|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے زیرِ اہتمام 8 مارچ، محنت کش خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچستان کے تین مقامات پر سیمینار اور سٹڈی سرکلز کا انعقاد کیا گیا۔ اس سال پارٹی کی جانب سے پورے پاکستان میں ہونے والی سرگرمیوں کو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا شکار لاپتہ بلوچ خواتین اور لاپتہ افراد کے لواحقین، بالخصوص بلوچ خواتین کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منایا گیا۔ ان سرگرمیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
کوئٹہ میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ریجنل دفتر میں ”سرمایہ داری، قومی و صنفی جبر کے خلاف خواتین کی جدوجہد اور انقلابی کمیونزم!“ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ تین مہینوں سے حکومت کی جانب سے نام نہاد دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت پریس کلب اور دیگر عوامی مقامات پر کسی بھی پروگرام کے انعقاد کو ڈپٹی کمشنر آفس سے این او سی کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں 8 مارچ کے پروگرام کرنے کو بھی این او سی سے مشروط کیا گیا، لیکن این او سی نہ ملنے کے باعث پروگرام پارٹی کے دفتر میں منعقد کرنا پڑا۔
کوئٹہ میں ہونے والے اس پروگرام میں طلبہ، نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور محنت کش خواتین نے شرکت کی، جبکہ مختلف وجوہات کی وجہ سے خواتین کی شرکت زیادہ تر آن لائن رہی۔ بحث کے دوران محنت کش خواتین کے عالمی دن کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے حال ہی میں شائع کیے جانے والے ڈاکیومنٹ ”خواتین کے حقوق کی جدوجہد اور انقلابی کمیونزم“ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے سوال و جواب کے ذریعے بحث کو آگے بڑھایا اور موضوع کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
سیمینار کے اختتام پر چند قراردادیں بھی منظور کی گئیں:
1۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی دفتر پر پولیس کے چھاپے اور ہراسانی کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ خصوصاً پنجاب پولیس کی غنڈہ گردی، دھونس اور غیر جمہوری اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ایسے تمام ہتھکنڈے فوری طور پر بند کیے جائیں۔
2۔ بلوچستان میں جبری طور پر لاپتہ اور گرفتار کی جانے والی تمام بلوچ خواتین سیاسی کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
3۔ بلوچ لاپتہ خواتین سمیت تمام پرامن سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
4۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت اور کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف جاری ریاستی جبر کا خاتمہ کیا جائے۔
5۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے عورت مارچ کے خلاف ریاستی جبر، تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
6۔ پشتون تحفظ موومنٹ کی گرفتار قیادت اور کارکنان کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
7۔ ایمان مزاری سمیت تمام پرامن سیاسی کارکنان پر قائم جھوٹے مقدمات فوری طور پر ختم کیے جائیں اور انہیں غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
8۔ افغانستان میں اقتدار پر مسلط طالبان کی جانب سے خواتین پر مسلط جبر، تعلیم و روزگار پر پابندیوں اور بنیادی حقوق کی پامالی کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ خواتین پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور انہیں زندگی کے ہر شعبے میں برابر کے حقوق دیے جائیں، جبکہ افغانستان کی محکوم و محنت کش خواتین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔
لورالائی میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے ”سرمایہ داری، قومی و صنفی جبر کے خلاف خواتین کی جدوجہد اور انقلابی کمیونزم!“ کے عنوان سے ایک سٹڈی سرکل منعقد کیا گیا۔ اس میں پارٹی کے ساتھیوں نے شرکت کرتے ہوئے محنت کش خواتین کے عالمی دن کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی اور پارٹی کی جانب سے شائع کردہ مذکورہ دستاویز کی روشنی میں بحث کو آگے بڑھایا۔ پروگرام کے اختتام پر جبری گمشدگیوں کا شکار لاپتہ بلوچ خواتین، ان کے لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مقید قیادت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔
اسی طرح گوادر میں بھی انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے زیرِ اہتمام ایک سٹڈی سرکل منعقد کیا گیا جس میں پارٹی کے ساتھیوں کے ساتھ چند نوجوان رابطوں نے بھی شرکت کی۔ سرکل کا عنوان ”سرمایہ داری، قومی و صنفی جبر کے خلاف خواتین کی جدوجہد اور انقلابی کمیونزم!“ تھا۔ اس موضوع پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کامریڈ گلاب بلوچ نے تفصیلی گفتگو کی جبکہ شرکاء کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بحث کو مزید آگے بڑھایا گیا۔ سرکل کے اختتام میں پارٹی کی جانب سے حال ہی میں شائع ہونے والے دستاویز پر بھی گفتگو کی گئی۔
ان تمام سرگرمیوں میں ہونے والی بحث نہ صرف پارٹی کے ممبران کی نظریاتی اور سیاسی تربیت کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ پارٹی کی صفوں میں خواتین کی ریکروٹمنٹ کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو گی۔



















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance