اداریہ: ایران کی عوامی تحریک: دوست کون؟ دشمن کون؟

28دسمبر کو تہران سے شروع ہونے والے احتجاج دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی جاری ہیں اور پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔ ایران کی کرنسی کی قدر میں گراوٹ اور افراطِ زر میں بڑے اضافے کے بعد تہران بازار سے شروع ہونے والے احتجاج ایک ملک گیر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور ایران کی ریاست کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔ اس دوران امریکی سامراج، اسرائیل کی صیہونی ریاست اور ان کے اتحادی بھی گدھ کی طرح ایران پر منڈلا رہے ہیں اور یہاں موجود تیل کے وسیع ذخائر اور دیگر وسائل کی لوٹ مار کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی ملا اشرافیہ اور عوام دشمن ریاست بھی ظلم و جبر کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے اور احتجاجی مظاہرین کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے جبکہ گرفتاریاں اور سخت سزائیں معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہو پا رہیں لیکن اس کے باوجود مختلف اندازوں کے مطابق سینکڑوں افراد قتل کیے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی اور گرفتار ہیں۔ لیکن ملاؤں کی ریاست کے اس بد ترین جبر کے باوجود تحریک ختم ہونے کی بجائے مسلسل جاری ہے۔ عوامی تحریک اور لوگوں کی امنگوں پر سب سے بڑا حملہ ٹرمپ اور اس کے اتحادی کر رہے ہیں جب وہ تحریک کی حمایت میں نہ صرف مسلسل بیان بازی کر رہے ہیں بلکہ ایران کے عوام کی ہمدردی کا ڈھونگ رچاتے ہوئے ایران پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ اس دوران پہلوی خاندان کا جانشین بھی امریکی گماشتگی کا کردار ایک دفعہ پھر کھل کے ادا کر رہا ہے اور واشنگٹن میں بیٹھ کر موجودہ حکومت کے خلاف بیانات دے رہا ہے جسے مغربی دنیا بھر کے حکمرانوں کا گماشتہ میڈیا زور و شور سے دنیا بھر میں پھیلا رہا ہے۔

اس تمام صورتحال میں ایران کے محنت کش عوام اپنے تمام دشمنوں کو پہچانتے ہوئے تحریک کو آگے بڑھا رہے ہیں اور منظم ہو رہے ہیں گو کہ ان کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران کے عوام جانتے ہیں کہ امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک کے سامراجی حکمران ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور ان کی آستینوں میں ایران کے عوام کے لیے خنجر چھپے ہوئے ہیں۔ ان سامراجی طاقتوں کو کسی بھی ملک کے عوام سے کوئی ہمدردی نہیں اور نہ ہی انہیں جمہوریت کی بحالی، انسانی حقوق یا دیگر کسی بھی ایسے عمل سے دلچسپی ہے۔ ان کا مقصد ایران کے وسائل کی لوٹ مار اور اس کی سٹریٹجک حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے پورے خطے میں اپنے مفادات کو تحفظ دینا ہے۔ اسی طرح چین اور روس بھی اپنے سامراجی مفادات کے لیے ایران کے وسائل لوٹ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ایران پر براجمان ملا اشرافیہ اور اس پر حاکم سرمایہ دار طبقہ بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس ریاست کو قائم رکھنا چاہتا ہے اور عوامی تحریک کو ہر ممکن طریقے سے کچلنا چاہتا ہے۔ ایران کے عوام اسی لیے ملا اشرافیہ اور پہلوی خاندان، دونوں کے خلاف نعرے بلند کر رہے ہیں اور جمہوری آزادیوں، معاشی انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس صورتحال میں درست نظریات اور سیاسی پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے اور عوامی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے فیصلہ کن عنصر بن جاتا ہے۔ ایک طرف ایران کا حکمران طبقہ اپنے اقتدار کو تحفظ دینے کے لیے اپنے بوسیدہ نظریات اور سیاست دوبارہ مسلط کر رہا ہے اور اس کے گرد لاکھوں کے احتجاج منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد بننے والی یہ ریاست اپنے آغاز سے ہی ’مرگ بر امریکہ‘ اور ’مرگ بر اسرائیل‘ کا نعرہ لگاتی آ رہی ہے۔ لیکن اس سامراج دشمنی کی آڑ میں اپنے ملک کے عوام پر بد ترین جبر اور استحصال بھی کرتی آئی ہے۔ گزشتہ سال جون میں ہونے والی بارہ روزہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو ان نعروں کا بھرم رکھنے کے لیے کچھ حد تک جواب تو دیا گیا لیکن اس کے باوجود فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کی جا سکی۔ اس دوران ایران کی ریاست میں موجود کرپشن اور زوال پذیری کے باعث دشمن قوتوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچانے کا موقع بھی ملا جس کی وجہ سے آج امریکہ اور اسرائیل پہلے سے زیادہ پر اعتماد انداز میں دھمکیاں دے رہے ہیں۔ دوسری طرف جنگ اور معاشی بحران کا تمام تر بوجھ بھی عوام پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ حکمران طبقے کی دولت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ پر تعیش زندگیاں گزار رہے ہیں جبکہ عوام دو وقت کی روٹی کے لیے بھی ترس رہے ہیں۔ اس دوران پاسداران اور دیگر سکیورٹی اداروں میں کرپشن کے سکینڈل سامنے آنا بھی روزمرہ کا معمول بن گیا ہے۔ درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کے زوال نے اس ریاست کو کھوکھلا کر دیا ہے جبکہ اس کی عوام کے لیے وحشت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سماج کی تمام پرتوں میں اس ریاست کی کوئی حمایت موجود نہیں اور عوام اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ خواتین کے صنفی استحصال سے لے کر مظلوم قومیتوں پر بدترین قومی جبر تک ہر طرف ریاست کے مظالم بڑھتے جا رہے ہیں۔

ان تمام مظالم سے فیصلہ کن طور پر نجات حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھنے کا واحد رستہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔ ایران کے طلبہ اور مزدور یونینوں میں کمیونسٹ تحریک کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 1979ء کے انقلاب میں شاہ کا تختہ الٹنے میں کمیونسٹوں نے ہی کلیدی کردار ادا کیا تھا اور تودے پارٹی سب سے زیادہ حمایت رکھتی تھی۔ اس وقت ایک سوشلسٹ انقلاب مکمل کیا جا سکتا تھا لیکن زوال پذیر سٹالنسٹ نظریات کے باعث اقتدار ملاؤں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا جو اس انقلابی تحریک میں ثانوی نوعیت کا کردار ہی ادا کر رہے تھے۔ اس نظریاتی غداری کا خمیازہ جہاں سرمایہ دار نظام کی بقا کی صورت میں نکلا وہاں ملا اشرافیہ نے اقتدار میں آتے ہی کمیونسٹوں کا قتل عام شروع کر دیا اور اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ آج تقریباً نصف صدی بعد دوبارہ ایسے مواقع موجود ہیں کہ درست کمیونسٹ نظریات پر انقلابی پارٹی تعمیر کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کی جانب بڑھا جا سکتا ہے۔ اس انقلاب کے بعد نہ صرف اس سرمایہ دارانہ ریاست اور اس پر براجمان ملا اشرافیہ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے بلکہ بینک، انشورنس کمپنیاں اور دیگر مالیاتی ادارے، تیل اور دیگر معدنی وسائل مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں لیتے ہوئے ملک سے طبقاتی نظام اور بھوک، بیماری اور بیروزگاری کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

انقلاب کے بعد بننے والی سوشلسٹ مزدور ریاست عوام کی حمایت سے امریکہ اور اسرائیل کے سامراجی عزائم کو بھی فیصلہ کن شکست دے سکتی ہے۔ بیسویں صدی ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے جہاں ویتنام سے لے کر کیوبا تک عوامی انقلابات کے بعد بننے والی ریاستوں نے امریکہ کے سامراجی عزائم کو بد ترین شکست دی تھی۔ سب سے بڑی مثال 1917ء کے انقلاب روس کی ہے جب لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں بننے والی سوویت حکومت نے دنیا کے ڈیڑھ درجن سے زائد سامراجی ممالک کے حملے کو شکست دی تھی۔ ایران کا سوشلسٹ انقلاب مشرق وسطیٰ سے لے کر وسطی ایشیا اور پھر پاکستان اور افغانستان سمیت پوری دنیا میں اپنے اثرات مرتب کرے گا۔ خاص طور پر فلسطین کی آزادی کی تحریک کو ایک نئی جرات اور حوصلہ ملے گا اور مشرقِ وسطیٰ کی سوشلسٹ فیڈریشن کی جانب فیصلہ کن طور پر پیش رفت ہو گی۔ اس انقلاب کو دنیا بھر کے مزدوروں سے حمایت ملے گی جس میں امریکہ اور یورپ کے مزدور بھی شامل ہوں گے۔ پاکستان کے کروڑوں مزدور نہ صرف اس انقلاب کی حمایت کریں گے بلکہ یہاں بھی اسی کی پیروی کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام اور امریکی سامراج کی گماشتگی کا خاتمہ کرنے کی جانب بڑھیں گے اور ظلم و جبر کے نظام کو پورے کرۂ ارض سے ختم کرنے کا آغاز کریں گے۔ انقلابی کمیونسٹ اس عوامی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اس تحریک کے تمام دشمنوں کے خلاف ایران کے محنت کش عوام سے پر زور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

Comments are closed.