں سے حیرت انگیز مشابہت ملتی ہے جنہوں نے جاگیردار اشرافیہ اور ابھرتے ہوئے تاجر سرمایہ دار طبقے کے مابین توازن قائم کیا۔ تمام مطلق العنان حکمرانوں کی طرح انہوں نے سیاسی قوت پر قابض ہونے کے لئے طبقاتی کشمکش میں تعطل پیدا کرنے کا گْر استعمال کیا۔ جس طرح انگلستان کے ٹیوڈربادشاہوں کے ساتھ ہوا تھا۔ جس سیاسی استحکام کا ذمہ انہوں نے لیا تھا، اس کے باعث دولتمند طبقے کو مزید طاقت ور ہونے کا موقع مِلا۔ لیکن یہ دولت مند جو کہ ان بادشاہوں کا مضبوط ترین سہارا تھے، انہی کے بد ترین دشمن بن گئے تھے، کیوں وہ اس شتر بے مہار سیاسی قوت پر خود قابض ہونے کے خواب دیکھنے لگے تھے۔ اسی طرح سے یونان کے تمام تجارتی شہروں میں ‘جمہوری’ انقلاب کے ذریعے مطلق العنانیت کا دور ختم ہو گیا۔
لیکن ایتھینی جمہوریت (شہریوں کے لئے جمہوریت) کی بنیاد غیر شہری طبقے یعنی غلاموں کے استحصال پر قائم تھی جو ہر طرح کے سیاسی حقوق سے محروم تھے۔ ایتھینی جمہوریت حقیقت میں حکمران طبقے کے مفادات کو استحصال زدہ غلام طبقے کے مقابلے میں تقویت دینے اور جنگ کی حالت میں حکمران طبقے کے مفادات کا دفاع کرنے کا ایک میکنزم تھا۔ پولِس ایک ایسا ادارہ تھا جسے مستقل جنگی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔ شہر کی طاقت ان آزاد کسانوں پر منحصر تھی، جو کہ خود کو مسلح کرنے کے قابل تھے (‘ہوپ لِیٹَس’)۔ ایتھنز میں جب غریب شہریوں نے اپنے شہر کی خاطر ایرانیوں سے لڑ کے سلامیس کی بحری جنگ جیت لی تو اس کے بعد جمہوریت کی فتح ناگزیر ٹھہری تھی۔ بے شک وہ لوگ اتنے غریب تھے کہ خود کو مسلح نہیں کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایتنھنی بحریہ کے لئے کھِوَیّے مہیّا کئے۔ اس طرح سے توسیع پسندی اور غلام پکڑنے کے لئے غریب اور امیر شہریوں کے مابین ایک غیر مقرر سا مفاداتی اتحاد قائم ہوگیا۔ جہاں تک شہریوں کا تعلق ہے تو بعد میں آنے والے رومن غلامانہ سماج کے مقابلے میں یونانی غلامانہ طبعِ پیداوار نسبتاً “جمہوری” تھا۔ یہاں تک کہ غریب سے غریب شہری بھی کھیت یا کارگہ میں اپنی مدد کے لئے ایک آدھ غلام رکھ سکتا تھا۔ جسے وہ ‘غلام گروہوں’ میں کام کرنے کے لئے کرائے پر بھی دے سکتا تھا۔ یوں غریب شہریوں سے فاضل پیداوار نچوڑی جاتی تھی، کیوں کہ امیر لوگوں کے پاس محنت کی رسد علیحدہ سے موجود تھی۔ یونان کی وہ ریاستیں جہاں جمہوریت نہ پنپ سکی وہ سمندر سے قدرے دور اندرونی علاقے تھے، جہاں زمین پر مشتمل جائیداد، تجارتی دولت سے قدرتی طور پر زیادہ اہم تھی۔
کیوں کہ محنت اب اس جوگی ہو چکی تھی کہ اس میں سے فاضل پیداوار اینٹھ لی جائے تو صرف اسی ایک کارن پر ہی غلام داری کا وجود برقرار تھا۔ یہ فاضل پیداوار، حکمران طبقے کی جانب سے ہتھیا لی جاتی تھی جو کہ ذرائع پیداوار کا مالک تھا۔ اگر اس صورت حال کو دیکھا جائے تو اس میں غلام خود ‘ذریعہ پیداوار’ تھا۔ ریاست، حکمران طبقے کی ریاست تھی۔ سماج کا پورے کا پورا ڈھانچہ ہی غلامانہ محنت کے بل پر کھڑا تھا۔ فنونِ لطیفہ، ثقافت اور فلسفے کے تمام چمتکار صرف اسی بل پر ممکن ہوئے کہ ایک طبقے نے محنت کرتے ہوئے اپنا استحصال کروایا جس کی بدولت غلام مالکان کو فارغ البالی میسّر آئی۔
غلامانہ سماج کی حرکت خود اسی کے اندر موجود تھی۔ اس کی کامیابی کا انحصارزیادہ سے زیادہ غلاموں کے حصول پر تھا، جتنے زیادہ غلام اتنی ہی زیادہ بے اجرت محنت۔
“جہاں جہاں پیداوار کا بنیادی انحصار غلاموں پر تھا وہاں محنت کرنے کو ایک غلامانہ اور کمینی سرگرمی سمجھنا شروع کر دیا گیا [کمی، کمین، کمینہ سب الفاظ کام کرنے والے کو ذلیل ظاہر کرتے ہیں۔ مترجم]۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آزاد فرد کے لئے محنت کرنا شرمناک بات بن گئی۔ تو اس طرح سے اس طبع پیداوار سے جان چھڑا پانا مسدود ہو گیا، حالاں کہ دوسری طرف غلامی زیادہ ترقی یافتہ پیداوار کی راہ میں ایک روک تھی جو کہ فوری طور پر اس کے خاتمے کا تقاضہ کر رہی تھی۔ اس تضاد نے غلامی پر انحصار کرنے والی ساری کی ساری پیداوار اور آبادی کو اپنے طلسم میں جکڑ رکھا تھا۔ بہت سی صورتوں میں اس بات کا ایک یہ حل سامنے آیا کہ انحطاط پزیر معاشروں کو دوسرے طاقتوروں نے زبردستی زیر کر لیا (جیسے یونانیوں کو مقدونیہ والوں نے، اور بعد ازاں روم والوں نے)۔ جب تک تو قبضہ کرنے والے وہ رہے جن کی اپنی بنیاد غلامانہ سماج پر تھی اس وقت تک تبدیلی کا مطلب محض مرکز کی تبدیلی کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ اور اوپر کی سطح پر یہ عمل اس وقت تک مسلسل دوہرایا جاتا رہا جب تک کہ آخر کار ان لوگوں نے (رومنوں نے) قبضہ نہ کر لیا جنہوں نے غلامی کو پیداوار کی ایک اور بْنتر سے تبدیل نہیں کر دیا تھا۔” (اینگلز کی اینٹی ڈیوہرنگ کے لئے تعارفی تحریر)
اس تشریح کی مزید تفہیم کے لئے ہمیں روم کے حالات دیکھنے ہوں گے جہاں غلام داری آخری دموں پر تھی اور مغربی یورپی سماج نے بالآخر اس بند گلی میں سے نکلنے کی ایک راہ ڈھونڈ نکالی تھی جس میں وہ ٹکریں مار رہا تھا۔

رومن غلام داری
رومن معاشرہ اپنے ابتدائی بادشاہوں کی بے دخلی کے بعد، پہلے پہل تو بالکل ان یونانی شہری ریاستوں جیسا ہی دکھائی پڑتا ہے جب وہ زمین مالکان کی عملداری کے تحت تھے (روم میں انہیں “پیٹریشیئن” کہا جاتا تھا اور وہاں وہ سینیٹ میں منظم تھے)۔ ابتداً انہوں نے تمام سیاسی حقوق پر اجارہ قائم کر لیا۔ ‘پیلے بیئنز’ (چھوٹے طبقے کے لوگ) نے اقتدار میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لئے ایک شاندار جدوجہد کی جس میں انہوں نے زرعی عام ہڑتال کے ہتھیار کو استعمال کیا، جو کہ قبائل کی ‘سی سیشن’ (رومن پیلے بیئنز نے پیٹریشیئنز کو سبق سکھانے اور مراعات حاصل کرنے کے لئے روم کو عارضی طور پر چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ ان کے تکلیفوں کی داد رسی کریں) کی شکل میں تھی۔ لیکن پیلے بیئنز محض غریب غرباہی نہیں تھے۔ ان میں دولت مند تاجر بھی شامل تھے جو کہ پیٹریشیئنز کے ریاستی اختیارات میں حصہ داری کے خواہاں تھے۔ انہوں نے پیلے بیئنز تحریک کی قیادت کی اور، جیسے ہی انہیں اس میں سے جو چاہیے تھا مل گیا، اسے چھوڑ دیا۔
ان جدوجہدوں میں حاصل ہونے والے یقینی فائدوں میں سے ایک تو یہ تھا کہ قرضے کی اسیری سے خلاصی مل گئی۔ یہ خلا رومن ریپبلک کے بے بہا پھیلاؤ اور فتوحات کے نتیجے میں، غلاموں کے ذخیروں پر ذخیرے مالِ غنیمت میں حاصل ہونے سے بھرا گیا۔ یونانیوں سے ان کا فرق یہ تھا کہ رومن پیٹرے شیئنز وہاں کی طاقت اور اقتدار کے ساتھ خود کو جوڑے ہوئے تھے۔ بجائے اس کے کہ وہ حکمرانوں سے مراعات بٹورتے اور اس فراوانی میں اپنے مفادات کے اجارے قائم کرتے، انہوں نے غلاموں کی محنت کو بہت بڑی اراضیوں (ان فارموں کو لیٹی فْنڈیا کہتے تھے) کے استحصال سے وابستہ کر دیا۔ ایسا کرتے ہوئے انہیں مجبوراً پیلے بیئنز کو بھی کچھ نہ کچھ دینا پڑا، جو کہ پیدل دستوں میں منظم ہو کر رومن فوج کی عظمت کو بنیاد فراہم کر رہے تھے۔
بے دخل کئے گئے فوجی پیادے جب بیس برس کی فوجی خدمات سرانجام دے کر واپس آتے تو اپنے کھیتوں کو جھاڑ جھنکاڑ سے لدا اور اجڑا پجڑا پاتے۔ اب لامحالہ ان خانماں خرابوں کو شہروں کا رخ کر کے بے مایہ خانہ بدوشوں جیسی پرولتاریہ کی شکل میں جمع ہونا پڑتا۔ لیکن جیسے کہ انیسویں صدی کا سرمایہ دار مخالف سماجی نقاد سِسمونڈی کہتا ہے، “جدید سماج پرولتاریہ کے دم پر پلتا ہے، جبکہ رومن پرولتاریہ سماج کے مصارف پر پلتے تھے۔”روم میں پیلے بیئنز کو آزادی دلوانے کی جوکھم بھری جدوجہد کی آخری قیادت گریکَس برادران نے کی۔ دونوں کو پیٹریشیئنز کے زرخریدوں کے بلوے کے ذریعے کاٹ کے رکھ دیا گیا۔ .پہلی صدی قبل مسیح، جو کہ ریپبلک کی آخری صدی تھی، کے رومن سماج کا بحران اپنی ماہیت میں دو شاخہ تھا۔
ایک طرف تو طبقاتی جدو جہد ایک بند گلی میں پہنچ چکی تھی۔ تضادات فوج تک جا پہنچے تھے۔ ایک کے بعد ایک جرنیل نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے اپنی سپہ کی مدد کو زمینیں دینے کے وعدے کرتے ہوئے ساتھ جوڑا جو کہ یہ پیلے بیئنز اپنی خود کی جدوجہد سے حاصل نہیں کر پائے تھے۔ دوسری اب طرف ایک چھوٹی سی چند سری حکومت اپنے بدعنوان صوبائی گورنروں اور تحصیل داروں کے ذریعے ایک دنیا پر حکومت کر رہی تھی۔ حکمرانی کا یہ طریق قطعاً نامناسب تھا۔ یہ اپنے ساتھ سماجی جنگوں کو در لے آیا، جب روم کے اطالوی اتحادیوں نے شہریت کے حقوق کی آواز اٹھا دی۔ رومنوں کے پاس اپنی جیت کا بس ایک ہی چارہ تھا وہ یہ کہ اطالوی اتحادیوں کو شہریت کے حقوق دے کر اپنے ساتھ رکھا جائے۔ لہٰذا ایک کے بعد دوسرا فوج والا اقتدار کے خلا کو پْر کرتے ہوئے اپنے ذاتی اقتدار کو بڑھاوا دیتا رہا۔ یہاں تک کہ آگسٹس سیزر نے خاص طور پر اطالوی مالکان زمین پر انحصار کرتے ہوئے، جن کو وہ حکومت چلانے کا عندیہ دے چکا تھا، ریپبلک کو تیاگ دیا۔
دھیرے دھیرے سبھی شہری بن گئے اور مراعات بے معنی ہو کر رہ گئیں۔ سب کے سب سلطنتِ روما کی معمولی رعایا تھے۔ فرانس کے شہنشاہ نپولین بوناپارٹ کی پالیسیوں کو اس پر تنقید کرنے والے یوں ہی “سیزرازم” نہیں کہتے تھے۔ گروہوں اور طبقوں کے مابین ہوبہو ایک ہی طرح کے توازن دونوں کی ذاتی طاقت کے حصول کا خاصہ تھا۔ آگسٹس سیزر نے ایک لمبے عرصے کے لئے امن قائم کر دیا تھا۔ لیکن ایک غلامی پر انحصار کرنے والی سلطنت کے لئے امن، جنگ سے کہیں زیادہ ہلاکت خیز ہوتا ہے۔ غلاموں کی رسد کم ہوتی چلی گئی اور غلاموں کی قیمتیں خوفناک حد تک بلند ہونے لگیں۔ روم اپنی طبعی حدود تک پہنچ چکا تھا۔ اسے چاروں طرف سے وہ قبائل گھیر چکے تھے جنہیں ہم بربروں کے نام سے جانتے ہیں، جن پر روم کبھی فتح یاب نہ ہو سکا۔
اس صورت حال میں غلامانہ پیداوار کی حدود نے اپنا آپ دکھا دیا۔ پیداوار میں غلام کا کوئی محرک نہیں تھا۔ وہ تو صرف چابک کے ڈر سے کام کرتا تھا۔ آزاد آدمی محنت کرنے کو ذلیل کام تصور کرتے تھے جسے وہ “انسٹرومینٹم ووکیل” ہونے کے ساتھ جوڑتے تھے، ایک “آواز کی حامل ملکیت”، جس کو رومن قانون دان “سلیوّ” یعنی غلام کہتے تھے۔
رومن معاشرے کا المیہ یہ تھا کہ وہاں طبقاتی کشمکش کے تین کونے تھے۔ غریب آزاد آدمی کا نزاع بڑے غلام داروں کے ساتھ تھا، لیکن مصیبت یہ تھی کہ اس کا آزاد ہونا اسے ان کے ساتھ جوڑے رکھتا تھا۔ لہٰذا اس کا اور اس کے جابر مخالفین کا مقصد ہمیشہ ایک رہتا تھا کہ فوجی یورشوں کے ذریعے غلاموں کے لئے مزید زمینیں حاصل کی جاتی رہیں اور غلاموں کی بغاوتوں کو کچلا جاتا رہے۔ غلام اپنے طور پر ایک ایسی دنیا میں رہتے تھے جہاں غلامی کو ابدی سمجھا جاتا تھا۔ لہٰذا غلامی سے پاک دنیا کی بجائے زیادہ سے زیادہ “غلام مالکان کوغلام بنا دینے” کا سپنا ہی دیکھا جا سکا۔ اس عظیم سلطنت کو یکجا رکھنے کے بار نے غبارے کی طرح پھولتی ہوئی ایک دیو ہیکل ریاستی طاقت کو جنم دیا جو کہ محصولات کی صورت میں زائد پیداوار کا ایک عظیم حصہ نگل جاتی تھی۔ استبدادی شہنشائیت کے ہاتھوں تخلیق کردہ فوج ہی ایک ایسی خود مختار طاقت تھی جو کہ ان بے حیثیت انسانوں کے اندر مرکزی طور پر نگرانی کر پانے کے قابل تھی۔ اس طرح کئی سو سال تک فوجی سالار ہی اپنے ایما پر شہنشاہ بناتے اور اتارتے رہے۔ شہنشاہوں کے پاس اس سے بچ نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ رہ جاتا تھا کہ وہ فوج کو سرحدوں سے ہٹا کے ان محافظ فوجی سالاروں پر چڑھائی کر دیں۔ اس معاملے میں جو کچھ بھی کیا گیا بہرحال اس نے ایک بڑے پیمانے پر تضادات کو نئے سرے سے ابھار دیا۔
جب شہنشاہ سیپٹی مَس سیویرَس نے انتقال کیا تو اس نے اپنی سیاسی بصیرت کا جوھر نکال کے اس وصیت میں بیٹوں کے حوالے کیا، “بس فوجیوں کو نوازتے رہو… باقی سب خیر ہے۔” سلطنتِ روما میں یہ کوئی راز کی بات نہیں تھی کہ ریاست اپنے جوھر میں “ہتھیار بند لوگ” ہی ہوتے ہیں۔
افزودگی کے زوال سے تجارت بھی قدرتی طور پر متاثر ہوئی اور مالکانِ زمین کی کوٹھیاں مسلسل خود انحصاری کی طرف گامزن ہوتی گئیں۔ ان کا ارتقا قرونِ وسطیٰ کی جاگیروں (آگے ان کا ذکر آئے گا) کی طرح ہو رہا تھا جو کہ ان کی جگہ لینے والی تھیں۔ تیسری صدی کے اواخر میں دولت نے مہنگائی کی صورت میں مزید سَر اٹھایا۔ شہنشاہوں نے اجناس پر محصولات لگاتے ہوئے اس بات کا اطمینان رکھا کہ وہ بالکل ناکام نہیں ہو رہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ پیٹریشئنز (مالکانِ زمین) کے طبقے کو بھی، جو کہ سیاسی حقوق سے محروم ہو چکے تھے، عمارات اور تماشاگاہوں پر بڑی بڑی رقوم لگانے پر مجبور کرتے ہوئے مسلسل نچوڑے جا رہے تھے۔ مالکانِ زمین جواب میں جان بچا کر اپنی خود انحصار دیہاتی املاک کی جانب فرار کا راستہ پکڑتے رہے۔
آخرغلام داری مرنا شروع ہو گئی۔ لیکن عام خیال کے برعکس ایسا مسیحیت کے انسانیت سے بھرپور پیغام کی بدولت نہیں ہوا تھا بلکہ سادہ سی بات یوں ہے کہ یہ مزید کچھ دینے سے بانجھ ہو چکی تھی۔ سماج کو غلامانہ طرز پیداوار سے آگے لے کر جانے کا صرف ایک ہی راستہ رہ گیا تھا اور وہ یہ تھا کہ فتوحات کی جائیں اور بڑے پیمانے پر غلام پکڑے جائیں جن سے چند سال ان کی موت تک دبا کے کام لیا جائے اور پھر ان کی جگہ اور غلام پکڑ لائے جائیں۔ یہ فتوحات صرف ہتھیار بند رومن پیلے بیئن فوجوں ہی کے ذریعے ممکن تھی۔ لیکن بڑے بڑے فارموں پر مشتمل غلام کارگاہیں پیلے بیئنز کو برباد کر چکی تھیں۔ اس وقت رومیوں کے پاس فوج میں بھرتی کے لئے بربر بھاڑے کے فوجیوں کے سوا اور کوئی دستیاب نہیں تھا۔ لہٰذا سلطنتِ روما کو بربروں کے ہاتھوں سے بچانے کے لئے بربروں کے ہاتھوں میں سونپ دیا گیا! ظاہر ہے سلطنت بھاڑے کے وقت پر گزارا کر رہی تھی۔
غلامی ابھی بھی اہم تھی۔ خاص طور پر امرا کے گھروں میں خدمت گزاری کے لئے۔ لیکن یہ بطور غالب طبع پیداوار ہونے کے دھیرے دھیرے اپنا مقام کھو رہی تھی۔ پیداوار اور تجارت میں کمی سے مالکانِ زمین پر یہ ظاہر ہو چکا تھا کہ لوگوں کو کھیتوں میں کام کرنے کے عوض سارا سال کھلانا کوئی سود بخش سودا نہیں تھا۔ کیوں کہ کھیتی باڑی کے کام کا قدرتی تواتر ہی کچھ اس طرح سے ہے کہ آدھا وقت بے کاری میں گزرتا ہے۔ اس سے کہیں بہتر یہ تھا کہ بے کاری کے اس زمانے میں ان کو اپنا دال دلیا چلانے کے لئے چھوڑ دیا جاتا۔ اس طرح سے غلاموں کو زمینوں کے ٹکڑے پٹے پر دیے جانے لگے جہاں سے انہیں اپنی پیداوار میں سے اپنی اور اپنے خاندان کی بقا کے لئے لازمی حصہ نکال کر ایک باقاعدہ حصہ مالک زمین کو دینا ہوتا تھا۔ ریاست بھی اپنے محصولات کا بڑا حصہ اراضی پر ٹیکس لگا کے ہی ہتھیاتی تھی جو کہ کسانوں ہی سے نچوڑا جاتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ کسان اپنے فطرتی میلان کے باعث قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے گئے جو کہ بری فصل ہونے کا ایک عام نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ یہ لوگ اپنی زمینوں کے ساتھ ایک غلام ہی کے جیسی حیثیت میں بندھ کے رہ گئے تھے۔ اس کو “کولونیٹ پیریڈ” کہا جاتا ہے۔ بالآخر مغربی سلطنت اکھاڑ پھینکی گئی۔ ایسا بربروں کے جارحانہ حملوں کی دھمکیوں وغیرہ کی وجہ سے نہیں بلکہ سلطنت کے اندرونی طور پر گل سڑ جانے کے باعث ہوا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ پیداواری قوتیں پہلے ہی سے زوال پذیر تھیں اور زوال کا یہی رجحان “کولونیٹ” یعنی پٹے پر کام کرنے والے کسانوں میں بھی تھا، جو کہ جاگیر داری میں بارآور ہونا تھا جو ابھی اپنے ظہور کے مراحل میں تھی۔ (جاری ہے)

Comments are closed.