|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبرپختونخوا|
انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے 8 مارچ، محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر 9 مارچ کو یونیورسٹی آف پشاور میں ایک اہم سیاسی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست کا عنوان ”خواتین کے حقوق کی جدوجہد اور انقلابی کمیونزم“ تھا، جس میں طلبہ، نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس پروگرام کا مقصد خواتین کے استحصال کی تاریخی وجوہات کو سمجھنا اور موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں خواتین کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر بحث کرنا تھا۔

انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے 8 مارچ کے حوالے سے یونیورسٹی آف پشاور میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
نشست کی صدارت اور مرکزی گفتگو انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی رہنما کامریڈ آدم پال نے کی۔ اپنی تفصیلی گفتگو میں انہوں نے خواتین کے استحصال کی تاریخی بنیادوں کو طبقاتی سماج کے ارتقا سے جوڑتے ہوئے وضاحت کی کہ انسانی تاریخ کے ابتدائی ادوار میں جب نجی ملکیت موجود نہیں تھی تو خواتین کی سماجی حیثیت نسبتاً بہتر تھی۔ تاہم نجی ملکیت، طبقاتی تقسیم اور ریاست کے ظہور کے ساتھ ساتھ خواتین کی محکومی اور استحصال بھی بڑھتا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سرمایہ دارانہ نظام میں خواتین کو نہ صرف گھریلو سطح پر بلکہ معاشی اور سماجی میدانوں میں بھی دوہرے استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کامریڈ آدم پال نے اپنی گفتگو میں افغانستان، خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان میں خواتین کو درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس خطے میں خواتین کو مذہبی انتہا پسندی، پدرسری سماجی ڈھانچے اور معاشی پسماندگی کی وجہ سے شدید جبر اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محنت کش خواتین کو تعلیم، روزگار، صحت اور سماجی آزادی کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے اور ان کے مسائل کا حل موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی حقیقی آزادی صرف اسی صورت ممکن ہے جب پورا سرمایہ دارانہ اور استحصالی نظام ختم کیا جائے اور ایک ایسا سماج قائم کیا جائے جہاں استحصال، طبقاتی فرق، نجی ملکیت اور صنفی امتیاز کا خاتمہ ہو۔ ان کے مطابق انقلابی کمیونزم ہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف محنت کش طبقے بلکہ خواتین کی مکمل آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
نشست کے دوران شرکاء نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا اور مختلف سوالات اور نکات کے ذریعے بحث میں حصہ لیا۔ شرکاء نے خواتین کے حقوق، سرمایہ دارانہ نظام، مذہبی و سماجی جبر اور انقلابی سیاست کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ اس طرح یہ نشست ایک جاندار اور بامقصد سیاسی مباحثے میں تبدیل ہو گئی جس میں طلبہ اور نوجوانوں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔
پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے نظریات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور خواتین کے سوال پر پارٹی کی شائع کردہ دستاویز خریدی تاکہ اس موضوع پر مزید مطالعہ کیا جا سکے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ خواتین کی آزادی اور ایک منصفانہ سماج کے قیام کے لیے جاری رکھنے میں جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
آخر میں پروگرام اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ خواتین کی حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کو مزید منظم اور مضبوط کیا جائے گا اور انقلابی کمیونزم کے نظریات کو وسیع پیمانے پر پھیلایا جائے گا۔
لوئر دیر
اسی طرح 8 مارچ، محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے لوئر دیر کے شہر تیمرگرہ میں بھی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ پروگرام کا موضوع ’محنت کش طبقے اور قومی جبر کے خلاف مزاحمتی تحریکوں میں خواتین کے کردار‘ تھا۔
پروگرام کے آغاز میں مقررین نے عالمی یومِ خواتین کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دن دراصل محنت کش خواتین کی جدوجہد، قربانیوں اور حقوق کے حصول کے لیے جاری عالمی تحریک کی علامت ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں خواتین آج بھی مختلف قسم کے سماجی، معاشی اور سیاسی جبر کا سامنا کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ مختلف تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔
بحث کے دوران خیبر پختونخوا اور پاکستان میں ابھرنے والی مختلف مزاحمتی تحریکوں میں خواتین کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ خیبر پختونخوا میں قومی جبر کے خلاف ابھرنے والی پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) میں خواتین نے جرأت مندانہ کردار ادا کیا اور جلسوں، احتجاجی مظاہروں اور سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اسی طرح بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کے خلاف ابھرنے والی تحریک بلوچ یکجہتی کمیٹی میں بھی خواتین نے غیر معمولی ہمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور اپنے پیاروں کی بازیابی اور انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔
شرکاء نے خیبر پختونخوا میں محنت کش خواتین کی جدوجہد کی مثال دیتے ہوئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تحریک کا ذکر کیا۔ مقررین نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنے بنیادی مطالبات، جن میں مستقل روزگار، تنخواہوں میں اضافہ اور دیگر مراعات شامل ہیں، کے لیے شاندار اور منظم احتجاجی تحریکیں چلائیں۔ ان احتجاجوں نے ثابت کیا کہ محنت کش خواتین اپنے حقوق کے لیے منظم ہو کر جدوجہد کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
اسی طرح شرکاء نے کہا کہ آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (آگیگا) کے پلیٹ فارم سے سرکاری ملازمین اور اساتذہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً ابھرنے والی تحریکوں میں بھی خواتین نے فعال شرکت کی۔ ان تحریکوں میں خواتین اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازم خواتین نے نہ صرف شرکت کی بلکہ احتجاجی سرگرمیوں اور مطالبات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خواتین اب اپنے اوپر ہونے والے جبر اور استحصال کے خلاف خاموش نہیں رہیں گی۔ وہ نہ صرف اپنی آواز بلند کر رہی ہیں بلکہ محنت کش مرد ساتھیوں کے ساتھ شانہ بشانہ مختلف تحریکوں اور جدوجہد میں شریک ہو رہی ہیں۔
مقررین نے مزید کہا کہ موجودہ سماج میں خواتین دوہرے جبر کا شکار ہیں۔ ایک طرف پدرسرانہ سماجی ڈھانچہ خواتین کو مختلف پابندیوں اور امتیازی سلوک کا شکار بناتا ہے، جبکہ دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام بھی خواتین کی محنت کا استحصال کرتا ہے اور انہیں معاشی اور سماجی حیثیت میں کمزور رکھتا ہے۔ اس لیے خواتین کے مسائل کا حقیقی حل صرف اصلاحات یا جزوی تبدیلیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے پورے استحصالی نظام کے خاتمے کی ضرورت ہے۔
آخر میں شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی آزادی اور برابری کی جدوجہد کو محنت کش طبقے کی وسیع تر جدوجہد کے ساتھ جوڑنا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ اس نظام کے خلاف طبقاتی بنیادوں پر منظم جدوجہد کی جائے اور ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جہاں استحصال، طبقاتی فرق اور صنفی امتیاز کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔ اس طرح بلوچستان میں ریاست کے طرف سے بلوچ خواتین کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی بھرپور پور مذمت کی گئی، شرکاء نے کہا کہ ریاست کی جانب سے ایسے اقدامات انتہائی شرمناک ہیں اور مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے لاپتہ بلوچ خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو ریاست انہیں اپنی ہی بنائی ہوئی عدالتوں میں پیش کرے۔
پروگرام اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ محنت کش خواتین کی جدوجہد کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور ایک انصاف پر مبنی، مساوی اور سوشلسٹ معاشرے کے قیام کے لیے مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گا۔

















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance