|تحریر: پارس جان|
”ہم خود پر کسی بھی اخلاقی عقیدے یا اصول کو ابدی، قطعی اور غیر متغیر قانون کے طور پر مسلط کرنے کی ہر کوشش کو رد کرتے ہیں۔ اس طرح کے اصول و قواعد کا جواز یہ مفروضہ ہوتا ہے کہ اخلاقی دنیا کے بھی اپنے مستقل ضوابط ہیں جو تاریخ اور اقوام کے باہمی اختلافات سے ماورا ہیں۔ اس کے برعکس ہم سمجھتے ہیں کہ آخری تجزیے میں تمام اخلاقی نظریات مخصوص وقت میں سماج میں رائج معاشی حالات کی ہی پیداوار ہوتے ہیں۔ چونکہ سماج اب طبقاتی کشمکش اور تضادات میں پہنچ چکا ہے، لہٰذا اخلاقیات بھی ہمیشہ طبقاتی اخلاقیات ہی ہوتی ہیں۔ یعنی اخلاقیات یا تو حکمران طبقے کے تسلط، مفادات اور قبضے کو جواز فراہم کرتی ہیں یا پھر مجبور اور مظلوم طبقہ بھی اتنا طاقتور ہو جاتا ہے کہ وہ اس جبر اور تسلط کے خلاف اپنی نفرت اور اشتعال کے ساتھ مظلوموں کے مستقبل کے مفادات کی ترجمانی کی اہلیت حاصل کر لیتا ہے۔ اسی پراسیس میں انسانی علم کی دیگر تمام شاخوں کی طرح اخلاقیات میں بھی ترقی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن ہم ابھی تک طبقاتی اخلاقیات سے آگے نہیں بڑھ پائے ہیں۔ ایک ایسی حقیقی ’انسانی‘ اخلاقیات جو طبقاتی مخاصمت اور اس کی ہر یاد سے بھی بلند اور ممتاز ہو، سماجی ترقی کے صرف اسی مرحلے پر ممکن ہے جب طبقاتی تضادات نہ صرف ختم ہو چکے ہوں بلکہ عملی سماجی زندگی میں ان کو فراموش بھی کیا جا چکا ہو۔“ فریڈرک اینگلز (اینٹی ڈیورنگ)
مذکورہ بالا اقتباس میں بین السطور اخلاقیات کی تعریف سماجی علوم کی ایک شاخ کے طور پر کی گئی ہے۔ بورژوا تعلیم سے پراگندہ کوئی بھی ذہن اس تعریف پر معترض ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بورژوا تعلیم میں ان آفاقی قوانین یا اصولوں کے نظام کو اخلاقیات کہا جاتا ہے جو انسانی افعال اور رویوں کو غلط یا صحیح اور اچھا یا برا قرار دینے کا معیار سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن زیرِ نظر تعریف سے اس مخصوص معیار کے کسی ماخذ کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ لہٰذا اس معیار کو مافو ق الفطرت یا ماورائے عقل و دانش سمجھا جانے لگتا ہے بلکہ عقل و دانش کو بھی خود کو صحیح تسلیم کروانے کے لیے اسی مخصوص معیار کی کسوٹی پر پورا اترنا پڑتا ہے۔ اگر یہ معیار واقعی کسی عقلی پیمانے سے منسلک اور منطبق ہوتا بھی ہے تو وہ عقلِ سلیم ہے، جسے عرف ِعام میں کامن سینس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عقل کا سب سے کمتر درجہ ہے اور تمام انسانوں میں خود کار طرز پر پہلے سے ہی فعال تصور کیا جاتا ہے اور اسے کوئی شعوری تعقلی مشق درکار نہیں ہوتی۔ ہم مارکس وادی اس طرح کے کسی بھی آفاقی اصول اور قانون کو رد کرتے ہیں، اسی لیے ہم پر ’غیر اخلاقی‘ ہونے یا اخلاقیات کے منکر ہونے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے اخلاقیات کا سب سے بڑا منکر سقراط کو قرار دینا چاہیے جس نے تمام اخلاقی ضوابط اور سماجی تعلقات کو عقل و دانش کی کسوٹی پر پرکھنے کی تعلیم دی۔ اس نے یہ سمجھایا کہ جب تک انہیں اچھائی اور برائی کی تعقلی شناخت کے اہل نہیں بنایا جاتا، انسانوں کو محض تلقین و تاکید کے ذریعے درست فیصلوں یا درست اقدامات پر راغب نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی تاکید و تنبیہ نہیں بلکہ تعلیم۔ اچھائی یا برائی کیوں اچھائی یا برائی ہے، یہ سارے علم کی بنیاد ہے۔ علم سقراط کی اخلاقیات کا ستون ہے۔ اس کا مشہور قول ہے کہ ’نیکی علم ہے‘، یعنی لوگ اپنی جہالت کے باعث برائی یا گناہ کرتے ہیں۔ وہ بھی باقی تمام فانی انسانوں کی طرح اپنے عہد ہی کی پیداوار تھا اور اس کا علم بھی محدود تھا، لہٰذا اس کے دماغ میں بھی اس ’کیوں‘ کے جواب میں کوئی ازلی یا آفاقی سچائی تھی جسے تعقلی کاوش سے جانا یا حاصل کیا جا سکتا تھا۔ بہرحال اس نے تعقلی پہلو کو اجاگر کر کے اس آفاقیت کے تصور کی بنیادوں کو جھنجھوڑنے کا راستہ بھی دکھا دیا تھا۔ تاہم اس کے ہاں اخلاقیات آخری تجزیے میں انسانی علم ہی کی ایک سماجی شکل تھی۔
اخلاقی اقدار مادی وجود نہیں رکھتیں، یعنی انہیں دیکھا اور چھوا تو نہیں جا سکتا لیکن سمجھا اور اپنایا جا سکتا ہے۔ یوں یہ سماج کی اجتماعی موضوعی پیداوار ہوتی ہیں جو مادیت پسندوں کے نزدیک سماج کی مادی پیداوار کا ہی عکس ہوتی ہیں۔ مارکس اور اینگلز نے دیگر مادیت پسندوں سے آگے جا کر اخلاقیات کی سماجی اور مادی بنیادوں کو مزید ٹھوس شکل میں بیان کرتے ہوئے اسے سماج کے ذرائع پیداوار اور سماجی تعلقات کی ضمنی پیداوار قرار دیا۔ اب چونکہ ذرائع پیداوار ہمیشہ ارتقا پذیر رہتے ہیں لہٰذا اخلاقیات میں بھی تغیر ناگزیر ہوتا ہے۔ ایک وقت میں ترقی پسند یا انقلابی سمجھے جانے والے سماجی تعلقات اور رویے کسی دوسرے وقت میں اپنے الٹ میں تبدیل ہو کر سماجی ترقی کے پاؤں کی زنجیر بن جاتے ہیں۔ مارکس کے بقول ’ایک عہد کا سچ دوسرے عہد میں جھوٹ بن جاتا ہے‘۔ مابعد جدیدیے بائیں بازو والے مارکس اور ہیگل کے اس طرح کے تصورات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر معروضی سچائی کا ہی یکسر انکار کر دیتے ہیں۔ مارکس یہاں معروضی سچائی سے انکار نہیں کر رہا بلکہ اس کے ناقابلِ تغیر ہونے کے مابعدالطبیعاتی تصور کو رد کر رہا ہے۔ اس کے خیال میں سچ اور جھوٹ کا پیمانہ سماجی ترقی اور تمدنی بقا کے لیے لازمی انقلابی اور سیاسی جدوجہد ہی تھی جسے وہ طبقاتی جنگ سے تعبیر کرتا ہے۔
اخلاق پرست آخری تجزیے میں خیال پرستی اور موضوعیت کے متعفن کیچڑ میں لتھڑے ہوتے ہیں، اس لیے وہ اخلاقی اقدار اور ان کی بنیاد بننے والے سماجی رشتوں کو مقدس اور آفاقی تسلیم کرتے ہیں۔ انقلابی عمل اپنے جوہر میں انقلابی ہوتا ہی تب ہے جب وہ سٹیٹس کو یعنی مروجہ سماجی ڈھانچے کو رد کرتا ہے، یوں اخلاق پرست طبقاتی جنگ میں رجعت کے شعوری یا لا شعوری سپاہی بن کر پہلی صفوں میں ایستادہ نظر آتے ہیں۔ حکمران طبقے پر ہونے والے ہر ’غیر اخلاقی‘ حملے کو ’اخلاقی‘ ڈھال سے اپنے سینے پر روک کر یہ اپنے طبقاتی کردار یعنی حکمران طبقے کے نمک کا حق ادا کر تے ہیں۔ مارکس وادیوں کے نزدیک طبقاتی جنگ میں ہر وہ عمل، پالیسی اور اقدام جائز ہے جو ظالم کے استبداد کے خاتمے کی راہ ہموار کرتا ہو، بھلے اسے غیر اخلاقی ہی کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔ بہت سے مارکسی اساتذہ نے اس پر قلم کشائی کی ہے لیکن اس حوالے سے لیون ٹراٹسکی کا مضمون ”ان کے اور ہمارے اخلاقی اصول“ اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے بعد بھی جتنے مارکس وادیوں نے اس موضوع پر اپنے خیالات رقم کیے انہوں نے ’مقصد ذرائع کا جواز خود فراہم کرتا ہے‘ کے اصول کو ہی مدِنظر رکھا۔ تاہم اس اصول کو محض کسی فارمولے کے تحت دہراتے رہنا بھی مارکسی میتھڈ ہرگز نہیں ہے۔ ہمیں موضوع کی عمیق تفہیم کے لیے انسان اور سماج کے پیچیدہ نفسیاتی، تاریخی اور ثقافتی مظاہر کا گہرائی میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ آئیے خود تصورِ انسان سے ہی بحث کا آغاز کرتے ہیں۔
انسان کا سائنسی یا ’اخلاقی‘ تصور
اپنی تمام تر موضوعی برتری کے باوجود انسان حیاتیاتی اعتبار سے حیوان ہی ہے۔ انسان کے داخلی جسمانی عوامل میں دیگر جانداروں سے بے پناہ مماثلت بلکہ یکسانیت پائی جاتی ہے۔ نظامِ تنفس، انہضام اور دورانِ خون وغیرہ سے متعلق تمام تر سائنسی تحقیقات کا آغاز عموماً دیگر مختلف جانوروں پر تجربات سے ہی کیا جاتا ہے۔ تاہم اپنے سماجی معمولات میں انسان اپنے قریب ترین نوعی رشتہ داروں سے بھی واضح طور پر بے انتہا مختلف اور ارفع ہے۔ اسی رفعت نے اسے دیگر جانداروں ہی نہیں بلکہ فطرت کو بھی اپنے (تحقیقی، مطالعاتی اور اجتماعی) مقاصد اور مفادات کے لیے استعمال کرنے کے قابل بنایا۔ یہ رفعت اور امتیاز انسانوں کی لاکھوں سال کی اجتماعی اور مشترکہ محنت کے مرہونِ منت ہے۔ یہ محنت دو اعتبار سے مشترکہ ہے، اول یہ کہ ’ہر عہد میں سماج کی مشترکہ محنت‘ اور دوم یہ کہ یہ انفرادی سطح پر بھی ذہنی اور جسمانی کاوشوں کے اشتراک پر مبنی ہے۔ یعنی کوئی ایک انفرادی محنت ایسی نہیں جو خالصتاً جسمانی محنت ہو یا صرف اور صرف ذہنی محنت۔ حتیٰ کہ کچھ لکھنے یا نئے ’آئیڈیا‘ کی تخلیق کے لیے کی گئی محنت میں بھی جسمانی اعصاب اور پٹھوں کی کسی نہ کسی سطح کی کاوش اور معاونت ضرور درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح درانتی اور ہتھوڑے کے استعمال میں بھی اگر دماغ استعمال نہ کیا جائے تو ہاتھ کٹ سکتا ہے یا کام کے دوران شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ گویا کسی بھی تخلیقی عمل میں جسمانی اور ذہنی محنت کا تناسب مختلف ہو سکتا ہے، یہی تناسب ہی اس مخصوص محنت کو سماجی شناخت اور مقام عطا کرتا ہے۔ لیکن بحیثیتِ مجموعی سارا تاریخی عمل سماج کی کل محنت میں سے جسمانی محنت کے حصے کی نسبتی کمی یا مطلق کمی پر مشتمل ہے۔ یہی تاریخی عمل انسان کو دیگر انواع پر فضیلت عطا کرتا ہے، اسی لیے اسے محض حیوان کی بجائے سماجی اور زیادہ موزوں الفاظ میں تاریخی حیوان بھی کہا جاتا ہے۔ طبقاتی سماج نے بالعموم اور بورژوا سماج نے بالخصوص ذہنی اور جسمانی محنت کی وحدت کو دو لخت کر کے اور ان کے مابین خلیج کو اخلاقی بنیادیں فراہم کر کے مبینہ ذہنی محنت کے ہاتھوں جسمانی محنت کے استحصال اور مختلف انواع کے جبر کو عین فطری اور مسلمہ حیثیت دے رکھی ہے۔
انسان کی تاریخ علم اور شعور کے ارتقا کی تاریخ ہے جس کی مادی بنیادیں اس کے ماحول کے ارتقا میں پیوست ہیں۔ انسان خود کو اشرف المخلوقات کہتا آیا ہے۔ کیا یہ دعویٰ درست ہے؟ آج دنیا بھر میں کروڑوں نہیں اربوں انسانوں کو کسمپرسی میں حالات کے رحم و کرم پر سسکنا اور بلکنا پڑ رہا ہے جس کے باعث اب مذکورہ بالا دعوے کا بے ساختہ اور برجستہ استرداد معمول بنتا جا رہا ہے۔ ادب، نفسیات اور دیگر تمام معاشرتی علوم میں قنوطیت کا رجحان غالب ہے اور انسان کو اس کے ماحول کی ان دیکھی قوتوں کی کٹھ پتلی سمجھا جانے لگا ہے۔ حالانکہ اپنی تمام تر زبوں حالی کے باوجود انسان دیگر جانداروں سے اپنے شعور کی صلاحیت یا پوٹینشل کے باعث واقعی ممتاز اور افضل ہے لیکن بہت سے معروضی اور موضوعی عوامل ایسے ہیں جو اس پوٹینشل کے حقیقت کا روپ دھارنے اور انسان کا عمومی معیار بننے کی راہ میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ اس لیے اس کے عدم اطلاق کے باعث پوٹینشل کو ہی رد کر دینا فاش غلطی ہے جس سے بچنے کے لیے انسان کے اپنے سماج اور فطرت سے تعلق کو گہرائی میں سمجھنا ضروری ہے۔ فلسفے، سائنس اور دیگر تمام علوم کا بنیادی وظیفہ بھی یہی ہے کہ وہ ان تینوں کے بنیادی تعلق کی وضاحت کرے لیکن وہ وضاحت انسان کے ”مادی مفادات“ کے تابع ہو۔
اس آخری جملے پر اخلاقیات کے مبلغین فوراً سیخ پا ہو جائیں گے۔ ”انسان“ کے مفادات اور پھر ”مادی“ مفادات کو یہ پیٹی بورژوا اخلاقیات پرست ایک گالی کا درجہ دے چکے ہیں اور یہی ان کی اخلاقیات کے کھوکھلے اور دوغلے پن کی علامت ہے۔ یہ خود ایک طرف ساری زندگی اپنے ”مادی مفادات“ کے حصول میں ہی کار فرما رہتے ہیں اور نام نہاد ”کامیاب“ انسانوں کی کامیابی کی کہانیوں (success stories) کے پیچھے ان کی مبینہ طور پر ”سخت“ محنت کو دریافت اور پھر اس کا پرچار کرتے رہتے ہیں اور دوسری طرف بیمار روحوں اور ضعیف اقدار کے حامل لوگوں میں اپنی ”مقبولیت“ کو برقرار رکھنے کے لیے اخلاقیات کو مادی بنیادوں کی بجائے روحانیت یا موضوعیت کے ستونوں پر استوار کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاکہ عام لوگوں میں احساس ِگناہ پیدا کر کے خود کو برگزیدہ ثابت کیا جا سکے۔ یہ کام صرف ملاں یا دین فروش ہی نہیں کرتے بلکہ لبرل اور نرگسیت کا شکار نام نہاد انقلابیوں میں بھی یہ وائرس موجود ہوتا ہے جو عام حالات میں ان کے سڑے ہوئے دماغ کے کسی خلیے میں پڑا رہتا ہے اور جونہی کوئی معروضی سچ ان کی نرگسیت سے ٹکراتا ہے تو نفسیات کے عمومی ’خود مدافعتی‘ میکینزم کے تحت ان کے دماغ کے کسی نہاں خانے میں موجود یہ وائرس فوراً فعال ہو جاتا ہے۔ یہ وائرس اتنا مہلک ہوتا ہے کہ برسوں کی ریاضت سے تعمیر شدہ شخصیت کو دنوں میں دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ یہ اخلاقیات پرست ”انسان“ کی جگہ ”فرد“ کے مفادات کے علمبردار بن کر محض اپنے اور اپنے طبقے کے مفادات کو تقویت دے رہے ہوتے ہیں۔ غالب نے کہا تھا کہ ”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ، دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا“ یعنی اپنے اور اپنے طبقے کے مفادات کے تحفظ میں یہ ”نظریہ ضرورت“ کے تحت کبھی صوفی بن جاتے ہیں تو کبھی ملحد۔ لیکن اس سب اچھل کود کے دوران یہ ”انقلابیت“ کا چوغہ کبھی نہیں اتارتے، اسی لیے اس چوغے کو اتار کر ان کو ننگا کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ان کی یہ بھونڈی اچھل کود ان کے طبقاتی پس ِمنظر کی عکاسی کرتی ہے اور ایک متوازن اور مستقل مزاج مؤقف سائنسی تعبیر و تشریح کا متقاضی ہوتا ہے۔ جی ہاں، تصور ِانسان میں فرد بھی شامل ہے مگر اپنی کلیت سے کٹا ہوا فرد ہرگز نہیں۔ مجرد نہیں بلکہ اپنے سماجی تعلقات میں بندھا ہوا ایک جیتا جاگتا انسان ہی فلسفے سمیت تمام علوم کا محور و مرکز ہے۔
مادیت اور سماجی ارتقا
تو کیا ’ہر علم کا محور و مرکز انسان ہے‘ سے یہ مراد ہے کہ انسان کائنات کا بھی محور و مرکز ہے؟ یا جس طرح موضوعی عینیت پسندوں اور مذہب کا دعویٰ ہے کہ ساری کائنات کی تخلیق کا مقصد ہی انسان ہے، یہ درست ہے؟ ہرگز نہیں۔ فطرت یعنی مادہ ازلی اور ابدی ہے یعنی قدیم ہے لیکن اس کے وجود کا شعور بہت بعد کی بات ہے جو انسان کے وجود کے سبب ہی ممکن ہوا۔ انسان کے امتیازی موضوعی پوٹینشل کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ ارفع و اقدس ہے تو فطرت ہیچ۔ بلکہ جدید سائنسی علوم نے ”نظریہ ِتخلیق“ ہی نہیں بلکہ ”ثنویت“ (dualism) اور ”کثرت“ (pluralism) کے تصورات کو بھی بتدریج مسترد کر دیا ہے اور اب ”وحدت“ (monism) کے تصور کی اہمیت اور افایت مسلمہ ہے۔ المختصر یہ کہ انسان فطرت ہی کی پیداوار یعنی فطرت سے ہی آیا ہے اور اسی کی ترقی یافتہ ترین شکل ہے۔ دیگر تمام مظاہر کی طرح فطرت کے ارتقا میں انسان کی تخلیق اتفاقی (accidental) بھی تھی اور لازمی (necessary) بھی۔ آج تک کے سائنسی تخمینوں کے مطابق انسان لگ بھگ پچیس لاکھ سال پرانا ہے جبکہ یہ زمین چار سے پانچ ارب سال پرانی۔ جدید سائنس کی گزشتہ تین چار سو سالہ تاریخ کی بنا پر یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ جوں جوں سائنس مزید ترقی کرتی جائے گی کائنات اور مادے کی ’ابتدا‘ کے تصورات ماند پڑتے جائیں گے اور مادے کی ”ازلیت“ بالآخر ہر سچائی کی طرح ایسے ہی تسلیم کر لی جائے گی جیسے اسے کبھی رد کیا ہی نہ گیا ہو۔ اس غیر نامیاتی مادے نے اپنے داخلی تضادات کی کشمکش کے باعث ”مخصوص“ حالات میں نامیاتی مادے کو جنم دیا اور پھر یک خلوی جاندار سے ممالیہ تک کے ارتقا کی طویل داستان آج کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اسی پراسیس نے انسان کی تخلیق کی اور انسان کی تخلیق کی لازمی شرط ہی اس کا ”سماجی عمل“ بنا۔ یعنی فطرت کے غیر موافق حالات کو موافق بنانے کے لیے اس کی اجتماعی کاوش نے ایک نوع کے طور پر انسان کی تخلیق اور بقا کو یقینی بنایا۔ اسی لیے ارسطو نے انسان کو ”سماجی حیوان“ قرار دیا۔ بعد ازاں اس کے لیے ”تاریخی حیوان“ یا ”سیاسی حیوان“ کی اصطلاحات بھی برتی گئیں۔ لیکن سب کا مرکزی مدعا ایک ہی رہا کہ انسان ایک فرد کے طور پر نہ تو معرضِ وجود میں آ سکتا تھا اور نہ ہی اس کی مجرد ”فردیت“ یا انفرادیت اس کے بقا کی ضمانت فراہم کرنے کی اہل ہو سکتی ہے۔
لیکن مذکورہ بالا ”وحدت“ کا مطلب یکسانیت ہرگز نہیں ہے۔ یہ کوئی ایسی وحدت نہیں ہے جس میں داخلی امتیازات کا امکان ہی نہ ہو بلکہ اس کے بالکل برعکس ایک ہی بنیادی وحدت یا ماخذ یعنی ”مادہ“ سے ہی ارتقا پذیر ہونے کے باوجود فطرت، سماج اور انسان ایک دوسرے سے الگ بھی ہوتے ہیں یعنی ان میں ایسے معیاری امتیازات موجود ہیں جو ان کو ایک دوسرے سے جدا الگ الگ تشخص اور کلیت بھی عطا کرتے ہیں۔ فطرت پر دقیق اور عمیق بحث یہاں ہمارا مقصد اور مدعا نہیں ہے تاہم ہم سماجی کلیت کو اس کے ظاہر اور باطن کے جدلیاتی تعلق اور تضاد میں سمجھنے کی کوشش ضرور کریں گے تاکہ ہم فرد اور سماج کے تعلق کی درست پڑتال کر سکیں۔ سماج ایک ”کل“ (whole) ہے اور اس کی فعالیت کا تقاضا ہے کہ وہ مختلف اداروں کے باہمی ارتباط میں منظم ہو۔ یعنی مختلف اجزا کی شکل میں سماج کی ترتیب و تشکیل ہی اس کو کلیت بخشتی ہے۔ یوں ہمیں انسانی سماج میں برادری، قبیلے، قوم اور ریاست جیسے ذیلی ’تشخص‘، اکائیاں یا ادارے نظر آتے ہیں جو سماجی عمل کو ممکن اور مؤثر بناتے ہیں۔ خاندان بھی انہی کی طرح ایک سماجی یونٹ یا ادارہ ہے اور کئی حوالوں سے ایک بنیادی سماجی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سارے ادارے آپس میں نہ صرف باہم منسلک ہوتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے کردار اور ترکیب کی تشکیل اور تعیین بھی کرتے ہیں لیکن جو بنیادی محرک ان سب کو ان کی انفرادیت عطا کرتا ہے وہ اس سماج کے ذرائع پیداوار ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ ذرائع پیداوار سماجی ضروریات کے تحت جامد نہیں ہوتے بلکہ فطرت پر انسان کی دسترس کو وسعت دینے کی خاطر ”سماجی عمل“ خود ان کی ترقی اور بہتری کو ممکن بناتا ہے تو اس پر منحصر اور متعین تمام سماجی ادارے بھی جامد نہیں ہو سکتے، وہ بھی ارتقا پذیر رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں انسانی تاریخ میں سماجی اداروں کی مختلف شکلیں نمودار ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
ذرائع پیداوار میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ سماجی اداروں کا کانٹینٹ (content) بھی تبدیل ہوتا چلا گیا۔ جب جب ان کے کانٹینٹ میں تبدل ایک خاص مقام پر پہنچتا تھا تو ان کا اپنی اشکال (forms) کے ساتھ ٹکراؤ ناگزیر ہو جاتا تھا اور یہ ٹکراؤ اس وقت تک جاری رہتا تھا جب تک تبدیل شدہ کانٹینٹ کو اس کے موافق ضروری شکل کا جامہ نصیب نہیں ہوتا تھا یا نئے ادارے جنم نہیں لیتے تھے۔ یوں ہمیں تاریخ کے مختلف مراحل پر ریاست اور خاندان کی مختلف اشکال نظر آتی ہیں جن سے گزر کر آج انسانی سماج موجودہ یعنی سرمایہ دارانہ ریاست اور خاندان تک پہنچا ہے۔ اخلاقیات پرستوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان اداروں کا غیر تاریخی تجزیہ کرتے ہیں اور یوں ان اداروں کے باہمی تعلق اور پھر سماجی کلیت سے ان کو جوڑنے والی اخلاقیات کو مابعدالطبیعیاتی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ یہاں ایک دفعہ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اخلاقیات ہے کیا؟ کیا اخلاقیات ان تمام سماجی اداروں اور ان کے باہمی تعلق سے الگ تھلگ کوئی ایسی شے ہے جو ان سب سے برتر اور افضل ہے اور ان پر باہر سے اثر انداز ہوتی ہے۔ ہرگز نہیں، بلکہ اخلاقیات کو آخری تجزیے میں اس گارے سے تشبیہہ دی جانی چاہیے جو تضادات سے لبریز اس سماج کی عمارت کے مختلف اجزا کو باہم جوڑ کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن یہ اور دیگر تمام سماجی ادارے بھی یکطرفہ اور میکانکی طور پر ذرائع پیداوار پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ذرائع پیداوار کی ترقی پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں اور پھر یہی ذرائع پیداوار کی ترقی ہی انسانوں کی اجتماعی فلاح و بہبود، خوشحالی اور سماجی تعلقات کے ارتقا کی نوعیت کا تعین کرتی ہے۔ یوں ذرائع پیداوار کی ترقی پر ان کے اثرات کو ہی وہ معیار یا پیمانہ قرار دیا جا سکتا ہے جس کی بنیاد پر ان اداروں کے کانٹینٹ کو مثبت یا منفی، اچھا یا برا، غلط یا صحیح یا پھر ترقی پسند یا رجعتی قرار دیا جا سکتا ہے۔
مذہب، اقدار اور ابدی سچائیاں
اخلاقی اقدار سماجی اور تاریخی ضرورت کے طور پر نمودار ہوتی ہیں اور نشوونما پاتی ہیں۔ سماج کا آئینی و سیاسی ڈھانچہ اسی طرح تشکیل پاتا اور بدلتا رہتا ہے اور واپس خود اس حرکت پر بھی اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔ یوں ہر عہد میں مختلف معاشی و سماجی نظام ابھرتے رہے ہیں جن میں ابتدائی اشتراکیت، ایشیائی طرز پیداوار، غلام دارانہ نظام، جاگیرداری اور پھر سرمایہ دارانہ نظام شامل ہیں۔ ہر نظام جہاں سماج کے اخلاقی و آئینی ڈھانچے میں اتھل پتھل اور معاشی بنیادوں سے اس کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہوتا ہے وہیں اس کی نئی تعمیر ِنو بھی کرتا ہے جو اسے اس کی اپنی طبع ِپیداوار کی مخصوصیت اور انفرادیت سے مزین کرتی ہے۔ یوں نظام کی تبدیلی نئی اخلاقی اتھل پتھل کا سبب بھی بنتی ہے۔ کچھ لوگ اخلاقیات کو مذہب سے گڈمڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ یہ دونوں ایک دوسرے پر باہم اثر انداز ہوتے ہیں لیکن انہیں ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط بھی نہیں کرنا چاہیے۔ مذہب سے بہت پہلے بھی سماج کی مخصوص اخلاقی اقدار ہوا کرتی تھیں۔ ریاستی قواعد و ضوابط، مذہبی تعصب اور اقتصادی مسابقت کے بغیر باہمی تعاون اور انحصار پر مبنی سماج کا فرد اخلاقی طور پر زیادہ مستحکم اور فعال تھا۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں اس کی گواہ ہیں۔ یعنی اگر سماج میں مذہب نہ ہو تو انتشار ہی واحد ممکنہ متبادل نہیں ہے یا ایک غیر مذہبی معاشرے کا مطلب غیر اخلاقی معاشرہ نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر مذہب سماج کی اخلاقی بنیادوں سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مذہب نے تاریخی طور پرانسان کی شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ اور اخلاقی پستی کے دور میں زیادہ وسیع سماجی بنیادیں حاصل کیں۔ مذہب دراصل انسان کے خود پر عدم تیقن اور عدم اعتماد کا سماجی مظہر بن کر سامنے آیا۔ یہ جہاں سماج کی طبقات میں تقسیم کے راسخ ہونے کا اعلان تھا وہیں یہ اس طبقاتی تقسیم کے خلاف احتجاج اور غیر طبقاتی سماج کی واپسی کی اجتماعی خواہش کا اظہار بھی تھا، لیکن ایسی خواہش جو احساسِ گناہ سے لتھڑی ہوئی ہو۔
کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے ’جرمن آئیڈیالوجی‘ میں ہیگل پر تنقید کرتے ہوئے مذہب اور اخلاقیات پر اپنے خیالات ان الفاظ میں پیش کیے ہیں:
”مذہب میں لوگ اپنے تجربے اور مشاہدے میں آنے والی دنیا کو بھی تخیلاتی اور خیالی دنیا بنا دیتے ہیں جو ایک خارجی قوت کے طور پر ان سے ٹکراتی ہے۔ اس امر کو بھی ’خود شعوری‘ (self consciousness) جیسے دوسرے تصورات یا اسی طرح کی لغویات کی مدد سے نہیں بلکہ موجودہ طرزِ پیداوار اور تعلقات کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہے اور یہ طرزِ پیداوار مبینہ تصورِ محض (pure concept) سے اسی طرح مکمل طور پر آزاد ہے جیسے خود کار خچر کی ایجاد اور ریلوے کا استعمال ہیگل کے فلسفے سے آزاد ہیں۔ اگر اسے (ہیگل کو) مذہب کے جوہر (essence) کے بارے میں بات کرنی ہے، یعنی اگر وہ اس ’عدم لازمیت (inessentiality) کی مادی بنیاد پر بات کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے جوابات نہ تو ’انسان کے جوہر‘ میں تلاش کرنے چاہئیں اور نہ ہی خدا کے ’مسلمہ مفروضے‘ میں بلکہ اسے مادی دنیا سے رجوع کرنا چاہیے جو مذہبی ارتقا کے ہر مرحلے پر بہرحال موجود ہوتی ہے۔۔۔ عیسائیت کی ہمیں گوشت (جسم) اور ’قوتِ محرکہ کے طور پر ہماری خواہشات‘ سے آزاد کرنے کی خواہش کی واحد وجہ یہی ہے کہ یہ ہمارے گوشت یا جسم اور ہماری خواہشات کو ہمارے وجودی عناصر کی بجائے ہم پر باہری یا خارجی دباؤ سمجھتی ہے۔ یہ ایک تعین کنندہ کے طور پر فطرت سے ہمیں اس لیے آزاد کرانا چاہتی ہے کیونکہ یہ خود ہماری فطرت کو بھی ہماری ’اپنی‘ نہیں سمجھتی۔ اگر میں خود فطرت نہیں ہوں، اگر میری فطری خواہشات، میرا سارا فطری کردار میرا نہیں ہے، جیسا کہ عیسائیت کا دعویٰ ہے، تو فطرت کی تعیین چاہے میرے اپنے فطری کردار کے باعث ہو یا خارجی فطرت کے باعث میرے لیے کسی بیرونی عنصر کی مسلط کردہ تعیین بن جاتی ہے، یعنی ایک زنجیر، میرے اوپر کیا گیا ایک جبر اور میری ’روح‘ کی خودمختاری پر مسلط شدہ بے اختیاری بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائیت ہمیں خواہشات کے چنگل سے نجات دلانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکی۔“
یہ بات عیسائیت ہی نہیں ہر مذہب کے لیے کہی جا سکتی ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں اخلاقی اصول لگ بھگ ایک جیسے ہی ہیں، جنہیں آفاقی سچائیوں کا نام دیا جاتا ہے جو مطلق اور غیر متغیر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کرۂ ارض پر اپنی کل سماجی زندگی کا لگ بھگ ننانوے فیصد سے زیادہ حصہ انسان نے بغیر مذہب اور ریاست کے گزارا ہے۔ اور تمام جدید الہامی مذاہب لگ بھگ ایک ہی مخصوص ہزاریے (ہزار سال) کی پیداوار ہیں۔ یوں ان سب میں تخصیص ضروری سے زیادہ فروعی ہے اور اپنے اپنے عہد کے طبقاتی توازن کی مختلف حالتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اخلاقیات کا تعلق جہاں تمام سماجی اداروں سے الگ الگ بھی استوار ہوتا ہے وہیں اس کا براہِ راست تعلق سماجی کلیت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی لیے اس میں عمومیت باقی تمام سماجی عناصر سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ واقعی آفاقی اور مطلق سچائیوں پر مبنی ضابطہ ِحیات ہے۔ بلکہ تاریخ میں ہمیں اخلاقی ضوابط بھی ٹوٹتے اور بنتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اسی طرح کرۂ ارض پر مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں میں بھی مختلف اخلاقی اقدار ایک ہی عہد میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
فریڈرک اینگلز نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”اینٹی ڈیورنگ“ میں انسانی علم کو تین اہم شاخوں میں تقسیم کیا تھا۔ اول تو غیر نامیاتی یا قدرتی سائنس جس میں فزکس، کیمسٹری یا فلکیات وغیرہ آتے ہیں، دوم نامیاتی سائنس جس میں حیاتیات اور طب وغیرہ آتے ہیں اور پھر علم ِتاریخ یا سماجی علوم وغیرہ۔ اینگلز کے بقول قدرتی سائنس میں ریاضیاتی فارمولے جو بظاہر ابدی سچائیاں لگتے ہیں وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنی آفاقیت کھو دیتے ہیں اور ان کی حدود و قیود واضح ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ان حدود سے باہر ان کی اغلاط کو درست کرنے کے لیے نئے سائنسی انقلابات درکار ہوتے ہیں۔ مادے کی لامحدودیت میں انسانی علم زمان و مکان کی حدود سے متجاوز نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخی علوم میں تو ازلی اور ابدی سچائیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کوئی بھی دقیق غور و فکر کرنے والا شخص یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ ’پاکستان چودہ اگست کو معرضِ وجود میں آیا‘ یا فلاں شخص فلاں تاریخ کوپیدا ہوا وغیرہ وغیرہ، کیا یہ سچائیاں غیر متغیر نہیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ واقعی یہ سچائیاں ناقابلِ تردید ہیں، انہیں بدلنے کے لیے ہمیں کیلنڈر کو ہی تبدیل کرنا پڑے گا۔ جیسے قدیم روسی کیلنڈر کے مطابق بالشویک انقلاب 26 اکتوبر کو رونما ہوا تھا مگر جدید کیلنڈر کے مطابق اس کی تاریخ 7 نومبر ہے۔ لیکن کیا یہ سچائیاں کوئی اخلاقی جواز رکھتی ہیں؟ کیا یہ جاننا واقعی اخلاقی طور پر اہم ہے کہ پاکستان یا کوئی بھی ملک کب بنا؟ ہرگز نہیں۔ یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ اس کی تخلیق کے تاریخی محرکات کیا تھے اور اس ملک کے وجود سے انسانوں کی زندگیوں میں کیا تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں، یعنی کیا وہ تاریخی واقعہ مثبت تھا یا منفی، درست تھا یا غلط، اس پر بات ہو سکتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس پر ہر طبقے کا الگ مؤقف سامنے آ سکتا ہے۔ اسی طرح کسی شخص کے پیدا ہونے کے وقت اور تاریخ سے زیادہ اس کا سماجی اور تاریخی کردار بحث طلب ہو گا جس پر اخلاقی تنقید بھی طبقاتی پسِ منظر کی ہی حامل ہو گی۔ ہم ماضی کو بلاشبہ نہیں بدل سکتے۔ لیکن ماضی کی تفہیم آفاقی نہیں طبقاتی ہے۔ ناقابلِ تغیر ماضی کی بھی کوئی آفاقی تشریح ممکن نہیں۔ اخلاقیات بھی ایک تاریخی مظہر ہے اور اس کا ارتقا بھی سماجی حرکیات سے منسلک ہے۔
تاریخ، ذرائع پیداوار اور اخلاقیات
اس ضمن میں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اخلاقیات کا آغاز کب ہوا؟ اخلاق پرستوں کے نزدیک اخلاقیات اور انسان لازم و ملزوم ہیں۔ یعنی جب سے انسان ہیں اخلاقیات ہے، یہ فاش غلطی ہے۔ انسان نے ارتقائی سفر میں سماجی سرگرمی سے اخلاقیات کو تخلیق کیا۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ انسانی سماج میں استوار ہونے والا پہلا قاعدہ یا ضابطہ ریاستی یا تمدنی نہیں بلکہ اخلاقی ہی تھا۔ یاد رکھیں کہ باہمی تعاون اور انحصار جسے ابتدائی انسانی اخلاقیات نے بعد ازاں من و عن ایک مسلمہ قدر کے طور پر قبول کر لیا تھا، دراصل کوئی ’اخلاقی قدر‘ نہیں بلکہ ابتدائی انسانوں کے لیے ان کی وجودی شرط یا بقا کا مسئلہ تھے۔ اخلاقیات تب معرضِ وجود میں آئیں جب اوزار کی ایجاد نے شعور کو مہمیز دی۔ یعنی جب انسان کسی بھی طرح اچھائی یا برائی یا غلط یا صحیح کی تفہیم کے قابل ہوئے۔ یہ زبان کا بھی ابتدائی زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہمارے پاس اس وقت کے اخلاقی معیارات کا کوئی خاکہ یا ٹھوس ورثہ تو موجود نہیں ہے تاہم اس دور کے فن پاروں سے ہی اس کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا سکتی ہیں۔ ابتدائی آلات اور اوزار کی تخلیق، تشکیل اور استعمال کے لیے باہمی انحصار، تعاون اور مشترکہ کاوشیں درکار ہوتی تھیں اور اسی لیے ہر وہ سوچ یا اقدام جو ان آلات کو بہتر، مؤثر اور کارگر بنانے کے لیے مفید ہوتے ہوں گے وہی سب سے پہلے اچھائی اور سچائی کے معیار قرار پائے ہوں گے۔ اسی طرح آلات کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے افعال اور اقدامات کو اس عہد میں غلط یا آج کل کے معنوں میں ’غیر اخلاقی‘ یا ناپسندیدہ تصور کیا جاتا ہو گا۔ لیکن اس کے بعد معلوم انسانی تاریخ کے آغاز کے بعد سے ہمیں ایسی کسی قیاس آرائی کی حاجت نہیں رہتی کیونکہ ہمیں ایسے ٹھوس شواہد میسر ہو جاتے ہیں جن کی بنیاد پر ہم وثوق سے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اخلاقی اقدار ذرائع پیداوار کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ انہی ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی قبل از تاریخ کے ادوار کے بارے میں ہماری مندرجہ بالا قیاس آرائیوں کو بھی منطقی اور تعقلی بنیادیں میسر آئیں۔
مثال کے طور پر غلام دارانہ سماج میں غلام خود آلاتِ پیداوار تھے۔ ارسطو غلاموں کو بولنے والے اوزار بھی کہتا تھا۔ یہ غلام انسان ہونے کے باوجود اپنے جیسے دوسرے کسی انسان (آقا) کی ملکیت ہوتے تھے۔ مالک کو اپنے غلام کو بیچنے یا تحفے میں دینے کا اختیار تو ہوتا ہی تھا، اس کے ساتھ ساتھ وہ اس پر کسی بھی قسم کا تشدد کرنے کا حق بھی رکھتا تھا۔ ایسے حق کو قانونی یا آئینی تحفظ تو حاصل ہوتا ہی تھا، مگر اخلاقی طور پر بھی اسے درست مانا جاتا تھا۔ کیونکہ ان آلاتِ پیداوار کی پیداواریت کو بڑھانے کے لیے ہر راستہ اختیار کرنا معروضی طور پر ضروری سمجھا جاتا تھا۔ البتہ غلام داری کے ابتدائی اور عروج کے دور میں غلاموں کے غیر ضروری یا ناحق قتل کے اقدام کو ’غیر اخلاقی‘ حرکت سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ پیداواری قوت کے طور پر سماج کے لیے مفید ہوتے تھے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی صحت بخش جڑی بوٹی کو بے وجہ تلف کر دیا جائے۔ لیکن رومن سلطنت کے پھیلاؤ کے عرصے میں جب نئے مقبوضہ علاقوں سے غلاموں کی ترسیل بے تحاشہ بڑھ گئی تو غلاموں کو آپس میں تا دم ِآخر لڑوانے جیسے طفیلی کھیل بھی سامنے آئے۔ یہ اشرافیہ کی تفریح کا سامان تو فراہم کرتے تھے مگر یہ پیداواری قوتوں کا ضیاع تھا۔ اس سے غلاموں کے شعور میں بھی طلاطم خیز موجیں برپا ہوئیں جو بالآخر سپارٹیکس کی بغاوت اور پھر بے شمار دیگر انقلابی بغاوتوں کا سبب بنیں۔ ان باشعور باغی غلاموں نے مروجہ اخلاقیات کو غیر انسانی قرار دے کر نئی اخلاقی اقدار کی بنیاد ڈالی۔ ان اخلاقی اقدار نے غلام داری کے خاتمے کی جدوجہد کو مہمیز دیتے ہوئے غلاموں کی ناقابلِ تسخیر فوج کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا اور پھر غلام دارانہ سماج کے خاتمے کے ساتھ یہ نئی اخلاقی اقدار ہی فاتح اور مسلمہ اخلاقی اقدار قرار پائیں۔ یوں تاریخی عمل میں اخلاقیات بھی ارتقا اور ترقی کے عمل سے گزرتی رہیں۔ مابعد جدیدیے دانشوروں نے ”ترقی“ لفظ کو ہی مسترد کر دیا ہے اور ان کے خیال میں تاریخی عمل میں انسان مجرد اخلاقی معیارات سے زوال پذیر ہو کر جانوروں کی سطح تک آ پہنچا ہے۔ وہ کارل مارکس کو ذرائع پیداوار کی ترقی کے تصور کو استوار کرنے کے جرم پر معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ مارکس کے نزدیک انسان اپنے آغاز سے آج تک مسلسل جانوروں کی سطح سے بلند ہوتے ہوئے فطرت کو اپنے اجتماعی مفادات کے تابع کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس تاریخی عمل میں جو مسلسل خون، بربادی اور انتشار دیکھنے کو ملتا ہے اس سب کے باوجود عمومی طور پر انسان کی ترقی کا عمل جاری رہا۔ اس عمل میں نظاموں کے زوال پذیر ہونے کی وجہ سے پسپائیوں کے وقفے بھی آئے مگر نئی نسلوں نے شعور اور اخلاقیات کو معیاری جستیں لگائیں اور سماج کو بند گلی سے نکالا۔ ہیگل کے الفاظ میں، ”انسان نے غلامی سے نہیں بلکہ غلامی کے ذریعے آزادی حاصل کی تھی“۔
پھر نئے یعنی جاگیردارانہ سماج میں زمین ذریعہ پیداوار تھی اور جاگیردار اس کے مالک بن بیٹھے۔ اپنے گزر بسر کے لیے جاگیردار کی زمین پر کام کرنے والے کسان اس زمین کی ملکیت بن گئے، یعنی وہ زندہ رہنے کے لیے اس زمین کے محتاج ہو گئے۔ اب نئے سماجی ڈھانچے میں مذہب کا بھی ایک کلیدی کردار سامنے آیا اور مذہبی پیشوا خود بھی جاگیردار بن بیٹھے۔ اسے انسانی تاریخ کا سب سے طفیلی دور کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت جاگیردارانہ ریاست کے سربراہ یعنی بادشاہ کو خدا کا نائب قرار دے دیا گیا جو دراصل حکمران طبقے یعنی جاگیرداروں کے مفادات کا ترجمان تھا۔ جاگیرداروں پر کسی قسم کی کوئی اخلاقی بندش نہیں تھی۔ ان کے ہر اقدام کوقانونی، مذہبی و اخلاقی تحفظ حاصل ہوتا تھا۔ اس عہد کی اخلاقیات کے نمونے کے طور پر ’حقِ شبِ زفاف‘(right of the first night) کی مثال دی جا سکتی ہے، جسے لاطینی زبان میں ius primae noctis اور فرانسیسی میں droit du seigneur کہا جاتا ہے۔ اس حق کے تحت جاگیردار کو اپنی جاگیر میں جوان ہونے والی ہر لڑکی کی شادی کے وقت اس کے ساتھ پہلی رات گزارنے کا حق حاصل ہوتا تھا اور یہ اخلاقی طور پر مسلمہ حق تھا۔ اس کی خلاف ورزی کو غیر اخلاقی سمجھا جاتا تھا۔ یہ بات آج کے انسان کے تصور سے بھی ماورا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آج ایسا کچھ ہوتا ہی نہیں، آج بھی نام نہاد سرمایہ دارانہ ’نظم و نسق‘نجانے کتنی ’معصوم ان سنی چیخوں‘ کی پسِ پردہ موسیقی پر تھرکتا ہے لیکن اب اسے اخلاقی لغت میں بہرحال جرم یا مکروہ فعل سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے، گو کہ یہاں سرمایہ دارانہ اخلاقیات کا دوغلا پن یوں منکشف ہوتا ہے کہ ہر ’معزز‘ شخص ان بدکردار سرمایہ داروں کو جھک کر سلام کرتا ہے اور ان کے ساتھ اپنے روابط کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتا۔ چوری آج بھی بری سمجھی جاتی ہے مگر یہ اخلاقی اصول صرف چھوٹی چوری پر لاگو ہوتا ہے اور ایسی چھوٹی موٹی چوری کرنے والے کو نشانِ عبرت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی مگر جونہی چوری کی گئی رقم یا شے کی مالیت کروڑوں میں پہنچتی ہے تو مقدار معیار میں بدل جاتی ہے اور ایسا چور عبرت نہیں کامیابی کا ’مثالیہ‘ بن جاتا ہے۔ یاد رہے کہ جاگیردارانہ عہد میں بھی یہ حقِ شبِ زفاف ساری دنیا میں رائج نہیں تھا، یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمانی ہی نہیں بلکہ مکانی اعتبار سے بھی اخلاقی اقدار کا آفاقی تشخص حقیقی نہیں بلکہ اساطیری کردار کا حامل ہے۔ تاہم پھر اسی سماج میں ’غیر اخلاقی‘ انسان پیدا ہونا شروع ہوئے۔ پندرھویں صدی کے آغاز میں سکاٹ لینڈ میں ولیم والس کی بغاوت نے ایک نئے عہد کے آغاز پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی اور پھر ایک ’غیر اخلاقی‘ فوج تعمیر کی گئی جس نے پرانے سماجی ڈھانچے اور اخلاقیات کو مسترد کر کے نئی اخلاقیات کی راہ ہموار کی۔
پھر جاگیردارانہ سماج کے بطن سے سرمایہ دارانہ طرزِ پیداوار کاظہور ہوا جو آج تک جاری و ساری ہے۔ ایک ہی طرزِ پیداوار میں بھی پیداواری آلات کی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی ڈھانچے میں تغیر و تبدل رونما ہوتا رہتا ہے۔ جاگیردارانہ معاشروں میں نمودار ہونے والی بورژوازی اور آج کے عہد کی ’عالمی یا سامراجی‘ بورژوازی کے اخلاقی ارتقا کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ سرمائے کے ابتدائی ارتکاز کے زمانے میں جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ طرز ہائے پیداوار کے عبوری دور میں ابھرنے والے کارخانہ داری یعنی مینوفیکچرنگ کے دور میں جب کارخانہ دار خود اپنے مزدوروں کے ساتھ پیداواری عمل میں بھی براہِ راست شریک ہوتا تھا، اس وقت کے پیداواری تعلقات پر استوار اخلاقیات بھی اسی نوعیت کی تھی۔ ابتدائی دور میں سرمایہ دار لگ بھگ ساری ہی قدر زائد کو واپس پیداواری سرمایہ کاری کی نظر کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اپنے روزمرہ کے معاملات میں سادگی برتتے تھے۔ مارکس نے اس حوالے سے اس دور میں بورژوازی کو ’تعقلی کنجوس (rational miser)‘ بھی لکھا تھا۔ اپنی دولت کی ’نمود و نمائش‘ کرنے والے سرمایہ داروں کو ’بد اخلاق‘ یا غیر سنجیدہ تصور کیا جاتا تھا۔ مارکس کے نزدیک یہ سرمایہ دارانہ طرزِ پیداوار کی ’تاریخی ضرورت‘ کا سماجی اظہار تھا۔ کارخانہ دار اور مزدوروں کے معیارِ زندگی میں امتیاز ابھی ’خلیج‘ نہیں بنا تھا، وہ اکٹھے کھاتے پیتے بھی تھے اور شادی بیاہ اور دیگر مذہبی یا سماجی تہواروں میں بھی یکساں طور پر شریک ہوتے تھے۔ اسی سماجی عمل کے اشتراک پر پنپنے والی اخلاقی اقدار نے انسانی برابری اور جمہوریت جیسے سیاسی فلسفوں اور تصورات کو مقبولِ عام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا مگر جوں جوں سرمایہ دارانہ طرزِ پیداوار اپنے جوبن پر آتا چلا گیا، تو یہی ’زیادہ سے زیادہ پیدا کرنے کا پوٹینشل اور جوش‘ جو پہلے مثبت ’سماجی قدر‘ کی حیثیت رکھتا تھا، تابڑ توڑ (cut throat) مسابقت کی شکل اختیار کر گیا اور شرحِ منافع کے حصول کی دوڑ ہی طرزِ پیداوار کی اصل قوتِ محرکہ بن گئی۔ سرمایہ داری جب بطور طرزِ پیداوار رائج ہو گئی اور بالخصوص جوں جوں یہ نظام ’سامراجی‘ کردار اختیار کرتا چلا گیا، توں توں اس کا اپنے اجرتی مزدوروں اور عام انسانوں کے ساتھ رشتہ ’غیر انسانی‘ شکل اختیار کرتا چلا گیا اور اس روش نے سماج کی اخلاقی بنیادوں میں بھی لرزا طاری کر دیا۔ اب اگر کوئی سرمایہ دار اپنی دولت اور سطوت کی نمائش نہ کرے اور سادگی کی زندگی گزارے تو کہا جائے گا کہ ’بھائی یہ کمائی کس کام کی‘۔ اب فضول خرچی، دکھاوا، پرتعیش ضیافتیں اور نمود و نمائش کو ہی زندہ دلی، خوش اخلاقی اور ’خوش مزاجی‘ سمجھا جاتا ہے۔ بیہودہ ترین فن پارے بھی کروڑوں ڈالرز میں خرید کر اپنے ذوق کی دھاک جمائی جاتی ہے۔ اگر کوئی مالک اپنے محنت کشوں کے ساتھ بیٹھ کر کھاتا پیتا ہے اور ان سے سماجی رشتے استوار کرتا ہے تو اسے ’معزز‘ نہیں بلکہ ’بیوقوف‘ سمجھا جاتا ہے اور خام مال کی لوٹ مار کے دوران گاؤں گاؤں کو تہس نہس کر دینا ایک معمول کی بات ہے۔ بلکہ کروڑوں نفوس پر مشتمل اقوام کی بھاری اکثریت کی غیر فطری قحط، دربدری اور خانہ جنگی جیسی تباہ کاریوں کو ’سرمایہ دارانہ ترقی‘ کی لازمی قیمت کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔ اس تمام تر وحشت کے متوازی بورژوازی کے سیاسی نمائندگان ’انسانی حقوق‘ کو مدِنظر رکھنے کی تلقین اور مگر مچھ کے آنسو بہانا کسی صورت نہیں بھولتے، ساتھ ہی اپنا طبقہ تبدیل کرنے کے بعد ’بے مہار‘ عیاشی سے تھک کر اپنے احساسِ گناہ کو کم کرنے کے خبط میں مبتلا ’ستارے‘ (celebritries) بھی ’امداد‘ اور ’بحالی و تعمیرِ نو‘ میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ منافقت اور دھوکے بازی کو ذہانت، تدبر اور ’ٹیلنٹ‘ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر اس منافقانہ کھلواڑ کے لیے باقاعدہ نیٹ ورک موجود ہے۔ اقوامِ متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کی شکل میں جگہ جگہ دھوبی گھاٹ قائم ہیں جہاں سامراجیوں کے ’پاپ‘ دھونے کا کام خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیا جاتا ہے۔ این جی اوز سرمایہ دارانہ اخلاقیات کی وہ سیورج پائپ لائن ہیں جو سامراجیوں کے فضلے کو ’تریاق‘ میں بدل کر ’ضرورت مندوں‘ کی داد رسی کرتی ہیں اور مابعد جدید اخلاقیات میں اس ’فیاضی اور دریا دلی‘ کو سب سے ’معزز‘ پیشے کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔
جنگ اور اخلاقی اقدار
دوسری طرف محنت کش عوام ہیں۔ ان کی اخلاقیات بھی مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ مینوفیکچرنگ کے طبعِ پیداوار تک کاریگر اور ہنرمند اپنے آلات ِپیداوار کے خود مالک ہوتے تھے۔ ان محنت کشوں کے اپنے گلڈز ہوتے تھے اور ایک مخصوص سماجی معمول ہوتا تھا۔ اپنی پیداوار سے براہِ راست تعلق پر مبنی تخلیقی شناخت نسبتی سماجی یگانگت پر مبنی اخلاقی اقدار کی امین تھی۔ پھر صنعتی انقلاب کے بعد وہ آلہ محنت کش کے ہاتھ سے نکل کر مشین میں نصب ہو گیا اور پیداکار نہیں بلکہ صنعتکار مشین کا مالک بن بیٹھا، پھر رفتہ رفتہ وہ مشین پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی چلی گئی۔ محنت کش پہلے آلات سے محروم ہوئے اور پھر مشینی میکنزم میں خود مشین کے ایک پرزے کی شکل اختیار کر گئے۔ پیداواری عمل زیادہ سے زیادہ معروضی ہوتا چلا گیا اور آج ہم روبوٹس کے دور تک پہنچ گئے۔ اس تمام تر ارتقائی سفر میں محنت کشوں کی بطور افراد جو شخصی شکست و ریخت ہے اس نے اسے اخلاقی طور پر بھی کنگال کر دیا ہے۔ بیروزگاری ہیجان پر اور تخلیقی عمل سے بیگانگی کام چوری پر منتج ہوتی ہے۔ طبقاتی خلیج ذہنی اور اخلاقی ہیجان کا باعث بنتی ہے۔
تیسری دنیا میں تو صورتحال اور بھی بدتر ہے۔ پاکستان اس کی بہترین مثال ہے۔ یہاں حکمران طبقے کی رنگ رلیاں اور اللے تللے کروڑوں بھوکے ننگے عوام میں نفسیاتی طلاطم برپا کیے رکھتے ہیں۔ عوام بھی اپنی بقا کی نفسانفسی پر مبنی جدوجہد میں دھوکہ دہی، جعلسازی اور شارٹ کٹ کی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ نظام کی نامیاتی ساخت ہی ایسی ہوتی ہے کہ بدعنوانی کے بڑے پیمانے کے عملی مواقع چند ہی لوگوں کو مل پاتے ہیں لیکن دماغی طور پر ’موقع کی تلاش‘ عمومی نفسیاتی معمول بن جاتا ہے جسے ’نظریہ ضرورت‘ کے تحت اخلاقی تائید بھی میسر آ جاتی ہے۔ بد عنوانی کا موقع ضائع کر دینے والے کو ’پسماندہ‘ اور ’نالائق‘ سمجھا جاتا ہے۔ کمانا مقصد بن جائے تو ’کمائی‘ کے ذرائع پر کوئی سوال نہیں کرتا اور سرمایہ دارانہ نظام اب اس نہج پر آ گیا ہے کہ کما کر اپنی طبقاتی حیثیت کو تبدیل کرنا تو دور کی بات اپنے معیارِ زندگی کو برقرار اور سانسوں کا رشتہ بحال رکھنے کے لیے بھی جھوٹ، جگاڑ اور ملاوٹ جیسے ’ہنر‘ سیکھنا ضروری ہو چکا ہے۔ رزق بھلے ہی آسمان پر طے ہوتا ہو مگر اسے زمین پر لانے کے لیے اور اپنے جائز حق کے حصول کے لیے بھی رشوت اور سفارش سے استفادہ حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ اس معمول پر لوگوں نے چونکنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ ان ’برائیوں‘ کو گویا مسلمہ سماجی اقدار کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ تاہم والدین آج بھی بچوں کو سچ بولنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی نصیحتیں کرنا نہیں بھولتے اور سکولوں کی دیواروں پر جلی حروف میں آج بھی لکھا جاتا ہے، ’ایمان، اتحاد، تنظیم‘۔
البتہ ایک انقلابی کیفیت میں یہ صورتحال اپنے الٹ میں بدل جاتی ہے، جیسے عرب بہار میں دیکھا گیا تھا۔ جب جرائم کی آماجگاہ سمجھے جانے والے شہر قاہرہ میں بھی بیس لاکھ سے زائد مرد و زن بیس سے زیادہ دن تحریر اسکوائر میں دن رات اکٹھے حکمران طبقے سے لڑے اور چوری اور جنسی ہراسانی سمیت کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ یہی تاریخ کا نچوڑ ہے کہ حالات کے جبر میں لوگ یکسر اور غیر متوقع طور پر تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ بات افراد اور طبقات دونوں کے لیے یکساں طور پر ٹھیک ہے۔ ہچکچاہٹ پہل گامی میں، بزدلی جرات میں، خود غرضی بے لوثی میں، تذبذب ثابت قدمی میں اور مفاد ایثار میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے مارکس وادی افراد اور طبقات کے کردار پر اخلاقی تنقید کرنے کی بجائے ان کے افعال و خیالات کی حرکیات کو معروضی تضادات کی روشنی میں پرکھتے ہیں جبکہ اخلاق پرستوں کے ذہن تضادات اور رد و بدل کے تصور سے ہی چکرا جاتے ہیں۔ مارکس اور اینگلز جرمن آئیڈیالوجی میں مثالیت پسند فلسفیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں مشہور ہسپانوی ناول ڈان کیخوٹے کے مرکزی کرداروں سے تشبیہ دیتے ہیں اور امثالی طرزِ استدلال کے جواب میں یوں رقم طراز ہوتے ہیں:
”سانچو سوال اٹھاتا ہے کہ ’ہر انسان میں موجود ایک ’غیر انسانی‘ (حیوانی) وجود کو کیسے قابو میں لایا جا سکتا ہے؟ یہ کیسے ممکن بنایا جائے کہ جب انسان آزاد ہو تو اس کے اندر کا وہ حیوان آزاد نہ ہو؟ انسانوں کے ساتھ یہ غیر انسان جو انا پرست ہے اور انفرادیت پسند ہے، ہمیشہ رہتا ہے۔ ریاست، سماج اور بشریت اس شیطان پر قابو نہیں پا سکتے‘۔ یہ نام نہاد غیر انسان بھی انسان کی طرح موجودہ سماجی تعلقات کی ہی پیداوار ہے، یہ ان کا خاصہ یعنی ان کا خلقی پہلو ہے۔ جہاں تک بغاوت کی بات ہے تو وہ کسی نئی انقلابی پیداواری قوت پر استوار نہیں ہوتی بلکہ موجود پیداواری قوتوں پر استوار پیداواری تعلقات اور ان تعلقات سے منسلک ضروریات کی تکمیل کے طریقوں کے خلاف ابھرتی ہے۔ مثبت یعنی ’انسانی‘ پہلو اسی طرح پیداوار کے مخصوص مرحلے پر پہلے سے غالب تعلقات اور ان سے منسلک ضروریات کی تکمیل کے طریقوں سے مطابقت پیدا کرتا ہے جس طرح منفی یعنی غیر انسانی (غیر اخلاقی) عنصر پہلے سے غالب سماجی تعلقات اور ان سے منسلک ضروریات کی رائج الوقت طرزِ پیداوار میں تبدیلی کے بغیر تکمیل کی کوششوں کی نفی سے مطابقت پیدا کرتا ہے، یہ ایک کوشش ہوتی ہے کہ پیداوار کے اس مرحلے پر روزانہ کچھ نیا اور تازہ دم تخلیق ہو۔“
اسی کتاب میں ایک اور موقع پر وہ لکھتے ہیں کہ:
”کمیونسٹ بے غرضی یا بے لوثی کے دفاع میں خود غرضی یا اناپرستی کی مخالفت نہیں کرتے یا انہیں ایک دوسرے کے خلاف رکھ کر نہیں دیکھتے اور نہ ہی وہ اس تضاد کو نظریاتی طور پر جذباتیت یا بہت پیچیدہ نظری شکل میں پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ان کے مادی ذرائع کی وضاحت کرتے ہیں جس کے ساتھ ہی یہ تضاد خود سے غائب ہو جاتا ہے۔ کمیونسٹ کبھی بھی کسی بھی صورت اخلاقیات کی تبلیغ نہیں کرتے۔ وہ لوگوں سے اخلاقی تقاضے نہیں کرتے کہ ’ایک دوسرے سے محبت کیا کرو‘، ’خود غرضی نہ کیا کرو‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے برعکس وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ خود غرضی یا بے غرضی دونوں مخصوص حالات میں افراد کے ادعائے ذات کی لازمی اشکال ہوتی ہیں۔“
کارل مارکس کا کمال سرمایہ دارانہ جبر کی نشاندہی نہیں تھا کیونکہ جبر تو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔ مارکس نے قدرِ زائد کی دریافت کر کے سرمایہ دارانہ طرزِ پیداوار کی ’استحصالی روح‘ کو بے نقاب کیا۔ اس نے یہ دکھایا کہ کس طرح ’غیر ادا شدہ اجرت‘ ہی ہر قسم کے تعیش اور ترقی کی معاشی بنیاد ہے۔ کروڑوں پیداکاروں کو ان کی پیداوار کی اصل قیمت سے محروم رکھ کر صرف اتنا دیا جاتا ہے تاکہ وہ زندہ رہ کر آئے روز اپنے آپ کو اسی استحصال کے لیے رضاکارانہ طور پر پیش کر سکیں۔ جی ہاں بالکل، رضاکارانہ طور پر۔ یہی ہے سرمایہ دارانہ نظام کے خمیر میں موجود وہ تضاد جو اسے متحرک رکھتا ہے۔ کیسا دلچسپ تضاد ہے! بظاہر اگر کوئی کسی کی ادنیٰ سے ادنیٰ چیز بھی چرا لے تو وہ شور مچاتا ہے، احتجاج کرتا ہے اور اپنی چیز واپس حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن محنت کش اپنی سب سے قیمتی شے، اپنی تخلیق، اپنی محنت کی چوری کو فطری اور ’ضروری‘ تسلیم کر کے خاموش رہتا ہے۔ اگر اخلاقی اقدار آفاقی ہونے کی دعویدار ہیں تو ان کا سب سے بنیادی اصول ’چوری مت کرو‘ اس ہر وقت اور ہر جگہ ہونے والی کھلی ڈاکہ زنی پر خاموش کیوں ہے؟ کیا فیکٹریوں میں یا کام کی جگہوں پر کوئی اس چوری پر سوال اٹھا سکتا ہے، ہرگز نہیں، کیونکہ یہ چوری محض قانونی طور پر ہی نہیں بلکہ اخلاقی طور پر بھی خود کو جائز اور ناگزیر تسلیم کروا چکی ہے۔ کیونکہ اس نظام میں اسی چوری نے ذرائع پیداوار کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہاں اخلاقیات کا طبقاتی کردار روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے۔ بورژوا اخلاقیات کے تحت وہ مزدور جو اس چوری کو برائی سمجھتا ہی نہیں ایک با کردار اور با اخلاق انسان ہے جبکہ مارکسی اخلاقیات اسے مجہول اور لاچار انسان سمجھتی ہے اور اپنی چوری شدہ جنس کی واپسی کی جدوجہد کرنے والے انسان کو بہترین اور قابلِ تقلید انسان قرار دیتی ہے۔ تاریخی طور پر یہ تضاد افراد کے مابین نہیں بلکہ متحارب طبقات کے مابین ہے جس پر جمہوریت اور آئین کا غلاف چڑھا ہوا ہے۔ اس قانون اور آئین کا احترام نہیں بلکہ اس کے غلاف اور نقاب کو تار تار کر دینا ہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی 100 سب سے بڑی ہتھیار ساز کمپنیوں کی مجموعی آمدن 2024ء میں 5.9 فیصد بڑھ کر 679 ارب ڈالر یعنی 1830 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ فوربز میگزین کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 3028 ارب پتیوں (جن کی دولت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے) کی کل دولت 16.1 ٹریلین ڈالر سے متجاوز ہو چکی ہے۔ دولت کے یہ پہاڑ آخری تجزیے میں چوری شدہ اجرتیں ہی ہیں۔ دوسری طرف ورلڈ بینک کے مطابق لگ بھگ 83 کروڑ 10 لاکھ لوگ انتہائی غربت (تین ڈالر یومیہ یا اس سے کم آمدن) کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر سانس ایک جنگ کی کیفیت میں گزرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق اگر ان تمام ارب پتیوں کے پاس فی کس ایک ایک ارب ڈالر چھوڑ کر ان کی باقی دولت ضبط کر لی جائے تو آئندہ 196 سالوں تک دنیا سے انتہائی غربت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ یہ دولت اور اس دولت کے ذرائع کو نجی ملکیت سے نکال کر عوام کی اجتماعی ملکیت میں دے کر بھوک اور غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے اور اگر ممکن ہے بھی تو کیا ایسا کرنا اخلاقی طور پر درست ہو گا؟ ان دونوں سوالوں کا جواب ایک دوسرے سے منسلک ہے کیونکہ ایسا ممکن ہی اس صورت میں ہے جب قدرِ زائد کے پیداکار پیداوار کی اپنی (سماجی) کی بجائے بیگانی (نجی) ملکیت کو تحفظ دینے والی اخلاقیات کے مرتد ہو جائیں۔ اور وہ یہ جان لیں کہ اس نظام میں تمام سماجی ادارے حکمران طبقے کی خدمت پر معمور ہیں۔ حکمران طبقہ اپنی مراعات سے رضاکارانہ طور پر کبھی دستبردار نہیں ہو گا، وہ اپنی سماجی حیثیت کے تحفظ کے لیے جنگ لڑے گا، یہ ایک طبقاتی جنگ ہے جو تاریخی طور پر محنت کش عوام پر مسلط ہو چکی ہے۔ یہ طبقاتی جنگ قومی جنگوں سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ یہ جنگ جیت اور مات کی نہیں بلکہ زندگی اور موت کا فیصلہ کرتی ہے، لہٰذا اس جنگ میں ہر وہ حربہ، حیلہ، چال اور حکمتِ عملی جائز ہے جو فتح کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اور ناگزیر ہے۔
اصلاح پسندی کا خصی پن اور انقلابی حکمتِ عملی
یہ درست ہے کہ محنت کش ہر وقت حالتِ جنگ میں نہیں رہ سکتے، اسی لیے مارکس نے انقلابات کو تاریخی مستثنیات کہا ہے۔ لیکن محنت کش طبقے کی نمائندہ سیاسی قوت کے لیے طبقاتی سیاست ایک مسلسل حالتِ جنگ کا نام ہے۔ مارکس وادی ہتھیار بند سیاست یا تشدد کی اس لیے مخالفت نہیں کرتے کہ وہ اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ انقلابی مقصد کے حصول کا مناسب ذریعہ نہیں، لیکن اگر وہ ناگزیر ہو جائے تو اس سے اجتناب بھی مارکس وادیوں کے نزدیک محنت کش طبقے سے غداری قرار پاتا ہے۔ پیٹی بورژوا اصلاح پسند طبقاتی سیاست کو پاپولر سیاست سے گڈ مڈ اس لیے کر دیتے ہیں کیونکہ ان کے لیے یہ ایک جنگ نہیں محض ’ذہنی عیاشی‘ ہوتی ہے، لہٰذا وہ ہمیشہ ’اخلاقی‘ محرکات کی بنا پر طبقاتی مصالحت کو جائز اور ناگزیر ثابت کرتے ہیں۔ ’نہیں نہیں، تشدد نہیں‘، ’ہم انسان ہیں حیوان نہیں‘، ’ہم جمہوریت اور آئین کے محافظ ہیں‘وغیرہ وغیرہ۔ یہ اصلاح پسندی وہ طاغوتی راستہ ہے کہ جب ایک دفعہ اس پر پاؤں دھر دیا جائے تو محنت کش طبقے کے قائدین لاشعوری طور پر محنت کش طبقے کے لیے نہیں بلکہ ان کے خلاف سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ ہر فیصلہ کن گھڑی میں محنت کشوں کو ’پُر امن رہنے‘ اور حقیقت پسندی کا درس دینے لگتے ہیں اور یوں وہ فیصلہ کن لمحات زائل ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف حکمران طبقے کے نمائندگان اپنے تاریخی کردار پر کبھی متذبذب نہیں ہوتے۔ ان کی میکاولائی اخلاقیات قطعی اور واشگاف ہے۔ انہیں اپنے وعدوں کا کوئی پاس نہیں ہوتا، نہ ہی ان کا کوئی نظریہ ہوتا ہے، ان کا مقصد دو ٹوک ہوتا ہے یعنی ہر قیمت اور ہر صورت میں سرمایہ داروں کے مفادات اور سیاسی اقتدار کا تحفظ کرنا اور ان کے نزدیک اس مقصد کے حصول کے لیے جھوٹ، وعدہ خلافی، جبر اور تشدد سب کچھ جائز ہے۔ جب ہم مارکس وادی محنت کش طبقے کے مفاد کے لیے اسی اصول کا پرچار کرتے ہیں تو اخلاق پرست چِلانا شروع کر دیتے ہیں۔
ماضی قریب میں ہم برنی سینڈرز اور جیریمی کاربن کی مثال پیش کر سکتے ہیں۔ جب امریکی حکمران طبقے نے برنی سینڈرز کو ڈیموکریٹک پارٹی کے پارٹی الیکشنز میں ’دھاندلی‘ کے ذریعے شکست دی تو ’جمہوریت، امن اور اجتماعی مفاد‘ کے لیے برنی سینڈرز نے ان سے سمجھوتہ کر لیا اور اپنے گرد مجتمع ہوئے ریڈیکل عناصر کو دائیں بازو کے ’سیاسی مسخروں‘ کے رحم و کرم پر چھوڑ کر کنارہ کش ہو گیا۔ اسی طرح جب جیریمی کاربن کو برطانوی لیبر پارٹی کی قیادت کا تاریخی موقع ملا تو اس نے دائیں بازو پر فیصلہ کن حملہ کرنے سے انکار کر دیا، اس کے خیال میں پارٹی سے دائیں بازو کی تطہیر قیادت کا ’ناجائز‘ استعمال تھی اور ’سب کو ساتھ لے کر چلنا‘ ہی جمہوری اور سیاسی اخلاقیات کا تقاضا تھا۔ لیکن دائیں بازو نے اس کے خلاف ہر حربہ اپنایا کیونکہ انہوں نے یہ لڑائی بجا طور پر ’ذہنی عیاشی‘ نہیں جنگ سمجھ کر لڑی۔ جیریمی کے خلاف ’یہود مخالف‘ سے لے کر ’اخلاقی بدعنوانی‘ تک ہر قسم کے الزامات لگائے اور جیریمی کاربن مقابلہ کرنے کی بجائے ’اخلاقی‘ بنیادوں (moral ground) پر مستعفی ہو گیا اور اپنے حامیوں کو دائیں بازو کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا۔ پھر اس دائیں بازو نے بائیں والوں سے ہلکی سی رعایت بھی نہیں برتی۔ ایک سفاک آپریشن میں پارٹی سے جیریمی کے حامیوں کا ایسے صفایا کیا گیا جیسے کھیت سے ناپسندیدہ جڑی بوٹیوں کو تلف کیا جاتا ہے۔
تاریخ بار بار ثابت کر چکی کہ سرمایہ دارانہ بربریت سے نجات کے لیے محنت کشوں کو اصلاح پسند نہیں بلکہ بالشویک طرز کی جنگجو قیادت درکار ہے جو طبقاتی جنگ کی تمام چالبازیوں اور مہم جوئیوں میں ماہر ہو۔ اخلاق پرستوں کی چہ مگوئیوں کے برعکس طبقاتی سیاست ’صراطِ مستقیم‘ نہیں ہے بلکہ انقلابی حکمتِ عملی دشمن طبقات کو دھوکہ دینے اور ’اندھیرے میں رکھنے‘ کی مہارت کی متقاضی ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مظلوم طبقے کے جو لیڈر حکمران طبقے کو دھوکہ نہیں دیتے وہ اپنے طبقے کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتے ہیں۔ ادنیٰ سطح پر ٹریڈ یونین ہڑتال اور اعلیٰ سطح پر اقتدار پر قبضہ بغیر سیاسی پینتروں اور جوڑ توڑ کے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ مارکسی انقلابی پارٹی کی تعمیر میں بھی بالشویک کیڈرز کو ادنیٰ اور اعلیٰ دونوں معرکوں کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔ اس طبقاتی جنگ میں پلڑا ہمیشہ حکمران طبقے کے حق میں جھکا رہتا ہے۔ حکمران طبقے کے پاس تو دولت، اقتدار، فوج، نصاب، میڈیا، اخلاقیات تمام ذرائع ہوتے ہیں لیکن محنت کش طبقے کا ہتھیار صرف انقلابی پارٹی ہوتی ہے، ایک ایسی پارٹی جس کے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ ایسے میں انقلابی پارٹی کو بھی جنگی بنیادوں پر ہی تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ پارٹی پر بیگانے طبقات کا دباؤ انقلاب کی حتمی فتح تک موجود رہتا ہے، جو متذبذب، ہیجانی اور ’اخلاقی‘ بیانیوں کی شکل میں پارٹی کے اداروں میں سرایت کر جاتا ہے۔ جہاں ریاستی جبر کی ننگی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے وہیں حکمران طبقے کی سازشیں پارٹی کے اندر گروہی شکل میں اپنا اظہار کر سکتی ہیں۔ پارٹی کی مرکزی اور مقامی قیادت کو ہر دو صورتوں میں بے رحمی سے ان تمام عناصر کا قلع قمع کرنا پڑتا ہے۔
خاندان اور انقلابی فرائض
کمیونسٹ مینی فیسٹو کے الفاظ دیکھیے، ”خاندان کانام و نشان مٹا دیا جائے۔ بڑے سے بڑے انتہا پسند بھی کمیونسٹوں کی اس شرمناک تجویز پر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ بورژوا خاندان آخر کس بنیاد پر قائم ہے؟ سرمایہ پر اور ذاتی منافع پر۔ اپنی مکمل ترین شکل میں یہ خاندان صرف بورژوا طبقے میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ایک طرف مزدور بے خاندان رہنے پر مجبور ہیں اور سرِ بازار عصمت فروشی ہوتی ہے۔ بورژوا خاندان کا یہ پہلو جب نہیں رہے گا تو یہ خاندان خود ہی مٹ جائے گا اور سرمایہ کے مٹتے ہی دونوں مٹ جائیں گے۔“ مارکس اور اینگلز کیا ثابت کرنا چاہتے تھے؟ آگے وہ مزید لکھتے ہیں کہ، ”بورژوا طبقے نے خاندانی رشتوں کی دلگداز جذبات پرستی کا نقاب چاک کر دیا ہے اور ان کو محض روپے اور آنے پائی کا رشتہ بنا کر رکھ دیا ہے“۔ سچ تو یہ ہے کہ پدرشاہانہ اخلاقیات عورت کے لیے زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ یہ زہر اس کے لیے کڑوا بھی ہو سکتا ہے لیکن میٹھا تو ہوتا ہی ہے۔ جنسی ہراسانی اور ریپ کی شکل میں ’کڑوا زہر‘ کبھی بھی کسی بھی عورت کا مقدر بن سکتا ہے۔ یہ اس لیے کڑوا ہے کیونکہ اسے قانوناً، شرعاً اور اخلاقاً ہر لحاظ سے غلط سمجھا جاتا ہے جبکہ میٹھے زہر کا نام خاندان ہے کیونکہ خاندانی جبر کو اخلاقیات اور قانون کی تائید بھی حاصل ہوتی ہے۔ اخلاق پرست جو عام طور پر خود سماج کی سب سے بد اخلاق اور بدکردار پرت ہوتے ہیں اور اپنے گھناؤنے چہرے پر اخلاق پرستی کا نقاب اوڑھے رکھتے ہیں، خاندان کو مقدس ادارہ قرار دیتے ہیں۔
خاندان کی حالیہ شکل یعنی بورژوا ”جوڑا خاندان“ اس وقت نمودار ہوا تھا جب سماج فیصلہ کن انداز میں دو واضح طبقات یعنی بورژوا اور پرولتاریہ طبقے میں منقسم ہو گیا۔ اس سے قبل کا یعنی جاگیر دارانہ سماج میں جنم لینے والا ”جوڑا خاندان“ اس خاندان سے مختلف تھا۔ ابتدائی انسانی معاشروں میں جب مادر سری ڈھانچہ استوار تھا تو گروہ وار اور اجتماعی شادیوں کا نظام رائج تھا۔ طبقاتی معاشرے اور نجی ملکیت کے آغاز نے سماجی کام کی تقسیمِ نو کی اور ملکیت کی وراثتی شناخت اور منتقلی کی ضرورت نے مادر سری کا خاتمہ کر کے پدر سری ڈھانچہ بنایا۔ رفتہ رفتہ عورت کو پیداواری عمل سے بے دخل کر کے بچوں کی پیدائش اور دیکھ بھال تک محدود ہونا پڑا۔ یوں آئندہ ہزاروں سال سرمایہ دارانہ نظام کے ابتدائی یعنی ترقی پسندانہ مرحلے تک عورت کی پیداواری عمل میں واپسی ممکن نہ ہو سکی۔
تاہم سرمایہ دارانہ نظام میں ذرائع پیداوار اور آلاتِ پیداوار میں بے پناہ ترقی نے پیداواری عمل میں جسمانی (manual) محنت کی ضرورت کو کم سے کم کر کے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ خواتین پھر سے پیداواری عمل میں شریک ہوں۔ یعنی خاندانی ڈھانچہ ایک دفعہ پھر شدید داخلی تناؤ کا شکار ہو رہا ہے لیکن پیداواری تعلقات میں ہونے والی اس تاریخی تبدیلی کے لیے خواتین کو روایتی آئینی و اخلاقی ڈھانچے کو چیلنج کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ انسانوں کی اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے ضروری بھی ہے کہ پیداواری اور تکنیکی ترقی سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کے لیے خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں اور پیداوار کی فراوانی سے قلت کا خاتمہ کرتے ہوئے کام کے اوقاتِ کار کم سے کم کیے جا سکیں۔ یوں قرون ِوسطی کے دور کی اخلاقی اقدار کو چیلنج کرنا ضروری اور ترقی پسندانہ عمل ہے۔ اگرچہ سرمایہ داری کی حدود و قیود میں عورت کی کموڈیفیکیشن بھی ایک سماجی ناسور ہے لیکن یہ عمل سیدھی لکیر میں وقوع پذیر نہیں ہو سکتا۔ یہ نئی اخلاقی اقدار کو جنم دے رہا ہے اور پرانی اور نئی اخلاقی اقدار میں ٹکراؤ مسلسل شدت اختیار کرتا چلا جائے گا اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک نئی اخلاقی اقدار کو مسلمہ آئینی و سماجی حیثیت حاصل نہیں ہو جاتی۔
پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں خاندان کا مسئلہ کہیں پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ خاص طور پر درمیانے طبقے میں عورت کی سماجی حیثیت آج بھی معمہ بنی ہوئی ہے۔ زبانی کلامی عورت کی آزادی اور برابری کی حمایت کے باوجود عورت پر اخلاقی قدغنیں اپنی جگہ موجود ہیں۔ بالی ووڈ کی مووی ’پِنک‘ اس سماجی مخمصے کی درست نشاندہی کرتی ہے۔ ان سماجوں کو اس مخمصے سے ایک نیا سماجی انقلاب ہی نکال سکتا ہے جو سماج کے اخلاقی ڈھانچے کی کایا مکمل طور پر پلٹ کر رکھ دے۔ یعنی اس مخمصے کا حل ’پِنک‘ نہیں بلکہ ’ریڈ‘ ہے۔ ترقی پسند دنیا کی تحریکوں سے لے کر جین زی کی بغاوتوں تک یہ سب واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ سماج اس نئے انقلاب کے امکانات سے حاملہ ہو چکا ہے۔ نوجوان مرد و زن شانہ بشانہ اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ بوسیدہ اخلاقیات کی عمارت لرز رہی ہے اور ایک نئی ’بداخلاق‘ نسل جوان ہو کر ’معززین‘، ’شرفا‘ اور حکام ِبالا کو للکار رہی ہے۔ ایسے میں پرانے سماجی رشتوں کی بیڑیاں ابھی تک اس نسل کے پاؤں سے لپٹی ہوئی ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیائی انقلاب نے اس سماجی انقلاب کی تاریخی لازمیت کو اور بھی واضح کر دیا ہے۔ گزشتہ دہائی میں سرمایہ داری کے عالمی نامیاتی بحران کے دباؤ کے تحت سماجی شعور میں بہت بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس دہائی میں شعور کی آنکھ کھولنے والی نسل اور ان کے والدین کے طرزِ فکر اور خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ نسل اپنی سرشت میں روایات شکن ہے۔ ان کے والدین ان پر اپنی اخلاقی اقدار مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو خاندانی دراڑیں اور واضح ہو جاتی ہیں۔ اے آئی کی ہم جولی یہ نسل رومانوی اور اساطیری کرداروں سے مرعوب ہونے والی نہیں اور پھر سپر انٹیلی جینس انسانی اخلاقیات کا کیا حشر نشر کرے گی، سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اخلاق پرستوں کی فلک شگاف چیخیں ہر جگہ سنی جا سکتی ہیں۔ ان کے نزدیک قیامت کی ساری نشانیاں پوری ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اولاد ’نافرمان‘ ہو گی تو سماج کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ نوجوان اب شادی اور خاندان کا تمسخر اڑاتے پھرتے ہیں اور اخلاق پرست تو خاندان کے بغیر کسی سماج کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ وہ اس نسل کو بھی وہی گھسے پٹے اخلاقی اصول یاد کروانے میں لگے ہوئے ہیں کہ ’والدین کا کہنا مانو، بڑوں کا احترام کرو‘ وغیرہ وغیرہ۔ ہم مارکس وادیوں کو ان اخلاق پرستوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ ان کا اور ان کی اخلاقیات کا مقدر تاریخ کا کوڑا دان ہی ہے۔ ہم ٹیکنالوجی کو نہیں بلکہ حکمران طبقے کی اس ٹیکنالوجی کے اجتماعی تعمیری استعمال کی نا اہلیت کو سماجی زبوں حالی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ یہ روایت شکن نسل یقیناً بہت ساری غلطیاں بھی کرے گی لیکن اب اس کے ہاتھوں کو حکمران طبقے کے گریبانوں تک پہنچنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ہم مارکس وادی تو ہمیشہ سے برملا اپنی انقلابی اخلاقیات کا پرچار کرتے آئے ہیں کہ ’بڑوں کا احترام‘ کوئی آفاقی اصول نہیں ہے۔ اگر بڑے رجعت پرست ہیں، استحصالی ہیں، فرقہ پرور ہیں، قدامت پسند ہیں یا حکمران طبقے کی مراعات کا تحفظ چاہتے ہیں تو پھر ان کا ا حترام نہیں، ان کے خلاف بغاوت ہی ہم پر فرض ہے بھلے وہ ہمارے اپنے والدین اور اساتذہ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ہی اصول انقلابی پارٹیوں کے لیے بھی درست ہے۔ انقلابی پارٹیوں میں بھی ماضی کے کیے ہوئے کام پر زندہ رہنے والے طفیلی عناصر کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ نام نہاد سینئیرٹی کی بنیاد پر نہیں بلکہ نظریے اور تناظر کی تفہیم، عملی کاوش، ایثار اور پارٹی سے والہانہ شغف ہی انقلابی پارٹیوں میں اتھارٹی کی بنیاد بنتے ہیں۔ یوں عہدے نہیں بلکہ سیاسی اور اخلاقی اتھارٹی ہی انقلابی پارٹیوں میں قیادت کا جواز فراہم کرتی ہے۔ جو عناصر حالات کے بے رحم تھپیڑوں سے ہلکان ہو جاتے ہیں یا وقتی مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں، ان کو تلف کر کے ہی انقلابی پارٹیاں اپنی بقا کو یقینی بنا سکتی ہیں۔
مارکس تو بچوں پر اپنی فرسودہ سوچ اور رائے مسلط کرنے کے اقدام کی کھلی مذمت کیا کرتا تھا۔ کمیونسٹ مینی فیسٹو میں وہ لکھتا ہے کہ: ”کیا آپ کا الزام یہ ہے کہ ہم ماں باپ کو اپنے بچوں کے استحصال سے روکنا چاہتے ہیں؟ ہم اپنا یہ جرم تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ ہم سب سے قابل ِاحترام رشتوں کو برباد کرنے کے درپے ہیں کیونکہ ہم گھریلو تعلیم کی جگہ سماجی تعلیم رائج کرنا چاہتے ہیں“۔ کیا یہ سچ نہیں کہ والدین بچوں پر اپنے نظریات مسلط کرنے کے لیے جذباتی اور معاشی بلیک میلنگ سمیت تمام حربے استعمال کرتے ہیں؟ خاص طور پر انقلابیوں کو اس تکلیف سے ضرور گزرنا پڑتا ہے۔ انقلابی سفر پر کاربند نو عمر لڑکے لڑکیوں کو واپس ’سرمائے کا ایندھن‘اور ’کیریئر اسٹ‘ بنانے کے لیے اپنی قربانیاں یاد کروائی جاتی ہیں اور جن ’مشکل ترین‘ حالات میں والدین نے ان کی پرورش کی ہوتی ہے، انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نظریاتی اور جذباتی طور پر کمزور عناصر اس ’اخلاقی‘ یلغار کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن ہر ثابت قدم انقلابی کارکن کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یہ لڑائی ضرور لڑنی پڑتی ہے۔ یہ لڑائی بھی ریاست اور نظام کے خلاف طبقاتی جنگ کا ہی جزوِ لاینفک ہے۔ ہر سچے انقلابی کے لیے محنت کش طبقے کی نجات کے مقصد اور پارٹی سے وفاداری خاندانی عصبیت سے کہیں بلند اور ممتاز ہوتی ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کمیونسٹوں کو اپنے والدین اور خاندانی رشتوں سے محبت نہیں ہوتی؟ ہرگز نہیں، درحقیقت کمیونسٹ ہی بے لوث اور سچے رشتوں کے علمبردار ہوتے ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ ان کے والدین سمیت تمام عزیز و اقارب برادری، مذہب اور روایتی تعلیم و تربیت کے سبب مخالف طبقات کے پراپیگنڈے کا شکار اور اس کے آلہِ کار ہیں۔ اور پھر اس نظام کے رہتے وہ بھی آسودہ اور باوقار زندگی نہیں گزار سکتے، لہٰذا ایسا سماج تعمیر کرنا ضروری ہے جہاں بچوں اور بزرگوں کی نگہداشت انفرادی نہیں سماجی ذمہ داری بن جائے۔ وہ خود سے عہد کرتے ہیں کہ اس طبقاتی جنگ کو اخلاقی محاذ پر ہارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ دوسری انتہا پر جا کر کمیونسٹوں کے بارے میں انتہائی خیال پرستانہ نکتہ ِنظر اپنا لیتے ہیں اور وہ کمیونسٹوں اور کمیونسٹ پارٹی کو مبینہ طور پر کمیونسٹ سماج کے سماجی رشتوں اور نفسیات کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بھی مجرد اور خیال پرستانہ اپروچ ہے۔ کمیونسٹ بھی جیتے جاگتے، گوشت پوست کے انسان ہی ہوتے ہیں اور کمیونسٹ پارٹی بھی خلا میں تعمیر نہیں ہوتی بلکہ سرمایہ دارانہ اخلاقیات کے گرد و غبار سے اٹے ہوئے ماحول ہی میں بنتی ہے۔ اس سرمایہ دارانہ اخلاقیات سے لڑتے ہوئے کمیونسٹ کسی مجرد اخلاقیات کا عملی نمونہ نہیں بن سکتے۔ پارٹی کمیونسٹ سماج کی تعمیر کا ایک اوزار ہے اور اوزار میں اس کی پیداوار کی خصوصیات تلاش نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح کسی بھی انقلابی کمیونسٹ کو اس کے ذاتی و اخلاقی اوصاف پر نہیں بلکہ نظریے، تناظر اور عملی جدوجہد کی کسوٹی پر ہی پرکھا جانا چاہیے۔ ذاتی کجیوں اور کوتاہیوں کی نظریاتی نظم و ضبط، جمہوری مرکزیت اور اجتماعی مقصدیت سے بہتر کوئی تلافی ممکن ہی نہیں۔



















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance