خیبر پختونخوا: سابقہ فاٹا میں دہشتگردی اور فوجی آپریشنز کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور

2008ء میں بھی خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا میں دہشتگردی کی وجہ سے لوگوں کو گھروں سے نکال کر آئی ڈی پیز (Internally displaced person) بننے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے بعد ریاست کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف ضرب عضب سمیت کئی فوجی آپریشن کئے گئے لیکن دہشتگردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ […]

فاٹا کا انضمام اور تاریخی زخم!

|تحریر: اسفندیار شنواری| 24 مئی 2018ء کو فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ موجودہ امکانات میں سب سے زیادہ قابل عمل قدم ہے، تاہم اس عمل میں مجرمانہ تاخیر سے کوئی انکار نہیں۔ 7 ایجنسیوں اور 6 فرنٹیر ریجنز پر مشتمل یہ علاقے ’’آزادی‘‘ کے نام پر 1901ء سے انگریز سامراج کے […]

پختونخواہ اور فاٹاکے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف سوشلسٹ انقلاب ہے!

جہاں تک سماجی تحریک کا تعلق ہے تو ایسا ہرگز نہیں کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا ہ آج ایک انقلابی کیفیت میں ہے۔ لیکن ایسا بھی قطعاً نہیں ہے کہ حالات معمول کے مطابق ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز، اساتذہ، نرسز، کسان، صنعتی مزدور اور طلبا کی بہت بڑی تعداد نہ صرف اس بوسیدہ نظام سے اکتا گئے ہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بھی بلند کر رہے ہیں

فاٹا کا معمہ

برطانوی سامراج کی باقیات ’’ایف سی آر‘‘ کا خاتمہ ایک خوش آئند امر ہے مگر یہاں اس بات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے سے عام قبائلی عوام کی زندگیوں پر کیا فرق پڑے گا؟ کیا فاٹا کے عام عوام کو روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت، روزگار اور دہشت گردی سمیت دیگر سینکڑوں مسائل سے نجات مل جائے گی؟