اداریہ: سامراجی جنگوں کیخلاف مزدور طبقے کا کردار

عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کا بحران سامراجی جنگوں کا باعث بن رہا ہے اور وقت کے ساتھ ان جنگوں کی ہولناکی اور تباہی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ ایران پر مسلط کردہ امریکہ اور اسرائیل کی سامراجی جنگ سے پہلے فلسطین میں تین سال تک بد ترین وحشت مسلط کی جاتی رہی جبکہ اس سے پہلے یوکرائن میں ایک ہولناک جنگ کا آغاز ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔ اسی طرح وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنے اور اس ملک پر اپنا تسلط جمانے کے بعد ٹرمپ کیوبا میں موجود منصوبہ بند معیشت کو کچلنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور اس جزیرہ نما ملک کی مکمل معاشی ناکہ بندی کی جا چکی ہے جس کے باعث وہاں رہنے والے ایک کروڑ سے زائد لوگ بد ترین مسائل کا شکار ہو چکے ہیں اور بنیادی ضروریات سے محروم ہو رہے ہیں۔

ان جنگوں کے ذریعے سامراجی طاقتیں اپنے مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کررہی ہیں اور اپنے گرتے ہوئے نظام کو بچانے کی کوشش میں ہیں۔ اس نظام کی بنیاد سرمایہ دارطبقے کے منافعوں اور لوٹ مار کو تحفظ دینا ہے اور ان جنگوں کا حتمی مقصد بھی یہی ہے کہ سرمایہ دار طبقہ اپنے منافعوں میں اضافہ کر سکے۔ لیکن عالمی مالیاتی نظام کے بحران کے باعث امریکی سامراج زوال کا شکار ہے اور اس کا مقابلہ دنیا میں دیگر ابھرتی ہوئی سامراجی طاقتوں سے ہو رہا ہے جن میں چین اور روس بھی شامل ہیں، جس کے باعث امریکہ کی عالمی تعلقات پر پہلی جیسی گرفت نہیں رہی۔ان جنگوں سے پھیلنے والی خونریزی اور تباہی کے علاوہ عالمی تجارت اور معیشت بھی بدترین انداز میں متاثر ہو رہی ہے اور پوری دنیا بدترین مالیاتی بحران کی جانب بڑھ رہی ہے جبکہ ایک انہدام کی پیش گوئی بھی کی جارہی ہے۔

اس تمام تر تباہی اور بربادی کے اثرات دنیا بھر کے مزدور طبقے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں تاریخ کے سب سے بڑے اضافے کے ساتھ فرٹیلائزر، امونیا اور دیگر اہم زرعی خام مال کی بھی قلت پیدا ہو چکی ہے جس کے باعث دنیا کے بہت بڑے علاقوں میں قحط سالی کے خدشات ابھر رہے ہیں جن سے کروڑوں لوگ متاثر ہوں گے۔ اسی طرح پوری دنیا میں مہنگائی اور بیروزگاری کی ایک بہت بڑی لہر پھیلتی جا رہی ہے جس سے دنیا کی بہت بڑی آبادی متاثر ہورہی ہے۔ ایک طرف فضائی بمباری، میزائیلوں اور فوجی کاروائیوں سے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے جن میں بڑی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں وہاں دوسری طرف کروڑوں لوگوں کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے۔

اس تمام صورتحال میں دنیا بھر کی مزدور تحریک کے سامنے اہم سوال ابھر چکا ہے کہ وہ اس تباہی کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے۔اس کا ایک جواب پچھلے سال اکتوبر میں اٹلی کے مزدوروں نے دیا تھا۔ اس وقت پورے اٹلی میں پچاس لاکھ مزدوروں نے عام ہڑتال کے ذریعے پورے ملک کا پہیہ جام کر دیا تھا۔ اس عام ہڑتال کا مطالبہ تنخواہ میں اضافہ یا اٹلی کی حکومت کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اٹلی کے مزدور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ وہاں پر جاری اسرائیلی وحشت کو فوری بند کیا جائے۔اس ہڑتال نے پورے یورپ اور امریکہ کے مزدوروں کو متاثر کیا تھا اور ان ممالک میں بھی اسی طرز کی ہڑتالوں کی تیاری کا آغاز ہو گیا تھا۔ اسی سے خوفزدہ ہو کر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے فلسطین میں جنگ بندی کا ایک نام نہاد معاہدہ کیا تھا۔گوکہ اسرائیل کے حملے اس کے بعد بھی جاری رہے لیکن ان کی شدت میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی تھی۔

اس عمل سے واضح ہو چکا ہے کہ مزدور طبقے کے پاس وہ طاقت اور وہ جرات موجود ہے جس سے وہ سامراجی طاقتوں کیخلاف ایک فیصلہ کن لڑائی لڑ سکتا ہے۔ایران پر مسلط کردہ جنگ سمیت معاشی قتل عام کیخلاف بھی ایک فیصلہ کن لڑائی محنت کش طبقہ ہی لڑ سکتا ہے۔درحقیقت اس دنیا کو چلاتا ہی محنت کش طبقہ ہے۔ دنیا میں کوئی بلب نہیں جل سکتا، کوئی پہیہ نہیں گھوم سکتا اور کوئی فون نہیں کام کر سکتا اگر محنت کش طبقہ اپنا ہاتھ روک دے۔ اسی طرح بندرگاہوں پر جہازوں کی لوڈنگ سے لے کر اسلحہ ساز فیکٹریوں کو چلانے سمیت پوری دنیا کو رواں دواں رکھنے کا بنیادی کردار محنت کش طبقہ ہی کر سکتا ہے۔اس لیے ان جنگوں کو رکوانے کے لیے اگر مزدور طبقہ منظم ہو کر ایک جدوجہد کا آغاز کر دے تو دنیا کی کوئی بھی فوج اور کوئی بھی سامراجی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

ایران پر مسلط کردہ سامراجی جنگ سے لے کر اس کے بعد ہونے والی معاشی تباہی کا مقابلہ کرنے کے لیے مزدور طبقے کو میدان میں اترنا ہو گا۔پاکستان سمیت اس پورے خطے کے مزدوروں کی انتہائی شاندار انقلابی روایات موجود ہیں۔ایران میں 1979ء میں شاہ کیخلاف انقلاب کو کامیاب کرنے میں ملک گیر سطح پر ہونے والی عام ہڑتال نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھاجس کے بعد امریکی سامراج کا گماشتہ شاہ دم دبا کر بھاگ گیا تھا۔ اسی طرح 2011ء کی عرب بہار کے دوران مصر کے محنت کشوں بالخصوص نہر سویز کے مزدوروں کی ہڑتال نے حسنی مبارک کو استعفیٰ دے کر بھاگنے پر مجبو رکیا تھا۔اسی طرح پاکستان میں مارچ 1969ء کی عام ہڑتال نے فیلڈ مارشل ایوب خان کو استعفیٰ دے کر اقتدار سے نکالنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ان تمام انقلابی تحریکوں کی جزوی کامیابی کے باوجود المیہ یہ رہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو ختم نہیں کیا جا سکا اور ان بھگوڑوں کے بعد اقتدار سنبھالنے والوں کے چہرے تو بدل گئے لیکن مزدور طبقے کا استحصال اور ریاست کا جبر پہلی طرح جاری رہا۔آج کئی دہائیوں بعد دوبارہ ایسے مواقع موجود ہیں جہاں حکمران طبقے اور ان کے سامراجی آقاؤں کوشکست دی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی اس سرمایہ دارانہ نظام کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اکھاڑا جا سکتا ہے۔اس کے لیے مزدور تحریک کو درست سیاسی نظریات کی جانب رجوع کرنے کی جانب بڑھنا ہو گا۔

حالات کے جبر کے تحت آنے والے عرصے میں دنیا بھر میں مزدورطبقہ ایک طویل عرصے بعد سیاسی میدان میں قدم رکھنے کی جانب بڑھے گا۔ مزدور تنظیموں کی قیادتیں کئی دہائیوں سے مزدور تحریک کو سیاسی عمل سے دور رکھتی آئی ہیں اور اس تحریک کو معاشی مطالبات تک محدود رکھا ہے۔ لیکن کئی دہائیوں کے تجربے نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ درست سیاسی نظریات کے بغیر معاشی مطالبات کا حصول بھی ممکن نہیں ہوتا۔ تنخواہوں میں اضافوں سے لے کر مزدور دشمن قوانین کے خاتمے اور نجکاری کی پالیسی کو شکست دینے کی متعدد کوششیں کی گئی ہیں لیکن فیصلہ کن کامیابی کہیں بھی حاصل نہیں ہو سکی بلکہ حکمران طبقہ مسلسل حملے کرتا جا رہا ہے۔ اب بھی مہنگائی میں اضافہ درحقیقت تنخواہوں کی بہت بڑی کٹوتی ہی ہو گا جس کا بوجھ سرمایہ داروں پر ٹیکس لگاکر ان پر منتقل کرنے کی بجائے عوام کی جیبوں پر ڈالا جائے گا۔ اس کا جواب دینے کے لیے مزدور طبقے کو سیاسی میدان میں اترنا ہو گا اور اپنی قسمتوں کے فیصلے اپنے ہاتھوں میں لینے ہوں گے۔

تاریخ کے اس مشکل ترین وقت میں صرف کمیونسٹ نظریات ہی مزدور طبقے کی راہنمائی کر سکتے ہیں اور اسے منزل تک پہنچا سکتے ہیں۔اسی لیے مزدور طبقے کی وسیع پرتوں تک ان نظریات کو پہنچانے کی ضرورت ہے اور با شعور پرتوں کو ان نظریات کے گرد منظم کرنے کی ضرورت ہے۔انہی نظریات کے تحت آنے والے عرصے کی جدوجہدیں اور انقلابی تحریکیں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں اور صرف عوام پر مسلط حکومتوں کو تبدیل نہیں کریں گی بلکہ اس تمام تر برائی کی جڑ سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کر کے ایک سوشلسٹ سماج کی تشکیل کی جانب بڑھیں گی۔ایک ملک میں ہونے والا کامیاب سوشلسٹ انقلاب پورے خطے اور پھر پوری دنیا میں پھیلے گا اور اسے پوری دنیا کے مزدوروں کی حمایت حاصل ہو گی جس میں امریکہ اور چین جیسے سامراجی ملکوں کا محنت کش طبقہ بھی شامل ہو گا۔یہی انقلاب ایک ایسا سماج تخلیق کرنے کی جانب بڑھے گا جس میں امیر اور غریب کی طبقاتی تقسیم کا بھی خاتمہ ہو گا اور جنگوں، خونریزی اور قتل و غارت بھی ختم ہو گی اور ہر طرف امن اور آشتی کا دور دورہ ہوگا۔اس سال کے یوم مئی کا یہی پیغام ہے۔

Comments are closed.