|تحریر: آفتاب اشرف|
پرولتاریہ کا کوئی وطن نہیں۔ (کمیونسٹ مینی فیسٹو)
اصل دشمن گھر میں ہے۔ (لینن/ کارل لائیبنیخت)
جنگ دیگر ذرائع سے سیاست کا ہی تسلسل ہوتی ہے۔ (کارل وان کلازویٹز)
جنگ کا لفظ سنتے ہی ہر عام انسان وحشت زدہ ہو جاتا ہے۔ کٹی پھٹی لاشوں، بکھرے انسانی اعضاء، بارود اور جلتے گوشت کی بدبو، تباہ حال شہروں، برباد زندگیوں پر مشتمل ایک پورا المیہ ہے جو اس لفظ کے ساتھ جڑا ہے۔ جنگیں بلاشبہ ہولناک ہوتی ہیں اور صنعتی عہد میں جدید اسلحے اور پھر ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی نے انہیں مزید ہولناک بنا دیا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس تاریخی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب سے طبقات وجود میں آئے ہیں، تب سے جنگ و جدل انسانی سماج کا جزو لاینفک رہی ہے۔ مزید برآں کمیونسٹوں کا واضح مؤقف ہے کہ جب تک عالمی سطح پر طبقات کا خاتمہ کرتے ہوئے ذرائع پیداوار کی اجتماعی ملکیت اور جمہوری کنٹرول سے حاصل کردہ پیداواری افراط پر مبنی ایک غیر طبقاتی سماج قائم نہیں کیا جائے گا، تب تک نوع انسان کو جنگ و جدل سے چھٹکارا ملنا ناممکن ہے۔ دیگر الفاظ میں سوشلسٹ انقلابات کے ذریعے عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے بغیر جنگ و جدل سے نجات کی توقع رکھنا محض ایک یوٹوپیائی حماقت ہے۔ لیکن جنگ کے سوال پر یہ عمومی مؤقف بالکل درست ہونے کے باوجود مسئلے کا مکمل اور ٹھوس احاطہ نہیں کرتا۔ واضح رہے کہ کمیونسٹ اگرچہ جنگ کو ایک ناپسندیدہ امر سمجھتے ہیں لیکن ہم گاندھی واد ہر گز نہیں ہیں، لہٰذا ہم کسی مجرد امن پسندی کے تحت ہر جنگ کی ’اصولی‘ مخالفت کرنے کے پابند نہیں۔ کسی بھی جنگ اور اس میں برسرپیکار فریقین کی حمایت یا مخالفت کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ اس جنگ کا کردار کیا ہے اور متعلقہ خطے و عالمی مزدور تحریک اور انقلابی جدوجہد پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی جنگ پر درست مارکسی مؤقف قائم کرنے کے لیے سب سے پہلے جدلیاتی مادیت کے میتھڈ کو بروئے کار لاتے ہوئے اس جنگ کے کردار کا ٹھوس تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ یہ تجزیہ کیسے کیا جاتا ہے اور مارکسی اساتذہ، خاص طور پر لینن کی اس معاملے پر تحاریر سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں، جنگ کے سوال پر مارکسی مؤقف قائم کرتے وقت دیگر کن عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے، یہی اس آرٹیکل کا موضوع بحث ہے۔
جنگ اور سیاست
ہیگل کے جدلیاتی طریقہ کار سے متاثر 19 ویں صدی کے پروشین جنرل اور حربی نظریہ دان وان کلازویٹز کا درست طور پر سمجھنا تھا کہ کوئی بھی جنگ دیگر یعنی متشدد ذرائع سے سیاست کا ہی تسلسل ہوتی ہے۔ لینن نے بھی اس معاملے پر اپنی تحاریر میں بارہا اس مؤقف کو دہرایا ہے اور زور دیا ہے کہ جنگ کے کردار کے تعین کے حوالے سے یہ وہ بنیاد ہے جہاں سے مارکسزم آغاز کرتا ہے۔ لیکن دوسری طرف لینن یہ بھی کہتا ہے کہ ”سیاست مجتمع شدہ معیشت ہوتی ہے“، یوں لینن کلازویٹز کے تجزیے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جنگ کو نہ صرف سیاست بلکہ اس سیاست کی بنیاد میں کارفرما معاشی عوامل کے ساتھ جدلیاتی طور پر جوڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکسزم لینن ازم کی رو سے کسی بھی جنگ کے کردار کے تعین میں پہلی گولی کس نے چلائی؟ پہلے کون حملہ آور ہوا ہے؟ جیسی بحثیں غیر اہم ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس اہم یہ ہے کہ جانا جائے کوئی بھی جنگ کس قسم کی سیاست اور پالیسیوں کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئی ہے؟ اس سیاست اور پالیسی کی بنیاد میں موجود معاشی محرکات کیا ہیں؟ کون سے طبقے ہیں جن کے پاس پالیسی سازی کا اختیار ہے اور کون ہیں جن کے سر پر جنگ ان کی رضامندی کے بغیر مسلط کر دی گئی ہے؟ جنگ سے کس طبقے کو فائدہ ہو رہا ہے اور کس کو نقصان؟ کسی جنگ کے متعلقہ خطے اور عالمی سطح پر استحصال زدہ طبقات اور مظلوم عوام کی جدوجہد پر کیا اثرات پڑ رہے ہیں؟ یہ وہ سب عوامل ہیں جن کو ایک متحرک جدلیاتی کلیت کے طور پر لیتے ہوئے ہی یہ تعین کیا جا سکتا ہے کہ تاریخ کے کسی بھی مخصوص عہد میں کسی مخصوص جنگ کا کردار ترقی پسندانہ ہے یا رجعتی اور کمیونسٹوں کو اس کی حمایت کرنی چاہیے یا مخالفت۔ یہاں یہ یاد دہانی کرانا بہت ضروری ہے کہ ہیگل سے منسوب لینن کے پسندیدہ فقرے، جو جدلیاتی مادیت کے میتھڈ کی بھی عکاسی کرتا ہے، یعنی ”سچائی ہمیشہ ٹھوس ہوتی ہے“ کے مصداق کسی بھی جنگ کے کردار کا درست تعین کرنے کے لیے اس کے مخصوص تاریخی عہد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا ٹھوس تجزیہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ زمان و مکاں کی قید سے آزاد کوئی مجرد لیبل آنکھیں بند کر کے ہر جگہ چسپاں کر دینا شعبدہ باز ’مین اسٹریم‘ دانشوروں کا شیوہ تو ہو سکتا ہے مارکس وادیوں کا نہیں۔
پہلی عالمی جنگ اور لینن
جنگ کے سوال پر مارکس اور اینگلز کے جدلیاتی طریقہ کار کو سموتے اور مزید نکھارتے ہوئے لینن کے پہلی عالمی جنگ پر اس کے اطلاق میں ہمارے لیے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ دوسری انٹرنیشنل کے بھگوڑے، موقع پرست اور غدار قائدین کے برعکس لینن نے انتہائی درستگی کے ساتھ وضاحت کی کہ یہ عالمی جنگ نہ تو اچانک سے رونما ہونے والا کوئی حادثہ ہے اور نہ ہی اس کا ’دفاع وطن‘ کے ساتھ کچھ لینا دینا ہے بلکہ یہ ایک سامراجی لوٹ مار کی جنگ ہے جو عالمی وسائل، منڈیوں، نوآبادیات اور حلقہ اثر کی از سر نو تقسیم کے لیے دنیا کی بڑی سامراجی طاقتوں کے مابین دہائیوں سے چلی آ رہی سامراجی رسہ کشی پر مبنی عالمی سیاست کا منطقی نتیجہ ہے۔ مزید برآں یہ سیاست بذات خود سرمایہ داری کی آخری منزل یعنی سامراج کے مظہر کے ساتھ جڑی ہے جس کی وضاحت وہ اسی موضوع پر اپنی شاندار تصنیف میں کچھ یوں کرتا ہے، ”سامراج سرمایہ دارانہ ارتقا کا وہ مرحلہ ہے جس میں اجارہ داریوں اور مالیاتی سرمائے کا غلبہ قائم ہو جاتا ہے، سرمائے کی برآمد غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے، بین الاقوامی اجارہ داریوں کے مابین دنیا کی تقسیم کا آغاز ہو جاتا ہے اور جس میں کرۂ ارض کے تمام خطوں کی بڑی سرمایہ دارانہ قوتوں کے مابین تقسیم مکمل ہو جاتی ہے“۔ جنگ کے اس سامراجی اور رجعتی کردار کے درست تعین کی بنیاد پر ہی لینن نے کہا تھا کہ تمام دنیا کے سوشلسٹ انقلابیوں اور محنت کشوں کو نہ صرف پوری قوت کے ساتھ اس جنگ کی مکمل اور دو ٹوک مخالفت کرنا ہو گی بلکہ اس سامراجی قتل و غارت گری سے نجات کے لیے اپنے اپنے ممالک میں سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو تیز تر کرنا ہو گا چاہے اس کے لیے ایک انقلابی خانہ جنگی کا خطرہ ہی کیوں نہ مول لینا پڑے۔
مارکسی میتھڈ کو بروئے کار لاتے ہوئے پہلی عالمی جنگ کے کردار کی یہ وضاحت دوسری انٹرنیشنل کے ان تمام بھگوڑوں اور غداروں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ تھی جو اٹھارویں صدی کے اختتامی دہائیوں سے لے کر انیسویں صدی کی چھٹی ساتویں دہائی تک بورژوازی کی جانب سے بادشاہت، جاگیری اور کلیسائی اشرافیہ سے نجات اور قومی تشکیل و آزادی کے لیے لڑی جانے والی ترقی پسندانہ کردار کی حامل مختلف قومی جنگوں کی مثالوں اور مارکس اور اینگلز کی جانب سے ان کی حمایت کو بنیاد بناتے ہوئے پہلی عالمی جنگ کے بارے میں ’قومی جنگ‘ اور ’دفاع وطن‘ کا مؤقف اختیار کر چکے تھے اور اس آڑ میں پرولتاری بین الاقوامیت سے غداری کرتے ہوئے اپنی اپنی قومی بورژوازی کے ساتھ اتحاد بنا کر اپنی ریاستوں کی جنگی کاروائیوں کی بھرپور حمایت کر رہے تھے۔ لینن نے وضاحت کی کہ امریکہ کی جنگ آزادی اور فرانس کی انقلابی جنگوں سے لے کر اطالوی قومی نجات اور جرمن قومی تشکیل کی جنگوں تک یہ تمام جنگیں بورژوا جمہوری انقلابات کا نتیجہ تھیں اور ان کا تاریخی کردار ترقی پسندانہ تھا، اسی لیے مارکس اور اینگلز نے ان کی حمایت کی تھی۔ اس کے برعکس پہلی عالمی جنگ سامراج کے عہد، جس میں سرمایہ داری اور قومی ریاست اپنا تاریخی ترقی پسندانہ کردار مکمل طور پر کھو چکی ہیں اور ذرائع پیداوار کی مزید بڑھوتری کے راستے میں رکاوٹ بن چکی ہیں، کی سامراجی پالیسیوں اور سیاست کا نتیجہ ہے اور اس کا اٹھارویں و انیسویں صدی کی قومی جنگوں کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں بنتا۔ مزید برآں لینن نے یہ بھی واضح کیا کہ ان ترقی پسند قومی جنگوں کی حمایت کے باوجود مارکس اور اینگلز نے ہمیشہ سرمائے اور محنت کے نامیاتی تضاد کو اولین اہمیت دیتے ہوئے متعلقہ بورژوازی پر پرولتاریہ کے طبقاتی نقطہ نظر سے کڑی تنقید بھی جاری رکھی، خاص کر جہاں وہ اپنے طبقاتی مفادات کی حدود وقیود کے کارن اپنے تاریخی فرائض کی ادائیگی میں خصی پن کا مظاہرہ کرتی۔ لینن نے ’قومی دفاع‘ کے نام پر اپنی قومی بورژوازی کے سامنے سجدہ ریز دوسری انٹرنیشنل کے ان غداروں کو یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں بورژوازی کی جانب سے لڑی جانے والی ترقی پسندانہ قومی جنگوں کی حمایت کے باوجود مارکس اور اینگلز نے کبھی بھی ان کے دوران پرولتاریہ کو اپنی آزادانہ تنظیم سازی و جدوجہد، سیاسی و نظریاتی پروگرام، سیاسی شناخت اور نعروں پر سمجھوتہ کرتے ہوئے بورژوازی کے تابع ہو جانے کی ہدایت نہیں کی بلکہ ہمیشہ ایسی کوششوں کے خلاف شدید جدوجہد کی۔ اسی طرح مارکس اور اینگلز نے کسی قومی جنگ کا بنیادی کردار بدلنے کی صورت میں اس کا درست تجزیہ کرتے ہوئے اپنا مؤقف بھی تبدیل کیا۔ مثلاً 1870ء کی فرانکو-پروشین جنگ کے ابتدائی مراحل میں مارکس اور اینگلز نے پروشیا کی تنقیدی حمایت کی تھی کیونکہ پروشیا فرانس کے تسلط اور زار شاہی کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کرتے ہوئے تمام جرمن ریاستوں کو متحد کرنے کے لیے لڑ رہا تھا جو کہ ایک ترقی پسندانہ قدم تھا لیکن جب پروشیا نے فوجی فتوحات حاصل کرتے ہوئے فرانس کے علاقوں پر قبضہ جمانا شروع کر دیا تو مارکس اور اینگلز نے اس کی مخالفت کی کیونکہ اب پروشیا کی جرمن قومی نجات کی جنگ قبضہ گیری کی جنگ میں بدل چکی تھی۔
اسی طرح لینن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر کسی ملک کے محنت کش سوشلسٹ انقلاب کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اس پاداش میں ارد گرد کی بورژوا ریاستیں، علاقائی اور عالمی سامراجی قوتیں سوشلسٹ انقلاب کو کچلنے کی خاطر نوزائیدہ مزدور ریاست پر جنگ مسلط کر دیتی ہیں تو وہاں کے محنت کش اور کمیونسٹ پوری جانبازی کے ساتھ انقلاب کے دفاع کے لیے لڑیں گے کیونکہ اس جنگ کا کردار ترقی پسندانہ ہو گا اور اسے نہ صرف متعلقہ سماج کے محنت کشوں بلکہ پورے خطے اور عالمی مزدور طبقے کی بھی حمایت حاصل ہو گی۔ لینن نے اعلان کیا کہ سوشلسٹ انقلاب پر اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے دفاع کے لیے پوری دنیا کی بورژوازی کے ساتھ بیک وقت بھی لڑنا پڑا تو کمیونسٹ لڑیں گے۔ لینن کے اس مؤقف کو عام طور پر انقلابی دفاع پسندی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آنے والے عرصے میں جب روس کے مزدور انقلاب کو کچلنے کے لیے درجن سے زائد سامراجی ممالک نے سوویت روس پر حملہ کیا تو بالشویکوں اور روس کے محنت کش طبقے نے سرخ فوج کی شکل میں منظم ہوتے ہوئے یورپی اور عالمی محنت کش طبقے کی حمایت کے ساتھ ان سامراجی قوتوں کو شکست فاش سے دوچار کیا۔
اقوام کا حق خود ارادیت اور دیگر پہلو
دوسری انٹرنیشنل کے بعض روسی بھگوڑوں نے اپنی غداری پر پردہ ڈالنے کی خاطر ”مظلوم اقوام کے حق خود ارادیت“ کی آڑ لینے کی کوشش کی اور شور مچایا کہ (زار شاہی کی حمایت کے ساتھ) سربیا کی آسٹرو ہنگیرین سلطنت کے خلاف جنگ ایک حقیقی قومی جنگ ہے (یہ وہ معاملہ تھا جہاں سے پہلی عالمی جنگ کا آغاز ہوا تھا)۔ اپنے مؤقف میں وزن ڈالنے کے لیے وہ سلطنت برطانیہ کے خلاف امریکہ کی جنگ آزادی اور اس میں فرانس کی جانب سے امریکہ کی حمایت اور فوجی امداد کی مثال دیتے تھے۔ لیکن لینن نے واضح کیا کہ کسی بھی معاملے کے جوہر تک پہنچنے کے لیے اسے اس کی کلیت میں دیکھنا پڑتا ہے نہ کہ اس کے مختلف اجزا کا علیحدہ علیحدہ مجرد تجزیہ کیا جاتا ہے۔ لینن سربیا کے قومی مسئلے اور سربوں کی آسٹرو ہنگیرین تسلط سے نجات کی خواہش کو تسلیم کرتا تھا لیکن سامراجی عالمی جنگ میں اس پورے معاملے کا کردار انتہائی ثانوی نوعیت کا تھا اور اس چھوٹے سے جزو کو عالمی جنگ کی سامراجی لوٹ مار اور قتل و غارت گری پر مبنی کلیت پر حاوی کر دینا نری حماقت تھی۔ اس کے بر عکس امریکہ کی جنگ آزادی دنیا کی طاقتور ترین نوآبادیاتی قوت یعنی برٹش ایمپائر کے خلاف لڑی گئی تھی، لہٰذا یہ اپنی کلیت اور جوہر میں ترقی پسندانہ کردار رکھتی تھی سو یہاں پر فرانس کی جانب سے امریکی حریت پسند قوتوں (جو فرانس کی پراکسی ہرگز نہ تھے) کی حمایت محض ایک ثانوی معاملہ بن جاتا ہے۔ لینن نے اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سامراج کے عہد میں بھی حقیقی قومی جنگیں ممکن ہیں جیسا کہ اگر انڈیا، چین اور دیگر نوآبادیات یا نیم نو آبادیاتی ممالک خود پر قابض سامراجی قوتوں کے خلاف جنگ آزادی لڑیں۔ اور کمیونسٹوں کا فریضہ ہے کہ وہ ان جنگوں میں قابض سامراجی طاقت کے خلاف بر سرپیکار قوتوں کی حمایت کریں مگر پرولتاریہ کے طبقاتی مفادات و جدوجہد پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر اور بشرطیکہ یہ قومی جنگیں کسی دوسری سامراجی طاقت کی پراکسی نہ ہوں۔
اگر ہم اسی بحث کو موجودہ عہد میں لے آئیں تو ہمارے سامنے روس یوکرائن جنگ کا معاملہ ہے جس میں یورپ اور امریکہ کے بہت سے نام نہاد بائیں بازو نے حق خودارادیت کے نام پر یوکرائن کی حمایت کی ہے۔ حالانکہ یہ جنگ اپنے جوہر میں روز اول سے ہی روس کے ابھرتے ہوئے علاقائی سامراج کے خلاف امریکہ اور نیٹو کے عالمی سامراج کی ایک پراکسی جنگ تھی اور اس میں یوکرائن کے قومی مسئلے کا کردار نہایت ہی ثانوی نوعیت کا تھا۔ مزید برآں ہم کمیونسٹوں نے اس جنگ میں کبھی بھی روسی سامراج کی رتی برابر حمایت بھی نہیں کی لیکن ہماری تنقید کا زیادہ تر رخ درست طور پر امریکی سامراج اور نیٹو کی جانب ہی رہا ہے کیونکہ امریکہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی سامراجی قوت ہے بلکہ اس ساری جنگ اور قتل و غارت گری کی بنیاد ڈالنے، اس کو شروع کرنے اور اسے سالوں تک جاری رکھنے میں مرکزی کردار اسی کا ہے۔ ہم پر یہ تنقید بھی کی جاتی ہے کہ ہم اس جنگ میں امریکی سامراج اور نیٹو کی شکست کے خواہاں ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے لیکن ایسا اس لیے نہیں ہے کہ ہمیں روسی سامراج یا حکمران طبقے سے کوئی ہمدردی ہے یا ہم اس کی ذرہ بھر بھی حمایت کرتے ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو روس کے مقابلے میں کئی گنا بڑی، طاقتور اور عالمی سطح کی سامراجی قوتیں ہیں اور ان کی فتح کے نہ صرف پورے خطے بلکہ پوری دنیا پر انتہائی رجعتی اثرات مرتب ہوں گے اور علاقائی و عالمی مزدور تحریک کو بہت نقصان پہنچے گا۔ روسی سامراج کی فتح بھی بلاشبہ روس اور یوکرائن سمیت خطے کے محنت کش طبقے کو نقصان ہی پہنچائے گی لیکن چونکہ روس علاقائی سطح کی ایک چھوٹی سامراجی قوت ہے، لہٰذا یہ نقصان اپنی گہرائی اور پھیلاؤ دونوں میں محدود ہو گا۔
انہی معاملات کے متعلق ایک مثال حالیہ اسرائیل ایران مسلح تنازعے سے بھی لی جا سکتی ہے۔ ہم کمیونسٹوں نے اس فوجی چپقلش میں واضح طور پر اسرائیل اور اس کی پشت پر موجود امریکی و یورپی سامراجی طاقتوں کو مورد الزام ٹھہرایا، ان کی دو ٹوک مخالفت کی اور ان کی شکست کے خواہاں رہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ایران کی عوام دشمن ملا اشرافیہ کے حمایتی ہیں اور نام نہاد بائیں بازو کے بعض حلقوں کی جانب سے ہم پر ہونے والی تنقید کے برعکس ہم نے کہیں بھی یہ مؤقف اختیار نہیں کیا۔ صورتحال بالکل واضح ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کی سب سے خونخوار سامراجی قوت ہے اور دہائیوں سے دنیا کی سب سے بڑی سامراجی قوت امریکہ کی بھرپور پشت پناہی کے ساتھ پورے خطے میں سامراجی مداخلت کر رہا ہے۔ یقینی طور پر اسرائیل اور امریکہ کو اگر ایران کے ساتھ کسی بھی فوجی تنازعے میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کے پورے خطے اور عالمی سطح پر مزدور تحریک اور سامراج مخالف جدوجہد پر مثبت اثرات پڑیں گے لیکن ان سامراجی قوتوں کی فتح کی صورت میں معاملہ اس کے برعکس ہو گا۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے 1930ء کی دہائی میں ٹراٹسکی نے فاشسٹ اطالوی سامراج اور ایتھوپیا کے مابین جنگ میں ایتھوپیا کی حمایت کی تھی حالانکہ اس وقت ایتھوپیا کا بادشاہ کوئی جمہوری حکمران تو ہرگز نہ تھا۔ ٹراٹسکی نے یہ مؤقف اس لیے اختیار کیا تھا کہ وہ درست طور پر سمجھتا تھا کہ جنگ میں اطالوی سامراج کی شکست نہ صرف فاشزم بلکہ تمام سامراج کے خلاف ایک کاری وار ہو گا۔ ایسے ہی 1857ء میں ہندوستان کی جنگ آزادی کے دوران کارل مارکس نے کھل کر باغی ہندوستانی سپاہیوں کی حمایت کی تھی، یہاں تک کہ ان کی بعض نہایت سفاکانہ کاروائیوں کا بھی ”انگریز سامراج کے مظالم کا ردعمل“ کہہ کر دفاع کیا تھا۔ واضح رہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی کے زیادہ تر ہندوستانی قائدین کوئی ترقی پسند عناصر ہرگز نہ تھے بلکہ سابقہ حکمران اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے رجعتی عناصر تھے لیکن مارکس بخوبی سمجھتا تھا کہ اس وقت ہندوستان کے عوام اور عالمی محنت کش طبقے کے مفادات کے حوالے سے یہ عنصر ثانوی اہمیت رکھتا ہے اور اصل اہمیت اس امر کی تھی کہ جنگ میں برطانوی شکست کی صورت میں دنیا کی سب سے بڑی سامراجی قوت کو ایک ناقابل بیان دھچکا لگتا جس کے انقلابی اثرات بذات خود برطانیہ سمیت پوری دنیا پر پڑتے۔ ابھی یاد رہے کہ یہ اس دور کی بات ہے جب سرمایہ داری اپنے ترقی پسندانہ عہد میں تھی اور اس مناسبت سے مارکس کے الفاظ میں برطانوی سامراج، اپنے مفادات کے لیے ہی سہی، لیکن تاریخ کا لاشعوری اوزار بنتے ہوئے تاریخی متروکیت کا شکار طرز ہائے پیداوار کو ختم کر کے ان مقبوضہ سماجوں میں سرمایہ داری متعارف کرواتے ہوئے تاریخی عمل کو آگے بڑھا رہا تھا۔ لیکن ابھی دی گئی ایران، ایتھوپیا وغیرہ جیسی مثالوں کا کیا یہ مطلب ہے کہ چونکہ یہ پسماندہ ممالک کسی بڑی سامراجی طاقت کے خلاف قومی دفاع کی ایک جائز جنگ لڑ رہے ہیں تو پھر یہاں کے محنت کش طبقے اور عوام کو بس سر نیہوڑے اپنی بورژوازی یا حکمران اشرافیہ کے پیچھے چلتے جانا چاہیے کیونکہ جنگی صورتحال میں اپنی حکومت و ریاست کے خلاف انقلابی جدوجہد کرنے سے تو جنگی کاروائیوں میں خلل پڑ سکتا ہے اور شکست ہو سکتی ہے۔ یہ ایک نہایت ہی اہم سوال ہے جس پر ہم آگے چل کر تفصیلی بحث کریں گے لیکن ابھی ہم موجودہ بحث کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔
اصل دشمن گھر میں ہے!
پہلی عالمی جنگ کے دوران دوسری انٹرنیشنل کے بھگوڑوں میں ایک مسلسل رجحان یہ بھی تھا کہ ان میں سے ہر کوئی دشمن سامراجی قوتوں کے زیر قبضہ علاقوں میں بسنے والی مظلوم اقوام کے حق خود ارادیت کا تو بظاہر بہت بڑا حامی تھا لیکن ’اپنے‘ سامراجی ملک کی نوآبادیات کا ذکر آتے ہی اسے سانپ سونگھ جاتا تھا۔ لینن نے اس رجحان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس کی منافقت کو آشکار کیا۔ اس نے واضح کیا کہ پرولتاریہ، اور خاص کر ایک قبضہ گیر اور سامراجی ملک کے پرولتاریہ کا اولین اور سب سے بڑا دشمن اس کے اپنے ملک کی بورژوازی اور قومی ریاست ہوتی ہے، لہٰذا کسی بھی ملک کے پرولتاریہ اور کمیونسٹوں کا اولین فریضہ اپنے ملک کی بورژوازی اور ریاست کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔ اور پرولتاریہ اس جدوجہد کو آگے نہیں بڑھا سکتا جب تک کہ وہ اپنی بورژوازی اور قومی ریاست کے سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد نہیں ہو جاتا جس کے لیے لازمی ہے کہ وہ جہاں دنیا بھر کی مظلوم اقوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرے وہیں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شدت کے ساتھ ’اپنی‘ بورژوازی کی جانب سے ڈھائے جانے والے قومی جبر کی مخالفت کرے اور ’اپنی‘ بورژوا ریاست کے زیر تسلط مظلوم اقوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرے۔ لیکن یاد رہے کہ ساتھ ہی لینن نے مظلوم اقوام کے پرولتاریہ اور کمیونسٹوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ طبقاتی اور قومی نجات کے لیے اپنی قومی بورژوازی کی تنگ نظر قومی پرستی کو مسترد کرتے ہوئے تمام اقوام کے محنت کشوں کے ساتھ طبقاتی اتحاد قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیں۔ اب اگر ہم اس سارے معاملے پر موجودہ عہد سے پاکستان اور انڈیا کی ہی مثال لے لیں تو سب سے پہلے تو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ’پہلی گولی کس نے چلائی؟‘ سے قطع نظر سرمایہ دارانہ نظام کی حدود و قیود میں رہتے ہوئے ان دونوں ممالک میں ہونے والی کوئی بھی جنگ ایک رجعتی جنگ ہی ہو سکتی ہے کیونکہ اس کی جڑیں 1947ء میں سامراجی پشت پناہی کے ساتھ ہونے والی برصغیر کی رجعتی مذہبی تقسیم اور اس سے جنم لینے والی رجعتی دشمنی میں پیوست ہوں گی۔ لہٰذا ایسے میں ان دونوں ممالک کے کمیونسٹوں کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ اس جنگ کی دو ٹوک مخالفت کرتے ہوئے اپنی اپنی بورژوازی اور ریاست کے خلاف سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو تیز تر کریں۔ اسی طرح پاکستان میں رہنے والا ایک کمیونسٹ جو انڈین مقبوضہ کشمیر کے حق خودارادیت کی تو بات کرتا ہے لیکن پاکستان کے زیر تسلط کشمیر اور بلوچ قومی حق خود ارادیت پر چپ سادھ لیتا ہے محض ایک منافق ہے، کمیونسٹ نہیں۔ یہی اصول انڈیا میں بسنے والے کسی کمیونسٹ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اسی طرح دونوں اطراف میں مظلوم قومیتوں سے تعلق رکھنے والے کمیونسٹوں کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ بورژوا قوم پرستی کو رد کریں اور پرولتاریہ کے طبقاتی اتحاد کی راہ میں آڑے آنے والے کسی بھی قومی تعصب کی مخالفت کریں۔ قوموں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے کمیونسٹ مؤقف کے یہ وہ اہم پہلو ہیں جن کا عمومی اطلاق کسی بھی جنگی صورتحال میں بھی ہوتا ہے۔
لینن اور انقلابی شکست پسندی
اپنی انقلابی و سیاسی زندگی میں مختلف سوالات پر مارکسی میتھڈ کو بروئے کار لا کر لازمی نتائج اخذ کرتے ہوئے لینن نے جو مؤقف اختیار کیے، غالباً انقلابی شکست پسندی ان میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ اور اس کی وجہ اس مؤقف کے متعلق درست جدلیاتی سمجھ بوجھ کا فقدان ہے۔ یہ مؤقف لینن نے پہلی عالمی جنگ کے ابتدائی سالوں میں قائم کیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد ایک نظریاتی بحث کے ذریعے جنگ کے ابتدائی عرصے میں اٹھنے والی نام نہاد حب الوطنی اور جنگی شاؤنزم کی لہر سے بالشویک کیڈرز کو محفوظ رکھنا تھا، خاص طور پر جب دوسری انٹرنیشنل کے زیادہ تر قائدین کی پرولتاری بین الاقوامیت سے بدترین غداری نے یورپ کی طرح روس کے انقلابیوں میں بھی شدید کنفیوژن اور بدظنی پھیلا رکھی تھی۔ واضح رہے کہ یہ مؤقف بالکل درست تھا لیکن اس کے مخاطب بالشویک کیڈرز تھے نہ کہ روس کے محنت کش عوام اور نہ ہی لینن نے کبھی اس مؤقف کے عملی انقلابی سیاست میں جوں کے توں استعمال کی بات کی تھی اگرچہ کہ مقامی سطح پر کچھ بالشویک کیڈرز سے یہ غلطی ضرور سر زد ہوئی جس کا خمیازہ 1917ء کے انقلاب کے دوران بورژوا عبوری حکومت کی جانب سے بالشویکوں پر ’جرمن ایجنٹ‘ ہونے کی مسلسل الزام تراشی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ مگر آخر یہ مؤقف ہے کیا؟
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو مہمیز دینے کی خاطر کسی بھی رجعتی جنگ کے دوران ’اپنی‘ حکومت اور ریاست کی شکست کو کمتر برائی سمجھنا انقلابی شکست پسندی کہلاتا ہے۔ جنگی محاذ پر کامیابی ہمیشہ بورژوازی اور ریاست کے حوصلے بڑھاتی ہے، اس کی سیاسی و اخلاقی اتھارٹی میں (چاہے وقتی طور پر ہی سہی) اضافہ کرتی ہے، نام نہاد حب الوطنی کا آسانی سے شکار ہو جانے والی پیٹی بورژوازی اور ’پڑھے لکھے‘ درمیانے طبقے میں اس کی حمایت میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہ سب اسے محنت کش طبقے پر مزید جبر ڈھانے اور سماج پر اپنی عمومی گرفت مزید مضبوط کرنے کے قابل بنا دیتا ہے۔ لیکن اگر جنگی محاذ پر بورژوا حکومت و ریاست کو شکست کا سامنا کرنا پڑے تو یہ امر اس کے حوصلے کو توڑ دیتا ہے، اس کی کمزوری کھل کر نہ صرف محنت کش طبقے بلکہ پیٹی بورژوازی اور درمیانی پرتوں پر بھی عیاں ہو جاتی ہے، سماج پر اس کی سیاسی و اخلاقی اتھارٹی کمزور پڑ جاتی ہے جس کے نتیجے میں محنت کش عوام اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے زیادہ نڈر اور بے باک ہو جاتے ہیں۔ اب یقیناً ایک رجعتی جنگ کے دوران محنت کش طبقے کے طبقاتی مفادات کے حوالے سے کسی قسم کے نظریاتی ابہامات کو دور کرنے کے لیے تو یہ مؤقف بہت کار آمد ہے لیکن اسے جوں کا توں عملی انقلابی سیاست کے نعرے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عملی جدوجہد میں لازمی ہوتا ہے کہ آپ محنت کش طبقے اور عوام کے شعور کی موجودہ سطح کو، جو کہ اکثر اوقات جنگ کے ابتدائی عرصے میں غالب شاؤنسٹ رجحانات سے کسی نہ کسی حد تک متاثر ضرور ہوتی ہے، درست طور پر بھانپتے ہوئے اسے صبر کے ساتھ وضاحت کے ذریعے قدم بہ قدم آگے بڑھانے کے لیے مؤقف اور نعرے تخلیق کریں۔ ایسا نہ کرنے اور عوامی شعور سے بہت زیادہ آگے نکل جانے کی صورت میں خطرہ ہوتا ہے کہ محنت کش عوام آپ کو سمجھ ہی نہیں پائیں گے، آپ ان سے کٹ جائیں گے اور یوں ریاست کے لیے آپ پر ’غدار وطن‘ کا لیبل لگا کر آپ کو کچلنا آسان ہو جائے گا۔ یہ اور بات ہے کہ ضرورت پڑنے پر محنت کش طبقے کے انقلاب یا تحریک کو کچلنے کی خاطر دشمن ممالک کی بورژوازی اور ریاستیں اپنی ساری نام نہاد دشمنی بھلا کر ایک ہو جاتی ہیں اور اس مقصد کی خاطر نام نہاد ’دفاع وطن‘ پر سمجھوتہ کرنے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔ مثلاً 1871ء میں فرانسیسی بورژوا ریاست کو پیرس کمیون کے خلاف فوجی کشی میں پروشیا کی مکمل حمایت حاصل تھی حالانکہ ابھی چند ماہ پہلے تک فرانس اور پروشیا ایک دوسرے کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے۔ اسی طرح انقلاب روس 1917ء کے بعد ہونے والی خانہ جنگی میں سابقہ زار شاہی کے ’محب وطن‘ جرنیلوں اور ان کے رجعتی وائیٹ گارڈز نے نوزائیدہ مزدور انقلاب کو کچلنے کی خاطر روس پر حملہ کرنے والی درجن بھر سے زائد سامراجی افواج کی بھرپور سہولت کاری کی تھی بلکہ تاریخی شواہد یہاں تک بتاتے ہیں کہ زار شاہی جرنیلوں نے اکتوبر انقلاب سے قبل مخالف جرمن جنرل سٹاف کو بھی انقلاب کو خون میں نہلانے کی غرض سے روسی علاقے میں پیش قدمی کی آفر کی تھی۔
یہاں بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ سوال اٹھتا ہے کہ عملی انقلابی جدوجہد میں انقلابی شکست پسندی کے اطلاق کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ عملی جدوجہد میں اس مؤقف کے اطلاق کا مطلب یہ ہے کہ کمیونسٹ ایک رجعتی جنگ میں ’اپنی‘ حکومت و ریاست کی شکست کے امکان سے بے پروا ہو کر سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں اور ریاست کی جنگی کوششوں میں خلل پڑنے کی کوئی پروا کیے بغیر انقلابی جدوجہد کو ہر ممکن حد تک جاری رکھیں۔ صورتحال کے ٹھوس تقاضوں کے مطابق یہ جدوجہد اجرتوں میں اضافے، عوام پر ٹیکسوں میں کمی، کام کے اوقات کار میں کمی، یونین سرگرمیوں کی آزادی، جنگ مخالف مظاہروں، عوامی ملیشیا اور عوامی دفاعی کمیٹیوں کے قیام اور دیگر ترقی پسندانہ سیاسی و جمہوری نوعیت کے مطالبات کے گرد احتجاج اور ہڑتالوں سے لے کر محنت کش طبقے کے اقتدار پر قبضے کے لیے ایک ملک گیر عام ہڑتال اور مسلح سرکشی تک کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اصل نکتہ یہ ہے کہ اگرچہ ان تمام سرگرمیوں سے کم یا زیادہ، مگر کسی نہ کسی سطح پر حکومت و ریاست کی جنگی کوششوں میں خلل تو لازمی پڑے گا اور اس کی شکست کے امکانات بڑھ جائیں گے لیکن کمیونسٹوں کو اس حوالے سے کسی قسم کے نام نہاد سماجی دباؤ میں آئے بغیر، کسی قسم کی جھجک کا مظاہرہ کیے بغیر انقلابی جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہیے۔ مگر کمیونسٹ یہ کام تبھی کر سکتے ہیں جب وہ نظریاتی بنیادوں پر سمجھتے ہوں گے کہ ایک رجعتی جنگ میں ان کی بورژوازی، حکومت اور ریاست کی شکست درحقیقت سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں (اور یوں ایک حقیقی جمہوری امن کے حصول میں بھی) معاون ثابت ہو گی۔ کمیونسٹوں کو یہ باور کرانا ہی لینن کی انقلابی شکست پسندی کا اصل مقصد تھا۔
لیکن اگر ایک پسماندہ ملک کا حکمران طبقہ اور ریاست اپنے جوہر میں عوام دشمن ہونے کے باوجود اپنے مفادات کے لیے ہی سہی، اور کسی دوسری سامراجی طاقت کی پراکسی بنے بغیر کسی بڑی سامراجی قوت کے خلاف قومی دفاع کی ایک جائز جنگ لڑ رہے ہوں، جیسا کہ ہم نے پہلے ایران اور ایتھوپیا کی مثالیں دیں، تو ایسی صورت میں وہاں کے محنت کش طبقے اور عوام کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا انہیں حکومت کی جنگی کوششوں میں خلل پڑنے کے اندیشے کے پیش نظر اپنی انقلابی جدوجہد سے وقتی طور پر پیچھے ہٹ جانا چاہیے اور سر جھکا کر حکمران طبقے کی پیروی کرنی چاہیے؟ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے واضح کیا تھا کہ مارکس اور اینگلز نے سرمایہ داری کے نسبتاً ترقی پسند عہد میں بھی بورژوازی کی جانب سے لڑی جانے والی ترقی پسندانہ کردار کی حامل قومی جنگوں کی حمایت کرنے کے باوجود کبھی بھی اس دوران وہاں کے محنت کش طبقے کو بورژوازی کی قیادت قبول کرنے، اپنے پروگرام، سیاسی شناخت اور آزادنہ سیاسی سرگرمیوں پر سمجھوتہ کرنے اور جنگی عرصے میں انقلابی جدوجہد ترک کرنے کا مشورہ نہیں دیا اور ہمیشہ ایسے رجحانات کی سختی سے مخالفت کی۔ تو آج سامراج کے غلبے، سرمایہ داری کے نامیاتی زوال اور تاریخی متروکیت کے عہد میں اول تو اس امر کے امکانات ہی نہایت محدود ہیں کہ کسی پسماندہ ملک کی قومی بورژوازی اور ریاست آزادانہ طور پر کسی بڑی سامراجی طاقت کے خلاف سنجیدگی اور استقامت کے ساتھ قومی دفاع کی جنگ لڑ سکیں، جیسا کہ لینن نے 1920ء میں منعقد ہونے والی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی دوسری کانگریس میں واضح کیا تھا کہ سامراج کے عہد میں پسماندہ ممالک کی قومی بورژوازی سامراج سے لڑنے کی بجائے اس کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے اپنے ملک کے محنت کش عوام کے خلاف لڑنے کو ترجیح دیتی ہے تاکہ اپنی نجی ملکیت و منافعوں کا تحفظ کر سکے۔ لیکن بالفرض اگر کسی مخصوص صورتحال میں ایسا ہوتا بھی ہے تب بھی وہاں کے طبقاتی شعور یافتہ محنت کشوں اور کمیونسٹوں کو صورتحال اور عوام کی شعوری سطح کی مناسبت سے بلا جھجک اور بلا تعطل اپنی انقلابی جدوجہد کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھانا چاہیے چاہے اس کے نتیجے میں حکومت کی جنگی کوششیں متاثر ہونے کا اندیشہ ہی کیوں نہ ہو۔ درحقیقت حتمی تجزیے میں سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد حملہ آور سامراجی قوت کے خلاف قومی دفاع کی جنگ کو کمزور کرنے کی بجائے اسے کہیں زیادہ شکتی دینے کا باعث بنے گی۔ اگر انقلابی جدوجہد کے نتیجے میں اس ملک کا محنت کش طبقہ اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے اور سرمایہ داری کا خاتمہ کرتے ہوئے ذرائع پیداوار کو اپنی اجتماعی ملکیت و جمہوری کنٹرول میں لے لیتا ہے تو قومی دفاع کی جنگ، جو اب مزدور انقلاب کے دفاع کی جنگ بھی ہو گی، پہلے سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں لڑی جا سکے گی۔ سادہ منطق بھی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ایک ملک جس کے بینک، بھاری صنعتیں، انفراسٹرکچر، معدنی وسائل اور بڑے زرعی فارم محنت کش عوام کی اجتماعی ملکیت میں ہوں اور پیداوار منصوبہ بندی کے تحت ہو رہی ہو، وہ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت رکھنے والے سماج سے کہیں بلند پیمانے پر جنگی پیداوار اور فوجی کوششوں کو منظم کر سکتا ہے۔ مزید برآں مزدور انقلاب کے نتیجے میں جب یہ جنگ محض قومی دفاع کی نہیں بلکہ مزدور انقلاب اور اس کی حاصلات کے دفاع کی جنگ بھی بن جائے گی، تو محنت کش عوام جی جاں سے اسے لڑیں گے اور فتح حاصل کریں گے۔ یہ محض کوئی کتابی باتیں نہیں بلکہ روس کی انقلابی خانہ جنگی میں سرخ فوج کی فتح سے لے کر دوسری عالمی جنگ میں (سٹالنسٹ افسر شاہی کی جکڑبندی کے باوجود) سوویت یونین کی نازی جرمنی پر فتح اور چین، کوریا اور ویت نام کے سوشلسٹ انقلابات و انقلابی جنگوں میں سامراج کی شکست تک پوری تاریخ اس امر کی گواہ ہے۔ حتی کہ 1979ء کے انقلاب ایران کے رجعتی ملا اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال بننے کے باوجود جب 1980ء کی دہائی میں خونریز ایران عراق جنگ ہوئی تو ایران نے عوام کے انقلابی جوش و خروش اور کمانڈنگ ہائیٹس آف اکانومی کی قومی ملکیت کے بلبوتے پر عراق کو شکست فاش سے دوچار کیا حالانکہ عراق کو امریکہ سمیت تمام مغربی سامراجی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔
سوشلزم کی جدوجہد یا مجرد امن پسندی
دنیا میں جب بھی کوئی جنگ لگتی ہے تو بے شمار حلقوں سے فوری طور پر ’امن،امن‘ کی آوازیں اٹھنے لگتی ہیں۔ واضح رہے کہ ہم یہاں جنگ کی ہولناکیوں سے پریشان عوام کے دلوں میں موجود امن کی قدرتی خواہش کی بات نہیں کر رہے بلکہ دانشوروں، سیاسی حلقوں اور خاص کر بائیں بازو سے لگنے والی امن کی مجرد صداؤں کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ تو کیا کمیونسٹ ’امن پسند‘ نہیں ہوتے؟
بلاشبہ کمیونسٹ جنگ و جدل کو پسند نہیں کرتے لیکن وہ مجرد امن پسند بھی نہیں ہوتے، جیسا کہ ہم نے پہلے واضح کیا ہے کہ کسی مزدور انقلاب پر مقامی، علاقائی یا عالمی بورژوازی کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کو پوری شدت کے ساتھ لڑنا اور انقلاب کا دفاع کرنا محنت کش طبقے اور کمیونسٹوں کا فریضہ ہے۔ لیکن کیا ایک رجعتی یا سامراجی جنگ، مثلاً پہلی عالمی جنگ، میں بھی امن کی بات کرنا غلط ہو گا؟ اس سوال کا جواب اس امر پر منحصر ہے کہ یہاں آخر کس قسم کے امن کی بات کی جا رہی ہے۔ ایک سامراجی جنگ کے نتیجے میں بھی امن قائم ہو سکتا ہے لیکن وہ قبضہ گیری اور لوٹ مار کی بنیادوں پر قائم ہونے والا ایک سامراجی امن ہو گا جو حتمی طور پر ایک نئی سامراجی جنگ کی راہ ہموار کرے گا۔ کمیونسٹ ایسے نام نہاد سامراجی امن کو رد کرتے ہیں اور اس کے حوالے سے کوئی خوش فہمی نہیں رکھتے۔ مگر ایک رجعتی یا سامراجی جنگ کا خاتمہ عوام دوست جمہوری امن کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے بر سر پیکار ممالک کے محنت کشوں کو اپنی اپنی بورژوازی اور ریاستوں کے خلاف انقلابی جدوجہد تیز کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرنا ہو گا یا کم از کم اتنی طاقتور عوامی تحریک برپا کرنا ہو گی جو حکمرانوں پر شدید دباؤ ڈالتے ہوئے جمہوری امن کے حصول کو ممکن بنا دے۔ یہ وہ امن ہے جس کی کمیونسٹ حمایت کرتے ہیں اور اس کی خاطر جدوجہد کرتے ہیں۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب کسی رجعتی یا سامراجی جنگ میں نام نہاد بایاں بازو مجرد انداز میں امن پسندی کے نعرے لگانے لگتا ہے۔ سوشلسٹ جدوجہد، سماج کی انقلابی تبدیلی اور عوامی تحریک کا تذکرہ تک کیے بغیر مجرد انداز میں امن، امن کی رٹ لگانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ خواتین و حضرات انہی حکمرانوں اور ریاستوں سے امن کی بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے طبقاتی مفادات کے حصول کی خاطر جنگ کا آغاز کیا ہوتا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ تمام بر سرپیکار بورژوا حکمران اور ریاستیں پہلے ہی خود کو ’امن پسند‘ ثابت کرتے ہوئے جنگ کا مورد الزام مخالف کو ہی ٹھہرا رہی ہوتی ہیں۔ حکمرانوں اور ریاست سے کی گئی اس طرح کی امن اپیلیں نہ صرف اس غلط فہمی کو جنم دیتی ہیں کہ رجعتی و سامراجی بنیادوں پر ایک عوام دوست جمہوری امن کا حصول ممکن ہے بلکہ یہ بھی کہ سرمایہ دارانہ نظام میں مستقل بنیادوں پر امن کا قیام ممکن ہے اور حکمران طبقہ بھی دراصل امن کا ہی خواہاں ہے۔
مزید برآں اس طرح کی امن اپیلیں محنت کش عوام کو سیاسی طور پر غیر فعال بناتے ہوئے ان کی امن قائم کرنے کی امیدوں کو غلط طور پر حکمران طبقے سے وابستہ کر دیتی ہیں اور یوں وہ حکمرانوں اور ریاست کی خفیہ سفارتکاری اور سامراجی معاہدوں کے یرغمال بن جاتے ہیں۔یقینی طور پر کمیونسٹ بھی کسی رجعتی یا سامراجی جنگ کی صورتحال میں جلد از جلد جنگ بندی اور امن کے خواہاں ہوتے ہیں اور وہ اس حوالے سے حکمران طبقے اور ریاست سے بھی امن کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ کبھی بھی نہ تو حکمرانوں کے جنگی عزائم اور ان کے پیچھے چھپے سرمایہ دارانہ طبقاتی مفادات پر پردہ ڈالتے ہیں اور نہ ہی کبھی عوام کو اس خوش فہمی میں مبتلا کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ و سامراجی بنیادوں پر ایک جمہوری اور مستقل امن کا حصول ممکن ہے۔ کمیونسٹ ہمیشہ محنت کش طبقے اور عوام کو واضح طور پر یہ بتاتے ہیں کہ ایک جمہوری اور مستقل امن کے قیام کے لیے عالمی سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام و ریاست کا خاتمہ کرنا پڑے گا اور اس مقصد کے لیے وہ جنگی ماحول میں بھی محنت کش طبقے کو کمیونسٹ نظریات سے روشناس کراتے ہوئے منظم کرنے کی جدوجہد میں جتے رہتے ہیں۔ یہی کمیونسٹوں کی امن پسندی ہے۔ یہی نوع انسان کو جنگ وجدل سے حتمی نجات دلانے کا واحد راستہ ہے۔





















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance