وینزویلا پر امریکی حملہ اور ٹرمپ کی کھلی بدمعاشی

|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: تسبیح خان|

امریکی فوج کی جانب سے وینزویلا میں کی گئی مجرمانہ مداخلت اور ایک برسرِ اقتدار غیر ملکی سربراہِ ریاست کو اغوا کرنا، ٹرمپ کی نئی ”قومی سلامتی حکمتِ عملی“ کا پہلا عملی نتیجہ ہے۔ واشنگٹن مغربی نصف کرہ ارض پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے، جسے وہ اپنا ذاتی حلقہ اثر اور اپنے گھر کا صحن سمجھتا ہے اور اس خطے سے کسی بھی ”غیر مغربی طاقت“، خصوصاً چین کو باہر نکالنا چاہتا ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

وینزویلا میں فوجی کاروائی کے بعد ایک اشتعال انگیز پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں ٹرمپ اور امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے امریکی طاقت کے مظاہرے پر فخریہ انداز میں خوشی کا اظہار کیا اور اس کے ساتھ ساتھ کولمبیا، میکسیکو اور کیوبا کو کھلی دھمکیاں دیں۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ٹرمپ نے گرین لینڈ سے متعلق اپنے سابقہ بیانات کو بھی دہرایا ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ ”قومی سلامتی کے تقاضوں“ کے تحت درکار ہے اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ”دو مہینوں کے اندر“ اس معاملے سے نمٹ لے گا۔ یہ محض کھوکھلی دھمکیاں نہیں ہیں۔

منشیات کی اسمگلنگ، ایک من گھڑت جواز

بات بالکل واضح ہے، ایک خودمختار ریاست کے خلاف کی گئی یہ کھلی اور بے خوف امریکی فوج کی سامراجی کاروائی کسی بھی طور منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق نہیں تھی، حالانکہ ٹرمپ نے ابتدا میں یہی دلیل پیش کی تھی لیکن یہ حقیقت سب جانتے ہیں اور سب سے بڑھ کر خود امریکی انٹیلی جنس ادارے جانتے ہیں کہ فینٹانائل ڈرگ وینزویلا سے نہیں آتا، اسی طرح وینزویلا کوکین پیدا کرنے والا ملک ہے اور نہ ہی اس کی ترسیل میں کوئی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جس نام نہاد ”کارٹیل دے لوس سولیس“ کا حوالہ دیا جاتا ہے، وہ دراصل کوئی حقیقی تنظیم نہیں۔ اور اگر ماضی میں اس نام سے کچھ سرگرمیاں موجود رہی بھی ہوں، تو وہ 1990ء کی دہائی میں سی آئی اے کی چالبازی پر مبنی ایک کاروائی سے جڑی تھیں، جو وینزویلا کی فوج کے بعض افسران کے ساتھ مل کر کی گئی تھی۔ یہ سب کچھ ہوگو شاویز کے اقتدار میں آنے سے بہت پہلے ہوا تھا۔

گزشتہ پانچ مہینوں کے دوران کیریبین اور بحرالکاہل میں چھوٹی تیز رفتار کشتیوں پر کیے گئے فضائی حملوں کا امریکہ میں جاری منشیات کے بحران سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا اصل مقصد طاقت کا مظاہرہ کرنا اور سامراجی دباؤ کے ذریعے وینزویلا کو واشنگٹن کے احکامات کے سامنے جھکانا تھا۔

امریکی حملے اور صدر مادورو کے اغوا کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک میں موجود لبرل حلقوں نے شدید احتجاج کیا اور اسے ایک غیر قانونی اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کاروائی نام نہاد ”قواعد پر مبنی عالمی نظام“ کی صریح خلاف ورزی ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ اور آرگنائزیشن آف امیرکن سٹیٹس (OAS) اس معاملے میں مداخلت کریں۔

حتیٰ کہ نیویارک ٹائمز نے بھی ایک اداریہ شائع کیا جس میں ٹرمپ کے اقدامات کی مخالفت کی گئی، اس بنیاد پر کہ یہ ”غیر قانونی“ اقدامات تھے۔ تاہم اس معاملے میں نیویارک ٹائمز کا رویہ خاص طور پر منافقانہ تھا، کیونکہ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ اس کے صحافیوں کو حملے کی پیشگی اطلاع تھی، لیکن انہوں نے جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی تاکہ کاروائی میں کوئی خلل نہ پڑے۔ یہی ان کی ٹرمپ کی مجرمانہ اور غیر قانونی پالیسیوں کے خلاف نام نہاد ”مخالفت“ کی اصل حقیقت اور منافقانہ کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ”بین الاقوامی قانونی نظام“ طاقتوروں کی بزور قوت حکمرانی کو چھپانے کے لیے محض ایک پردہ ہے۔ امریکی صدور نے کبھی قانونی باریکیوں کی پروا نہیں کی اور ان میں سے بہت سوں نے، چاہے ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، بیرون ملک فوجی جارحیت کے لیے امریکی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ جب انہیں اپنے سامراجی منصوبوں کے لیے اقوامِ متحدہ کاسیاسی یا قانونی سہارا مل جاتا ہے تو ان کے لیے اپنے منصوبوں کو پورا کرنا قدر آسان ہو جاتا ہے اور جب ایسا کوئی سہارا دستیاب نہ ہو، تو وہ قانون کے رسمی تقاضوں کی پرواہ کیے بغیر ہی آگے بڑھتے ہیں۔

ہم وینزویلا پر امریکی حملے اور مادورو کے اغوا کی مخالفت کسی قانونی موشگافی کے نقطہ نظر سے نہیں کرتے (کیا اگر اسے امریکی کانگریس کی منظوری حاصل ہوتی تو یہ قابلِ قبول ہو جاتا؟) بلکہ ہم اس کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ اپنی بنیاد میں ایک سامراجی جارحیت ہے، جو امریکہ کے حکمران طبقے کے مفادات کے حق میں اور دنیا بھر کے محنت کش عوام کے مفادات کے خلاف ہے۔

مادورو کے اغوا کو امریکی سامراجیت کے ماضی کے رویوں سے ہٹ کر دیکھنا ایک غلط فہمی ہو گی۔ غیر ملکی سربراہانِ ریاست کو قتل کرنا (جیسے لومومبا، الینڈی، قذافی وغیرہ) اور فوجی بغاوتوں کے ذریعے حکومتوں کا تختہ الٹنا جیسے کیوبا، گوئٹے مالا، برازیل، ڈومینیکن ریپبلک، ایران، چلی، ارجنٹائن، پیراگوئے، بولیویا، وینزویلا، گریناڈا اور دیگر کئی ملکوں میں، امریکی سامراجیت اور سی آئی اے کے لیے معمول کے حربے رہے ہیں۔ پاناما کے صدر مانوئل نوریگا اور ہیٹی کے صدر آرسٹائڈ کو بھی امریکی فوجی مداخلتوں کے دوران 1989ء اور 2004ء میں اپنے ممالک سے اغوا کیا گیا تھا۔

اگر کچھ نیا ہے تو وہ یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کی موجودہ کابینہ کو غیر ملکی مداخلت کے لیے سنجیدہ ٹھوس بہانوں اور جواز پیش کرنے کی کوئی خاص پرواہ نہیں ہے۔ انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق، بین الاقوامی قانون یا سرحدوں کی خلاف ورزی جیسے ”قانونی“ بیانات کا سہارا لے کر امریکی مقاصد کو چھپانے کی کوشش یہاں نظر نہیں آتی بلکہ ایک بدمعاش کی طرح کاروائیاں سر انجام دی جا رہی ہیں۔ ٹرمپ نے بے شرمی سے کھل کر وہی بات کہی جسے اکثر طاقتور ممالک خاموشی سے کرتے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر، 3 جنوری 2026ء کو ایک پریس کانفرنس میں اس نے واضح طور پر کہا کہ امریکہ وینزویلا کو براہِ راست چلائے گا اور وینزویلا کے تیل کو امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کیا جائے گا۔

جمہوریت کی بحالی؟

جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے، امریکی نیشنل سیکیورٹی سٹریٹجی کے دستاویز میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ امریکہ دوسرے ممالک پر جمہوری حکومت نافذ نہیں کرے گا، وہ صرف اس بات کی پرواہ کرے گا کہ وہاں دوستانہ حکومتیں قائم ہوں (یعنی وہ جو واشنگٹن کا حکم بجا لائیں)۔ یعنی اس کا مقصد حقیقت میں جمہوریت نہیں بلکہ ایسے ٹھیکیدار ہیں جو امریکی مفادات کے لیے کام کریں۔ مادورو کے اغوا کا 2024ء کے مبینہ انتخابات میں دھاندلی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو اور میکسیکو کی صدر کلاڈیا شیئن باؤم کے بارے میں آزاد اور منصفانہ انتخابات جیتنے کے معاملے پر کسی قسم کا سنجیدہ سوال نہیں اٹھایا جاتا، مگر ٹرمپ نے کھل کر ان کو دھمکیاں دی ہیں اور بغیر ٹھوس ثبوت کے ان پر منشیات اسمگلنگ یا منشیات کارٹلز کے ساتھ تعلقات کے بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں۔

صدر شاویز نے 1998ء سے 2013ء تک کم از کم 19 بار جمہوری انتخابات اور ریفرنڈم جیتے تھے۔ مگر اس سب کے باوجود امریکہ نے کئی بار اس کی حکومت کو گرانے کی کوششیں کیں اور 2002ء میں تو ایک مختصر مدت کے لیے کُو بھی کیا گیا۔

ٹرمپ اور اس سے پہلے آنے والے امریکی صدور نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ قریبی تعلقات بنانے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی حالانکہ اس نے کبھی بھی کسی قسم کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ اسی طرح اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، جس پر جنگی جرائم اور فلسطینیوں کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے، کو نئے سال کی تقریبات میں ٹرمپ کی رہائش گاہ مارا لاگو میں کھانے پر مدعو کیا گیا اور اسی موقع پر ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کا حکم بھی دیا۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایڈمونڈو گونزالیز، جو وینزویلا کا حزب اختلاف امیدوار تھا اور ماریا کورینا ماچادو کی نمائندگی کر رہا تھا، نے 2024ء کے صدارتی انتخابات جیت لیے تھے اور اسی بنیاد پر وہ ملک کا جائز صدر ہے۔ تاہم 3 جنوری کی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے خود نوبل انعام یافتہ ماچادو کے بارے میں کہا کہ وہ ”ایک اچھی خاتون“ ہے، لیکن وینزویلا میں اقتدار سنبھالنے کے لیے اس کے پاس مناسب حمایت نہیں ہے۔ بعدازاں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ مارکو روبیو نے (وینزویلا کی اس وقت کی نائب صدر) ڈیلسی روڈریگز سے فون پر طویل بات چیت کی تھی اور اس نے وہ تمام کام کرنے کا وعدہ کیا جو امریکہ چاہتا تھا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی گزشتہ فوجی مداخلتوں سے سیکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عراق اور لیبیا میں امریکی سامراج نے ریاستی ڈھانچے کو تباہ اور ختم کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہاں حکومت کی مکمل ناکامی، عراق میں بغاوتیں کا ابھار اور جنگجو گروہوں کا ابھار نظر آیا جس طرح لیبیا میں ہوا۔ ان حالات نے نہ تو امریکی کمپنیوں کے لیے ”کاروبار دوست ماحول“ پیدا کیا اور نہ ہی وہ استحکام فراہم کیا جسے امریکی سامراج اپنی منافع بخش مہمات کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

امریکہ کے ماچادو کی بجائے کر روڈریگز کے انتخاب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے وہ شخص چنا ہے جس کے بارے میں اسے یقین ہے کہ وہ فوج، سیکیورٹی اور ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکتا ہے، تاکہ ملک میں خانہ جنگی یا بغاوت جیسی صورتِ حال پیدا نہ ہو۔

وینزویلا کا ردِعمل

اب ڈیلسی روڈریگز وینزویلا کی عبوری صدر کے طور پر اقتدار سنبھال چکی ہے اور اسے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ امریکی مفادات کے مطابق عمل کرے، ورنہ اسے مادورو جیسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واشنگٹن سے یہ پیغام ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ایک غنڈہ بدمعاش اپنے علاقے کے پچھلے حصے سے بھتہ مانگ رہا ہو کہ اگر تیل اور دیگر وسائل کی صورت میں بھتے کی ادائیگی نہ کی گئی تو نتائج سنگین ہوں گے۔ یہی ٹرمپ انتظامیہ کا واضح پیغام ہے، جو نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے خطے کو نشانہ بنا رہا ہے۔

امریکہ کے سرمایہ دار میڈیا میں کئی مہینوں سے ایسی کہانیاں شائع ہو رہی ہیں جن میں ڈیلسی روڈریگز کو ایک معتدل اور معقول شخصیت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور یہ تاثر بنایا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسی شخصیت ہے جو ملک اور بیرونی کاروباری حلقوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتی ہو اور جس سے امریکہ بات کر سکے۔ ایسے ہی امریکی اخبار The Miami Herald نے اکتوبر میں ایک رپورٹ شائع کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ روڈریگز قطر کے دورے پر امریکہ کو ایک معاہدہ پیش کرنا چاہتی تھی، جس کے تحت مادورو عہدے سے ہٹ جائے گا اور وہ خود ایک مذاکراتی عبوری حکومت کی قیادت کرے گی۔

آج وینزویلا کے عوام خود سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ امریکہ کی کاروائی جو چند گھنٹوں میں مکمل ہوئی اور صدر مادورو کو اغوا کر لیا گیا، وینزویلا کی فوج کی طرف سے بغیر کسی مزاحمت کے کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ اس دوران ہوائی دفاعی نظام کو غیر فعال کیا گیا اور جو روسی ایگلا مین پیڈ (Russian Igla MANPAD) میزائیلی نظام جس کے بارے میں حکومت نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے، وہ شاید استعمال تک نہیں ہوئے۔ اس کاروائی میں مادورو کے سکیورٹی دستے کے درجنوں فوجی مارے گئے، جن میں 32 کیوبا کے اہلکار بھی شامل تھے لیکن مجموعی طور پر مزاحمت بہت کم دکھائی دی۔ اس کے برعکس امریکی افواج کو کسی قسم کا جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا اور امریکی ہیلی کاپٹرز کافی وقت تک کراکس (Caracas) کی فضا میں بغیر کسی خاص مزاحمت کے گشت کرتے رہے۔ ابھی تک وینزویلا کی سیاسی یا فوجی قیادت نے یہ نہیں بتایا کہ حقیقت میں یہ واقعہ کیسے اور کیوں ہوا۔

اسی وجہ سے مادورو کے حامی حلقوں میں صدر کے ساتھ دھوکا ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہے۔ مارکو روبیو نے پریس کانفرنس میں یہ اشارہ دیا کہ سی آئی اے کے پاس مادورو کے قریبی حلقے کے اندر ایک ایسا دلال موجود تھا جس نے اس کی نقل و حرکت کی تفصیلی معلومات سی ائی اے کو فراہم کیں۔ کچھ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ڈیلسی روڈریگز نے امریکیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہو گا۔

اس نظریے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے، لیکن یہ سوال اُٹھنا خود ان حالات اور کاروائی کا نتیجہ ہے جو مادورو کے خلاف کی گئی جس میں وینزویلا کی فوج اور سکیورٹی دستوں کی طرف سے مزاحمت بظاہر بہت کم تھی، حکام کئی گھنٹوں تک خاموش رہے اور قیادت کی طرف سے جو پیغامات آئے، انہوں نے عوام کو احتجاج یا مزاحمت کی کال نہیں بلکہ سکون اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا۔

4جنوری کو کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے دنیا اور خاص طور پر امریکہ کے لیے ایک پیغام جاری کیا، جس میں اس نے کہا:

”ہم امریکی حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں مشترکہ ترقی اور تعاون کے ایجنڈے پر ہمارے ساتھ کام کرے، تاکہ پائیدار اور ہم آہنگ اجتماعی مفادات پر مبنی تعلقات کو تشکیل دیا جا سکے۔“

یہ پیغام سخت جارحیت کے سامنے صلح اور مفاہمت کا مظاہرہ کر رہا ہے نہ کہ وہ جو اس نے ایک دن پہلے دیا تھا جس میں مزاحمت کا تاثر تھا۔ اس میں حتیٰ کہ صدر مادورو کی رہائی کی کوئی درخواست یا مطالبہ بھی شامل نہیں ہے، جو اس وقت نیویارک میں امریکہ کی زیر حراست ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وینزویلا نے امریکہ سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کراکس میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دے۔

وینزویلا کے سامنے اب صرف دو راستے ہیں یا تو وہ امریکہ کی سامراجی جارحیت کے خلاف مزدوروں، کسانوں اور غریب عوام کو متحرک کر کے سخت مزاحمت کرے اور اس کے ساتھ ساتھ لاطینی امریکہ اور دنیا بھر کے محنت کش عوام سے یکجہتی کی اپیل کرے یا واشنگٹن کے دباؤ کے سامنے مکمل سر تسلیم خم کرے اور اپنے قدرتی وسائل، خصوصاً تیل، امریکی کمپنیوں کے حوالے کر دے۔

مادورو کا رد انقلاب

پہلا ممکنہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک حقیقی انقلابی قیادت سامنے آئے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب سے مادورو تقریباً 12 سال پہلے اقتدار میں آیا، وینزویلا میں ایک آہستہ اور طویل رد انقلابی سیاسی پسپائی دیکھی گئی ہے۔ جہاں ایک طرف شاویز نے عوام کو براہِ راست سیاست میں شرکت کی ترغیب دی تھی، لیکن مادورو نے اس شرکت کو سرکاری بیوروکریسی کے ذریعے دبایا اور محدود کیا۔

مزدوروں کے کنٹرول کو دبایا گیا ہے، ایسے کارخانے جو قومی ملکیت میں لیے گئے تھے انہیں دوبارہ نجی کمپنیوں کو دے دیا گیا ہے اور وہ کسان جو شاویز کے دور میں زمینوں کے مالک بن گئے تھے، انہیں واپس بے دخل کیا جا رہا ہے اور اس کا سلسلہ مختلف ریاستوں میں جاری ہے۔ ایک ہی وقت میں اجتماعی مذاکرات اور مزدوروں کے حقوق کمزور کیے گئے ہیں اور ٹریڈ یونینز کی لڑاکا قیادتوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے، بائیں بازو کے پارٹیوں (بشمول کمیونسٹ پارٹی) پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ بولواریہ انقلاب کی حاصلات کافی حد تک ختم ہو گئی ہیں۔

درحقیقت یہ تبدیلیاں مادورو کی بیوروکریسی کی طرف سے ’سوشلزم‘، ’بولیواری ازم‘ اور ’شاویزم‘ کے نام کا استعمال کر کے کی جا رہی ہیں، اس نے ان نظریات کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور مزدوروں اور غریب عوام میں ایک وسیع سیاسی حوصلہ شکنی پیدا کر دی ہے۔

شاوِیز کے دور میں، اپریل 2002ء میں ہزاروں لوگ امریکی حمایت یافتہ بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے، لیکن اس بار صرف تقریباً 100 لوگ میرافلوریس محل (Miraflores Palace) کے باہر جمع ہوئے۔

امریکی سامراج خود کو طاقتور محسوس کر رہا ہے کیونکہ اس نے ممکنہ طور پر ایک پیچیدہ فوجی کاروائی کو کم سے کم نقصان کے ساتھ انجام دیا ہے اور وہ اب فتح کے نشے میں ڈوبا ہوا نظر آ رہا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ مادورو کے اغوا کے دوران امریکی فوج کے کسی بھی اہلکار کو جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ وینزویلا کی طرف سے تقریباً 80 افراد مارے گئے (جن میں سویلین اور فوجی شامل ہیں)۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگلا مرحلہ، یعنی امریکہ کا وینزویلا کو براہِ راست چلانا اور لاطینی امریکہ سے چین کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا، ممکنہ طور پر بہت زیادہ مشکلات اور خطرات سے بھرا ہوا ہے۔

کراکس میں جو بھی حکومت ٹرمپ کے مطالبات کے مطابق قدرتی وسائل خاص طور پر تیل کو امریکہ کے حوالے کرنے کی کوشش کرے گی، اسے آخرکار وینزویلا کے عوام کی طرف سے زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وینزویلا اور پورے لاطینی امریکہ میں سامراج مخالف مضبوط اور گہرے جذبات کا ذخیرہ موجود ہے، جو لوگوں میں امریکی تسلط اور وسائل پر کنٹرول کے خلاف شدید ردِعمل کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ وہی عوام ہیں جو اپنے قومی وسائل، خاص طور پر PDVSA (ریاستی ملکیت والی تیل کمپنی) کو امریکی تیل کمپنیوں کے ہاتھوں ختم ہوتے اور منافع ملک سے باہر جاتے دیکھنا ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ اس بات سے لاکھوں لوگ اختلاف کرتے ہیں، چاہے وہ لوگ مادورو کی حمایت کرتے ہوں یا نہیں۔

’ڈونرو ڈاکٹرائن‘ (A ‘Donroe Doctrine’)؟

جہاں تک لاطینی امریکہ میں چین کی موجودگی کے خلاف جدوجہد کی بات ہے، ٹرمپ کو یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ چین اب پورے جنوبی امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس نے برازیل، چلی، ارجنٹائن، ایکواڈور، پیرو، کولمبیا وغیرہ کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات قائم کر لیے ہیں۔ ٹرمپ نے پاناما کینال میں چینی مفادات کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدام کیا، لیکن جنوبی امریکہ میں وہ یہی کام کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرے گا، کیونکہ چین نے پیرو کی بڑی بندرگاہ چانکائی (Chancay) میں سرمایہ کاری کی ہے اور برازیل کے ساتھ دو سمندری (Bi-oceanic) ٹرانسپورٹ روٹ کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

یہاں تک کہ وہ ممالک جو اب سیاسی طور پر ٹرمپ کے قریب ہیں، جیسے ارجنٹائن، بولیویا، پیرو، ایکواڈور اور چلی، بھی چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات منقطع نہیں کر سکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ چین کو فروخت ہونے والے بڑے پیمانے پر تانبے، سویابین اور گوشت ان ممالک سے خرید سکے گا؟

پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے مونرو دستاویز کا ذکر کیا جسے بعض مبصرین نے ’ڈونرو‘ دستاویز کہا ہے۔ نیشنل سیکیورٹی سٹریٹجی میں 1823ء کے ڈاکٹرائن کے لیے ”ٹرمپ کورولری“ (Trump Corollary) کا ذکر کیا گیا ہے۔ اُس وقت ”امریکہ امریکیوں کا ہے“ کے نعرے کے ساتھ دوسری (یورپی) سامراجی طاقتوں کو براعظم سے باہر محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اگرچہ امریکی سامراج ابھی تک اسے لاگو نہیں کر سکا ہے۔ مختصراً ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ درحقیقت Roosevelt Corollary کی جانب رجوع کرنے کی ایک کوشش ہے، جو 1902-03ء میں وینزویلا پر لگائی جانے والی بحری پابندیوں پر مبنی ایک پالیسی تھی، جب امریکہ لاطینی امریکہ کے ممالک میں فوجی مداخلت کے حق کا دعوہ کر رہا تھا۔

یہ ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جو مزید تنازعات اور ٹکراؤ کا باعث بن سکتی ہے، نہ صرف چینی مفادات کے ساتھ بلکہ بالآخر لاطینی امریکہ کے عام عوام کے ساتھ بھی جو براہِ راست امریکی سامراج کی غنڈہ گردی کو بغیر مزاحمت کے قبول نہیں کریں گے۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ ”کثیر قطبی دنیا“، جہاں اب چین اور روس جیسی طاقتیں ابھر رہی ہیں، کا مطلب یہ ہے کہ اس خطے کے عوام کا استحصال کم ہو جائے گا، اب ان کی غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ سامراجیت سے حقیقی آزادی اسی صورت میں ممکن ہے جب دُنیا بھر سے سرمایہ داری کا خاتمہ کیا جائے، نہ کہ صرف جغرافیائی سیاسی چالوں پر انحصار کیا جائے۔

عالمی سطح پرٹرمپ کے وینزویلا میں کیے گئے اقدامات کو ایک اشارے کے طور پر دیکھا جائے گا کہ دوسری طاقتیں، خاص طور پر چین اور روس، بھی اپنے اپنے دائرہ اثر میں ایسے ہی قدم اٹھا سکتی ہیں۔ اس طرح، ٹرمپ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ وہ یوکرین میں روس کو شکست نہیں دے سکتا، لیکن کم از کم وہ اپنے قریب تر خطے پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ چین کا صدر شی جن پنگ بھی ان حرکات پر غور کرے گا۔ وینزویلا پر حملے سے ایک دن پہلے ہی چین کی ایک وفد کراکس میں موجود تھا اور اقتصادی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر رہا تھا۔ امریکہ کی جانب سے تائیوان میں ہتھیاروں کی ترسیل کے بعد سے چین نے جزیرے پر اپنی فوجی مشقوں میں اضافہ کیا ہے۔

بطور کمیونسٹ، ہم امریکی سامراج کے اس جارحانہ عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ہم وینزویلا کی حقِ دفاع کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔ سامراجیت کے خلاف جدوجہد کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ لاطینی امریکہ میں، پوری دنیا میں اور خود امریکہ میں بھی مزدور طبقے اور عام عوام کی جدوجہد کو منظم کیا جائے۔ سرمایہ داری، سامراجیت کے مرحلے میں ایک ایسا نظام ہے جو مسلسل بحران، جنگ، تشدد اور ظلم و ستم کا باعث بن رہی ہے۔ سرمایہ داری نظام کے خاتمے کے ذریعے ہی ہم ایک ایسی دنیا قائم کر سکتے ہیں جس میں اکثریتی عوام کے لیے امن اور خوشحالی ممکن ہو۔

Comments are closed.