|تحریر: ابرار نذیر، طالبعلم جی سی یونیورسٹی، لاہور|

کیا ہم میں سے ہر دوسرا شخص بہت سے یکسا ں سوالات کا سامناں نہیں کرتا؟ انڈر گریجویٹ سطح پر ہر طالبعلم کے ذہن میں کچھ بنیادی سوالات اٹھتے ہیں: میری صلاحیتیں کیا ہیں؟ میری فطرت اور قابلیت کے لحاظ سے کون سا راستہ میرے لیے بہتر ہے؟ سچ کیا ہے؟ اس تقسیم زدہ دور میں، میں اپنے ذہنی سکون کو کیسے برقرار رکھوں؟ ذاتی اور اجتماعی زندگی میں توازن کیسے قائم کیا جائے؟ اپنے وقت کو مؤثر طریقے سے کیسے استعمال کیا جائے؟میں نے بھی انہی سوالات کا سامنا کیا، اور ہمیشہ منطقی جوابات کی تلاش میں رہا۔
مارکسزم، جو اپنی جدلیاتی طریقے کے ذریعے نہ صرف ان سوالات کے واضح جواب پیش کرتا ہے بلکہ ایک منصفانہ اور طبقاتی تقسیم سے پاک معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں فخر سے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کا حصہ بنا۔
مارکسزم سرمایہ دارانہ نظام کی اندرونی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے اور سرمایہ دار طبقے کی جانب سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈا اور ادب کو چیلنج کرتا ہے۔
میرا دوسرا سبب اس پارٹی کو جوائن کرنے کا یہ تھا کہ باقی بائیں بازو کی جماعتوں کے برعکس، یہ پارٹی محض اصلاحات کی بات نہیں کرتی، بلکہ اس مردہ اور استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات کرتی ہے۔ ایک بڑے پروپیگنڈا کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ طلبہ کو سیاسی جماعتوں سے جڑنے سے روکا جاتا ہے۔ مجھے اپنے انٹرمیڈیٹ کے دن یاد آتے ہیں جب تقریباً ہر دوسرا اُستاد ہمیں یہ سکھاتا تھا کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔
مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ انسان صرف سماجی نہیں بلکہ سیاسی حیوان بھی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے اُس بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جو سرمایہ دار اور حکمران طبقے نے اس لیے بنایا ہے تاکہ تنقیدی سوچ کو دبایا جا سکے اور موجودہ نظام کو برقرار رکھا جا سکے۔ مگر تاریخ ہمیشہ بدلتی ہے، اور بدلے گی۔
اگر ہم اس استحصالی نظام کو گرانے کے لیے پرعزم رہیں۔ یہ تبدیلی صرف اور صرف انقلاب کے ذریعے ممکن ہے،اس جدوجہد کا حصہ بننے کے لئے آج ہی انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ممبر بنیں!















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance