بلوچستان: بولان میڈیکل کمپلیکس، سول ہسپتال سمیت بلوچستان بھر کے ہسپتالوں اور میٹرو پولیٹن کوئٹہ کی نجکاری نامنظور!

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، بلوچستان|

انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا ہے کہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے صحت کے شعبے اور شہری اداروں میں نجکاری کے حالیہ اقدامات پورے صوبے کے محنت کش عوام پر ایک منظم معاشی اور سماجی حملہ ہیں۔ بولان میڈیکل کمپلیکس اور سول ہسپتال کوئٹہ کو خودمختار ادارہ قرار دینا درحقیقت صحت کے شعبے کی کھلی نجکاری کا آغاز ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس مزدور دشمن اور عوام دشمن فیصلے کی شدید مذمت کرتی ہے۔

کسی بھی سرکاری ادارے کو نیم خود مختار یا خود مختار بنانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاست اپنی مالی ذمہ داری سے دستبردار ہو جاتی ہے اور ادارے کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی آمدن خود پیدا کرے۔ ایک سرکاری ہسپتال جب اپنی آمدن خود پیدا کرے گا تو اس کا سیدھا مطلب فیسوں میں اضافہ، ٹیسٹوں اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اور مفت سہولیات کا خاتمہ ہے۔ یوں علاج کو بنیادی انسانی حق کی بجائے منافع بخش کاروبار میں بدل دیا جاتا ہے اور اس کا بوجھ محنت کش عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔

پی پی پی ماڈل: نجکاری کا نیا چہرہ

صوبائی حکومت نے متعدد ضلعی ہسپتالوں کو عوامی و نجی شراکت داری کے ماڈل کے تحت نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ژوب، پنجگور، کوہلو، پشین، خضدار، ڈیرہ بگٹی، قلات اور لسبیلہ شامل ہیں، جبکہ ٹراما سینٹر ژوب اور ٹراما سینٹر خضدار کو بھی اسی ماڈل میں شامل کیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان اداروں کی ملکیت بدستور ریاست کے پاس رہے گی، مگر جب انتظامی امور، بھرتیاں اور طبی سہولیات کی فراہمی نجی شراکت داروں کے سپرد کر دی جائے تو ادارہ عملاً منافع خوری کی بنیاد پر چلتا ہے نہ کہ عوامی ضرورت پر۔ عوامی و نجی شراکت داری دراصل نجکاری کا بتدریجی طریقہ ہے جس کے ذریعے ریاست عوامی فلاحی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹتی ہے۔

یہ تمام اقدامات عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کی پالیسیوں کے عین مطابق ہیں، جن کے تحت ریاستی شعبوں کو منڈی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ حکمران طبقہ انہی شرائط پر عمل کرتے ہوئے صحت، تعلیم اور دیگر عوامی شعبوں کو سرمایہ داروں کے سپرد کر رہا ہے۔

مستقل تعیناتیوں کی بندش اور کنٹریکٹ نظام

جولائی 2024ء سے پورے صوبے میں مستقل بنیادوں پر تعیناتیوں کو عملاً روک دیا گیا ہے۔ نئی بھرتیاں کنٹریکٹ اور ایڈہاک بنیادوں پر کی جا رہی ہیں۔ اس کا مقصد پنشن اور مستقل حقوق کا خاتمہ اور ملازمین کو غیر یقینی صورتحال میں رکھنا ہے۔ نجی شراکت داری اس استحصال کو مزید گہرا کرے گی، جہاں کم اجرت اور عارضی ملازمت معمول بن جائے گی۔

میٹروپولیٹن کوئٹہ اور صفا کوئٹہ کی حقیقت

نجکاری کے نتائج کی واضح مثال میونسپل کارپوریشن کوئٹہ کے مختلف شعبہ جات میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں صفا کوئٹہ کے نام پر صفائی کا نظام نجی شعبے کو دیا گیا۔

نجکاری کے اس گھناؤنے عمل میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو اعلان کردہ کم از کم اجرت سے بھی کم تنخواہوں پر صفائی کے کام پر لگایا گیا ہے۔ نہ مستقل ملازمت، نہ سماجی تحفظ اور نہ ہی مناسب حفاظتی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ دوسری طرف بارش کی چند بوندوں کے بعد شہر کی سڑکیں دریاؤں کا منظر پیش کرتی ہیں اور نکاسی آب کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔ اگر نجکاری بہتری کا نام ہے تو ہر بارش کے بعد شہر کیوں ڈوب جاتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ نجکاری عوامی وسائل کو نجی مفادات کے حوالے کرنے کا عمل ہے۔ چاہے اسے خودمختاری کہا جائے یا عوامی و نجی شراکت داری، اس کا نتیجہ ایک ہی ہے: عوام پر بوجھ، ملازمین کا استحصال اور سہولیات کی گراوٹ۔

ہماری اپیل اور مطالبات

انقلابی کمیونسٹ پارٹی بلوچستان کے محکمہ صحت کے ملازمین، ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکس، کلاس فور ملازمین، میٹروپولیٹن ورکرز اور تمام محنت کشوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ نجکاری اور کنٹریکٹ نظام کے خلاف متحد اور منظم جدوجہد کریں۔ ہم بلوچستان گرینڈ الائنس اور دیگر مزدور تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس فیصلے کے خلاف صوبہ گیر تحریک منظم کریں۔

ہمارے مطالبات درج ذیل ہیں:

1۔ بولان میڈیکل کمپلیکس اور سول ہسپتال کو خودمختار بنانے کا نوٹیفکیشن فوری واپس لیا جائے۔
2۔ تمام ضلعی ہسپتالوں کو عوامی و نجی شراکت داری کے ماڈل کے تحت دینے کا فیصلہ منسوخ کیا جائے۔
3۔ محکمہ صحت اور میٹروپولیٹن کوئٹہ کے شعبہ جات میں نجکاری ختم کی جائے۔
4۔ مستقل تعیناتیاں فوری بحال کی جائیں اور تمام کنٹریکٹ و ایڈہاک ملازمین کو مستقل کیا جائے۔
5۔ کم از کم اجرت کے قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
6۔ صحت اور شہری سہولیات کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔

صحت، صفائی اور شہری سہولیات کوئی کاروبار نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق ہیں۔ ان پر کسی قسم کی نجکاری قبول نہیں کی جا سکتی۔

نجکاری نامنظور!
عوامی و نجی شراکت داری نامنظور!
کنٹریکٹ نظام نامنظور!
آئی ایم ایف کی غلامی نامنظور!
صحت اور شہری سہولیات پر سرمایہ دارانہ یلغار نامنظور!
محنت کشوں کا اتحاد، زندہ باد!

Comments are closed.