|تحریر: ارسلان دانی|

ایک ایسے وقت میں جب مہنگائی کی شرح دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے، نوجوان خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں، بیروزگاری عروج پر ہے، لاکھوں بچے تعلیم کے حق سے محروم کر دیے گئے ہیں، اور صحت جیسی بنیادی انسانی ضرورت کو ٹھیکیداروں اور سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، اس ملک کے آئین میں ایک دفعہ پھرآمرانہ ترمیم کی گئی ہے اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا تحفظ کرنے والے آئین کا نام نہاد تقدس بھی ایک دفعہ پھر پامال کیا گیا ہے۔دوسری جانب حکمران طبقے کا ہی ایک دھڑا تحریک انصاف کے ساتھ مل کر اسی آئین کا تحفظ کرنے کے لیے تحریک چلا رہا ہے۔ جو آئین آج تک اس ملک کے عوام کا تحفظ نہیں کر سکا بلکہ خود جرنیلوں کے ہاتھوں یرغمال بھی بنتا چلاآیا ہے اور اس کا بلاتکار بھی مسلسل ہوتا رہا ہے اس کے تحفظ کے لیے عوام سے قربانیوں کی اپیل کی جا رہی ہے۔اس ملک میں ہر موقع پر عوام کو ہی قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ خواہ کوئی معاشی بحران ہو، قدرتی آفت ہو یا کوئی جنگ یہ ملک ہمیشہ کسی نازک دور سے ہی گزر رہا ہوتا ہے اور عوام سے ہی قربانی کی اپیل کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایٹم بم سے لے کر فوج کے تحفظ کی ذمہ داری بھی عوام پر عائد کر دی جاتی ہے اور اب اسی آئین کے تحفظ کا تقاضا کیا جا رہا ہے جو آج تک عوام کو بہتر معیار زندگی اور بنیادی جمہوری حقوق نہیں دلا سکا۔ یہ تحریک بھی اسی طرح عوام کی امنگوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتی جس طرح اس پیوند لگے آئین میں کی جانے والی نئی ترمیم ہے۔ پہلے کی طرح یہ آئینی ترمیم بھی محنت کش عوام کے ان سلگتے ہوئے مسائل سے حل کرنے کی بجائے جرنیلی اشرافیہ اور حکمران طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے۔
ٹی وی چینلز، اخبارات اور نام نہاد تجزیہ کار اس 27ویں آئینی ترمیم کو پاکستان کے لیے خوشحالی، استحکام اور ترقی کی نوید قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں میڈیا، سول و عسکری ریاستی ادارے، پارلیمنٹ اور ریاستی ڈھانچہ بحیثیت مجموعی محنت کش عوام کے مفادات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ بلکہ پاکستان کی ریاست کا آئین اور قانون محنت کش عوام کے مفادات کے خلاف ہتھیار کے طور پر کام کرتا ہے جس کا بنیادی مقصد سرمایہ دارانہ نظام کو دوام بخشنا اور اشرافیہ کے اقتدار، منافعوں اور لوٹ مار کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں موجودہ 27ویں آئینی ترمیم کو پاکستانی ریاست کے گہرے ہوتے ہوئے بحران کے پس منظر میں دیکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آج پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام اپنے تاریخی نامیاتی بحران کا شکار ہے جس کے نتیجے میں ریاستی بحران بھی ہر جگہ شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے، اور تمام ریاستیں اس بحران سے نکلنے کے لیے مختلف حربے آزما رہی ہیں اور ریاستی طاقت کو مرتکز کرتے ہوئے پوری اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ننگا کر رہی ہیں یعنی بحران سے نکلنے کیلئے جو حربے استعمال کیے جارہے ہیں وہ اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ پاکستانی ریاست کی صورتحال بھی اسی عالمی بحران کے تسلسل کا نتیجہ ہے، مگر یہاں یہ بحران اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ ریاست کے اندر موجود لوٹ مار کی بند ر بانٹ کے گرد تشکیل پانے والے مختلف دھڑے ایک دوسرے کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
اس اندرونی کشمکش کے نتیجے میں جو 27ویں آئینی ترمیم سامنے آئی، اس کے پیچھے ریاست،خاص کر فوجی اسٹیبلشمنٹ، کے اندر موجود فی الوقت غالب دھڑے کا دوسرے دھڑے پر سبقت حاصل کرنا کارفرما تھا۔ اس سبقت کے حصول کے لیے سب سے پہلا اور بنیادی کام اپنی کھوئی ہوئی سامراجی گماشتگی کی ساکھ کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔ آج عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے تاریخی بحران کے پس منظر میں امریکہ کے نسبتی زوال کے ساتھ چین اور روس کے ابھار نے سامراجی طاقتوں کے باہمی تعلقات کے توازن کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ اسی تناظر میں ٹرمپ کی تجارتی جنگ، بالخصوص بھارت پرروس سے تیل کی خریداری پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنا اور بعد ازاں اس میں مزید اضافے کی دھمکی، مودی اور ٹرمپ کے تعلقات میں واضح تناؤ کا باعث بنی۔
اسی عالمی و علاقائی پس منظر میں پاکستان اور بھارت کی چار روزہ جنگ کے بعد ٹرمپ نے مودی کو نیچا دکھانے کے لیے پاکستانی حکمران طبقے اور فوجی اشرافیہ کو وقتی تھپکیاں دیں۔ مگر یہ تھپکیاں کسی خودمختاری یا استحکام کی علامت نہیں بلکہ سامراجی گماشتگی کی ایک نئی شکل تھیں۔ ایک ایسا حکمران طبقہ، جس کی سیاسی اور اخلاقی بنیادیں پہلے ہی پاکستان کے محنت کش طبقے کے اندر ختم ہو چکی تھیں، نے اپنی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ایک بار پھر اسی پرانے سہارے کو اختیار کیا،یعنی سامراجی گماشتگی۔
اسی عمل کے نتیجے میں 27ویں آئینی ترمیم سامنے آئی اور ریاست کے اندر دوسرے دھڑے کے خلاف لڑائی کو مزید تیز کر دیا گیا۔ اس کشمکش کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اسی دوران دوسرے دھڑے کی جانب سے فیض حمید کو پھانسی دینے کا مطالبہ بھی گردش کرنے لگا۔ یعنی یہ لڑائی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
ایسے میں 27ویں آئینی ترمیم کسی استحکام کی علامت نہیں بلکہ ریاستی بحران کو مزید گہرا اور تیز کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اس ملک میں سامراجی عزائم مزید مضبوط ہوں گے، یہاں کے وسائل کی لوٹ مار میں اضافہ ہوگا، اور اس تمام عمل کا بوجھ ایک بار پھر محنت کش طبقے پر ڈال دیا جائے گا،جس کا تسلسل ہمیں اب 28ویں آئینی ترمیم کی خبروں کی صورت میں بھی نظر آ رہا ہے۔
اسی ترمیمی عمل کے دوران جب بل میں وزیراعظم کے عہدے کو فوجداری مقدمات سے استثنیٰ دینے کی شق شامل کی گئی تو شہباز شریف نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی کہ وزیراعظم قانون اور عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے، لہٰذا اس شق کو ختم کیا جانا چاہیے۔ بظاہر یہ ایک اصولی اور اخلاقی موقف دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ریاست کے اندر جاری اسی دھڑے بندی کی ایک چال تھی، جس کا مقصد کسی جمہوری قدر کا دفاع نہیں بلکہ مخالف دھڑے کو سیاسی طور پر کمزور کرنا تھا۔
یہ بیان دینا اگر حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مترادف نہ بھی ہو، تو کم از کم اپنی بچی کھچی سیاسی ساکھ پر لات مارنے کے برابر ضرور تھا، کیونکہ اس عمل کے ذریعے شہباز شریف نے خود کو اسٹیبلشمنٹ کے ایک وفادار گماشتے کے طور پر پیش کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس شق کو شامل نہ کرنا کسی اصولی جمہوری مؤقف کا اظہار نہیں تھا، بلکہ اس کا اصل مقصد دوسرے دھڑے سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم عمران خان کو اس ممکنہ استثنیٰ سے باہر رکھنا تھا۔ اقتدار کی اس اندھی جنگ میں یہ پوری لڑائی اصولوں کی نہیں بلکہ طاقت، مالی مفادات اور سامراجی طاقتوں کی خوشنودی کی جنگ ہے۔
اگر ہم طاقت کے اس توازن کو دیکھیں تو دوسری جانب وہ دھڑا موجود ہے جو اس وقت اقتدار سے باہر ہے اور جس کی طرف سے 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی جا رہی ہے اور آئین کے تحفظ کے لیے ایک نام نہاد تحریک کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔دوسرے الفاظ میں حکمران طبقے اور اسٹیبلشمنٹ کا دوسرا دھڑا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متحرک ہے اور اس نظام کو برقرار رکھتے ہوئے لوٹ مار میں اپنا حصہ مانگ رہا ہے۔ یہ دھڑا مخالفت کو اس انداز میں پیش کررہا ہے کہ گویا عمران خان ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عمران خان یا اس کی پارٹی کی جانب سے آج تک عوامی مسائل کے حوالے سے کوئی ٹھوس قابل عمل پروگرام سامنے نہیں آیا اور اپنے دور اقتدار میں وہ بھی مزدور دشمن اقدامات کے طوفان برپا کر چکے ہیں۔ تحریک انصاف یا آئین کا تحفظ کرنے والوں نے یہ کبھی واضح نہیں کیا گیا کہ مہنگائی کا خاتمہ کیسے ہوگا، مزدور کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کیا عملی لائحہ عمل ہے، قرضوں سے نجات یا آئی ایم ایف سے چھٹکارے کے لئے ان کا مؤقف کیا ہے۔
اس کے برعکس، عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی نجکاری کی پالیسی کو پوری طرح اپنایا گیا اور بے تحاشہ مہنگائی کی گئی۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا عمران خان اقتدار میں آ کر ان پالیسیوں کا خاتمہ کرے گا؟ اس کا جواب خود اس کی سیاست دے چکی ہے: نہ وہ ایسا کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس کا دھڑا۔ اگر عمران خان واقعی عوامی نعروں کے ساتھ اقتدار میں آتا ہے تو پھر اسے اقتدار میں آ کر ان مسائل کا حل بھی دینا ہوگا، جو اول تو اس سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ممکن ہی نہیں، اور دوم یہ کہ اس کا سیاسی و طبقاتی مفاد بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔
اسی لیے یہ پوری چپقلش عوام کے مسائل کے گرد نہیں بلکہ محض اقتدار کے حصول کے لیے جاری ہے۔ عمران خان بھی دوبارہ اسی انداز سے اقتدار میں آنا چاہتا ہے جیسے وہ پہلے آیا تھا،یعنی اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے کی سرپرستی کیساتھ اور اسی سرمایہ دارانہ ریاستی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی ایک طویل عرصے سے یہ واضح کرتی آ رہی ہے کہ محنت کش طبقے کے مسائل کا حل اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ خود محنت کش طبقہ ہے، نہ کہ سرمایہ دار سیاست وریاست کے یہ مختلف دھڑے جو صرف اقتدار کی کرسی کے گرد گھومتے ہیں۔
ماتمی لبرل اور آئین کا نام نہاد تقدس
بنیادی جمہوری حقوق پر حملوں کے حوالے سے27 ویں آئینی ترمیم یقینا قابلِ مذمت ہے اور یہاں کے محنت کش عوام کے لئے جو بچی کچی جمہوری آزادی تھی، اس کو بھی سلب کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن اس پر بھی لبرل دانشوروں کا جو رونا دھونا ہمیں دیکھنے کو ملا، وہ جمہوریت کے نام پر نوحہ گری سے کم نہیں تھا۔ سپریم کورٹ کے حوالے سے ایسے مناظر پیش کیے گئے جیسے گھر سے کوئی میت اٹھ گئی ہو اور پورا سماج یتیم ہو گیا ہو۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان میں سپریم کورٹ اور عدلیہ کا عوام دشمن کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں یہ ایک ایسی میت تھی جو زندہ رہ کر بھی سماج پر بوجھ بنی رہی۔ اگر جمہوری آزادیوں کی ہی بات کی جائے تو آج تک جبری گمشدگیوں کے معاملے پر ہمیں سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدام نظر نہیں آیا۔
مزید یہ کہ محنت کشوں پر جبر، نجکاری، اور بنیادی انسانی سہولتوں کے خاتمے جیسی پالیسیوں پر یہاں کی عدالتوں اور ججوں نے ہمیشہ آئی ایم ایف، جرنیلوں اور سرمایہ داروں کا ساتھ دیا ہے، اور اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے بے پناہ دولت اور مراعات سمیٹی ہیں، بلکہ مارشل لا لگانے تک اس عدلیہ اور یہاں کے ججوں کی حمایت شامل رہی ہے۔ اگر عدلیہ کا یہ کردار اتنا ہی واضح اور عریاں تھا تو پھر لبرل دانشور اس قدر پریشان کیوں ہیں؟ اس سوال کا جواب دراصل لبرل سیاست کی طبقاتی حدود میں پوشیدہ ہے۔
لبرل ہمیشہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کا دفاع کرتے ہیں یعنی ایسی جمہوریت جس میں محنت کش طبقے کا استحصال جمہوری لبادے میں جاری رہے۔ اسی لیے وہ بار بار پارلیمنٹ، عدالتوں اور آئینی اداروں پر بھروسہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ مگر پاکستان، جس کی ریاست کا آغاز ہی سامراجی گماشتگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، وہاں کبھی سرمایہ دارانہ جمہوریت پنپ ہی نہیں سکی۔ یہاں کا آئین و قانون ابتدا ہی سے برطانوی سامراج کی دی ہوئی نوآبادیاتی وراثت رہے ہیں۔
اس ریاست کی 78 سالہ تاریخ میں نہ پارلیمنٹ کبھی آزادانہ عوامی نمائندہ ادارہ بن سکی، نہ عدلیہ نے کبھی کوئی خودمختار جمہوری کردار ادا کیا، اور نہ ہی نام نہاد جمہوری انتخابات میں اتنی سکت تھی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ اور سامراجی دباؤ سے آزاد ہو کر کچھ کر سکتے۔ اس کے باوجود لبرل دانشور انہی سیاسی جماعتوں، اسی پارلیمنٹ اور اسی عدلیہ کے حوالے سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں، کیونکہ ان کا بنیادی مسئلہ نہ تو سرمایہ داروں کی لوٹ مار ہے اور نہ ہی محنت کش طبقے کا استحصال۔ ان کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ استحصال جمہوری انداز میں، آئینی پردے کے پیچھے جاری رکھا جائے۔
اب ٹی وی چینلز پر آئے روز خوشحالی اور استحکام کی باتیں نظر آتی ہیں، لیکن خوشحالی و استحکام دراصل پیداواری عمل کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، یہ اس سے الگ نہیں ہو سکتے۔ مگر پاکستان کے صنعتی شعبے کا المیہ اس حقیقت سے بہت دور ہے اور یہاں کی پیداواری صلاحیت خطے میں بہت پیچھے رہ چکی ہے۔ 70ء کی دہائی کے بعد پاکستان کی صنعت کو کبھی حقیقت میں پروان چڑھایا ہی نہیں گیا، اور ریاست کی معاشی سرگرمی سامراجی جنگیں اور مختلف سامراجی طاقتوں کی گماشتگی ہی رہے ہیں۔ اس وقت بڑی صنعتیں شدید دباؤ میں ہیں اور پچھلے 18 ماہ میں 150 سے زائد ٹیکسٹائل یونٹس اور 100 سے زائد اسپننگ یونٹس بند ہو چکے ہیں، اور باقی فیکٹریاں صرف 30 سے 50فیصد انسٹالڈ صلاحیت پر ہی چل رہی ہیں۔ یعنی اس معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اتنی سکت ہی نہیں کہ یہ اس خطے میں دوسری بڑی معیشتوں کا مقابلہ کر سکے اور ابھی اس صلاحیت کا بھی مکمل استعمال نہیں ہو پارہا ہے۔
دوسری طرف زراعت بھی زوال کی جانب گامزن ہے۔ چند ماہ قبل مون سون بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور ہزاروں ایکڑ پر محیط فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ اس بحران پر حکمران طبقے کی طرف سے صرف ڈرامہ بازی اور دکھاوا دیکھنے کو ملا اور آج تک نہ تو اس تباہی کا مداوا ہوا اور نہ ہی متاثرہ علاقوں کا ایک حصہ بھی دوبارہ آباد کیا جا سکا۔اسی دوران، ہزاروں ایکڑ زمینیں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے قبضے میں لی جا رہی ہیں، جس سے مزارعے اور کسان بے زمین اور محروم ہو رہے ہیں۔ یوں ایک طرف قدرتی آفات نے کسانوں کی زندگی اجاڑ دی اور دوسری طرف سرمایہ دارانہ قوتیں زمین اور پیداوار پر قبضہ کر کے محنت کش طبقے اور کسانوں کی مشکلات کو بڑھا رہی ہیں۔
اس تمام صورتحال کے نتیجے میں جرنیلوں کی بڑھتی ہوئی جارحیت میں واضح اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگوں کی تلاش میں رہنے والی یہ معیشت مزید خونریزی کو جنم دے رہی ہے، جہاں انسانی جانیں منافع اور اسٹریٹجک سودے بازی کا ایندھن بن چکی ہیں۔ حالیہ سامراجی کاسہ لیسی کے تحت پاکستان کے حکمرانوں کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے گئے، جن کے براہِ راست اثرات ہمیں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان جھڑپوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ ان علاقائی تنازعات کے نتیجے میں لاکھوں انسانوں کی جانیں داؤ پر لگیں گی، جبکہ یہاں کے حکمران اور جرنیل اپنی دولت اور عالمی حیثیت میں اضافہ کریں گے۔
خود کو ایک”اسٹریٹجک کردار“کے طور پر عالمی سیاست میں پیش کرنے کے نتائج پاکستان کا محنت کش طبقہ پہلے ہی خون کی صورت میں چکا رہا ہے۔ ایک طرف جرنیلوں اور سول اشرافیہ کی عیاشیاں بڑھ رہی ہیں تو دوسری طرف عام عوام لاشیں اٹھانے پر مجبور ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان جس جنگ میں پہلے ہی داخل ہو چکا ہے اس کا خمیازہ سب سے پہلے خیبر پختونخوا کے محنت کش عوام نے ادا کیا۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں معصوم بچوں کی جانیں جا رہی ہیں جبکہ اس جنگ کا آغاز بھی ماضی میں امریکی آشیرباد کے تحت کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں نام نہاد ”ڈالر جہاد“ کو فروغ ملا۔
آج ان حالیہ جھڑپوں کو”دہشت گردی کے خاتمے“کے نام پر جائز قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ اس دہشت گردی کی جڑیں خود اسی اسٹیبلشمنٹ میں پیوست ہیں۔ اس حقیقت کو سب سے بہتر طور پر خیبر پختونخوا کے محنت کش عوام سمجھتے ہیں اور یہی عوام اس دہشت گردی کو ختم کرنے کی حقیقی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ”پی ٹی ایم“اور”اولسی پاسون“ جیسی تحریکیں اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ریاستی جبر اور مذہبی دہشت گردی کا جواب صرف منظم عوامی مزاحمت ہی ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کو عملاً ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وہاں نہ کوئی جمہوری آزادی باقی بچی ہے اور نہ ہی بنیادی انسانی سہولیات۔ اس جبر کے پیچھے ایک طرف چین کے سامراجی عزائم ہیں اور دوسری طرف یہاں کے جرنیلوں کی سامراجی گماشتگی اور لوٹ کھسوٹ۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف ابھرنے والی عوامی تحریک“بلوچ یکجہتی کمیٹی”کی قیادت پر برطانوی نوآبادیاتی قوانین کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بلوچ خواتین کو جبری طور پر اغوا کیا جا رہا ہے۔ جبری گمشدگی ایک غیر انسانی اور غیر قانونی عمل ہے، جسے دنیا بھر میں سنگین جرم تسلیم کیا جاتا ہے۔ مگر پاکستان میں، خصوصاً بلوچستان میں، یہ عمل آج بھی ایک منظم ریاستی پالیسی کے طور پر جاری ہے۔ رواں سال مئی سے اب تک کم از کم سات بلوچ خواتین جبری گمشدگی کا شکار ہو چکی ہیں اور تاحال لاپتہ ہیں۔ ان میں ایک خاتون آٹھ ماہ کی حاملہ ہے، جبکہ ایک 17 سالہ لڑکی کا اغوا اس امر کی کھلی علامت ہے کہ ریاستی جبر تمام اخلاقی، قانونی اور انسانی حدود کو روند چکا ہے۔
اگر اس حقیقت کو مزید واضح انداز میں دیکھا جائے تو چاہے فیلڈ مارشل کے عہدے کا اعلان ہو یا 27ویں آئینی ترمیم، ان تمام اقدامات کے باوجود نہ تو ریاست مضبوط ہوئی ہے، نہ کسی قسم کا استحکام آیا ہے اور نہ ہی محنت کش عوام کی زندگیوں میں خوشحالی کا کوئی امکان پیدا ہوا ہے۔ اس کے برعکس، یہ تمام اقدامات اس ریاستی بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں جس کی بنیادیں پہلے ہی کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ حکمران طبقہ آئین، قانون اور جبر کے ذریعے اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوشش تو کر رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ عوام کے اندر اپنی سیاسی و اخلاقی ساکھ مکمل طور پر کھو چکا ہے۔
آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں ایک عمومی عوامی موڈ ابھر کر سامنے آ رہا ہے جس میں محنت کش طبقہ مہنگائی، بیروزگاری، جنگوں اور استحصال کے خلاف منظم جدوجہد کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو بھی رائج الوقت حکمران طبقے، سرمایہ داروں کی لوٹ مار اور سامراجی جنگوں کے خلاف کھل کر بات کرتا ہے، اور خود کو کمیونسٹ یا سوشلسٹ کہتا ہے، وہ عوامی حمایت حاصل کر رہا ہے۔ یہ محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حالیہ عوامی تحریک اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جب محنت کش عوام منظم ہو کر میدان میں اترتے ہیں تو وہ نہ صرف ریاستی جبر کا مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ اپنی جیت بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ یہ تحریک کسی آئینی ترمیم، کسی عدالت یا کسی حکمران کی دین نہیں بلکہ محنت کش عوام کی اپنی اجتماعی طاقت کا نتیجہ ہے۔ یہی راستہ باقی تمام مسائل کے حل کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے ہم سمجھتے ہیں کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے نہ کوئی ترمیم، نہ کوئی اصلاح، اور نہ ہی کوئی نجات دہندہ محنت کش طبقے کو نجات دلا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ محنت کش طبقہ منظم ہو اور ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اس سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی نمائندہ ریاست کا خاتمہ کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب محنت کش عوام حرکت میں آتے ہیں تو نہ آئین انہیں روک سکتا ہے، نہ بندوق، اور نہ ہی حکمرانوں کو حاصل سامراجی سرپرستی۔ یہی اس عہد کا فیصلہ کن حل ہے اور یہی اس جدوجہد کا واحد راستہ ہے۔ اسی مقصد کے لئے ہم آپ کو انقلابی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں تا کہ آپ بھی اس انقلابی جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance