خیبرپختونخوا: ملاکنڈ یونیورسٹی کی طالبات کا ہاسٹلز میں ناقص سہولیات کے خلاف احتجاج!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبر پختونخوا|

ملاکنڈ یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں رہائش پذیر طالبات نے ناقص اور غیر انسانی سہولیات کے خلاف بھرپور اور جراتمندانہ احتجاج کرتے ہوئے مرکزی چکدرہ–سوات شاہراہ کو بند کر دیا۔ یہ احتجاج اس بات کا واضح اظہار ہے کہ طلباء و طالبات اب مزید استحصال اور ناانصافی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

طالبات کا کہنا ہے کہ ہاسٹلز میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ بالخصوص رمضان کے مہینے میں انہیں انتہائی ناقص اور غیر معیاری خوراک فراہم کی جا رہی ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔ اس کے علاوہ انہیں نہ تو باہر سے کھانا منگوانے کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی ہاسٹل میں خود کھانا پکانے کی سہولت دی گئی ہے۔ یہ اقدامات انتظامیہ کی بے حسی اور آمرانہ طرزِ عمل کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

جب طالبات نے اپنے جائز اور بنیادی مطالبات کے لیے انتظامیہ سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہیں انتظامیہ کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول اور ہٹ دھرمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس رویے نے طلباء و طالبات کے غم و غصے کو مزید بھڑکا دیا اور احتجاج کو ناگزیر بنا دیا۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی طالبات کی اس جراتمندانہ جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور طلبہ کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے تمام جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ اگر ہم طلبہ کی اس مزاحمت و جدوجہد میں ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور اگر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر ہاسٹلز میں خوراک، صفائی، پانی، سیکیورٹی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو ہم طلبہ کے ساتھ مل کر ان احتجاجوں کا دائرہ کو وسیع کریں گے۔

یہ مسئلہ صرف ملاکنڈ یونیورسٹی تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں موجود بحران کا عکس ہے۔ ایک طرف فیسوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف طلبہ کو بدترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے تعلیم کو منافع کے ایک بے رحم کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے جہاں طلبہ کو صرف ایک گاہک سمجھا جاتا ہے۔ پورے پاکستان میں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ تعلیمی اداروں کے بحران کا بوجھ طلبہ اور ان کے محنت کش والدین پر ڈال رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں آئے روز طلبہ کی فیسوں میں ہمیں بے تحاشا اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

طلبہ کو ان مسائل کے خلاف لڑنے کے لیے خود کو ایکشن کمیٹیوں کی صورت میں منظم کرنا ہو گا۔ ان کمیٹیوں میں طلبہ اپنے نمائندگان کو جمہوری طریقے سے خود منتخب کریں اور یہ کمیٹیاں یونیورسٹی کے تمام ڈیپارٹمنٹس میں موجود ہوں۔ طلبہ اپنے اداروں کی انتظامیہ اور ریاست کے طلبہ دشمن اقدامات کے خلاف اپنی ایکشن کمیٹیوں کے ذریعے متحد ہو کر ہی مؤثر طریقے سے لڑ سکتے ہیں۔ ہم باقی تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ، اساتذہ اور محنت کشوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف طلبہ کے ساتھ یکجہتی میں متحد ہوں اور ایک منظم تحریک کی تعمیر کریں۔ طلبہ اور محنت کشوں کو اپنے حقوق کی لڑائی کو وسیع طبقاتی جدوجہد کے ساتھ جوڑنا ہو گا کیونکہ معیاری، مفت اور سب کے لیے یکساں تعلیم صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس استحصالی نظام سرمایہ داری کا خاتمہ کیا جائے اور ایک سوشلسٹ نظام کی تعمیر کی جائے۔

Comments are closed.