ایران: امریکی جارحیت کے منصوبوں کو شکست کیسے دی جائے؟

|تحریر: اشعیا یاوری، ترجمہ: عبدالحئی|

مغربی سامراجی گِدھ ایرانی حکومت کے گرد منڈلا رہے ہیں۔ احتجاج شروع ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اب تک تین مرتبہ ایران میں مداخلت کی دھمکی دے چکا ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اسی دوران اسرائیلی ریاست نے موساد کے فارسی ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے نہایت تشویشناک پیغامات جاری کیے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے: ”آؤ مل کر سڑکوں پر نکلیں۔ وقت آ چکا ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ صرف دور سے اور زبانی کلامی نہیں، بلکہ عملی طور پر میدان میں بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں۔“

مغربی سامراج دنیا کی سب سے زیادہ رجعتی قوت ہے۔ اس نے مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور اب ایران کے ساتھ بھی یہی سلوک کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔

ایران میں احتجاج شروع ہوئے سولہ دن سے زائد ہو چکے ہیں۔ تاہم جمعرات کی شام سے حکومت نے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق 46 شہروں اور قصبوں میں احتجاج جاری تھے، جبکہ کرد خطے میں بازاروں کی تقریباً مکمل ہڑتال دیکھی گئی، جو تبریز، تہران، کرمانشاہ اور دیگر شہروں تک بھی پھیل گئی تھی۔

انٹرنیٹ کی بندش کے بعد سے وقفے وقفے سے جو اطلاعات سامنے آئی ہیں، وہ مکمل انتشار کی عکاسی کرتی ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپوں کے مناظر دیکھے گئے۔ تہران، کرج (تہران کے قریب ایک بڑا صنعتی شہر)، مشہد اور دیگر شہروں میں، اس کے علاوہ کرد علاقوں کے شہروں سقز، ابدالان وغیرہ میں بڑے پیمانے پر عوامی اجتماعات دیکھے گئے۔ نوجوانوں نے ایک بار پھر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں، آگ لگائی اور حکومت کی نمائندہ علامتوں پر حملے کیے، جن میں بیرکیں، سرکاری دفاتر اور اسی نوعیت کی دیگر عمارتیں شامل ہیں۔

حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس نے مہلک کریک ڈاؤن کی راہ اختیار کرنے اور تمام گواہوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ HRANA (Human Rights Activists in Iran) کے مطابق اب تک 544 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، اگرچہ اصل تعداد غالباً اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ہسپتال کے عملے کی رپورٹس پر مبنی ہیں اور قابلِ اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔ اسی دوران 10681 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش سے قبل صرف چند درجن افراد کے مارے جانے کی اطلاعات تھیں، تاہم اب ایک رپورٹ کے مطابق صرف تہران میں ہی 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اس وقت اس کی تصدیق مشکل ہے، لیکن یہ صورتحال تیزی سے بگڑتی ہوئی نظر آتی ہے اور 2018ء میں شروع ہونے والی بغاوتوں، ہڑتالوں اور احتجاجی لہر کے بعد یہ سب سے خونریز کریک ڈاؤن ثابت ہو سکتا ہے۔

جمعرات سے قبل ہی صورتحال انتہائی کشیدہ تھی۔ قزوین، بوجنورد، ہمدان اور دیگر شہروں میں احتجاج کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر اختیار کر چکے تھے۔ یہی کیفیت بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ شدت کے ساتھ کرد صوبوں میں دیکھنے میں آئی۔ ایلام اور عبدلان کے شہروں میں مظاہرین نے عارضی طور پر سیکیورٹی فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ ایلام میں عوام نے حکومت کا مذاق اڑاتے ہوئے احتجاج میں شریک ایک کم عمر نوجوان کو نیا گورنر قرار دے دیا۔

کرد اکثریتی شہر سقز میں، جو مقتولہ مہسا امینی کا آبائی شہر ہے جس کی ہلاکت نے 2022ء کی بغاوت کو جنم دیا تھا، بدھ کی رات سڑکوں پر جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ یہ جھڑپیں کرد علاقوں میں بازاروں کی عام ہڑتال کے پیشِ نظر ہوئیں۔

تہران، مشہد، کرمانشاہ اور دیگر بڑے شہروں میں سڑکوں پر احتجاج تو ہوا، لیکن یہ بہت جلد منتشر جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا۔ شہروں میں محنت کش طبقہ اس انداز میں بڑے پیمانے پر شریک نہیں ہو رہا تھا، جیسا کہ صوبوں اور چھوٹے قصبوں میں دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت سے شدید نفرت کے باوجود وہ خوف کا شکار ہیں، کیونکہ انہیں کوئی واضح انقلابی متبادل نظر نہیں آتا بلکہ صرف سامراجی مداخلت کا خطرہ دکھائی دیتا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش سے ذرا پہلے خوزستان اور بوشہر کے صوبوں میں ابتدائی احتجاج شروع ہو چکے تھے۔ خوزستان کے شہروں اہواز اور آبادان نے بازار ہڑتال میں شمولیت اختیار کی اور سڑکوں پر احتجاج کیا، جو بعدازاں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ منتشر جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا۔

یہ دونوں صوبے انتہائی اہم ہیں کیونکہ یہاں بڑے پیمانے پر پیٹروکیمیکل تنصیبات موجود ہیں۔ 2018ء کے بعد سے جاری طبقاتی جدوجہد کے غیر معمولی دور میں یہ علاقے جدوجہد کا مرکزی محور رہے ہیں، جہاں تقریباً ہر سال تیل کے مزدوروں کی ہڑتالیں، بڑی بغاوتیں اور وسیع احتجاج دیکھنے میں آئے ہیں۔ بندر کنگان (Bandar Kangan) میں معاشی مطالبات کے لیے ہڑتال پر موجود تیل کے مزدوروں کے ایک چھوٹے گروہ نے بھی احتجاج میں شمولیت اختیار کی۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بڑے شہروں اور خوزستان میں وسیع پیمانے پر احتجاج پھوٹ پڑا ہو جن میں شاید محنت کش طبقے کے نوجوان بھی شامل ہوں۔ کرد قصبوں میں یہ بھی ممکن ہے کہ نوجوانوں نے حکومت کی فورسز کو اپنے شہروں اور دیہات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہو۔ 2022ء کی بغاوت کے دوران حکومت تین ماہ تک کرد شہروں پر کنٹرول کھو بیٹھی تھی، جس کے نتیجے میں حالات ایک ایسی کیفیت اختیار کر گئے تھے جو خانہ جنگی سے مشابہ تھی۔

اب بھی بالکل 2022ء کی طرح، صرف محنت کش طبقہ ہی فیصلہ کن ضرب لگا سکتا ہے جو نوجوانوں کی اس بغاوت کو ایک حقیقی انقلاب میں تبدیل کر دے۔

سامراجی میڈیا کا شور و غوغا اور عسکری مداخلت کا خطرہ

اسی لمحے جب ایرانی عوام خون بہا کر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، مغربی سامراجی اپنے حریف کو کمزور یا مکمل طور پر ختم کرنے کے موقع کی تلاش میں ہے۔ تقریباً ہر بڑے مغربی بورژوا سیاستدان نے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ یہ انتہائی گھناؤنی منافقت ہے۔ امریکی قیادت میں لگائی جانے والی پابندیاں حکومت کی لوٹ مار کے ساتھ مل کر عوام کی معاشی بدحالی کی ذمہ دار ہیں۔

یہ سامراجی درندے جاری احتجاجوں کے بارے میں انتہائی مضحکہ خیز دعوے کرتے ہیں۔ 9 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اسرائیل کے چینل 13 کا یہ دعویٰ شیئر کیا: ”ایک ملین سے زیادہ افراد نے مظاہرہ کیا، ایران کا دوسرا سب سے بڑا شہر مظاہرین کے کنٹرول میں آ گیا ہے، حکومت کی فورسز نے شہر چھوڑ دیا ہے۔“ حالانکہ مشہد کی آبادی 2.4 ملین ہے اور اس وقت احتجاجوں میں زیادہ سے زیادہ چند ہزار افراد شہر کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے۔

حتیٰ کہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے فارسی ایکس (X) اکاؤنٹ نے بھی یہ پوسٹ کیا: ”قم، مشہد، تہران، دزفول جلد ہی پورا ایران ایرانی عوام کا ہو گا۔“ انہیں نہ سچ کی پرواہ ہے اور نہ ہی ایرانی عوام کی۔ وہ ایرانی عوام کی تحریک کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی کی جدوجہد میں محض شطرنج کے ایک مہرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

سامراجی میڈیا ہر مبالغہ آرائی کو دہرا رہا ہے کیونکہ یہ نا اہل اور چاپلوس بھی ہیں۔ اس میں رجعت پرست ایرانی شاہ پرستوں کی بازگشت بھی شامل ہے جن کی قیادت رضا پہلوی کر رہا ہے جو سابق بادشاہ اور مغرب نواز شاہ کا بیٹا ہے، جسے 1979ء کے ایرانی انقلاب نے تخت سے ہٹا دیا تھا۔ ان احتجاجوں کے دوران رضا پہلوی کے انٹرویوز واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہوئے ہیں اور یہ نئی بات نہیں بلکہ یہ 2022ء سے جاری ہے جبکہ ایرانی عوام کی حقیقی آوازیں خاموش ہیں۔

مختلف غیر ملکی فارسی نیوز چینلز جو سعودی، امریکی اور برطانوی سامراجی سرمایہ کاری سے چل رہے ہیں، جیسے بی بی سی فارسی، ایران انٹرنیشنل، مناٹو اور ریڈیو فردا، ان کا حال بھی بہتر نہیں ہے۔ ان میں سب سے بدتر اور بڑا ایران انٹرنیشنل ہے۔ یہ کھل کر ایرانی شاہ پرستوں اور فوجی مداخلت کی حمایت کرتا ہے۔

سامراج اور ان کا دلال میڈیا ایران میں ممکنہ فوجی مداخلت کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، خاص طور پر جب سے غزہ میں جنگ شروع ہوئی ہے۔ امریکی سامراج نے کبھی بھی ایرانی عوام کو 1979ء کے انقلاب کے لیے معاف نہیں کیا۔ یہ اپنی نوآبادیاتی ملکیت واپس چاہتا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کی بالادستی قائم رہے۔

ٹرمپ نے منگل کو کابینہ کا اجلاس بلایا ہے تاکہ مداخلت کے لیے اختیارات پر غور کیا جا سکے۔ لیکن یہ راستہ کئی مسائل سے بھرا ہوا ہے، پورا فوجی حملہ ممکن نہیں۔ ایران بہت وسیع اور انتہائی پہاڑی ملک ہے۔ تقریباً ہر شہر کسی وادی میں بسا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ امکان ہے کہ ایرانی عوام ملک کی دفاع کے لیے متحد ہو جائیں اور غیر ملکی مداخلت کا مقابلہ کریں۔ ایران میں مغربی سامراج کے خلاف ایک گہری اور مضبوط نفرت پائی جاتی ہے جو ایک صدی سے زائد کی جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔

حتیٰ کہ فضائی حملے بھی خطرات سے خالی نہیں ہوں گے۔ حکومت نے جوابی کاروائی کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جب حکومت کو دیوار سے لگا دیا جائے تو وہ اسرائیل اور ممکنہ طور پر امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ یہ صورتحال 12 روزہ جنگ جیسی نہیں ہو گی، جب حکومت نے کشیدگی سے بچنے کے لیے اسرائیل کے خلاف اپنے پرانے ترین بیلسٹک میزائل استعمال کیے اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے سے اجتناب کیا۔ اس کے باوجود وہ محدود حملہ بھی خاصا نقصان پہنچانے کا سبب بنا تھا۔ لیکن اگر ایرانی حکومت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہو، تو امریکا کو ایک بالکل مختلف اور کہیں زیادہ سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رضا پہلوی اور شاہ پرست مسخرے

سامراجیوں کے پاس ایک اور اختیار بھی موجود ہے: رضا پہلوی، جس نے 2022ء میں خود کو اپوزیشن رہنما مقرر کیا تھا۔ ایک ایرانی-امریکی تھنک ٹینک، نیشنل یونین فار ڈیموکریسی اِن ایران (NUFDI)، نے ایک مفصل منصوبہ شائع کیا ہے جس کے مطابق وہ ’جمہوری عبوری دور‘ کی قیادت کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت، رضا پہلوی عبوری حکومت چلائے گا، اور انہیں عبوری پارلیمنٹ اور عدلیہ کے اراکین کے تقرر پر مکمل اختیار حاصل ہو گا (جسے لفظی طور پر ’شاہی عدالت‘ کہا گیا ہے)۔

اس کے حامی رضا پہلوی کے ریفرنڈم اور آئینی اسمبلی کے وعدوں کو اس کی جمہوری صلاحتیوں کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

1979ء میں، اسلامیوں نے بھی خود کو انقلاب کا رہنما قرار دیا تھا۔ ابتدا میں انہیں مغربی سامراجیوں کی مدد بھی حاصل ہوئی، جو صورتحال پر قابو پانا چاہتے تھے اور بعد میں پہلوی ریاست کے باقیات کی حمایت بھی حاصل رہی جو اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے بھی ایک آئینی اسمبلی منتخب کی اور مارچ 1979ء میں ریفرنڈم کروایا۔ لیکن یہ سب صرف ایک جمہوری پردہ تھا۔ جیسے ہی حکومت نے طاقت مضبوط کر لی، بائیں بازو کے گروہ، جو زیادہ تر اپنی گھمبیر اسٹالنسٹ غلطیوں کی وجہ سے تنہا رہ گئے تھے، کا قتل عام کر دیا گیا۔

رضا پہلوی کا معاشی پروگرام سادہ ہے جس میں وسیع پیمانے پر نجکاری، بشمول ایران کے قدرتی وسائل (تیل کے علاوہ) بھی اور ایران کو غیر ملکی سامراجیت کے لیے کھولنا شامل ہے۔ یہ سب اس کے سامراجی آقاؤں اور ان کے ایرانی گٹھ جوڑوں کے مفادات کی خدمت کرے گا۔

دریں اثنا، رضا پہلوی کون ہوتا ہے جو اسلامی جمہوریہ کے دلالوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کرے؟ وہ اور باقی پرانی پہلوی حکومت نے ایرانی عوام کے خلاف وحشت ناک جرائم کیے ہیں، جیسے کہ ملک چھوڑتے وقت اربوں ڈالر کی چوری، صرف پہلوی خاندان نے 2 ارب ڈالر لیے تھے۔ نجی ملکیت کی ضبطی اور انصاف ان کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔

اقتدار سنبھالنے سے قبل از وقت خوش فہمیوں کو ایک طرف رکھیں، جو کہ شدید مزاحمت کا سامنا کریں گی، رضا پہلوی کی بطور ’رہنما‘ واحد حقیقی سرگرمی یہ رہی ہے کہ وہ ایرانی عوام کی جدوجہد کا سہرا اپنے سر پہ باندھنا چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ کشیدگی بشمول کردوں کی عام ہڑتال، شاہ کے بیٹے کی کال پر نہیں بلکہ کرد کمیونسٹ پارٹیوں کی قیادت میں ہوئی تھی۔ جو اب بھی اس خطے میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔

یہ بات حالیہ اور 2022ء میں جاری عام ہڑتال کی کال کے بارے میں بھی درست ہے۔ مزدور، کمیونسٹس اور کرد وہ آخری لوگ ہیں جو پہلوی خاندان کے کسی حکم کو مانیں گے۔ اس کا باپ فارسی بالادستی کا حامی تھا، جس نے متعدد کرد بغاوتوں کو کچل دیا تھا، کمیونسٹوں کو قتل کیا تھا، انہیں قید اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

رضا پہلوی اپنے باپ کی طرح ہی مغربی سامراج کا وفادار غلام ہے۔ اپنے آپ کو سامراجی دلال اور ’رہنما‘ کے طور پر تسلیم کروانے کی امید میں اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ لیکن جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پہلوی سے ملاقات کرے گا، تو اس نے جواب دیا: ”میرا خیال ہے کہ ہمیں سب کو موقع دینا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کون سامنے آتا ہے۔ میں ضروری نہیں سمجھتا کہ یہ کرنا مناسب ہو گا۔“

ایسے بہت سے ریپبلکنز ہیں جو حکومت میں تبدیلی کے لیے بے تاب ہیں اور پہلوی خاندان کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن ٹرمپ کی پہلوی کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ امریکا کے حکمران طبقے کے ایک بڑے حصے میں موجود چوکسی کو ظاہر کرتی ہے، جو پہلوی کو مکمل حمایت دینے کے بارے میں محتاط ہے۔ وہ صرف امریکی مداخلت کی پشت پناہی پر ہی اقتدار حاصل کر سکتا تھا۔ عراق، شام اور افغانستان میں انہوں نے دیکھا کہ یہ کیا نتائج دے سکتا ہے، یہ انارکی، ریاستی ناکامی اور حتیٰ کہ خانہ جنگی کے خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے، جس کے اثرات امریکی علاقائی مفادات اور عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے۔

اگرچہ ٹرمپ شاید رسمی طور پر اسے تسلیم نہ کرے، لیکن امریکا میں زیادہ تر جلاوطن پہلوی اشرافیہ مقیم ہے، جن کے ریپبلکن پارٹی کی اشرافیہ میں مضبوط حمایتی موجود ہیں۔

بعد میں پہلوی نے پیچھے ہٹ کر وضاحت کی کہ وہ ٹرمپ کی فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کرتا۔ لیکن بعد میں اس نے دوبارہ اپنی رائے بدل دی اور 9 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرتے ہوئے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ اس کا مقصد ہمیشہ سے ہی سامراجیوں کے تلوے چاٹنا رہا ہے، بس ہمیشہ بالکل کھلے طور پر ظاہر نہیں کرتا۔ ایرانی عوام یہ بات سمجھ چکے ہیں۔ حتیٰ کہ جب اس نے 12 روزہ جنگ کے دوران بغاوت کا مطالبہ کیا، تو ایران میں سب نے اسے نظر انداز کیا۔ اکثریت نے اسے درست طور پر غدار قرار دیا۔

اس کے سب سے وفادار سرپرست اسرائیل اور بنیامین نیتن یاہو ہیں۔ رضا پہلوی نے 2023ء میں اسرائیل کا دورہ کیا اور شاہ پرست لابی گروپ نیشنل یونین فار ڈیموکریسی اِن ایران کے اراکین بھی باقاعدگی سے اسرائیل جاتے ہیں۔ اسرائیلی اخبار Haaretz نے ظاہر کیا ہے کہ 2022ء سے اسرائیلی ریاست نے شاہ پرستوں کی کیسے مدد کی ہے، جس میں بوٹس(bots)، ٹیلیگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے دراندازی اور دیگر کاروائیاں شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تعلقات غالباً اس سے کہیں گہرے ہیں۔ یہ بھاری مدد اور عوام کی بے حد مایوسی وضاحت کرتی ہے کہ شاہ پرست اچانک سڑکوں پر زیادہ نمایاں کیوں ہو گئے ہیں۔

ایرانی عوام نے بار ہا واضح کیا ہے کہ وہ رضا پہلوی یا سامراجیوں سے کوئی تعلق نہیں چاہتے۔ حال ہی میں ہفت تپہ شوگرکین ورکرز یونین (Haft Tappeh Sugarcane Workers’ Union)، ایک لڑاکا مزدور یونین، جو مزدور کنٹرول کی جدوجہد کی قیادت کرتی رہی ہے اور ہر بغاوت کی مستقل حمایت کرتی رہی ہے، نے ایک بیان میں درج ذیل لکھا:

”پہلوی سرمایہ داری پر بھروسہ کر سکتا ہے، لیکن مزدور اور وہ لوگ جو آزادی اور برابری چاہتے ہیں، سرمایہ داری پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ شاہ پرست، امام پرست اور بت پرست جا کر کرائے کے میڈیا میں جھوٹ پھیلا سکتے ہیں، عوام کی عقل کا مذاق اڑا سکتے ہیں، سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق مٹا سکتے ہیں۔ لیکن جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ جھوٹ نہیں ہے، صرف وہ جھوٹے لوگ بڑھیں گے جن کا کوئی نام و نشاں نہیں ہے۔“

تہران اور مضافات میں بس کمپنی کی مزدور یونین نے درج ذیل لکھا:

”ہم نے کئی بار کہا ہے اور ایک بار پھر دہراتے ہیں، مزدوروں اور محنت کشوں کی آزادی کا راستہ عوام سے بالاتر کسی راہنما کے ذریعے نہیں نکلتا، نہ ہی غیر ملکی طاقتوں پر بھروسہ کرنے میں اور نہ ہی حکومت کے اندر گروہوں کے ذریعے، بلکہ اتحاد، یکجہتی، کام کی جگہوں اور قومی سطح پر آزاد کمیٹیوں کے قیام کے ذریعے نکلتا ہے۔ ہمیں دوبارہ حکمران طبقے کے طاقت کے کھیل اور مفادات کا شکار نہیں بننا چاہیے۔“

”یونین کسی بھی غیر ملکی حکومت، بشمول امریکہ اور اسرائیل، کی فوجی مداخلت کے لیے پروپیگنڈا، جواز یا حمایت کی سخت مذمت کرتی ہے۔ ایسی مداخلتیں نہ صرف،معاشرے کے تباہ ہونے اور لوگوں کے قتل کا سبب بنتی ہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے تشدد اور دباؤ کے جاری رہنے کے لیے بھی ایک اور بہانہ فراہم کرتی ہیں۔ ماضی کے تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مغربی سامراجی حکومتیں ایرانی عوام کی آزادی، روزگار اور حقوق کی تھوڑی بھی پرواہ نہیں کرتی ہیں۔“

ایران کے طلبہ نے اب اور 2022ء میں بھی مسلسل یہ نعرہ پھیلایا ہے: ”تمام ظالموں کو موت، چاہے وہ شاہ ہوں یا ملا۔“ کرد نوجوانوں اور دیگر کمیونسٹوں کا اپنا نعرہ ہے: ”نہ ہمیں شاہ چاہیے نہ ملا، ہمیں سوویتوں (کونسلوں) کی حکمرانی چاہیے!“

یہی بات بالکل واضح کرتی ہے کہ انقلاب کو کیسے مکمل کیا جا سکتا ہے! ایران کا محنت کش طبقہ اقتدار اپنے ہاتھ میں لے اور یہ صرف سوویتوں یا اسی نوعیت کی کمیٹیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے (جنہیں 1979ء کے انقلاب میں ’شوریٰ‘ کہا جاتا تھا)۔ تاہم اس وقت سوویت یا شوریٰ (Shurah) ابھی موجود نہیں ہیں۔ اس لیے نعرہ یہ ہونا چاہیے کہ سب سے پہلے سوویتوں یا شوریٰ کی تشکیل کی جائے!

سوویتوں (یا شوریٰ، دفاعی کمیٹیوں، ہڑتالی کمیٹیوں، محلہ کمیٹیوں وغیرہ) کا نعرہ لازماً طبقاتی مطالبات کے ایک واضح پروگرام سے جڑا ہونا چاہیے۔ مزدوروں کو سوویتوں کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہی وہ سب سے مؤثر تنظیمیں ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں اور حکومت کے خاتمے کی جدوجہد کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ شوریٰ کسی اعلان سے نہیں بنیں گی، بلکہ محنت کش طبقے کی عملی جدوجہد کے نتیجے میں ہی بن سکتی ہیں جیسے ہی مزدور اس تحریک میں شامل ہوں گے یہ خود تشکیل پائیں گی۔

ان احتجاجوں میں غالب نعرے معاشی نوعیت کے ہیں، جیسے، ”مہنگائی مردہ باد!“ اور ”غربت، بدعنوانی، مہنگائی، ہم تمہیں مسمار کر دیں گے!“، اس کے ساتھ ساتھ جمہوری اور حکومت مخالف نعرے بھی گونج رہے ہیں، مثلاً، ”آزادی، آزادی، آزادی!“، ”خامنہ ای، آمر، پورا نظام، اسلامی جمہوریہ مردہ باد!“، اور ”خامنہ ای قاتل ہے، اس کی حکومت ناجائز ہے!“

ایران میں شاہ پرست موجود ہیں، لیکن وہ پاگل پیٹی بورژوا یا لمپن پرولتاریہ کا چھوٹا سا گروہ ہیں۔ وہ عجیب و غریب حرکات کرتے ہیں، مثلاً غورجی اسٹریٹ (سابقہ آئزن ہاور اسٹریٹ) پر ایک نیا روڈ سائن لگا کر اس کا نام ”ڈونلڈ ٹرمپ اسٹریٹ“ رکھنا، بالکل اپنے آقا رضا پہلوی کے نقش قدم پر جس نے ٹرمپ کی تعریف والے سائن کے ساتھ فوٹو کھینچوائی تھی۔

مغرب میں بھی پاگل شاہ پرست اپنے جلسوں میں اسرائیلی، امریکی اور ایرانی شاہ پرست شاہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویروں کے ساتھ جھنڈے لہراتے ہیں (کبھی کبھار درفش کاویانی (Derafsh Kaviani) جو قدیم ایران کا جھنڈا ہے، اسے بھی لہراتے ہیں)۔ اپنے شاہ کی طرح، ان میں سے بعض ٹرمپ کے 12 روزہ جنگ کے نعرے ”Make Iran Great Again“ کی بھی اندھا دھند تقلید کرتے ہیں، تاکہ اسے خوش کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

عوامی حمایت کی کمی نے رضا پہلوی اور جلاوطن پاگل حامیوں کو نہیں روکا کہ وہ جعلی احتجاجی ویڈیوز پھیلائیں، جن میں کچھ میں نعرے بھی ایڈٹ کیے گئے ہیں اور کچھ تو پوری طرح AI کے ذریعے بنائی گئی ہیں۔ اگرچہ چند ویڈیوز اصلی بھی ہو سکتی ہیں، لیکن غلط معلومات کی سطح اتنی زیادہ ہے کہ یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور جعلی کیا ہے، جبکہ X اور انسٹاگرام شاہ پرست بکواس سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ مغربی میڈیا بھی جعلی مواد پھیلا رہا ہے، اس لیے واحد قابل اعتماد ذرائع وہ ایران میں مقیم ٹیلیگرام چینلز ہیں جو خود انقلابی نوجوانوں اور مزدوروں کے زیر انتظام ہیں۔

ایران سے دفع ہو جاؤ! تمام ظالموں مردہ باد، شاہ ہوں یا ملا!

یہ سب کچھ دراصل ملا حکومت کے لیے ایک جواز فراہم کرتا ہے۔ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ احتجاج غیر ملکی دراندازی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے مبینہ شاہ پرستوں کے جھوٹے اعترافات تک لائیو نشر کیے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بہت سوں کو بے نقاب کر دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔

عوام کے حقیقی خدشات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، حکومت انٹرنیٹ کی بندش سے قبل بڑے شہر اصفہان میں حکومت کے حق میں ایک مظاہرے کے لیے ہزاروں افراد کو متحرک کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اب تین روزہ سوگ کے اعلان اور اتوار کو حکومت کے حق میں نئے مظاہروں کی کال کے بعد، ہم یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ وہ کس حد تک اپنی طاقت دکھا پاتے ہیں۔

مغرب اور شاہ پرستوں کی مداخلت عوام میں کنفیوژن پیدا کرتی ہے۔ عوام کو شاہ کی حکومت یاد ہے، ایک ظالمانہ آمریت جہاں انہیں کوئی جمہوری حقوق حاصل نہیں تھے ایک ایسی حکومت جو انتہائی عدم مساوات اور بدعنوانی میں مبتلا تھی اور ایسی حکومت جو سامراجیوں کو ایران لوٹنے کی اجازت دیتی تھی۔

عوام درست طور پر سمجھتے ہیں کہ سامراجی طاقتیں ایران کو دوبارہ اپنی تابعداری کی حالت میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔ وہ اس تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں جو سامراجیت نے خطے پر مسلط کی ہے یعنی؛ غربت، عراق، شام اور یمن کی تباہی، فلسطینیوں کی نسل کشی اور اس جیسے دیگر مظالم۔

اس طرح پیدا ہونے والا کنفیوژن سڑکوں پر ایک انتہائی ہنگامی صورتحال پیدا کرتا ہے، جس سے کچھ طبقات میں خوف کا ماحول جنم لیتا ہے، احتجاج کمزور پڑ جاتے ہیں اور حکومت کو ظالمانہ کریک ڈاؤن کے لیے موقع ملتا ہے۔ کسی واضح قیادت کی غیر موجودگی نے تو اس انتشار کو اور بھی زیادہ ممکن بنایا ہے۔ اگر پہلے ہی کوئی انقلابی قیادت قائم ہوتی، تو ایرانی عوام 2018ء سے اب تک اسلامی جمہوریہ کو کئی بار گرا سکتے تھے۔ اس کی بجائے آج طبقاتی جدوجہد ایک خونریز اور ظالمانہ معاملے میں تبدیل ہو گئی ہے۔

ایرانی انقلابیوں کو فوری طور پر ایک واضح انقلابی متبادل قائم کرنا چاہیے، جس کا ایک پروگرام ہو جو ایرانی محنت کش طبقے کے ساتھ جڑ سکے اور یہ پروگرام مکمل طور پر طبقاتی طور پر آزاد ہو۔ ایسا پروگرام 2018ء سے اب تک اٹھائے گئے سیاسی اور معاشی مطالبات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

ایسی قیادت کی عدم موجودگی میں صورتحال تیزی سے مزید خراب ہو سکتی ہے۔ حکومت کے خلاف فوجی مداخلت عوام کے لیے ایک تباہی ثابت ہو گی اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اس کے ذریعے واقعی حکومت کو ہٹایا جا سکے گا یا نہیں۔ ایک اور امکان یہ ہے کہ حکومت کے اندر ہی سے کوئی بغاوت (Palace coup) ہو، جس میں کچھ عناصر صرف اپنی جان بچانے کی کوشش کریں۔

حالات چاہے کیسے بھی ہوں یہ بات واضح ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے دن گنے جا چکے ہیں۔ 2018ء سے صورتحال ناقابلِ برداشت رہی ہے، مسلسل ہڑتالیں، معاشی احتجاجات، اور نوجوانوں کی پرتشدد بغاوتیں جاری ہیں، جس میں ہر دوسرے سال سینکڑوں ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہوتے ہیں۔ لیکن سامراجی خطرہ اور کسی واضح انقلابی متبادل کی کمی نے نہ صرف حکومت کے خاتمے کو ایک خونریز معاملہ میں بدل دیا ہے، بلکہ اب یہ ایران کے قومی وجود کی بربادی، ملک کی لوٹ مار اور دیگر مظالم کا خطرہ بھی پیدا کر رہا ہے۔

اگرچہ حکومت کو ختم کر دیا جائے، صرف اس سے اقتدار میں موجود لوگوں کو بدلنا کافی نہیں ہو گا۔ مسئلہ ملا یا پہلوی نہیں ہیں؛ یہ صرف ایک ہی حکمران طبقے کے مختلف گروہ ہیں۔ ایرانی سرمایہ داری اپنی پیچیدہ نوعیت کی وجہ سے بار بار آمریت اور غربت کے حالات پیدا کرتی رہی ہے۔ صرف محنت کش طبقے کے ذریعے اقتدار کا قبضہ اس دہرائے جانے والے چکر کو ختم کر سکتا ہے۔

ایرانی کمیونسٹوں کو انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کے لیے زمین تیار کرنی چاہیے، جو حکومت کے گرنے کے بعد تیزی سے مضبوط ہو۔ اس دوران، مغربی سامراجی ممالک میں موجود محنت کش طبقے کو اپنی پوزیشن اور طاقت استعمال کرنی چاہیے تاکہ ایران میں نئی سامراجی مہم کو روکا جا سکے۔ اس لیے مغرب کے کمیونسٹوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے حکمران طبقے کی چوری اور سازشوں کو بھرپور طریقے سے بے نقاب کریں۔

Comments are closed.