فہمیدہ لغاری کا قتل: درسگاہیں نہیں قتل گاہیں!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، حیدرآباد|

مورخہ 8 اپریل بروز بدھ محمد میڈیکل کالج میرپور خاص کے تیسرے سال کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے مسلسل ہراسمنٹ سے تنگ آ کر خود کو گولی مار دی۔ فہمیدہ کی فیملی کے بیان کے مطابق فہمیدہ لغاری کو گزشتہ تین سالوں سے اساتذہ کی جانب نہ صرف ذہنی بلکہ جنسی ہراسانی کا بھی سامنا تھا۔ یہ واضح ہے کہ یہ درسگاہیں تعلیم مہیا کرنے کے لیے بنائے گئے ادارے نہیں بلکہ عقوبت خانے اور قتل گاہیں ہیں۔ جہاں اپنی جنسی ہوس کو پورا کرنے کے لیے معصوم طالبہ کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

یہ ایسا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بلوچستان یونیورسٹی سکینڈل، نائیلہ رند اور نمرتا کماری سمیت بہت سے دیگر واقعات ہوئے ہیں جن میں حکام کی جانب سے کسی بھی ایک ملزم کو سزا نہیں دی گئی بلکہ یہ واقعات دبائے گئے۔ فہمیدہ لغاری کی خود کشی کوئی خودکشی نہیں مگر منظم قتل ہے جس کے پیچھے تعلیمی اداروں کے انتظامیہ سے لے کر صوبائی اور وفاقی حکومتیں بھی ملوث ہیں۔ یہ درسگاہیں ایک عرصے سے تعلیم کا کاروبار کرنے والی قتل گاہوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ طلبہ کے ان تمام مسائل کا حل یہی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ اپنی منتخب شدہ ایکشن کمیٹیاں تشکیل دی، ان طلبہ کمیٹیوں کے ذریعے طلبہ اپنے تمام مسائل خود حل کر سکتے ہیں۔ ان کمیٹیوں میں ایک اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی بھی ہو گی جو ان ہراسمنٹ جیسے معاملات کا سدباب کر سکے۔ ان کمیٹیوں کے ذریعے طلبہ تعلیمی اداروں کے تمام معاملات کو خود کنٹرول کر سکتے ہیں اور اپنے تعلیمی اداروں کو تعلیم کے نام پر کاروبار کرنے والے وحشی درندوں کے چنگل سے آزاد کرا سکتے ہیں۔

ہم پاکستان بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ “ایک کا دکھ، سب کا دکھ” کے نعرے کے تحت تعلیم کا کاروبار کرنے والے اس مافیہ کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں اور حکومت پر فہمیدہ کے قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دینے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ کیونکہ یہ درندے پاکستان کے کسی ایک ادارے میں موجود نہیں ہیں بلکہ یہ ہر ایک ادارے میں بیٹھے ہیں اور طلبہ دشمن تمام اقدامات میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس لیے پاکستان بھر کے طلبہ کو ان کے خلاف منظم جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ 

اس لیے ہم بطور انقلابی کمیونسٹ نہ صرف اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ملزمان کو فوری اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ہم یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ فیمنزم ہو یا قوم پرستی، روایتی سیاسی پارٹیاں ہوں یا مذہبی منافقین، سب کے پاس ان مسائل کا کوئی بنیادی اور سنجیدہ حل موجود نہیں ہے۔ بلکہ سرمایہ دارانہ نظام میں موجود عدل و انصاف کے ادارے بھی ہمیشہ طاقتور ملزموں کا تحفظ کرتے ہیں اور عورت دشمنی کو تقویت بخشتے ہیں جبکہ کمزور اور مظلوم انصاف سے محروم رہتا ہے۔ اس سمیت ہر عورت دشمن واقعہ کی جڑیں سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں میں ہیں۔

خواتین کی غلامی کی تاریخ دراصل طبقاتی نظام، نجی ملکیت کے وجود سے منسلک ہے۔ عورت کو چار دیواری میں قید کر کے ”غیرت“ کے نام پر اس کی معاشی و سماجی آزادی سلب کی گئی جبکہ دوسری جانب سرمایہ داری نے نام نہاد آزادی کے نعرے کے تحت اسے محض منافع کمانے کا اشتہاری آلہ بنا دیا۔ مختصراً، خواتین کی حقیقی آزادی کا سوال اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ عورت کو ایک شے کی بجائے ایک مکمل انسان سمجھا جائے۔ اس کے لیے سرمایہ داری کا نظام اور اس میں موجود ان تمام بنیادوں کا خاتمہ ضروری ہے جو طبقاتی نظام اور نجی ملکیت کے وجود سے جڑی ہوئی ہیں اور یہ ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

Comments are closed.