ارجنٹائن: سماجی کارکن سانتیاگو ملڈوناڈو کی جبری گمشدگی نے میکری حکومت کو مشکل میں ڈال دیا
ملڈوناڈوکی گمشدگی نے لوگوں میں ناقابل یقین تحرک پیدا کیا ہے، خاص کر یکم ستمبر کو پانچ لاکھ لوگوں نے بیونس آئرس میں احتجاجی مظاہرہ کیا
ملڈوناڈوکی گمشدگی نے لوگوں میں ناقابل یقین تحرک پیدا کیا ہے، خاص کر یکم ستمبر کو پانچ لاکھ لوگوں نے بیونس آئرس میں احتجاجی مظاہرہ کیا
ہاروی نے یہ بھی بتلا دیا کہ حالات کتنی تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں: کیسے ایک دیوہیکل جدید شہر تباہ وبرباد ہو جاتا ہے اور روزمرہ کی زندگی اور معاشی سرگرمیاں کیسے لمحہ بھر میں برباد ہو کر رہ جاتی ہیں، کیونکہ سمندری طوفان ہی وہ واحد تباہی نہیں جو انسانیت پر منڈلا رہی ہے
|تحریر: آرٹورو روڈریگویز، ترجمہ: انعم خان| ایک ہفتہ قبل کیٹالونیا اور ہسپانوی معاشرہ بارسلونا اور کیمبرلز کے شہروں میں ہونے والے دو دہشت گردی کے حملوں کے ہاتھوں لرز اٹھا۔ رجعتی قوتوں نے فوری طور پر موقع سے فائدے اٹھاتے ہوئے ملک کے اند ر خوف پھیلانے اور تقسیم کرنے […]
ہندوستان کے خوانی بٹوارے کے 70سال بعد بھی گدھ نیم مردہ لاشوں کو نوچتے چلے جا رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ برطانوی سامراج کی مسلط کردہ تقسیم کے بعد برپا ہونے والے خونی مناظر آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہیں۔ اس وقت ہاتھوں میں برچھیاں اور خنجر لیے […]
رد انقلاب کا مقابلہ صرف انقلابی طریقہ کار سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ محنت کش اور کسان صرف اپنی قوتوں پر ہی انحصار کر سکتے ہیں۔ بولیوارین انقلاب کی حاصلات کا دفاع کرو! اشرافیہ کو بے دخل کرو!
گزشتہ چند ماہ میں ہندوستان سے آنے والی خبروں سے یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہندو بنیاد پرستی تیزی سے پھیل رہی ہے اور پورے ملک پر بنیاد پرستوں کا غلبہ ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں انقلابی قوتیں اور محنت کش طبقہ پسپائی کا شکار ہے
’’آزادی‘‘ کے نعروں کی گونج وادی سے ابھر کر ایک بار پھر پورے کشمیر میں پھیل چکی ہے۔ تحریک تھمنے کی بجائے بار بار مزید شدت سے ابل پڑتی ہے۔ بہیمانہ بھارتی ریاستی جبر اپنی انتہاؤں کے باوجود تحریک کو پسپا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا
پچھلے ایک مہینے سے سعودی عرب، عرب امارات اور بحرین نے قطر کی مکمل ناکہ بندی کی ہوئی ہے جبکہ مصر نے تمام سفارتی تعلقات منقطع کر دئیے ہیں۔ ان واقعات نے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے جس کے حوالے سے دنیا کی بڑی سامراجی طاقتیں کافی پریشان ہیں
یہ ہیڈ ٹرانسپلانٹیشن آج کے عہد کی مادی پیداواری قوتوں کی انتہائی ترقی کی غمازی کرتا ہے۔ لیکن سماج میں موجود رائج الوقت معاشی نظام اور ذرائع پیداوار کے رشتوں کی فرسودگی اس قسم کی جدید ایجادات کو انسانی دسترس سے بالا رکھتی ہے
محنت کش طبقہ ہی وہ واحد قوت ہے جو دہشت گردی کو شکست دے سکتی ہے اور سرمایہ داری اور سامراجیت کے خلاف سنجیدہ جدوجہد کر سکتی ہے۔ حکمران طبقہ اور دہشت گرد، دونوں محنت کش طبقے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں
پچھلے کچھ عرصے سے جنوبی ایشیا اور اس کے گردو نواح میں علاقائی اور عالمی سامراجی ریاستوں کے مابین تعلقات میں تیز ترین تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ ماضی کے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور ’’نئی دوستیاں‘‘ ان کی جگہ لے رہی ہیں۔ پرانے تضادات کے بطن سے نئے تضادات کا جنم ہورہا ہے
یہ کشمیر کی نئی نسل کی ایک انقلابی بغاوت ہے جو تخت دہلی اور اسلام آباد کو لرزا رہی ہے۔ کشمیر کی طلبہ تحریک نے کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور تبدیلی کا یہ عمل نہ تو کشمیر تک محدود ہے اور نہ اسے وہاں تک محدود رکھا جا سکتا ہے
11جون 2017ء کو ہونے والے فرانسیسی پارلیمانی الیکشن میں ریکارڈ تعداد میں ووٹ نہ ڈالنے کا رجحان نظر آیا۔ اس لئے مارش/ موڈم اتحاد کے نام نہاد ’’ابھار‘‘ کو اسی انداز میں دیکھنا چاہیے جیسا کہ وہ حقیقت میں ہے: ووٹ نہ ڈالنے والوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے جنہوں نے’’صدارتی اکثریت‘‘ کے لئے ووٹ ڈالا
مغربی میڈیا نے وینز ویلا کے حالات سے متعلق جھوٹ اور منافقت پر مبنی خبروں کا بازار گرم کر رکھا ہے اور کھل کر محنت کش دشمن قوتوں کی حمایت اور مظلوم ثابت کرنے کے لئے کوشاں ہے