بلوچستان میں دفعہ 144 کا تسلسل: اعلانیہ اور غیر اعلانیہ جبر!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان میں 2 جنوری 2026ء سے 31 جنوری 2026ء تک دفعہ 144 کے نفاذ کی شدید مذمت کرتی ہے۔ یہ اقدام کسی ہنگامی صورتحال یا امن و امان کے تحفظ سے متعلق نہیں بلکہ بلوچستان میں عوام اور احتجاج کرنے والے افراد کی ابھرتی ہوئی سیاسی جدوجہد کو دبانے کی کوشش ہے۔

یہ فیصلہ گزشتہ ایک سال سے جاری ریاستی جبر کے تسلسل کا حصہ ہے۔ گزشتہ سال مارچ 2025ء کے بعد اگرچہ بلوچستان میں کسی عمومی احتجاج پر باضابطہ پابندی کا اعلان موجود نہیں تھا، لیکن عملاً کسی بھی قسم کے دھرنے، جلسے، پریس کانفرنس یا اجتماع کا حق حاصل نہیں تھا۔ اس دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا، ان کے احتجاجی پروگرام منسوخ کروائے گئے، پریس کانفرنسز پر پابندیاں لگائی گئیں اور کارکنان کو ہراساں کیا گیا۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست نے دفعہ 144 کے بغیر ہی عملی طور پر عوامی تحریکوں کو دبایا۔

سال 2025ء میں جنوری سے جولائی تک دفعہ 144 کا باضابطہ نوٹیفکیشن موجود نہیں تھا، مگر پورا سال غیر اعلانیہ پابندیوں کی زد میں رہا۔ بعد ازاں عوامی دباؤ اور تحریکوں کے تسلسل کے باعث اگست تا دسمبر 2025ء کے دوران مختلف اضلاع اور پورے صوبے میں مجموعی طور پر کم و بیش 86 تا 90 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ رہی۔ یوں ایک طرف پورا سال غیر اعلانیہ جبر جاری رہا اور دوسری طرف تین ماہ کے قریب اعلانیہ پابندیاں نافذ رہیں۔

اب جنوری 2026ء میں ایک بار پھر 2 جنوری سے 31 جنوری تک دفعہ 144 کا نفاذ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست ہر ابھرتی ہوئی عوامی تحریک کے جواب میں نوآبادیاتی قوانین کا سہارا لے رہی ہے۔ اس نفاذ کا مقصد پورے صوبے میں نام نہاد ریاستی رٹ کے نفاذ اور بالخصوص بلوچستان گرینڈ الائنس کے اعلان کردہ احتجاجی شیڈول کو سبوتاژ کرنا ہے اور ہم اس منظم سازش کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔

دفعہ 144 عوام کو منظم ہونے، اجتماع کرنے اور احتجاج کے حق سے محروم کرنے کا سامراجی قانون ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی واضح کرتی ہے کہ دفعہ 144 ہو یا غیر اعلانیہ پابندیاں، دونوں عوامی حقوق پر یکساں حملہ ہیں۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کے احتجاجی شیڈول کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ہم اس کی ہر سطح پر مذمت کریں گے اور اس کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ احتجاج، اجتماع اور تنظیم سازی عوام کا بنیادی حق ہے، جسے کسی نوٹیفکیشن یا دھونس سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ہم بلوچستان گرینڈ الائنس، بلوچ یکجہتی کمیٹی، محنت کش تنظیموں، طلبہ، خواتین اور تمام جمہوری و انقلابی قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس جابرانہ اقدام کو مسترد کریں، یکجہتی کو مضبوط کریں اور ریاستی جبر کے خلاف منظم جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ دفعہ 144، غیر اعلانیہ پابندیاں اور نہ ہی ریاستی دھونس محنت کش عوام کی جدوجہد کو روک سکتی ہیں۔ ہم بلوچستان سمیت پورے پاکستان کے محنت کشوں، طلبہ، نوجوانوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اس ریاستی جبر کے خلاف یکجہتی کی بھرپور اپیل کرتے ہیں تاکہ یہ جابرانہ اقدام ناکام بنایا جا سکے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ جدوجہد کی جائے۔

Comments are closed.