|تحریر: آدم پال|

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ سامراجی جنگ کو ایک ماہ گزر چکا ہے اور یہ جنگ ختم ہونے کی بجائے پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ اس جنگ نے خطے میں طاقت کا توازن مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور ہر قسم کے استحکام اور امن کو ماضی کا قصہ بنا دیا ہے۔ خلیج سے لے کر وسطی ایشیا تک اور برصغیر سے لے کر شمالی افریقہ تک سب کچھ بدل چکا ہے۔ ایک طویل عرصے سے جس صورتحال کو اٹل اور آفاقی تسلیم کر لیا گیا تھا وہ سب ہوا میں معلق ہو گیا ہے۔ اس پورے خطے کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ دہائیوں سے چلا آ رہا اسٹیٹس کو اب ٹوٹ چکا ہے اور اس کی جگہ نئی حقیقتوں نے لے لی ہے۔
سب سے اہم عنصر امریکی سامراج کی شکست ہے۔ گوکہ ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی امریکہ اور اسرائیل نے اس جنگ میں اپنی شکست تسلیم نہیں کی اور ایران پر تاریخ کی بدترین بمباری کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں کامیابی نہیں مل رہی۔ جنگ کے آغاز پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران میں رجیم کی تبدیلی کا آپریشن کرنے جا رہے ہیں اور وہاں پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کریں گے۔ ان کا خیال تھا کہ جیسے ہی امریکی اور اسرائیلی فضائیہ بمباری شروع کرے گی اور ایران پر میزائل داغے جائیں گے تو لاکھوں لوگ ایران کی سڑکوں پر حکومت کیخلاف باہر نکل آئیں گے اور امریکہ کے ساتھ مل کر حکومت تبدیل کردیں گے۔ لیکن ان عزائم میں امریکی سامراج اور اس کے گماشتے اسرائیل کو مکمل شکست کا سامناکرنا پڑا ہے۔
ایران میں رہنے والے محنت کش عوام اپنی حکومت سے شدید نفرت کرتے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے انقلابی تحریکیں بھی گزشتہ سالوں میں برپا کر چکے ہیں لیکن امریکی سامراج اور اسرائیل سے ان کی نفرت اس سے کہیں زیادہ ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا اختیار کسی سامراجی طاقت کے پاس نہیں اور ایران کے عوام ہی صرف یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنے ملک کی حکومت کو اکھاڑ کر پھینک سکیں اور اس کی جگہ ایسی حکومت بنائیں جو ان کی حقیقی نمائندہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کے بعد حکومت کیخلاف تحریک موجود نہیں بلکہ حالت جنگ میں موجود ہ حکومت مضبوط ہوئی ہے باوجود اس کے کہ ایران پر بد ترین جنگ مسلط کی گئی ہے جس میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
اس جنگ میں اب تک ایران کے ہزاروں عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں ہسپتالوں، سکولوں، یونیورسٹیوں اور کھیل کے میدانوں سمیت ہزاروں رہائشی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 90 ہزار سے زائد ایسا انفرااسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے جو کسی بھی قسم کے فوجی یا دفاعی نظام سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا ہے جس سے نکلنے والی تابکاری بہت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ تیل کی ریفائنری اور سپلائی روٹ سے لے کر دیگر صنعتی انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کے سپریم لیڈر کو ہلاک کرنے کے علاوہ فوج اور ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کے بھی درجنوں افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ لیکن اتنی بڑی تباہی مچانے کے باوجود امریکی سامراج اور اس کا گماشتہ اسرائیل یہ جنگ ہار رہے ہیں۔
ایران نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بلاک کر دیا ہے جبکہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن میں خلیجی ممالک میں موجو د فوجی اڈوں سے لے کر عراق اور اردن میں موجود امریکی اڈے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل پر بھی میزائیل حملے کیے گئے ہیں جس سے اسرائیل کو بد ترین جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایران کے جوابی اقدامات نے امریکی سامراج کو جنگ کے پہلے ایک ماہ میں شکست سے دوچار کیا ہے گوکہ امریکہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ اپنا پلڑا کسی طرح بھاری کر سکے اور ایران کو پسپائی پر مجبور کر سکے۔

ایران کے جوابی اقدامات کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ بھی ہوا ہے اور ان اہم ترین معدنیات کی شدید قلت بھی موجود ہے۔اس کے علاوہ فرٹیلائزر، امونیا، ہیلئیم اور دیگر اہم خام مال کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے اور اس زراعت سے لے کر آئی ٹی کا شعبہ تک بد ترین بحران کا شکا رہو چکا ہے۔ دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینجوں میں شدید مندی کا رجحان ہے اور کھربوں ڈالر اسٹاک مارکیٹوں سے غائب ہو چکے ہیں۔درحقیقت عالمی معیشت پہلے ہی بہت بڑے بحران کا شکار تھی لیکن اب اس جنگ کے باعث ایک بد ترین گراوٹ اور ایک انہدام یا ڈیپریشن کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ امریکہ سمیت دنیا بھر کے ممالک میں افراطِ زر تیزی سے بڑھ رہا ہے اوربہت بڑے پیمانے پر صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ اس سب کا دباؤ امریکہ اور اسرائیل پر موجود ہے۔ ایک طرف تو ان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ جنگ کو جلد از جلد ختم کریں تو دوسری طرف یہ بھی دباؤ ہے کہ وہ طاقت کے موجودہ توازن پر پسپائی اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ ایسا کرنے سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سامراج کی ذلت آمیز پسپائی کا عمل شروع ہو جائے گا اور وہ شاید واپس یہاں نہ آ سکے۔
اس صورتحال کا موازنہ 1956ء کے نہر سویز کے بحران سے بھی کیا جا رہا ہے جب برطانوی اور فرانسیسی سامراج کو عالمی سطح پر فیصلہ کن انداز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور امریکہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور بن کر ابھرا تھا۔ اس وقت مصر میں جمال عبدالناصر کی حکومت نے اس اہم ترین آبی گزر گاہ کو نیشنلائز کر کے سرکاری تحویل میں لے لیا تھا اور برطانوی نجی کمپنیوں کو بے دخل کر دیا تھا۔ اس وقت دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانوی سامراج کی زوال پذیری کا عمل جاری تھا اور وہ پوری دنیا میں اپنی نو آبادیات چھوڑ کر بھاگ رہا تھا۔ اس صورتحال میں برطانوی سامراج نے پسپائی قبول کرنے کی بجائے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے قدم جمائے رکھنے کا فیصلہ کیا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کر دیا۔ اس وقت امریکی سامراج کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس نے برطانیہ کی اس جنگ کی مخالفت کی۔ امریکہ نے عالمی مالیاتی نظام پر اپنی گرفت کے ذریعے برطانیہ پر دباؤ ڈالا جبکہ مصرنے بھی ان سامراجی عزائم کا بھرپور مقابلہ کیا۔ اس جنگ کے بعد برطانوی سامراج کا مشرقِ وسطیٰ سمیت پوری دنیا میں کردار امریکہ کے ماتحت ہو گیا تھا۔

موجودہ جنگ کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کی پسپائی دنیا میں اس کے کردار کو محدود کرنے کے حوالے سے ایک معیاری جست لگا سکتی ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک میں ہونے والی تباہی نے خطے میں امریکی اجارہ داری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اس جنگ میں ان ممالک کا تحفظ کرنے کی بجائے ان کے لیے ایک بوجھ بن چکے ہیں۔ یہاں موجود ہزاروں امریکی فوجی اپنے اڈے چھوڑ کر ہوٹلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور ایران وہاں پر بھی حملے کر رہا ہے۔ اسی طرح اردن، عراق اور دیگر علاقوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ایران کی طرف سے نشانہ بنایا گیا ہے او ر ایران مطالبہ کر رہا ہے کہ ان اڈوں کو ختم کیا جائے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کو ایران کے سرکاری کنٹرول میں لیے جانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وہاں سے بڑے پیمانے پر ٹال وصول کیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان ابھی تک بڑے پیمانے پر محفوظ رہا ہے اور ابھی تک جنگ میں شریک نہیں ہوا۔ جنگ کے آغاز پر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو سامنے لایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ پاکستان سعودی عرب پر حملے کی صورت میں جنگ میں شریک ہو سکتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد سے اجتناب کیا گیا۔بلکہ ایران کے ساتھ ہمدری کا بھی اظہار کیا گیا۔ اس کی وجہ پاکستان کے حکمرانوں پر عوام کا شدید ترین دباؤ تھا۔ اس وقت پاکستان کے عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت ایران کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے اور امریکہ اور اسرائیلی سامراج کی جارحیت کیخلاف مزاحمت کی خواہشمند ہے۔ لیکن اس ملک کے حکمران امریکی سامراج کے گماشتے ہیں اور اس پورے ملک کو امریکی سامراج کے نوچنے کے لیے پیش کرتے ہیں۔
امریکی پشت پناہی سے عالمی مالیاتی ادارے اور ملٹی نیشنل بینک اور کمپنیاں ہر سال یہاں پیدا ہونے والی دولت کا سب سے بڑا حصہ لوٹ کر لے جاتی ہیں اور یہاں پر غربت، بھوک اور بیماری چھوڑ جاتے ہیں۔ یہاں کے محنت کش عوام دن رات کی محنت سے جو دولت پیدا کرتے ہیں اس کو عالمی مالیاتی نظام کے ذریعے سامراجی طاقتوں کے حکمران طبقات کی تجوریوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔اس خدمت کے عوض یہاں کے حکمران اپنی گماشتگی کی قیمت وصول کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہاں کے عوام کو غلام بنائے رکھنے کے لیے ریاستی ادارں کے ذریعے بدترین جبر کرتے ہیں۔ ایسے میں امریکی سامراج کی حکم عدولی ان حکمرانوں کے بس میں نہیں۔ لیکن دوسری طرف عوام کا غم و غصہ بھی انتہاؤں کو چھو رہا ہے اور کسی بھی وقت پھٹنے کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ اسی دوران تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ وہ چنگاری بھی بن سکتا تھا جو پورے جنگل کو آگ لگا دے۔ اس حوالے سے اس ملک کے حکمران طبقات محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
اس موقع پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان صلح کی کوششیں کر رہا ہے جس میں ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔درحقیقت یہ مؤقف اس لیے اپنایا گیا ہے تاکہ دونوں اطراف کا دباؤ برابر کیا جاسکے۔ صلح کی کوششوں کو یقینا عوامی پذیرائی ملی ہے اور امریکی سامراج بھی اس جنگ سے جلد از جلد نکلنا چاہتا ہے۔لیکن دونوں فریق جو شرائط پیش کر رہے ہیں ان پر کسی بھی قسم کا معاہدہ جلد ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
اسی طرح خلیجی ممالک میں جنگ سے پہلے والی سطح پر معاشی سرگرمی کو جاری رکھنا اور ان ممالک کا اعتماد امریکی سامراج پر پہلے جیسا قائم رکھنا اب ممکن نہیں۔اس جنگ کے بعد ان ممالک سے لاکھوں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں جو پہلے ہی یہاں کے مقامی باشندے نہیں تھے اور صرف روزگار کے لیے یہاں موجود تھے۔ ان ممالک کی معاشی سرگرمی کے ساتھ ان کے صنعتی انفرا اسٹرکچر اور بندرگاہوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اور ان کے سب سے بڑے تیل اور گیس کے وسائل کو بھی زد پہنچی ہے۔ ایسے میں ان ممالک میں پہلے والی صورتحال کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ اس کے اثرات پاکستان کی معیشت اور سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔جبکہ دوسری طرف پاکستان ایران سے تیل کی درآمد سمیت دیگر شعبوں میں تجارت کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی طرح دبئی اور دیگر بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کا متبادل بھی پیش کر رہا ہے اور پہلے ایک ماہ میں اس مد میں پاکستان نے پیسے بھی کمائے ہیں۔اسی طرح مذاکرات کی پیشکش کے بعد ایران نے پاکستان کے تیل بردار جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت بھی دی ہے۔
اس صورتحال نے پاکستان کے حکمرانوں کو وقتی طور پر جنگ کے دوران بڑے نقصان سے محفوظ رکھا ہے۔ لیکن آنے والے عرصے میں صورتحال تیزی سے بدلنے کی طرف جا سکتی ہے۔ مذاکرات کو نتیجہ خیز مرحلے تک نہ لیجانے کی شکل میں امریکی سامراج پاکستان پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے اور عالمی مالیاتی نظام کے ذریعے شکنجہ کسا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اس جنگ کے بعد چین کا پلڑا بھاری ہوا ہے اور وہ اس جنگ میں براہ راست تو شریک نہیں ہوا لیکن سفارتی اور معاشی سطح پر ایران کی حمایت کرتا رہا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر ہونے والی تجارت چین کی کرنسی یوان میں تبدیل کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان میں بھی چین کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو گا۔ پہلے ہی چین کے سامراجی پنجے پاکستان میں موجود ہیں گوکہ وہ امریکہ کی نسبت ایک کمزور فریق کے طو ر پر موجود تھا۔ لیکن اس جنگ کے بعد پاکستان کی ریاست میں یہ توازن بھی بتدریج تبدیل ہونے کی طرف بڑھے گا۔ وزیر خارجہ پہلے ہی چین کے دورے پر روانہ ہوچکا ہے جبکہ صدر زرداری کو بھی اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کا دورہ کرنا پڑا۔
اس کے علاوہ عالمی سطح پر معیشت کا بحران پاکستان کی کمزور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کیا جا چکا ہے اور اس سے بھی بڑے اضافے کے لیے ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ یہ امکانات موجود ہیں کہ آنے والے عرصے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دگنا یا تین گنا تک چلی جائیں۔ اسی طرح دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے امکانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں روزگار کے حصول کے لیے ایک کروڑ کے لگ بھگ موجود پاکستانی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے روزگار کا داؤ پر لگنا بھی بہت بڑا جھٹکا ہوگا۔
اس صورتحال میں حکمران طبقہ اپنی حاکمیت کو قائم رکھنے کے لیے بد ترین ریاستی جبر مسلط کرے گا۔ پہلے ہی ہر قسم کی سیاسی مخالفت کو کچلنے کا عمل جاری ہے اور ایسے افراد جو حکمرانوں کی پالیسیوں سے ذرہ برابر بھی اختلاف کریں انہیں پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی پارٹیاں یا چھوٹی تنظیمیں جو مہنگائی، بیروزگاری اور ریاستی جبر کیخلاف آواز بلند کریں ان کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔آنے والے عرصے میں یہ عمل زیادہ شدت اختیار کرے گا۔
لیکن دوسری طرف پاکستان میں ایک بہت بڑی انقلابی تحریک کے ابھرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ خطے کی صورتحال محنت کش طبقے کے شعور پر ہتھوڑے برسا رہی ہے۔امریکی سامراج اور اس کی مسلط کردہ جنگوں کیخلاف شدید نفرت موجود ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کی امریکی گماشتگی اور آئی ایم ایف کی غلامی کیخلاف بھی شدید غم و غصہ موجود ہے۔ اسی طرح معاشی اور سیاسی حالات کا بحران بھی عوام کو اسی جانب دھکیل رہا ہے جہاں وہ اپنی قسمتوں کا فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لینے کی جانب بڑھیں۔ اس وقت افق پر کوئی بھی ایسی سیاسی قوت موجود نہیں جو عوام کی حقیقی امنگوں کی ترجمانی کر سکے اور انہیں ان بدترین حالات سے نجات کا رستہ دے سکے۔ لیکن رات کا سب سے تاریک پہر اس کا آخری پہر بھی ہوتا ہے۔ اس کے بعد سورج طلوع ہوتا ہے اورروشنی کی کرنیں اندھیرے کا سینہ چیرتے ہو ئے پورے افق کو روشن کر دیتی ہیں۔آنے والے عرصے میں ایسی ہی کشمکش ابھرنے کے امکانات موجود ہیں۔
ایسے میں انقلابی کمیونزم کے نظریات ہی واحد امید کی کرن ہے جو اس غلاظت بھرے سماج کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر سکتے ہیں۔ حالیہ جنگ اور اس سے پہلے فلسطین پر ہونے والی اسرائیل کی ننگی بربریت نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام اس وقت انسانیت کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور جتنی جلد اس کو اکھاڑ پھینکا جائے اتنا ہی انسانوں کی زندگیوں کے لیے بہتر ہے۔ اس خون آشام نظام کا خاتمہ صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے جب امیر اور غریب پر مبنی طبقاتی نظام کا بھی خاتمہ کیا جائے گا اور مزدور ریاست قائم کرتے ہوئے سامراجی طاقتوں کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کا آغاز کیا جائے گا۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی اسی منزل کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جہاں دنیا سے نہ صرف جنگوں کا خاتمہ کیا جائے بلکہ بھوک، بیروزگاری، غربت اور ریاستی جبر کا بھی خاتمہ کیا جائے۔ اگر آپ بھی اس جدوجہد میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہم سے فوری رابطہ کریں۔















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance