|تحریر: ثاقب اسماعیل|

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر میں اولین اور بنیادی کردار کیڈرز کا ہے۔ کیڈرز اس پارٹی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں جس پر پورا وجود قائم ہوتا ہے۔ ہم آپ کے سامنے برطانوی شہر بریسٹل کے کامریڈز کے تجربات پیش کر رہے ہیں، جنہوں نے کیڈرز کی تیاری پر خصوصی توجہ دی۔ کامریڈز کو تربیت دے کر کیڈرز میں ڈھالنے سے پارٹی کی بڑھوتری کی رفتار میں اضافہ ہوا۔ برطانیہ میں ہمارے کامریڈز نے حال ہی میں ممبر شپ کیمپین چلائی۔ اس کیمپین میں سب سے کامیاب کیمپین برطانیہ کے جنوب مغرب اور ویلز پر مشتمل علاقوں میں ہوئی جس میں مئی میں 8، جون میں 10، جولائی میں 19 نئی ممبر شپ کا اضافہ ہوا۔ اسی دوران انہوں نے پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد میں کمی کی جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں مجموعی نمو 27 فیصد رہی۔ مزیدبرآں انہوں نے ماہانہ اوسط چندہ £57 (21546 پاکستانی روپے) سے بڑھا کر تقریباً £70 (26460 پاکستانی روپے) کر دیا۔سب سے کامیاب مثال ہمیں بریسٹل کی ملتی ہے جہاں پچھلے سال انقلابی کمیونسٹ پارٹی برطانوی سیکشن کی کانگریس کے بعد مئی میں کامریڈز نے فیصلہ کیا کہ وہ دو برانچز سے پانچ برانچز قائم کریں گے۔ تاہم یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ جو برانچز انہوں نے قائم کیں وہ مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پائیں کیونکہ ان میں ”سیاسی طور پر تجربہ کار کامریڈز“ یعنی کیڈرز کی کمی تھی جو دوسرے کامریڈز کی تربیت کر سکیں۔اس تجربے کے بعد کامریڈز نے دوبارہ دو برانچوں کو چلانے کا فیصلہ کیا اور کیڈرز کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی۔ کسی نئی برانچ کے قیام کے لیے لازمی ہے وہاں ایسے کامریڈز موجود ہوں جو اس کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
”مجھے ایک لیور دو۔۔۔ اور میں دنیا کو حرکت دے دوں گا“
عموماً کسی نئی برانچ، ایریا یا ریجن کی تعمیر میں کامریڈز دوڑتے پھرتے نظر آتے ہیں اور ہر کامریڈ کو یکساں طور پر تربیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کوشش میں کامریڈز پر حد سے زیادہ دباؤ بڑھ جاتا ہے اور تسلی بخش نتائج بھی سامنے نہیں آتے۔ اس کے برعکس یہ بہتر ہوتا ہے کہ جہاں تمام کامریڈز کی سیاسی و نظریاتی تعلیم و تربیت کی جائے وہیں کچھ با صلاحیت کامریڈز کا خاص طور پر انتخاب کیا جائے اور ان کی تربیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کی جائے۔ اکثر اوقات اس سے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس سے وہ کامریڈز اپنی برانچ یا ریجن میں نئے کامریڈز تیار کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ بریسٹل میں کامریڈز نے ابتدا میں چند نئے کامریڈز کا انتخاب کیا جن میں زیادہ صلاحیت نظر آ رہی تھی۔ وہ ہر ہفتے ایک کیڈر کے ساتھ سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے تھے۔
ابتدا میں انہوں نے لیون ٹراٹسکی کی کتاب In Defence of Marxism پر بحث شروع کی۔ کیونکہ برانچ کو پیٹی بورژوا نظریات کا سامنا تھا، جہاں وہ کام کر رہے تھے۔ یہ ایک یونیورسٹی کی برانچ تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مزید موضوعات پر بحث کی۔ جس میں ٹراٹسکی کی ایک اور تصنیف Where is Britain Going? اور سپین کی خانہ جنگی پر فلیکس مورو کی کتاب، Results and Prospects، اور First Five Years of the Communist International شامل تھیں۔ چند مہینوں بعد یہ بحثیں بریسٹل کے ہفتہ وار دوروں میں تبدیل ہو گئیں۔ جب بھی کامریڈز اکھٹے ہوتے نشست کا آغاز ایک گھنٹے کی سیاسی بحث سے کرتے۔ موضوعات مختلف ہوتے لیکن اکثر وہ marxist.com میں شائع ہونے والے مضمون یا گزشتہ ہفتے پیش آنے والے اہم واقعات پر بات کرتے۔
کامریڈز یہ یقینی بناتے کہ پہلے سے نکات اور سوالات تیار ہوں تاکہ میٹنگ متحرک رہے اور ہر کامریڈ گفتگو میں حصہ لے۔ کسی کامریڈ کو اس طرح کا کام دینا انہیں اسباق زیادہ آسانی سے جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، اس کے مقابلے میں کہ وہ محض کسی زیادہ تجربہ کار کامریڈ کو بولتے ہوئے سنتے رہیں۔ سیاسی گفتگو کے بعد، وہ برانچ کے عملی کام پر بات کرتے۔ اس سارے عمل میں فل ٹائمر جو برانچ میں موجود ہوتا کوئی احکامات نہیں دیتا تھا، بلکہ رہنمائی کے لیے سوالات پوچھتا اور کبھی کبھار کوئی اشارہ دیتا تاکہ کامریڈ درست سمت اختیار کر سکیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ، اس عمل کے نتیجے میں کامریڈ کے پاس اسباق کا ایک ذخیرہ جمع ہو جاتا جسے وہ اپنی عملی سرگرمیوں میں مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے قابل ہو جاتا۔
چھ ماہ کے بعد واقعی نتائج آنا شروع ہوئے اور بریسٹل برانچ نے باقاعدہ ممبر شپ شروع کی۔ جنوری اور مارچ کے درمیان دو مہینوں میں 11 نئے کامریڈز کا اضافہ ہوا۔ برانچ کے حجم میں اضافہ دیکھتے ہوئے کامریڈز کو احساس ہوا کہ ایک نئی برانچ کی ضرورت ہے۔ تاہم جو کامریڈز باقاعدگی سے اعلیٰ سطح پر مباحثوں میں شامل ہو رہے تھے، سیاسی سطح اور تنظیمی تجربے کے حوالے سے اُن کامریڈز کے درمیان، اور باقی کامریڈز جو کہ ان مباحثوں میں شامل نہیں تھے، ایک فطری خلا موجود تھا۔اس کے حل کے لیے کامریڈز نے ایک ڈسٹرکٹ کمیٹی تشکیل دی جس میں برانچ سیکریٹریز سمیت دو نسبتاً تربیت یافتہ کامریڈز اور باہر سے ایک سینئر کامریڈ کو شامل کیا گیا جو کہ ہر ہفتے اجلاس کیا کرتے جہاں سیاست اور پارٹی کی تعمیر پر بات کی جاتی۔ ان اجلاسوں میں ان کامریڈز کو ذمہ داریاں دی گئی جو پچھلے چھ مہینے میں سیاسی بحثوں میں شریک رہے اور باہر سے آیا ہوا کامریڈ محض ایک معاون کے طور پر موجود تھا نا کہ چلانے والے کے طور پر۔ اس عمل میں منصوبہ بنانے اور اس پر مکمل عملدرآمد کے درمیان لازمی طور پر ایک خلا موجود تھا۔ اس دوران کئی غلطیاں ہوئیں اور ابتدائی مسائل بھی سامنے آئے۔
تاہم، مسلسل کوشش، معمولی تبدیلیوں اور کامریڈز کی حوصلہ افزائی کے ذریعے بالآخر وہ اس مرحلے پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔یہ اجلاس دو تین گھنٹے جاری رہتے اور انہی اجلاسوں کے نتیجے میں کامریڈز نے ایک ریکروٹمنٹ کا ٹارگٹ لیا۔ یہ ٹارگٹ اس بنیاد پر نہیں لیا گیا کہ وہ کتنے لوگوں کو شامل کر سکتے ہیں بلکہ اس بنیاد پر کہ اس عمل میں وہ موجودہ کامریڈز میں سے کتنوں کو اتنا تیار کر سکتے ہیں کہ وہ ریکروٹمنٹ کرنے کے قابل ہو سکیں۔ کیونکہ اسوقت کامریڈز کا اصل مقصد ریکروٹمنٹ کرنے والا یعنی کیڈر تیار کرنا تھا۔اس طریقہ کار کو اپنانے سے ابتدا میں ریکروٹمنٹ کی رفتار نسبتاً سست رہی۔ بریسٹل میں مئی کے مہینے میں صرف ایک کامریڈ ریکروٹ کیا گیا۔ تاہم اس عمل نے بعد میں نتائج دیے، ظاہر ہے کہ ایک زیادہ تجربہ کار کامریڈ نسبتاً آسانی سے کسی نئے شخص کو شامل کر سکتا ہے۔ لیکن اگر کچھ وقت دوسرے کامریڈز کو ریکروٹمنٹ کی تربیت دینے میں صرف کیا جائے، تو چند مہینوں بعد برانچ کے پاس ایک کے بجائے تین ریکروٹ کرنے والے موجود ہو سکتے ہیں۔
آخرکار، یہ حکمتِ عملی کامیاب ثابت ہوئی: جون میں 6 اور جولائی میں 9 کامریڈز ریکروٹ کیے گئے۔ اس دوران کامریڈز نے یہ بھی سیکھا کہ کسی رابطے سے ملاقات کے دوران اصل مقصد صرف کسی کو محض ریکروٹ کرنا نہیں ہوتا؛ بلکہ اسے سیاسی طور پر قائل کرنا ہوتا ہے۔ ایک بار یہ مقصد حاصل ہو جائے، تو باقی سب کچھ آسانی سے ممکن ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر کی ضرورت ہے، تو وہ خوشی سے اجلاس میں آئے گا، پارٹی فنڈز ادا کرے گا اور پارٹی کی تعمیر میں حصہ لے گا۔ رابطوں کا کام برانچز کی اجلاسوں کے ایجنڈے میں شامل ہونا چاہیے۔ لیکن زیادہ تر اس کو صرف انتظامی طور پر نمٹا دیا جاتا ہے۔ چیئر اجلاس میں رابطوں کی فہرست دیکھتا ہے اور ہر نام پر سوال کرتا ہے: ”کیا ان سے رابطہ کیا گیا ہے؟“ متعلقہ کامریڈ پھر جواب دیتا ہے کہ آیا رابطہ ہوا یا نہیں۔ پھر یہ نکتہ ختم ہو جاتا ہے اور اجلاس آگے بڑھ جاتا ہے۔ تاہم، یہ سوال ضروری ہے: اس سے کسی کو کیا سیکھنے کو ملتا ہے؟
ویلز اور ویسٹ کے کامریڈز اس بات کو یقینی بنایا کہ رابطے کا کام ایک سیاسی معاملہ ہو۔ قیادت کرنے والے کامریڈز کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے، برانچ کی اجلاس کے باہر ہونے والی گفتگو سے، کہ کسی رابطے سے ملاقات ہو رہی ہے یا نہیں۔ برانچ کی اجلاس اس بات پر مرکوز ہوں کہ کامریڈز کی سیاسی سطح کیسے بلند کی جائے۔ وہ یا تو سیاسی سوالات یا رابطے کے ممکنہ مسائل پر بات کرتے (اور ان کے جواب دینے کا طریقہ)، یا وہ وقت نکالتے کہ رابطوں کا فوری فالو اپ اور اس کی سیاسی اہمیت پر بات ہو؛ یا یہ کیسے جانیں کہ کوئی رابطہ ہے یا نہیں؛ یا دیگر عمومی اسباق جن سے کامریڈز کے سیاسی کام میں مدد ملے، پر بات کی جائے۔عام طور پر کامریڈز بیان کرتے ہیں کہ وہ برانچ کو فوج کے چھاؤنی (barracks) کی طرح دیکھتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کامریڈز عام اسباق حاصل کرتے ہیں اور خود کو تربیت دیتے ہیں، اس سے پہلے کہ دوبارہ میدان عمل میں جائیں۔
لہٰذا، برانچ کے تنظیمی سیکشن کو انتظامی سوالات کے ساتھ ساتھ اسباق اور تناظر پر بھی مرکوز ہونا چاہیے۔بریسٹل میں ڈسٹرکٹ کمیٹی کے اجلاسوں نے نئے برانچ سیکرٹریز کو یہ سوچنے پر مجبور کرنے میں کردار ادا کیا کہ اپنی برانچ کو کیسے ترقی دی جائے۔ تاہم، کچھ وقت کے بعد، یہ مسئلہ بھی سامنے آیا کہ کامریڈز کو قلیل مدتی سوچ کی ترغیب مل رہی تھی۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی زیادہ تجربہ کار کامریڈ بہت زیادہ مدد فراہم کرتا ہے، تو کم تجربہ کار کامریڈز اس پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں۔ چونکہ برانچ کے سیکرٹریز کافی تجربہ حاصل کر چکے تھے، اب انہیں کچھ زیادہ آزادی دینا ضروری تھا۔ اس لیے، کامریڈز نے فیصلہ کیا کہ اب یہ اجلاس ماہانہ ایک بار منعقد ہوں گے، جس میں ریجن میں قیادت کرنے والے تمام کامریڈز شریک ہوں گے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کامریڈز پچھلے ماہ کے اسباق پر واقعی غور کریں اور یہ سوچیں کہ اگلے ماہ کے کام پر اس کا کیا اثر ہونا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی صورتحال پیدا کرنی ہے جہاں تمام کامریڈز خود سوچنے کے قابل ہوں۔

خلاصہ یہ کہ، بریسٹل شہر میں کامریڈز نے ایک معمول کے ریڈنگ گروپ سے شروعات کی جس میں دو کامریڈ شامل تھے اور وہاں سے آہستہ آہستہ بڑھوتری ہوئی۔ اب شہر میں 2 یا 3 کیڈرز سے بڑھ کر 12 سے 15 تک کیڈرز ہیں، جبکہ کل 35 فعال کامریڈز ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی ایک وسیع تر پرت ہے جو ارد گرد اٹھنے والی انقلابی تحریکوں کو نا صرف غور سے دیکھ رہے ہیں بلکہ تڑپ بھی رکھتے ہیں کہ پاکستان میں بھی حکمران طبقے کے ساتھ یہی ہونا چاہیے۔ جہاں جہاں تک انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے تعمیر کے سلسلے میں ہم جا سکتے ہیں ہم جانا ہو گا اور اسی عمل کے دوران انہی نوجوانوں اور محنت کشوں میں کمیونسٹ نظریات سے مسلح کیڈرز کی ایسی پرت تیار کرنی ہو گی جو انقلابی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ پھینکیں۔















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance