ایک سوشلسٹ تبدیلی ہی بنگلہ دیش کے ادھورے انقلاب کو مکمل کر سکتی ہے!

بنگلہ دیش سے شیخ حسینہ کی سفاک حکومت کا خاتمہ ہوئے ڈیڑھ سال ہونے کو ہے۔ 2024ء کی انقلابی تحریک نے جہاں عوام کو اپنی طاقت کا احساس دیا تھا اور شیخ حسینہ کی بدعنوان اور عوام دشمن حکومت کا تختہ اکھاڑا تھا وہاں اس تحریک کی قیادت کی نظریاتی کمزوری نے عوام کو ایک نئے دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اب حکمران طبقے کا دوسرا دھڑا اپنے پنجے گاڑ رہا ہے اور سابقہ وزیر اعظم خالدہ ضیا کی پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی BNP کو مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خالدہ ضیا کے انتقال اور اس سے قبل اس کے بیٹے طارق رحمان کی جلاوطنی کے بعد ملک واپسی پر استقبال نے سیاست کا رخ ایک دفعہ پھر مروجہ پارٹیوں کی طرف موڑ دیا ہے۔ اس کے علاوہ فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں عوام دشمن جماعت اسلامی بھی مخلوط حکومت میں اقتدار میں واپسی کی تیاری کر رہی ہے۔

انقلابی تحریک کی قیادت کرنے والے طلبہ نے کئی مہینے کی تاخیر کے بعد نیشنل سیٹیزن پارٹی کے نام سے اپنی ایک پارٹی تو قائم کر لی لیکن وہ کوئی بھی انقلابی نظریہ اور سیاسی پروگرام نہیں دے سکے جس کی وجہ سے اب وہی عوام دشمن پارٹیاں جو پہلے بھی بنگلہ دیش کے عوام پر ظلم اوراستحصال مسلط کر چکی ہیں، دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے پر تول رہی ہیں۔ خالدہ ضیا اور اس کی پارٹی نوے کی دہائی میں برسراقتدار رہ چکی ہیں جبکہ خالدہ ضیا کا خاوند جنرل ضیاالرحمان 70ء کی دہائی میں مارشل لا کے ذریعے اقتدار میں رہ چکا ہے۔ اس پارٹی کی عوام دشمن پالیسیوں کے نتیجے میں ہی شیخ حسینہ اور اس کی عوامی لیگ کو 2008ء میں اقتدار میں آنے کا موقع ملا تھا۔ اس اقتدار میں بائیں بازو کی اکثر جماعتیں شیخ حسینہ کے ساتھ شامل رہیں اور اس کے تمام جرائم میں ان کے ہاتھ بھی رنگے ہوئے ہیں۔ اپنے اقتدار کے دوران جہاں شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کے سرمایہ دار طبقے کے منافعوں کو تیزی سے آگے بڑھایا اور مزدوروں کے استحصال میں شدت آئی وہاں اس نے اپنی مخالف پارٹیوں کو بھی بدترین انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا۔ لیکن ایک دفعہ پھر یہ واضح ہو چکا ہے کہ جیلوں، پھانسیوں اور انتقامی کاروائیوں سے کسی بھی سیاسی پارٹی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ 2024ء کی انقلابی تحریک کے بعد جب سیاست میں خلا پیدا ہوا تو وہی عوام دشمن پارٹیاں دوبارہ سیاسی افق پر حاوی ہو چکی ہیں۔ اس سے ایک سبق پھر واضح طور پر ملتا ہے کہ افق پر موجود سیاسی پارٹیوں کو ختم کرنے کے لیے انقلابی نظریات کی ضرورت ہوتی ہے اور المیہ یہ ہے کہ عوامی تحریک کی قیادت کے پاس کوئی انقلابی نظریہ موجود نہیں۔

سال 2024ء میں بنگلہ دیش میں اٹھنے والی انقلابی تحریک کا آغاز سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاجوں سے ہوا تھا۔ 1971ء کی جنگ آزادی میں لڑنے والوں کی اولادوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں 30 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا تھا اور درحقیقت عوامی لیگ اس کوٹہ سسٹم کے ذریعے اپنے وفاداروں کو نوازتی تھی۔ کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والے یہ مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے نوجوانوں کی انقلابی تحریک اور محنت کشوں کی ہڑتالوں میں بدل گئے۔اس تحریک پر شیخ حسینہ کی حکومت کی جانب سے بدترین جبر کیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1600کے قریب طلبہ اور عام لوگ پولیس کے بدترین جبر سے ہلاک ہوئے جبکہ ہزاروں افراد کو جیلوں میں قید کیا گیا۔ جبر کے باوجود تحریک پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے بڑھتی چلی گئی اور یہ تحریک محض کوٹہ سسٹم کے معاملے سے بڑھ کر حکومت کے خاتمے کے مطالبے کے ساتھ جڑ گئی۔

شیخ حسینہ نے اس انقلابی تحریک کو کچلنے کے لیے اپنے دور اقتدار کا بدترین جبر ڈھایا۔ لاکھوں مظاہرین، طلبہ اور محنت کش جو نہتے شیخ حسینہ کے جبر کا مقابلہ کر رہے تھے، ان پر عمارتوں کی چھتوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے گولیاں چلائی گئیں، تحریک کو کمزور کرنے کے لیے موبائل فون سروسز اور انٹرنیٹ کی بندش کی گئی لیکن اس کے باوجود تحریک رکنے کی بجائے مزید شدت اختیار کرتی چلی گئی، شیخ حسینہ جب ہر طرح کے جبر کے باوجود تحریک ختم کرنے میں ناکام ہوئی تو اس نے کرفیو نافذ کر دیا اور فوج کو حکم دیا گیا کہ جہاں کہیں کوئی احتجاجی نظر آئے اس پر گولی چلا دی جائے۔ اس قدر خوف و ہراس کی فضا قائم کی گئی لیکن تحریک کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ پورے بنگلہ دیش میں محنت کشوں نے عام ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا اور وہ طلبہ کی تحریک کی حمایت میں ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے تھے۔ طلبہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بجلی، گیس اور پانی کے بل جمع نہ کروائیں، صنعتوں اور اداروں میں کام بند کر دیں اور حکومت کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ طلبہ کی اس یکجہتی کال پر بنگلہ دیش کے محنت کشوں نے لبیک کہا اور طلبہ تحریک کا حصہ بن گئے۔ حتیٰ کہ فوج اور عام سپاہیوں میں بھی اس تحریک کی حمایت جنم لے چکی تھی۔

جب 5 اگست 2024ء کو طلبہ قیادت نے لانگ مارچ کی کال دی اور تمام لوگوں کو ڈھاکہ پہنچنے کا کہا۔ اس روز لاکھوں لوگ دوسرے شہروں سے ڈھاکہ پہنچے، ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد پچاس سے ساٹھ لاکھ تھی۔ ان میں گارمنٹس انڈسٹری کے لاکھوں مزدوروں کے ساتھ ساتھ عام لوگ اور طلبہ بھی شامل تھے۔ عوام نے گانا بھون (وزیراعظم کی رہائش) پر قبضہ کر لیا تھا اور اسی دن دوپہر کو شیخ حسینہ ملک سے فرار ہو گئی تھی۔شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں ریاست مکمل طور پر ہوا میں معلق ہو چکی تھی۔ طلبہ نے بہت سے ریاستی امور اپنے ہاتھوں میں لے لیے تھے۔ طلبہ اپنی کمیٹیوں کے ذریعے سڑکوں کی صفائی، ٹریفک اور ہسپتالوں کے نظام کو چلا رہے تھے۔ طلبہ کمیٹیوں نے ریاستی بدعنوانی اور کرپشن کی رپورٹنگ کے لیے ایک نظام بھی قائم کیا اور دعویٰ کیا کہ ایسے کسی بھی معاملے کو چھ گھنٹے میں نمٹایا جائے گا اور نمٹانے کا یہ کام خود طلبہ سرانجام دیں گے، نہ کہ پرانی عدالتیں اور پولیس۔اسی طرح فیکٹریوں میں بھی مزدور اپنی کمیٹیوں کے ذریعے تمام معاملات منظم کرنے لگے تھے۔ ان عوامی کمیٹیوں نے پہلے ہی عوام کی بے پناہ انقلابی صلاحیت کو ظاہر کر دیا تھا۔ انہوں نے عملی طور پر ثابت کر دیا تھا کہ عوام بیوروکریسی پر مشتمل پرانی سرمایہ دارانہ ریاست کے بغیر معاشرے کے انتظام کے فرائض سنبھال سکتے ہیں۔

شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ اس انقلابی تحریک کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ لیکن اس کامیابی کو مستحکم کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ اقدامات کی جانب بڑھنے کی ضرورت تھی جس کا پروگرام کسی کے پاس بھی موجود نہیں تھا۔ بائیں بازو کی پارٹیاں پہلے ہی شیخ حسینہ کی گو د میں بیٹھیں تھیں جبکہ تحریک کی قیادت کرنے والے طلبہ کے پاس بھی کوئی سوشلسٹ پروگرام نہیں تھا۔ ایسے موقع پر سرمایہ دار طبقے نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈاکٹر یونس جیسے امریکی سامراج کے گماشتے کو اقتدار سونپنے کے عمل کا آغاز کیا جس میں آرمی چیف نے اہم کردار ادا کیا۔ طلبہ کے مرکزی منتظمین نے کوئی واضح متبادل نہ ہونے کے باعث ڈاکٹر یونس کی قیادت میں بننے والی نئی ’عبوری حکومت‘ کی حمایت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اگر طلبہ اس وقت سرمایہ دار طبقے اور ان کے نمائندے آرمی چیف کے دباؤ میں نہ آتے اور ایک متبادل سوشلسٹ پروگرام کے تحت آگے بڑھتے تو کوئی بھی طاقت انہیں روک نہیں سکتی تھی اور عوام کی وسیع تر پرتوں کی حمایت کے ساتھ وہ بنگلہ دیش سے غربت، بیروزگاری اور لاعلاجی جیسے بنیادی مسائل حل کرنے کی جانب بڑھ سکتے تھے۔ اسی طرح انڈیا، چین اور امریکہ جیسی سامراجی طاقتوں کی جکڑ بندی سے ملک کو مستقل بنیادوں پرنجات دلا سکتے تھے۔

اس کے بعد ریاستی اداروں کی عملداری کو ”معمول“ پر لانے کے عمل کا آغاز ہوا۔ عوام کی پولیس اور دیگر اداروں سے نفرت کے باعث یہ ادارے مفلوج ہو چکے تھے اور اکثریت تھانوں سے پولیس فرار ہو چکی تھی۔ اسی طرح عدلیہ اور دیگر ادارے بھی عوامی نفرت کا نشانہ بن رہے تھے۔ لیکن ڈاکٹر یونس جیسے سامراجی گماشتے کی قیادت میں ان ہی اداروں کی رٹ کی بحالی کا سلسلہ شروع ہوا اور بہت سی جگہوں پر پولیس کی عدم موجودگی میں فوجی افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات سونپے گئے۔ اس دوران مزدوروں کی ہڑتالیں اور احتجاج بھی شدت اختیار کر رہے تھے جن پر کئی جگہوں پر فوج نے گولی بھی چلائی۔مغربی سامراجی طلبہ کی جانب سے عبوری حکومت کے لیے ڈاکٹر یونس کے انتخاب پر خوش تھے کیونکہ اس طریقے سے وہ بنگلہ دیش پر اپنی گرفت زیادہ مضبوط کر سکتے تھے۔ گوکہ اس نئی عبوری حکومت کے انڈیا سے اختلافات میں شدت آئی اور انڈیا کا سامراجی کردار کم ہونے کی جانب بڑھا جو شیخ حسینہ کے دور اقتدار میں بہت زیادہ گہرا ہو چکا تھا۔ اس دوران ہندو مسلم فسادات کروا کر عوامی تحریک کو کمزور کرنے کی بھی کوششیں جاری رہیں جبکہ انڈیا اور دیگر سامراجی طاقتوں کی لڑائی بھی مختلف پراکسیوں کے تحت جاری رہی۔اس تمام عمل میں سرمایہ دارانہ نظام کو واپس بحال ہونے کا موقع ملا جو انقلابی تحریک کے دوران لرز رہا تھا۔

طلبہ کے تمام مسائل پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر رہے ہیں اور جمہوری آزادی پر قدغنیں پہلے کی طرح موجود ہیں۔ ڈاکٹر یونس محنت کش طبقے کا نمائندہ بن کر حکومت میں نہیں آیا تھا بلکہ وہ بنگلہ دیش میں سرمایہ دارانہ ریاست کے تحفظ کے لیے حکومت میں آیا تھا۔ وہ سرمایہ دار طبقے کا نمائندہ ہے، لہٰذا اس نے اسی طبقے کی خدمت کی۔ ہم اپنے مضامین میں پہلے بھی وضاحت کر چکے تھے کہ جب بنگلہ دیش میں طبقاتی جنگ ابھرے گی تو نئی حکومت ریاست کے ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اپنی مفلوجیت پر قابو پانے کی کوشش کرے گی اور اسے ایک جانب کا انتخاب کرنا ہو گا؛ اسے محنت کشوں کا خون چوسنے والے گارمنٹس فیکٹریوں کے مالکان اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی حمایت کرنی پڑے گی یا مزدوروں کی حمایت کرنی پڑے گی۔ یہ بالکل واضح ہے کہ وہ کس کی حمایت کرے گی، یہ سرمایہ دار طبقے کی حکومت ہے، جس کے سر پر ایک ریاست ہے جو سرمایہ دار طبقے نے تعمیر کی ہے۔

آج بنگلہ دیش میں طلبہ کے احتجاج پھر سے سر اٹھا رہے ہیں۔ یہ احتجاج 32 سالہ نوجوان سٹوڈنٹ لیڈر شریف عثمان ہادی پر قاتلانہ حملے اور بعد میں اس کی موت واقع ہونے پر شروع ہوئے جن کی شدت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں ہزاروں عوام شریف عثمان ہادی کے لیے انصاف کا مطالبہ لیے ان احتجاجوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ عثمان ہادی ایک لڑاکا نوجوان تھا جو شیخ حسینہ کے خلاف بغاوت میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا اور اب فروری 2026ء کے انتخابات میں بھی وہ امیدوار کے طور پر سامنے آ رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ان احتجاجوں میں طلبہ نے چند ایک عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے اور کئی طلبہ کی گرفتاری کی خبریں بھی ہیں۔لیکن ڈاکٹر یونس کی حکومت نہ صرف عثمان ہادی کو انصاف دلانے میں ناکام رہی ہے بلکہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ کو بھی گرفتار کروا رہی ہے۔عثمان ہادی کے لیے ہونے والے مظاہرے محض ایک مطالبے کے ساتھ جڑے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ان احتجاجوں میں شامل طلبہ کے اندر موجودہ حکومت کے خلاف بھی شدید غصہ موجود ہے۔ جن حقوق اور آزادی کے حصول کے لیے 2024ء میں سینکڑوں طلبہ نے اپنی جانیں قربان کیں، بنگلہ دیش کے عوام آج بھی ان حقوق اور آزادی سے محروم ہیں۔ اب فروری میں بنگلہ دیش میں الیکشنز بھی منعقد ہونے والے ہیں، ان الیکشنز میں شیخ حسینہ کی پارٹی پر پابندی عائد ہے۔ لیکن بی این پی (BNP) اور، جماعت اسلامی بھی ان الیکشنز میں حصہ لے رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں موجود تمام پارٹیاں یہ امید اور خواہش لیے بیٹھی ہیں کہ انہیں اقتدار میں آنے کا موقع ملے تاکہ وہ اپنے لوٹ مار کا بازار گرم رکھ سکیں اور بنگلہ دیش کے عوام کا زیادہ سے زیادہ استحصال جاری رکھا جا سکے۔

لیکن ہم کہتے ہیں کہ الیکشنوں کے نتائج کچھ بھی برآمد ہوں، موجودہ نظام کے قائم رہتے ہوئے بنگلہ دیش کے عام عوام کے تمام مسائل تو کیا ایک مسئلہ بھی حل نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ موجودہ نظام میں جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی وہ مغربی سامراج، آئی ایم ایف اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی کٹھ پتلی حکومت ہی ہو گی جو سرمایہ دار طبقے کے مفادات اور سرمایہ دارانہ ریاست کے تحفظ کے لیے کام کرے گی جس کی قیمت بنگلہ دیش کے محنت کشوں کو اپنی زندگیوں میں مزید غربت، بدحالی، مہنگائی، کم سے کم اجرتوں اور محرومیوں کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ اس لیے ہم کمیونسٹ سمجھتے ہیں کہ جس طرح سال 2024 ء میں بنگلہ دیش کے طلبہ اور محنت کشوں نے اپنی مشترکہ منظم جدوجہد کی طاقت سے شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ کیا اور خود کو کمیٹیوں کی صورت میں منظم کر کے ملک کا انتظام اپنے جمہوری کنٹرول میں لیا تھا، آج بھی اسی طرح طبقاتی بنیادوں پر جنگ کے ذریعے، بغیر کسی حکمرانوں کے ٹاؤٹ پر یقین کیے صرف اور صرف اپنے طبقے کی طاقت پر یقین کے ذریعے بنگلہ دیش سے سرمایہ داری کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر کے ہی تمام مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ محنت کش طبقہ اور طلبہ جب اس بار طبقاتی جنگ کے میدان میں اتریں گے تو وہ ماضی کے اسباق سے سیکھتے ہوئے اور ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرا کر اپنے تاریخی فریضے یعنی سرمایہ داری کے خاتمے کی جانب بڑھیں گے کیونکہ محنت کش طبقے کے لیے ’جمہوریت‘ کوئی مجرد چیز نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک مقصد حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، بہتر اجرتیں، بہتر حالات، کام کے اوقات میں کمی اور باعزت زندگی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لاکھوں مزدور اپنی نئی جمہوری آزادیوں کو استعمال کرتے ہوئے، جو سڑکوں پر حاصل کی گئی ہیں اپنے مطالبات پیش کریں گے اور سرمایہ داری کے اس ناقابل برداشت طوق کو ہٹانے کی کوشش کریں گے جو ان کے گلے میں پڑا ہوا ہے۔ یہ نجات صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

Comments are closed.