ایران: ملک گیر انقلابی تحریک! امریکی سامراج اور ملاؤں کی ریاست مردہ باد!

|تحریر: ایرانی کمیونسٹ، ترجمہ: عبداللہ عمران|

29دسمبر کو ایرانی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر گر گئی، جس کے نتیجے میں تہران کے مرکزی بازار میں ہڑتال کا آغاز ہوا اور مرکزی شاہراہوں پر بڑے پیمانے پر جلوس نکل آئے۔ مظاہرین کے نعرے تھے ”بند کرو، بند کرو!“ ”آمر مردہ باد!“ ”!مہنگائی مردہ باد!“ اور ”یہ آخری پیغام ہے؛ ہدف پوری آمریت ہے۔“

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس کے بعد احتجاجی مظاہرے ملک بھر میں نوجوانوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان سڑکوں پر جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے۔ ملک کے 31 صوبوں میں سے 26 کے اندر 70 سے زائد شہر اور قصبے متاثر ہوئے ہیں۔ قومی اقلیتوں کے علاقوں اور صوبوں میں یہ تحریک خاص طور پر مضبوط ہے۔ صورتحال بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور یہ واضح نہیں کہ آیا یہ جلد ہی ایک اور مکمل ملک گیر بغاوت کی شکل اختیار کرے گی یا نہیں۔

دوسرے دن ہی بازار کی ہڑتالیں تیزی سے ہمدان، قشم، مشہد، اصفہان اور زنجان تک پھیل گئیں۔ اسی دوران تہران کی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے احتجاج شروع ہو گئے، جہاں یہ نعرے لگائے گئے ”تمام ظالموں کو موت ہو! چاہے وہ شاہ ہو یا سپریم لیڈر!“ ”میں اپنے ساتھیوں کے خون کی قسم کھاتا ہوں، ہم آخر تک ڈٹے رہیں گے!“ اور ”آزادی، آزادی، آزادی“۔

سکیورٹی فورسز نے ابتدا میں غیر فعال رویہ اختیار کیا اور زیادہ تر مظاہروں کا مشاہدہ کرتی رہیں۔ حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں میں اپنے حامیوں کے ذریعے جوابی ریلیاں نکالنے کی کوششیں اس انقلابی لہر کے مقابلے میں انتہائی کمزور ثابت ہوئیں۔

بازار کے احتجاجی مظاہروں کے دوران عمر رسیدہ شرکا اکثر نوجوان مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کھڑے ہو جاتے تھے اور کئی مواقع پر سکیورٹی اہلکاروں کو خود پر حملہ کرنے کا چیلنج بھی دیتے تھے۔ اسی دوران تہران میں امیر کبیر یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں طلبہ نے کامیابی کے ساتھ سکیورٹی فورسز اور حکومت نواز طلبہ دونوں کو اپنے کیمپسز سے نکال دیا۔

حکومت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی اور 31 دسمبر کو سرکاری تعطیل کا اعلان کیا، اس امید کے ساتھ کہ اس اقدام سے ملک بھر میں پھیلتے ہوئے احتجاج رک جائیں گے۔ اسی دوران رات کے وقت درجنوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا، جس کے نتیجے میں طلبہ ہاسٹلوں کے قریب احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ سکیورٹی فورسز نے براہ راست گولیوں کا استعمال شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں پہلے نوجوان شہید ہوئے۔ اس اقدام کا الٹا اثر ہوا اور نوجوانوں میں غم و غصہ مزید شدت اختیار کر گیا۔

نوجوانوں کے شدید ردعمل میں، جب انہوں نے حکومت اور اس کی سکیورٹی فورسز کے خلاف عملی مزاحمت شروع کی، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، آگ لگائی گئی اور ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کاروائیوں میں عدالتوں کو نذر آتش کرنا، پولیس اسٹیشنوں اور جمعہ کے اماموں کے دفاتر پر حملے شامل تھے۔ ایک اہم واقعے میں انہوں نے فسا شہر میں گورنر ہاؤس پر بھی دھاوا بول دیا۔

یکم جنوری کو بازار کی ہڑتالیں دوبارہ شروع ہوئیں اور پورے ایران میں 32 شہروں تک پھیل گئیں۔ طلبہ احتجاج بھی سڑکوں تک پھیلنے لگے، کیونکہ حکومت نے بیشتر یونیورسٹیوں کو یا تو مکمل طور پر بند کر دیا تھا یا انہیں صرف آن لائن تعلیم تک محدود کر دیا تھا۔ یہ احتجاج صوبوں میں مزید وسیع پیمانے پر سامنے آئے، خاص طور پر قومی اقلیتوں کے علاقوں میں، جن میں لُر، بختیاری، بلوچ اور کرد آبادی والے علاقے شامل ہیں۔

درست اعداد و شمار کا حصول مشکل ہے، تاہم ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں درجنوں افراد حکومت کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں اور ان کے جنازے پہلے ہی عوامی احتجاج کے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ مرودشت میں سوگواروں کے ایک بڑے اجتماع نے یہ نعرہ لگایا ”میں اپنی بہن کو قتل کرنے والوں کو قتل کروں گا۔“ جنازوں میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی اکثر شدید جھڑپوں کا باعث بنتی ہے، جن کے نتیجے میں انہیں وہاں سے پسپا ہونا پڑتا ہے۔

2018ء سے ایران میں طبقاتی جدوجہد کا ایک شدید دور جاری ہے جس کی پہچان معاشی مطالبات پر مسلسل احتجاج ہیں جن میں ٹرک ڈرائیوروں، اساتذہ، تیل کے مزدوروں اور دیگر شعبوں کی ہڑتالیں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 2018ء، 2019ء اور 2022ء میں ملک گیر نوجوانوں کی بغاوتیں بھی ہوئیں ان تمام تحریکوں کو آخرکار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جن میں 2022ء کی ”زن، زندگی، آزادی“ کی بغاوت بھی شامل ہے جو چار ماہ تک جاری رہی اور ہر شہر اور قصبے تک پھیلی مگر محنت کش طبقے میں گہرائی تک سرایت نہ کر سکی۔

پہلے ہی کچھ آزاد مزدور تنظیمیں جاری احتجاج کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں جن میں ٹرک ڈرائیورز یونین، اساتذہ کی یونینوں کی رابطہ کونسل اور ہفت تپہ شوگر کین ورکرز سنڈیکیٹ شامل ہیں۔ تاہم صرف حمایت کے بیانات کافی نہیں۔ ایسے بیانات 2022ء میں بھی دیے گئے تھے حتیٰ کہ مزدوروں کی جانب سے عام ہڑتال شروع کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں مگر ایک واضح طبقاتی متبادل موجود نہیں تھا جو خاص طور پر اس وقت خطرناک ہے جب مغربی سامراجی قوتیں اس تحریک کو اپنے حق میں ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ملا ریاست کی موت

اسرائیلی اور امریکی سامراج کے مسلسل بیرونی خطرے کے باوجود ایرانی عوام کی موجودہ حالت ناقابل برداشت ہے۔ حتیٰ کہ خود حکومت بھی تسلیم کرتی ہے کہ ایرانیوں کی بھاری اکثریت غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق صرف پچھلے سال خوراک کی اشیا پر افراطِ زر 42 فیصد تھا، گوشت کی کھپت تقریباً آدھی رہ گئی ہے اور غریب ترین مزدوروں میں ادھار پر روٹی خریدنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ اسی دوران بجلی کی باقاعدہ بندش ہو رہی ہے اور شدید آبی قلت بھی ہے جو کسانوں کو مزید غریب بنا رہی ہے اور شہری آبادی پر ذخیرہ اندوزی مسلط کر رہی ہے۔

سامراجیوں نے امریکی قیادت میں لگائی گئی پابندیوں کے ذریعے ایرانی عوام کے لیے اس ڈراؤنے خواب کو جنم دینے میں مجرمانہ کردار ادا کیا ہے، جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی یونین میں اس کے تابعداروں نے مزید سخت کر دیا۔ لیکن اسلامی جمہوریہ کی منافقت بھی عوام کو مشتعل کرتی ہے۔ جہاں یہ سنگین چور ”مزاحمتی معیشت“ کی بات کرتے ہیں، وہیں ان کے زیِر سایہ ایران ڈالر ارب پتیوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں 14ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ وہ سرمایہ دار طبقہ جو اس نظام کے پیچھے کھڑا ہے، ان پابندیوں سے متاثر نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، انہوں نے محنت کش طبقے کی قیمت پر خود کو مزید امیر کیا ہے۔

نظام پرستوں کے چلائے گئے مالیاتی اسکیموں کے اسکینڈل مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں۔ اسی دوران وہ وسیع ریاستی شعبے کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں۔ وہ کارخانوں کو واقعی چلانے کی بجائے انہیں لوٹنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ادھر حکومت خسارے پورے کرنے کے لیے سخت کفایت شعاری بڑھانے کی بجائے نوٹ چھاپنے کو ترجیح دیتی ہے، مگر یہ طریقہ تیزی سے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ مارچ میں آنے والے بجٹ میں سبسڈیز میں کٹوتیاں شامل ہوں گی۔

طویل عرصے تک عوام اس نظام کو برداشت کرتے رہے۔ کم از کم ان کا خیال تھا کہ یہ حکومت مغربی سامراج کی مسلسل فوجی مہم جوئیوں کو روکے رکھے گی۔ لیکن اب نہ صرف عوام شدید معاشی بدحالی کا شکار ہیں، بلکہ حکومت سامراجی یلغار روکنے میں بھی ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں شام میں اسد حکومت کا زوال اور حزب اللہ پر کاری ضربیں دیکھنے میں آئیں۔ سب سے بڑھ کر 12 روزہ جنگ نے سب پر اس نظام کی کمزوری اور نظام کے خوشامدیوں میں موجود بدعنوانی کی ثقافت کو بے نقاب کر دیا۔ یہی وہ عوامل تھے جنہوں نے اسرائیل کو ایرانی معاشرے اور خود حکومت میں دراندازی کا موقع دیا۔ متاثر کن بیلسٹک میزائلوں کے باوجود ایران آج عراق۔ایران جنگ کے بعد کسی بھی وقت سے زیادہ کمزور ہے۔

2018ء سے حکومت کے اندر بنیاد پرست اور ”اعتدال پسند“ دھڑوں کے درمیان دراڑیں باقاعدگی سے کھلتی رہی ہیں، کیونکہ وہ ہر ایک سیاسی پالیسی پر بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی میں ان کے مخمصوں میں یہ شامل ہے کہ آیا پابندیوں میں نرمی کے لیے امریکی سامراج کے سامنے ذلت آمیز رعایتیں دی جائیں یا چین کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کیے جائیں، جو انتہائی کم قیمت پر تیل خریدتا ہے اور دفاعی ہتھیار فراہم کرنے پر آمادہ نہیں۔ اندرون ملک وہ اس بحث میں الجھے ہیں کہ ریاستی شعبے کی نجکاری کی جائے یا بدعنوان جمود برقرار رکھا جائے اور پاگل کتوں کی طرح ایک دوسرے پر الزام تراشی جاری رکھتے ہیں۔

12روزہ جنگ نے وقتی طور پر دراڑوں پر پردہ ڈال دیا اور عوام کو قومی پرچم تلے جمع کر دیا۔ بتدریج، حکومت کی پروپیگنڈا زبان اسلامی کی بجائے سیکولر قوم پرستانہ رنگ اختیار کر گئی ہے۔ درحقیقت، سامراجی جارحیت کے خلاف قومی دفاع ہی وہ واحد نعرہ ہے جس کے تحت حکومت کچھ باقی ماندہ حمایت سمیٹ سکتی ہے۔ مگر اسرائیلی دراندازی کی رسوائی اور صیہونیت کے سامنے ڈٹنے میں حکومت کی کمزوری کے پیش نظر یہ سہارا بھی تیزی سے کمزور پڑ رہا ہے۔

سیکولر قوم پرستی پر یہ انحصار اس بات کی علامت ہے کہ پرانا مذہبی پروپیگنڈا اب مکمل طور پر غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پر، خواتین باقاعدگی سے لازمی حجاب کے قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ 2022ء کے بعد سے حکومت اس مسئلے پر منقسم ہے اور بالآخر اس کے نفاذ کو اس لیے ترک کر رہی ہے کہ ایسا کرنا عوامی ردعمل اور ممکنہ طور پر طبقاتی و سماجی تناؤ کے انبار کے درمیان کسی بڑے سماجی دھماکے کے خطرے کے بغیر ممکن نہیں۔

موجودہ احتجاجوں کے سامنے یہ تقسیمیں ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہیں۔ آغاز میں ”اعتدال پسند“ صدر پزشکیان کا ردعمل پرسکون رہا۔ وہ خود کو ضبط اور مکالمے کی اپیل تک محدود رکھ رہا تھا۔ اس کے برعکس، سپریم لیڈر نے تیزی سے مداخلت کرتے ہوئے اصرار کیا کہ بدامنی کو زبردستی کچلا جائے اور چیلنج کرنے والوں کو ان کی اوقات یاد دلائی جائے، جو شدید جبر کی طرف تیز موڑ کا اشارہ ہے۔ اسی دوران، مظاہرین نے پوری سیاسی اسٹیبلشمنٹ کو مسترد کر دیا ہے، جو دونوں دھڑوں سے واضح لاتعلقی اور اس نظام اقتدار سے قطع تعلق کا اعلان ہے، جسے وہ ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے ہیں۔

طبقاتی جدوجہد کے ساتھ سیاسی بحران کی شدت میں مزید اضافہ ہی ہو گا۔ ان حالات میں حکومت کے کچھ حصے خود کو بچانے کے لیے اقتدار کے ایوانوں میں بغاوت کی کوشش پر بھی آمادہ ہو سکتے ہیں، تاکہ پابندیوں میں کچھ نرمی کے بدلے ملک کو مغرب کے لیے کھول دیا جائے۔ ایسا اقدام عوام کے لیے صرف مزید سنگین اور المناک نتائج ہی لا سکتا ہے۔

تمام ظالموں کو موت! خواہ وہ شاہ ہو یا سپریم لیڈر!

2018ء سے اب تک عوام کئی بار اس نظام کو گرا سکتے تھے، مگر عوام کو متحد کرنے والا ایک واضح انقلابی متبادل بالخصوص نوجوانوں اور محنت کش طبقے میں موجود نہیں تھا۔ اب طلبہ نے درست طور پر یہ نعرہ مقبول کر دیا ہے: ”تمام ظالموں کو موت! خواہ وہ شاہ ہو یا سپریم لیڈر!“۔ انہوں نے 2022ء سے سبق سیکھ لیا ہے۔

اسی دوران نعرہ ”زن، زندگی، آزادی“ اب طلبہ کے درمیان بھی خاصا غیر مقبول ہو چکا ہے، کیونکہ اسے سامراجیوں نے اس قدر داغ دار اور ہائی جیک کر لیا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ احتجاجوں میں عورتوں کے مطالبات پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ 2022ء کی طرح آج بھی عورتیں اکثر قیادت میں نظر آتی ہیں اور عورتوں کی آزادی سے متعلق نعرے خصوصاً طلبہ کے درمیان عام ہیں۔

مغربی سامراجی طاقتیں بالخصوص اسرائیل اور امریکہ، اپنے ایرانی شاہ پرست چاپلوسوں کے ساتھ مل کر بیرون ملک سے ہی ان احتجاجوں کو دھمکیاں دے رہی ہیں۔ 2 جنوری کو ٹرمپ نے فوجی مداخلت کی دھمکی دیتے ہوئے کہا: ”اگر ایران گولیاں چلاتا ہے اور پرامن مظاہرین کو پرتشدد طریقے سے قتل کرتا ہے، تو امریکہ مداخلت کرے گا اور انہیں بچائے گا۔“

ایکس پر موساد کے فارسی اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ میں کہا گیا: ”آؤ، ہم سب مل کر سڑکوں پر نکلیں۔ وقت آ چکا ہے۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ صرف دور سے اور زبانی نہیں، بلکہ میدان میں بھی تمہارے ساتھ ہیں“۔

ان مجرموں کا ایرانی عوام سے کوئی تعلق نہیں اور ملک کے اندر بھی صرف ایک نہایت چھوٹی اقلیت (جس میں بیروِن ملک موجود بدحواس چھوٹا سا بورژوا طبقہ شامل ہے) ہی ان سے کسی قسم کا رشتہ رکھنا چاہتی ہے۔

خود اسرائیل کے لبرل اخبار Haaretz نے یہ بے نقاب کیا کہ ایرانی شاہ پرست، جن کی قیادت جلا وطن شہزادہ رضا پہلوی کر رہا ہے، اسرائیلی ریاست کی پشت پناہی میں ہیں۔ اب وہ ایران میں شاہ پرستی کے نعروں کی ویڈیوز گھڑ رہے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں۔ اسی دوران، یہ غلیظ پروپیگنڈا غیر ملکی فارسی نیوز اداروں، جیسے Iran International اور Radio Farda، کے ذریعے بھی پھیلایا جا رہا ہے، جنہیں سامراجی طاقتوں اور اس ایرانی شاہ پرست اشرافیہ کی مالی مدد حاصل ہے جو اربوں ڈالر لے کر ایران چھوڑ گئی تھی۔

اس بغاوت میں غلط معلومات کی سطح پچھلی تمام تحریکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ انسٹاگرام اور ایکس شاہ پرست لبرل پروپیگنڈے سے بھرے پڑے ہیں، یہاں تک کہ یہ جاننا مشکل ہو گیا ہے کہ اصل خبر کیا ہے اور جعلی کیا۔ اس کنفیوژن کا براِہ راست اثر ایرانی عوام پر پڑ رہا ہے۔

یہ سب اسلامی جمہوریہ کی پروپیگنڈا مشینری کے لیے محض ایندھن ہے اور اس کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں۔ انفرادی شاہ پرست کبھی کبھار 2018ء کے بعد سے احتجاجوں میں نظر آئے ہیں، مگر ہر بار انہیں کنارے لگا دیا گیا اور بعض اوقات درست طور پر دوسرے مظاہرین نے انہیں مارا پیٹا بھی۔ چند ایک تو باقاعدہ طور پر نظام کے اشتعال انگیز ایجنٹ کے طور پر بھی شناخت ہوئے۔ ایرانی عوام شاہی آمریت کے وحشت ناک دور کو یاد رکھتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ نے صرف جبر اور بدعنوانی کے انہی طریقوں کو مزید کامل کیا ہے۔

یہی جزوی طور پر محنت کشوں اور نوجوانوں کے درمیان موجود خلیج کی جڑ ہے۔ محنت کش طبقہ نوجوانوں کی بار بار اٹھنے والی تحریکوں سے ہمدردی رکھتا ہے، مگر وہ سامراجیوں سے ہوشیار ہے اور اس بات پر غیر یقینی کا شکار ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے بعد کیا ہو گا۔ کسی اور سے بڑھ کر، وہ شاہی آمریت کے مظالم اور ملک میں مغربی سامراج کی سفاک تاریخ کو جانتے ہیں: محنت کشوں اور کمیونسٹوں پر جبر، استحصال، فوجی بغاوتیں اور ایران کو ایک قوم کے طور پر توڑنے کی کوششیں۔

اسی وقت، ہر کوئی مشرق وسطیٰ میں مغربی سامراجیوں کے جرائم دیکھ سکتا ہے؛ عراق اور شام کی تباہی، فلسطین میں جاری نسل کشی اور خطے کی عمومی تباہ حالی جو تابعدار حکمران طبقوں اور ان کے مغربی سامراجی آقاؤں کے ہاتھوں مسلط کی گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ آدم خور طاقتیں ایک بار پھر ایران کو غلام بنانا چاہتی ہیں تاکہ ملک کو بھی باقی خطے کی طرح اپنے جوتے تلے روند سکیں۔

یہ صورتحال انقلابی نوجوانوں پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔ اس کے لیے مغربی سامراج سے مکمل اور غیر مشروط آزادی درکار ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، اسرائیل یا امریکہ جیسے اداروں سے کسی بھی قسم کی مدد کی اپیل نہیں کی جا سکتی۔ ایک طرف اس لیے کہ یہ درندے ایرانی عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں رکھتے اور دوسری طرف اس لیے کہ انہیں صاف اور دو ٹوک انداز میں مسترد کیے بغیر نوجوان محنت کش طبقے کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتے۔

مغربی سامراجی ممالک میں موجود کمیونسٹوں کا بھی ایک اہم کردار ہے۔ انہیں واضح طور پر کہنا ہو گا: ”ایران سے ہاتھ اٹھاؤ!“ اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹنا صرف اور صرف ایرانی محنت کش طبقے کا کام ہے۔ انہیں اپنے ہی حکمران طبقات کی منافقت کو بھی بے نقاب کرنا ہو گا، جو جلا وطن شاہ پرستوں کو سہارا دے رہے ہیں، بشمول اس حمایت کے جو انہیں سامراجی بورژوا پریس کے ذریعے حاصل ہو رہی ہے۔

ملا ریاست مردہ باد! ایک سوشلسٹ ایران کی جانب بڑھو!

ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ احتجاج برقرار رہیں گے یا نہیں لیکن نوجوان اور طلبہ خود سے ملاؤں کی ریاست کا تختہ نہیں الٹ سکتے۔ تنہائی کی صورت میں اس کا انجام بھی 2022ء کی بغاوت کی طرح انہی سفاک نتائج پر ہو گا۔

محنت کش طبقے کو اجتماعی طور پر شرکت کرنی چاہیے، کیونکہ پیداوار میں اپنے کردار کی وجہ سے وہ پورے معاشرے کو مفلوج کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ مزدور طبقے کی اجازت کے بغیر نہ کوئی پہیہ گھومتا ہے اور نہ کوئی بلب جلتا ہے۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے دوران 1979ء کی عام ہڑتال ہی تھی جس نے شاہی حکومت کو فیصلہ کن ضرب لگائی۔ سڑکوں پر مزدوروں کی وسیع شرکت نے سکیورٹی فورسز کو مفلوج کر دیا اور ان کے انہدام کا عمل شروع ہوا۔

یہ انقلابی روایات آج بھی پوری طرح زندہ ہیں۔ 2022ء کی بغاوت میں نوجوانوں نے فطری طور پر عام ہڑتال کا نعرہ لگایا۔ لیکن صرف ”عام ہڑتال“ کا نعرہ لگانا کافی نہیں۔ ایک ایسے پروگرام کی ضرورت ہے جو اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کو محنت کش طبقے کے مطالبات سے جوڑے اور یہ واضح کرے کہ حکومت کا خاتمہ کوئی تماشا نہیں ہو گا جس میں ایک آمریت کی جگہ دوسری آمریت آ جائے۔

ایسا پروگرام محنت کش طبقے کے موجودہ مطالبات کو شامل کرے گا، جن میں مناسب اجرت اور پنشن، کفایت شعاری کی پالیسیوں کا خاتمہ، ریاستی شعبے میں مزدوروں کے کنٹرول کا نفاذ، ملکی معیشت کی بحالی کے لیے بڑے عوامی ترقیاتی منصوبے اور ان سب کی مالی معاونت کے لیے بینکوں اور بڑی کمپنیوں کو عوامی تحویل میں لینا شامل ہے۔

سیاسی مطالبات میں ہر قسم کے جبر کا خاتمہ اور صنفی امتیاز اور قومیت سے قطع نظر قانون کے تحت مساوی حقوق شامل ہوں گے۔ ان مطالبات میں پولیس، بسیج اور انقلابی گارڈز کی نیم فوجی تنظیموں، نیز خفیہ اداروں کے خاتمے اور تمام سیاسی قیدیوں کے لیے عام معافی کا مطالبہ بھی شامل ہونا چاہیے۔

موجودہ احتجاجی تحریک کا انجام کچھ بھی ہو، یہ صرف آغاز ہے۔ 2018ء کے بعد سے ہر ناکام بغاوت، ہڑتال اور عوامی تحریک نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف جدوجہد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ایسے ہی پروگرام کی بنیاد پر یہ تحریک ایک حقیقی انقلاب میں ڈھل سکتی ہے، جو معاشرے میں ایک طاقتور عوامی قوت بن کر تمام مظلوم طبقات کو متحد کرے اور حکومت کا تختہ الٹ دے۔

لیکن اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے باوجود عوام کے مطالبات ایرانی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے بغیر پورے نہیں ہو سکتے۔ ایرانی محنت کش طبقے اور غریبوں کو خود اقتدار پر قبضہ کرنا ہو گا، کسی کو بھی یہ اختیار نہ دینے دیتے ہوئے کہ وہ ان سے طاقت چھین لے اور ایک سوشلسٹ جمہوریہ تعمیر کرنی ہو گی۔ ایرانی کمیونسٹوں کو ابھی سے اپنی قوتیں منظم کرنی چاہئیں اور صبر کے ساتھ سوشلسٹ انقلاب کی ناگزیر ضرورت کی وضاحت کرنی چاہیے۔

Comments are closed.