امریکی حکمران طبقے کا المیہ!
مخصوص حالات میں چیزیں اپنے الٹ میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں نئے صدر کی آمد سے پہلے یہ عمارت امریکی سیاسی انتظام میں اعتماد اور استحکام کی علامت تھی۔ آج یہ عمارت دیوہیکل سیاسی انتشار کا منبع بن چکی ہے
مخصوص حالات میں چیزیں اپنے الٹ میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں نئے صدر کی آمد سے پہلے یہ عمارت امریکی سیاسی انتظام میں اعتماد اور استحکام کی علامت تھی۔ آج یہ عمارت دیوہیکل سیاسی انتشار کا منبع بن چکی ہے
فرانسیسی انتخابات کے پہلے مرحلے کے انعقاد میں ایک مہینے سے کم عرصہ رہ گیا ہے اور تقریباً آدھے فرانسیسی ووٹروں کی عدم شمولیت کے باعث ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس انتخابی مہم کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت روایتی پارٹیوں کا تقریباً مکمل انہدام ہے
قربانی اور لگن کے جذبات سے سرشار حالیہ لہرسماج کی ہر ایک پرت کو متاثر کر رہی ہے اور اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ اساتذہ، وکلا اور حتیٰ کے تاجر بھی ہڑتالوں کی طرف ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں۔ ریاست کے باہر ہندوستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں آزادی پسند نوجوانوں کی حمایت میں آواز بلند ہوئی ہے۔
مشرق وسطی میں سب سے زیادہ رجعتی قوتیں مغربی سامراجی اور ان کے حامی ہیں جو اس خطے کی عوام کو زیر کر کے غلامی کی بیڑیوں میں باندھ کر ان کا اندھا دھند استحصال کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس کام کیلئے معاشرے کے سب سے رجعتی گروہوں اور پرتوں پر اکتفا کر رہے ہیں
|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: ولید خان| ’’وینزویلا میں کُو ہو چکا ہے! مادورو نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے!‘‘ جمہوری طریقہ کار سے منتخب سابق صدر شاویز کے خلاف ہونے والے ایک مختصر کُو کے 15سال مکمل ہونے (11-13اپریل 2002ء) سے چند روز قبل کُو کرنے والے (ونیزویلی اشرافیہ، واشنگٹن […]
عالمی سطح پر آنے والی تیز ترین تبدیلیاں پاکستانی ریاست کی دراڑوں کو بڑھاتی چلی جا رہی ہیں۔ محنت کش عوام پرمظالم کے پہاڑ توڑنے والی اور بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی یہ ریاست مسلسل کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے
’’آج ہم نوجوانو ں کو پستول اور بم اٹھانے کا نہیں کہتے، آج طلبہ کا سامنا اس سے کہیں بڑے مقصدسے ہے۔ ۔ ۔ نوجوانوں کو انقلاب کے اس پیغام کو ملک کے دور دراز کونوں تک لے کر جانا ہوگا۔ ‘‘
3 جولائی کو بر سر اقتدار آنے والی فوجی آمریت پچھلے چند دنوں سے پھرایک نئے بحران کی لپیٹ میں ہے۔ مختلف شہروں میں اشیا پر دی جانے والی سبسڈیوں میں کٹوتیوں کے خلاف۔۔خاص کر روٹی پر دی جانے والی سبسڈی میں کٹوتی کے خلاف۔۔ السیسی کے محنت کشوں اور غریبوں پر حملوں کے خلاف سینکڑوں مشتعل مصری جارحانہ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے
دو سال پہلے جریدے فنانشل ٹائمز نے ایک اداریے میں فرانس کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک نیم انقلابی کیفیت میں ہے۔ یہ کہنا مبالغہ آرائی ہوسکتی ہے لیکن بہرحال یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ فرانسیسی سماج ایک بند گلی میں کھڑا ہے۔ اب یہ سیاسی بحران کے دھماکے میں تبدیل ہو چکا ہے
یہ تمام تر صورتحال امریکی سماج میں آنے والی ایک تاریخی تبدیلی کی غمازی کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ امریکہ کا سماج مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ امریکی صدر کی حلف برداری اور اقتدار کے پہلے ہفتے کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر تحریکیں پہلے کبھی نہیں ابھریں
دسمبر میں بشار الاسد کی حامی قوتوں کے حلب پر دوبارہ قبضے نے، نہ صرف شام کی خانہ جنگی کو بلکہ خطے میں موجود بحران کو فیصلہ کن موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ لیکن آنے والے دنوں میں عالمی تعلقا ت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
ٹرمپ کو جلد ہی اندازہ ہو جائیگا کہ انتخابی وعدوں اور اقتدار کی حقیقتوں میں کتنا فرق ہے۔ امریکی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بھی یہی خواہش ہے۔ یہ امید پوری ہوتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ پہلے اشارے یہی مل رہے ہیں کہ ٹرمپ اپنے انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ آخر میں ٹرمپ ایک مزیدا دائیں بازو کا صدر ہو گاجو بڑے کاروباروں کے مفادات کا دفاع کرے گا
الیکشن کسی بھی لمحے میں سماج کی کیفیت کا ایک اہم لیکن ناقص عکس ہوتے ہیں۔ اگرچہ سطح سے نیچے موجود محرکات کی وہ بھرپور عکاسی تو نہیں کرتے لیکن بہرحال ان کے ذریعے اہم نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ وہ عوامل جو خاموشی سے سالوں اور دہائیوں میں پنپ رہے ہوتے ہیں الیکشن میں اچانک سطح پر نمودار ہو کر ٹھوس شکل اختیار کر جاتے ہیں۔
|تحریر: سوشلسٹ اپیل، امریکہ، ترجمہ: ولید خان| ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد دیوہیکل احتجاجوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ لاکھوں کروڑوں نوجوان اور محنت کش اس کی حکومت کی شدید مخالفت کریں گے۔ ٹرمپ سرمایہ داری کے بحران اور اس سے جڑی غربت، تعصب اور عدم استحکام کو […]