پتوکی: خوبصورت پودوں کے پیچھے چھپی تلخیاں اور نرسری مزدوروں کا استحصال

سرسبز پودے، خوشبودار پھول اور سبزیوں کی نازک کونپلیں جنہیں نرسری فارموں میں پروان چڑھایا جاتاہے ہمیں زندگی کا حسن اور تازگی دیتے ہیں۔ مگر ان حسین باغات کے پیچھے چھپی ایک تلخ حقیقت بھی ہے، جہاں یہ نرسری مالکان مزدوروں کی محنت کا استحصال کر کے ان کی زندگیوں میں کانٹنے چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو پھولوں کی طرح خوشبودار کر رہے ہیں۔ ضلع قصور کے شہر پتوکی کو ایشیا کی سب سے بڑی نرسری کی مارکیٹ کہا جاتا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹی بڑی نرسریز کام کر رہی ہیں اور محض ایک شہر میں ہزاروں محنت کش کام کر رہے ہیں۔ اور یہاں سے مقامی مارکیٹ کے علاوہ خلیجی ممالک کو بھی پودے برآمد کیے جاتے ہیں۔

نجی اندازے کے مطابق یہ ”بِلین ڈالر انڈسٹری“ ہے اور سالانہ مجموعی آمدنی اربوں روپوں میں ہے، یعنی 10–100 ارب PKR یا 50–500 ملین USD سالانہ کے قریب۔ ان اعدادوشمار سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صنعت کوئی معمولی اہمیت کی حامل نہیں۔ یہ ساری دولت اور پوری مارکیٹ محنت کشوں کے خون پسینے سے وجود میں آئی ہے اور مزدور کی محنت کا ایک بڑا حصہ سرمایہ دار کی جیب میں جاتا ہے، نرسری فارم اِسی ماڈل پر کام کرتے ہیں۔ محنت کش دن رات دھوپ، گرمی، اور کیمیکل زدہ ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ جس میں مزدور کی یومیہ اجرت 700سے 900 روپے ہے جو کہ قانوناً کم از کم اجرت سے کم ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی سوشل سیکیورٹی یا ہیلتھ الاؤنس بھی نہیں دیا جا رہا۔ فارم مالک مزدور کی محنت سے پیدا کردہ قیمت کا بڑا حصہ خود رکھتا ہے۔ پودا ایک مزدور کے گھنٹوں کے کام سے تیار ہوتا ہے، مگر اس کی فروخت سے حاصل شدہ رقم کا بہت ہی کم حصہ مزدور تک پہنچتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی بڑی نرسریزکروڑوں ڈالر کماتی ہیں۔ ان میں خضر نرسری (ہری پور) اندازاً سالانہ 5–10 ملین امریکی ڈالر کا ٹرن اوور کرتی ہے۔ فیضان نرسری فارم (لاہور) بھی تقریباً 5 ملینUSD سالانہ کماتی ہے۔ پاکستان میں تقریباً 1–2 ملین امریکی ڈالر سالانہ ریونیو والی کئی نرسریاں ہیں،مثلاً بسم اللہ نرسری فارم(پتوکی) 1.07 ملین USDکے قریب اور لاہور و کراچی کی دیگر کئی نرسریز 0.5–1 ملین USD تک کا سالانہ کاروبار کرتی ہیں۔نرسری کے کاروبارہ کا زیادہ تر حصہ مزدور کی معاشی غلامی کی بنیاد پر کھڑا ہے جہاں اکثر نرسری مالکان مزدوروں کو پیشگی قرض دے کر انہیں غلامی کے ایک غیر رسمی نظام میں جکڑ لیتے ہیں۔ یہ قرض مزدور کی آزادی چھین لیتا ہے، اور وہ ساری زندگی کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ قرضہ 5سے 20ہزار روپے تک ہوتا ہے اور مزدور یہ قرض اتارنے کیلئے مہینوں، بعض اوقات سالوں تک کم اجرت پر جکڑا رہتا ہے۔


اربوں روپے کی اس صنعت میں مزدوروں کو جہاں زیادہ وقت میں کم تنخواہ پر کام کرایا جا رہا ہے وہیں، مزدوروں کو معاشی غلامی کے ساتھ ساتھ چائلڈ لیبر اور خواتین سے کم اجرت پر کام لیا جا رہا ہے۔ جہاں 12 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو 300 سے 400 یومیہ پر پودوں کو پانی دینا، بیج لگانا اور گملے بھرنا جیسا کام لیا جاتا ہے۔

ایک طرف جہاں پر پنجاب حکومت نے پہلے ہی سکولوں کو بیچ دیا ہے اور بچوں کی بنیادی ضرورت میں تعلیم چھین کر انہیں سرمایہ داروں کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور مریم نواز کی طرف سے جہاں بنیادی صحت کے مراکز اور ہسپتالوں کو بیچا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف کم اجر ت پر کام کرنے والے نرسری کے مزدوروں کو نہ تو سوشل سیکیورٹی دی جارہی ہے اور نہ ہی میڈیکل کی سہولت۔

پاکستان کی سرمایہ دارانہ ریاست آئے روز مزدوروں پر معاشی حملے کر رہی ہے اور مقامی حکومتیں پتوکی میں بڑے بڑے نرسری فارم کے مالکان کی پشت پناہی کر رہی ہیں اور دوسری طرف اسی ریاست کا پالتو میڈیا پتوکی میں مزدوروں کو ”باغبانی کے شوقین“ کے طور پر پیش کرتاہے نہ کہ وہ محنت کش طبقہ جس کا استحصال ہورہا ہے اور قوانین ہونے کے باوجود ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ نرسری فارموں پر مزدوروں کا استحصال ایک سرمایہ دارانہ حقیقت ہے جسے خوبصورتی کے لبادے میں چھپایا جاتا ہے۔ مزدور، جو ان پودوں کی آبیاری کرتا ہے، خود معاشی و سماجی طور پر بنجر زمین پر زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اس حقیقت کو پہچانیں اور ایک ایسا نظام تشکیل دیں جہاں محنت کو اس کا اصل حق دیا جائے۔

ہم انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے نرسری مزدوروں پر ہونے والے استحصال کے خلاف ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ اس ریاست کے تمام ادارے پولیس، عدالتیں، پارلیمنٹ اور میڈیا وغیرہ سرمایہ دار طبقے کی پالیسیوں کیلئے اور ان کے مفادات کیلئے کام کر رہے ہیں۔محنت کش طبقے کی نجات تبھی ممکن ہے جب وہ طبقاتی شعور حاصل کرے اور اجتماعی طور پر منظم ہو کر استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب ذریعے اس سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرے۔

Comments are closed.