|تحریر: جوناتھن ہنکلی، ترجمہ: مدثر مشہدی|
ڈیڑھ سال پہلے بنگلہ دیش کے جولائی انقلاب نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ حسینہ واجد کی آمریت کے پندرہ سال بعد بنگلہ دیشی عوام نے طلبہ کی رہنمائی میں تاریخ کے صفحات پر اپنا نام درج کیا اور حسینہ اور اس کی عوامی لیگ کو ختم کر کے رکھ دیا۔
یہ آرٹیکل ہماری انٹرنیشنل ویب سائٹ marxist.com پر 17 فروری 2026ء کو شائع کیا گیا تھا، انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
محمد یونس کی عارضی حکومت سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں جو کہ اصلاحات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے والی تھی۔
ڈیڑھ سال بعد وہ امیدیں ماند پڑ چکی تھیں یونس کی حکومت نے اس سے آگے کچھ حاصل نہیں کیا۔ ملک افراتفری میں ہے۔ طلبہ رہنماؤں نے زیادہ تر اپنے سے جڑی امیدوں کو دھوکہ دینے اور برباد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ مایوسی اور بے یقینی کا غلبہ ہے۔ چیزیں آہستہ آہستہ اسی طرف واپس آ رہی ہیں جہاں وہ پہلے تھیں۔
اب طویل انتظار کے بعد الیکشن نے طاقت بنگلہ دیش کی دوسری خاندانی کرپٹ پارٹی ’بنگلہ دیشی نیشنلسٹ پارٹی‘ کو سونپ دی گئی ہے۔
ایک عظیم انقلابی بغاوت کے بعد چیزیں یہاں کیسے پہنچیں؟
یونس کی بینک کاروں، سرمایہ داروں اور طلبہ پر مشتمل حکومت
انقلاب کے فوراً بعد کے نتائج میں یقیناً لاکھوں لوگوں کو لگا جیسے ایک نیا بنگلہ دیش بننے جا رہا ہے۔ طلبہ کی کمیٹیاں پورے ملک میں پھیل چکی تھیں اور زیادہ تر معاملات میں محنت کش اور عام عوام بھی شامل ہو رہے تھے۔ پولیس بھاگ چکی تھی اور ان کی جگہ آس پاس کے علاقوں کے حفاظتی گروہوں نے فوراً گلیوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ بنگلہ دیش اب ان کا ہے، طلبہ نے بھی انقلابی واقعات کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ کو صاف کرنے کی رضاکارانہ طور پر ذمہ داری لی۔
اگر ایسی قیادت موجود ہوتی جو ان کمیٹیوں کی مثال کو عام کرتی اور حقیقت میں مزدوروں کو اپنے ساتھ شامل کرتی اور اقتدار کو ان کمیٹیوں کے ہاتھوں میں سونپنے کی جدوجہد کرتی تو ایک لڑاکا راستہ ہموار ہو جاتا۔ پرانی عوامی لیگ کی ریاست چکنا چور ہو جاتی۔ دولت مند خاندانوں کے ٹولے کی طاقت اور بنگلہ دیش پر مسلط غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک سنجیدہ خطرے میں پڑ جاتیں۔ لیکن یہ امکان طلبہ رہنماؤں کے حسینہ واجد کے جرنیلوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کے مہلک فیصلے سے تباہ ہو گیا۔ انقلاب کو مکمل کرنے کی بجائے، بنگلہ دیشی تاریخ میں ہر آمر کے پیچھے موجود معاشی طاقت کو نشانہ بنانے کی بجائے، طلبہ جن کے پاس اپنا کوئی واضح مؤقف یا اپنی پارٹی نہیں تھی، اقتدار دوبارہ ’ذمہ دار حکام‘ کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گئے۔ فوج کے ساتھ مل کر انہوں نے بورژوا ماہرین پر مشتمل ایک عارضی حکومت بنانے میں مدد کی اور انہوں نے اس قیادت کے لیے ایک لبرل، نوبل انعام یافتہ بینکار محمد یونس کا انتخاب کیا۔
یونس ایک ایسا شخص تھا جسے طلبہ وزیروں میں سے ایک نے ”سب کے لیے قابل قبول“ قرار دیا تھا۔ ایک طرف اس نے ”انقلاب کے سورماؤں“ کی تعزیم میں ہونے والے جشن میں شامل ہو کر حسینہ کے ”فاشزم“ کے خاتمے کا جشن منایا۔ اس نے طلبہ رہنماؤں کی خوشامد کی جو انقلاب کے نتیجے میں ابھر کر سامنے آئے تھے اور یہاں تک ان میں سے دو رہنماؤں، ناہید اسلام اور آصف محمود، کو اپنی نئی کابینہ میں شامل بھی کر لیا۔
دوسری جانب یونس نے تحمل اور قومی اتحاد کی اپیل کی تاکہ حکومت بنگلہ دیش میں اصلاحات پر کام کر سکے۔ جیسا کہ اس نے کہا، ”تمام تر انقلاب کا مطلب اصلاحات ہی ہے“۔ اس کے پہلے اقدامات میں سے ایک یہ تھا کہ اس نے صنعت کے ان سرمایہ داروں سے اعلانیہ مصافحہ کیا جنہوں نے محض چند ہفتے پہلے براہ راست نشریات کے ذریعے ’دہشت گردی‘ کے خلاف شیخ حسینہ کی حمایت کی یقین دہانی کی تھی۔ یہاں تک کہ اس نے عوامی لیگ کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا جسے اس کے ایک وزیر نے ’اپنی شان‘ قرار دیا۔
یقیناً عبوری حکومت کو ’انقلابی‘ بھیس بدل کر ساتھ چلنا تھا لیکن اسے صرف ایک ہی حقیقی فکر لاحق تھی؛ انقلاب کا خاتمہ کرنا، ریاست کی اتھارٹی اور قانونی حیثیت کو بحال کرنا اور نظم و ضبط کو دوبارہ قائم کرنا۔
یونس اور اس کے پیچھے موجود طبقے کے لیے انقلاب کچھ زیادہ ہی آگے چلا گیا تھا۔ عدم استحکام والی ’لاقانونیت‘ انہیں سینکڑوں ملین کا نقصان پہنچا رہی تھی۔ اس سے بھی بدتر یہ کہ اس صورتحال نے مزدوروں اور غریبوں کی امیدیں بڑھا دی تھیں کہ وہ بغاوت جس کے لیے ہزاروں افراد شہید ہو چکے تھے، ان کی اپنی حالت میں بھی تبدیلی لائے گی۔ انہوں نے اس خوش فہمی کو ختم کرنا ضروری سمجھا گیا۔ جولائی انقلاب کے بعد کے مہینوں میں مزدوروں کی جانب سے ہڑتالوں اور فیکٹریوں کی بندشوں کی ایک لہر دیکھنے میں آئی، جہاں مزدور ان کی ”چھوٹی حسیناؤں“ کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔ طلبہ کے مطالبات کی طرح مزدوروں کے مطالبات کا جواب بھی گولیوں کی ننگی بوچھاڑ سے دیا گیا۔
اسی طرح یونس حکومت کا ’انقلابی‘ ایجنڈا دراصل بہت سے وعدوں پر مشتمل تھا جبکہ حسب معمول کاروبار کی ضمانت دی گئی، یعنی غیر ملکی سرمایہ داروں کو یہ مکمل سہولت دی گئی کہ وہ بنگلہ دیش کے مزدوروں کا بے رحمی سے استحصال کرتے رہیں۔
ہر طرح کی اصلاحات کی تجویز کے لیے ہر قسم کے کمیشن قائم کیے گئے۔ لیکن عوامی لیگ کے دور کے زیادہ تر جج اور سول افسران اپنی ہی آسامیوں پر برقرار رہے۔ رد انقلاب کے دوران قتل عام کے لیے صرف ساٹھ پولیس افسران گرفتار کیے گئے۔ سیکیورٹی ادارے، فوج حتیٰ کہ ریپڈ ایکشن بٹالین (Rapid Action Battalion) جو تشدد کے لیے ایک بدنام زمانہ نیم فوجی پولیس فورس ہے، سب کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا۔ حراست میں تشدد اور قتل کے واقعات پہلے کی طرح جاری رہے۔ اگر کچھ بدلا تھا تو وہ صرف ان کی وردیوں کا رنگ تھا۔
طلبہ رہنماؤں کی خاموش تائید اس تمام عمل میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی تھی۔ انہوں نے حکومت کے اندر اور باہر، اپنی ساری اتھارٹی پولیس اور از سر نو قائم کیے گئے پرانے نظام کے حوالے کر دی تھی۔ انہوں نے اس کی ’تمام فاشزم مخالف قوتوں کے اتحاد‘ کی اپیل کو بڑھاوا دیا اور جواز بخشا جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے عوام کو ان سرمایہ داروں کے ساتھ باندھ دیا گیا جو پہلے حزب اختلاف میں تھے یا جنہوں نے بعد میں اپنے لیے حسینہ مخالف پس منظر گھڑ لیا تھا۔ یونس اور اس کی سرمایہ داروں پر مشتمل کابینہ کے بارے میں جو بھی خوش فہمیاں موجود ہیں وہ انہی طلبہ رہنماؤں کی پیدا کردہ ہیں۔
ان خدمات کے بدلے میں انہیں خوب نوازا گیا۔ جو طلبہ وزراء حکومت میں شامل ہوئے انہوں نے اپنے مفادات کا دفاع کیا، درحقیقت پوری یونس کابینہ دولت مند ہوتی چلی گئی جبکہ بنگلہ دیش مزید گہری غربت میں دھنستا چلا گیا۔
کوئی اختیار نہیں
حکومت کی ہٹ دھرمی کے خلاف بنگلہ دیش انقلابی جھٹکوں کے ایک سلسلے سے متحرک ہو چکا ہے ڈھاکہ میٹروپولین پولیس کے ڈپٹی کمشنر نے بیان دیا:
”ایسا لگتا ہے ڈھاکہ ’مظاہروں کا شہر‘ بن گیا ہے۔ لوگ صرف اپنی بات منوانے کے لیے سرکاری دفتروں میں گھس جاتے ہیں۔“
پولیس کے اختیار کے مکمل انہدام سے اس صورتحال میں مزید تیزی آئی ہے۔ جولائی اور اگست 2024ء میں پولیس کے ہاتھوں 1400 سے زائد افراد مارے گئے۔ اس قتل عام نے احتجاجی مظاہروں کو ایک انقلاب میں تبدیل کر دیا جب ملک بھر میں عوام اٹھ کھڑے ہوئے تو بنگلہ دیش کے زیادہ تر پولیس اسٹیشن جلا کر خاک کر دیے گئے۔ خوف کے عالم میں پولیس کمانڈر فرار ہو گئے اور پوری فورس نے ہڑتال کر دی۔
عارضی طور پر، فوج کو مجسٹریسی کے اختیارات دیے گئے اور سڑکوں پر امن و امان قائم کرنے کے لیے تعینات کیا گیا۔ تاہم آرمی چیف وقار الزمان نے خبردار کیا کہ، ”فوج کا کام قوم کا دفاع کرنا ہے، نگرانی کرنا نہیں“، اور مزید کہا: ”سیاست میں مداخلت فوج کے لیے نقصان دہ ہے۔“
فوج یونس حکومت کی اصل ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر ضرورت پڑی کہ وہ عوام کے خلاف سختی کرے جبکہ عام سپاہی عوام کو دبانے کے لیے فوج کے ساتھ کھڑے نہ ہوں تو غالب امکان ہے کہ فوج میں پھوٹ پڑ جائے۔ ایسی صورت میں ملکیتی مفادات پر قائم کسی بھی حکومت کے استحکام کی ضمانت باقی نہیں بچتی، یونس کی حکومت تو دور کی بات ہے۔ اس لیے یونس کو پرانی پولیس فورس کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کرنی پڑی لیکن اب اس کا حوصلہ پست ترین سطح پر ہے اور اس کے پاس کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔
گزشتہ ایک سال کے دوران کئی ایسے واقعات پیش آئے جن میں عوامی ہجوم نے پولیس تھانوں پر دھاوا بول کے قیدیوں کو چھڑوایا یا گرفتار کرنے کی کوشش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بہت سے معاملات میں پولیس اہلکار بے بسی کے عالم میں کھڑے تماشہ دیکھنے پر مجبور رہے جبکہ عوامی ہجوم اپنی مرضی کرتا رہا۔
لہٰذا حسینہ کے سخت ہاتھ کی جگہ یونس کے کمزور ہاتھ نے لے لی اور جب بنگلہ دیشیوں کے ذہنوں میں عوامی طاقت کی تازہ یاد موجود تھی تو ہر طبقے کے لوگ اپنے اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔
مزدوروں کے علاقوں میں کم از کم اجرت میں اضافے کے لیے مہینوں تک احتجاج، ہڑتالیں اور دھرنے جاری رہے۔ بالآخر مالکان اجرت میں اضافہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ لیکن اس کے بعد بھی بقایا تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف مظاہرے جاری رہے۔ مجموعی طور پر یونس کے ’نئے بنگلہ دیش‘ میں احتجاج کرنے پر تین مزدوروں کو حکام کی جانب سے قتل کیا گیا تھا۔
ڈھاکہ میں سرکاری عمارتیں بار ہا اساتذہ، بینک کلرکس، سرکاری ملازمین اور حتیٰ کہ نیم فوجی دستوں کی جانب سے بھی محاصرے کا شکار رہی ہیں، جہاں ہر گروہ اپنے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرتا رہا۔
طلبہ رہنما، جب تک انہیں عوامی حمایت حاصل رہی، اپنے مؤقف کو منوانے کے لیے احتجاج منظم کرنے کے قابل تھے۔ انقلاب کے فوراً بعد ایک احتجاج منعقد کیا گیا جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے چیف جسٹس کو عہدے سے ہٹنا پڑا۔ بعد ازاں، فروری 2025ء میں طلبہ نے ایک ”دیوہیکل مارچ“ کی قیادت کی جس کے دوران شیخ مجیب الرحمٰن، جو حسینہ کا والد تھا، کے گھر کو مسمار کیا گیا۔ آخرکار، مئی 2025ء میں ملک گیر احتجاجوں نے یونس کو اپنے دورِ حکومت کا واحد حتمی فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا: عوامی لیگ پر پابندی۔
جیسا کہ ہم نے انقلاب کے فوراً بعد پیش گوئی کی تھی:
”جو بھی لبرل، جمہوری اصلاحات منظور کی جائیں گی، وہ سڑکوں پر موجود عوامی دباؤ کے نتیجے میں ہوں گی۔ یہ ان کی کسی ’چالاک‘ مذاکراتی حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں ہو گا، بلکہ اس حقیقت کی عکاسی کرے گا کہ فوج خود پر انقلابی عوام کا دباؤ محسوس کر رہی ہے۔“
نتیجتاً عوامی لیگ کے نچلے درجے کے ہزاروں غنڈوں کو آپریشن ڈیول ہنٹ (Operation Devil Hunt) کے دوران گرفتار کیا گیا، جبکہ چند نمایاں وزراء بھی پکڑے گئے۔ جہاں تک اعلیٰ قیادت کا تعلق ہے، ان میں سے زیادہ تر پہلے ہی جلاوطنی میں فرار ہو چکے تھے اور ان پر صرف غیر حاضری میں مقدمات چلائے جا سکتے تھے۔ تاہم، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، حکومت کے اصل پرزے، ریاستی اہلکار اور بڑے کاروباری افراد، کسی سنجیدہ احتساب سے بچ نکلے ہیں اور نئی قیادت کے تحت بدستور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
معاشی افراتفری
بہرحال، اسٹیٹس کو میں آنے والی یہ دو بڑی دراڑیں، عوامی لیگ پر پابندی اور پولیس کی کمزوری، نہایت گہرے اور دور رس ضمنی اثرات کا باعث بنی ہیں۔
پولیس کے مفلوج ہو جانے کے باعث اور انقلاب کے دوران لوٹے گئے ہزاروں ہتھیاروں کے بعد، جو تاحال برآمد نہیں ہو سکے، بنگلہ دیش شدید جرائم کی لہر کی زد میں آ گیا ہے۔ ڈکیتیوں، راہزنی، اغوا کاری، جنسی جرائم اور قتل کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مجرم گروہ دوبارہ سرگرم ہو گئے ہیں، کیونکہ پولیس کی ہڑتال کے دوران ان کے کئی سرغنہ آسانی سے جیلوں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ تشدد اور ہلاکتوں کے 150 سے زائد واقعات پیش آ چکے ہیں: بعض مواقع پر لوگ لٹیروں سے بچاؤ کے لیے خود مسلح ہو گئے، جبکہ دیگر واقعات میں مذہبی اقلیتیں ہجوم کے تشدد کا نشانہ بنیں۔
اسی دوران، عوامی لیگ کے چھوڑے گئے خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک ہنگامہ خیز اور بے قابو کشمکش شروع ہو گئی۔ عوامی لیگ کی آمریت کے دور میں، اس پارٹی کو مراعات پر مکمل اجارہ داری حاصل تھی۔ ملک دنیا کے سب سے زیادہ بدعنوان ممالک میں شمار ہوتا تھا، لیکن اس کے باوجود ایک خاص قسم کا استحکام اور پیش بینی موجود تھی۔ جیسا کہ ایک سینئر پولیس افسر نے وضاحت کی:
”عوامی لیگ کے دور میں پولیس اکثر حکمران جماعت کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرتی تھی، جو مقامی تنازعات کو حل کرواتے تھے۔ وہ نظام اب ختم ہو چکا ہے۔ اب متعدد دھڑے، منڈیوں، ٹرانسپورٹ اڈوں اور سرکاری ٹھیکوں پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
اب ہر چیز پر قبضہ کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ایک ہنگامہ خیز علاقائی جنگ جاری ہے جس میں بس کے راستوں سے لے کر اینٹوں کے بھٹوں، مچھلی منڈیوں اور طلبہ کی رہائش گاہوں تک ہر چیز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیونکہ ان سب کے ذریعے بھتہ وصول کیا جا سکتا ہے۔
ایسے معاملات کا فیصلہ نقد رقم اور اسلحے کے زور پر کیا جاتا ہے۔ رشوت عام ہو چکی ہے اور سیاسی تشدد کے سینکڑوں واقعات پیش آ چکے ہیں: لوگوں کو انٹرنیٹ کیبلز، کباڑ خانوں اور ادا نہ کی گئی بھتہ خوری کی رقم پر قتل کیا گیا ہے۔
جولائی انقلاب کی چنگاری عوامی لیگ کی بدعنوانی کے خلاف شدید نفرت سے بھڑکی تھی۔ لیکن ان غنڈہ عناصر کے ہجوم کا اس خلا کو پُر کرنے کے لیے آگے آنا، جو پہلے عوامی لیگ کے قبضے میں تھا، بالکل واضح کرتا ہے کہ بنگلہ دیش میں سرمایہ دار طبقہ صرف بدعنوانی، لوٹ مار اور ڈکیتی کے ذریعے ہی قائم ہے۔
سرمایہ دار ریاست صرف اس طبقے کی مجرمانہ دولت میں اضافے کو ممکن بنانے اور اس کی ناجائز کمائی کے تحفظ کے لیے ایک آلہ کے طور پر موجود ہے۔ کسی اور قسم کی ”نرم“ سرمایہ داری یا زیادہ ”جمہوری“ سیاست ممکن نہیں ہے۔
سب سے بڑھ کر، بنگلہ دیش کی سیاست ایسے لگتی ہے جیسے مختلف حریف مافیا گروہوں کے درمیان کشمکش ہو رہی ہو، جو پرانے غنڈہ گروہ کی جگہ لینے کی کوشش کر رہے ہوں۔ تمام سیاسی جماعتیں اس شرمناک لوٹ مار کی دوڑ میں شامل رہی ہیں۔
ان تمام حالات کے نتیجے میں معاشی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ انقلاب کے بعد عوامی لیگ سے وابستہ تاجروں کے ملک چھوڑنے سے سینکڑوں گارمنٹس فیکٹریاں بند ہو گئیں۔ 1 لاکھ 30 ہزار گارمنٹس مزدوروں کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا، جس سے پہلے سے بے روزگار 26 لاکھ افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا۔ یہ نوکریاں واپس نہیں آئیں، کیونکہ سرمایہ دار اس قدر عدم استحکام کے ماحول میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
مہنگائی بڑھ رہی ہے اور معیشت بھاری قرضوں کے بوجھ تلے لڑکھڑا رہی ہے۔ حکومتی آمدن کا 22 فیصد حصہ صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، غیر منتخب یونس حکومت نے نہ صرف کفایت شعاری کی پالیسیاں نافذ کیں بلکہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار سالانہ بجٹ کو کم بھی کر دیا، جس سے یہ اشارہ ملا کہ ”بنگلہ دیشی ٹائیگر“، جس نے 15 سال تک حسینہ کی حکمرانی کو سہارا دیا، کے دن اب ختم ہو چکے ہیں۔
سب سے بڑھ کر، بنگلہ دیش کی ”سونے کے انڈے دینے والی مرغی“ یعنی ٹیکسٹائل صنعت بھی خطرے میں ہے۔ یہ صنعت تیزی سے بھارت سے آنے والے سستے سوت پر انحصار کرتی جا رہی ہے۔ اس سے ایک طرف بنگلہ دیش کی اپنی سوت سازی کی صنعت کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے اور دوسری طرف ٹیکسٹائل صنعت اس صورت میں شدید متاثر ہو سکتی ہے اگر بھارت یہ تجارت بند کر دے، جبکہ اس وقت بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات اپنی تاریخ کی کمزور ترین سطح پر ہے۔
ان تمام بڑھتے ہوئے بحرانوں کے سامنے، یونس حکومت مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے اور اپنے کیے گئے وعدوں کے مطابق کوئی بھی ”اصلاحات“ نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایک مرحلے پر تو یہ بھی رپورٹ ہوا کہ یونس نے استعفیٰ دینے پر غور کیا، یہ کہتے ہوئے کہ سیاسی افراتفری کے باعث وہ خود کو ”یرغمال“ محسوس کرتا ہے۔ ظاہر ہے، کوئی اور ایسا شخص نہیں مل سکا جو اس سے بہتر کارکردگی دکھا سکتا۔
’آزادانہ اور منصفانہ‘ انتخابات
یہ پچھلے ہفتے ہونے والے انتخابات کا پر انتشار پس منظر تھا۔ یونس تو کافی عرصہ پہلے اقتدار کسی اور کے حوالے کرنا چاہتا تھا، جیسے کسی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہو، اور واپس بینکاری کی طرف لوٹنا چاہتا تھا۔ جرنیل عدم استحکام سے خوف زدہ ہو کر اصلاحات کے ساتھ یا اصلاحات کے بغیر بلا تاخیر الیکشن کرانے کے لیے اور بھی زیادہ اتاولے تھے۔ جیسا کہ جنرل وقار الزمان نے کہا:
”بنگلہ دیش کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور یہ صرف ایک منتخب حکومت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔“
اور وہ استحکام جس کے لیے سرمایہ دار مرے جا رہے ہیں، آخر لائے گا کون؟
شیخ حسینہ کی حکومت گرنے کے اڑھائی سال بعد طلبہ رہنماؤں نے بری طرح عوام کو مایوس کیا ہے، حکومت نے جولائی انقلاب کے بعد کے اچھے دنوں میں کیے جانے والے تمام وعدوں سے روگردانی کی ہے اور سیاست بد دیانت بدمعاشوں کی لوٹ مار کے گھن چکر کا گھناؤنا تماشا بن گئی ہے۔
عوام کے اندر کسی بھی قسم کے اعتماد کی عدم موجودگی میں یہ انتخابات فطری طور پر دو بڑی مستحکم سیاسی جماعتوں، بنگلہ دیشی نیشنل پارٹی (BNP) جس نے ضیاالرحمن کی رجعتی رد انقلابی آمریت سے جنم لیا اور جماعت اسلامی جو کہ 1971ء کے رد انقلابی رضاکاروں (razakars) سے ابھری، کے درمیان ایک دوڑ کی صورت اختیار کر گئے۔ یہ دونوں جماعتیں پہلے بھی اقتدار میں رہ چکی ہیں بلکہ شیخ حسینہ کے اقتدار میں آنے سے پہلے یہ ایک اتحادی حکومت میں رہ چکے تھے۔
جماعت اسلامی ایک مذہبی پارٹی ہے جس کے اخوان المسلمین سے تعلقات ہیں۔ یہ ایک انتہائی رجعتی اور فرقہ پرست مذہبی سیاسی جماعت ہے۔ جب یہ بی این پی کے ساتھ اقتدار میں تھی تو اس نے مذہبی اقلیتوں پر شدید کریک ڈاؤن کرنے کے لیے ریاست کو استعمال کیا۔
جولائی انقلاب کے دوران اس نے اپنا رویہ پوری طرح تبدیل کر لیا۔ اس کی قومی قیادت نے انتہائی موقع پرستانہ انداز میں اپنے آپ کو سماجی انصاف، معاشی اصلاحات اور بدعنوانی کے خلاف لڑنے والے مجاہدوں کے طور پر پیش کیا۔ حتیٰ کہ انہوں نے تاریخ میں پہلی بار اپنا ہندو امیدوار بھی کھڑا کیا۔ اس کے رہنماء شفیق الرحمان نے جولائی انقلاب کی تعریف کی اور اسے بنگلہ دیش کی دوسری آزادی قرار دیا، اور کہا کہ جماعت اسلامی نے آزادی کی پہلی لڑائی لڑی تھی۔
اس جماعت نے اس حقیقت سے عوام کا یقین جیتنے کی کوشش کی کہ شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران انہیں شدید ترین جبر کا سامنا رہا۔ اس کے رویے میں تبدیلی، خیراتی کاموں میں شمولیت کے ذریعے غریبوں سے اس کے روابط، اور سب سے بڑھ کر یہ حقیقت کہ وہ بدعنوان بی این پی کا واحد متبادل تھی، یہ تمام عوامل اس کی انتخابی مہم کے دوران غیر معمولی عروج کا سبب بنے۔ اس مہم میں اس نے طلبہ یونین کے انتخابات میں بے مثال کامیابی حاصل کی، جو بنگلہ دیشی سیاست میں قیادت کا کردار رکھتے ہیں۔
دوسری جانب بی این پی تاریخی طور پر ایک مذہبی اور امریکہ نواز جماعت رہی ہے، جو موروثی سیاست دانوں اور سرمایہ داروں پر مشتمل تھی، اور عوامی لیگ کے گرد غالب موروثی سیاستدانوں و سرمایہ دار طبقے کے ساتھ مسابقت میں رہی۔ عوامی لیگ نسبتاً زیادہ سیکولر اور بھارت نواز سمجھی جاتی تھی۔ بنگلہ دیش کی زیادہ تر تاریخ میں یہی دو موروثی سیاسی خاندان باری باری اقتدار میں آتے رہے ہیں۔
انتخابات کے موقع پر بی این پی نے بھی اپنی نئی شناخت بنانے کی کوشش کی۔ اس نے خود کو سیکولر اور بدعنوانی کے خلاف لڑنے والی جماعت کے طور پر پیش کیا اور جماعتِ اسلامی کے مقابلے میں خود کو ’کم تر برائی‘ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مگر اس کا ماضی خود اس کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔ بی این پی کے پچھلے دورِ حکومت میں (جب وہ جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد میں تھی) بنگلہ دیش کو دنیا کا سب سے زیادہ بدعنوان ملک قرار دیا گیا تھا۔ اس کا موجودہ رہنما، طارق رحمان جو اب بنگلہ دیش کا وزیرِ اعظم ہے، کے بارے میں افشاں ہونے والی ایک امریکی سفارتی کیبل میں کہا گیا تھا کہ وہ ”لوٹ کھسوٹ پر مبنی حکومت اور پُرتشدد سیاست کی علامت“ ہے اور وہ، ”ہٹ دھرمی اور بار ہا رشوت طلب کرنے“ کے لیے بدنام ہے۔ وہ بنگلہ دیش میں کاسہ لیسی پر مبنی سیاست کے ایک روایتی کردار کی مانند سمجھا جاتا ہے۔
انتخابات سے پہلے پارٹی نے اپنی بدترین حرکتوں کو کسی حد تک قابو میں لانے کی کوشش کی تاکہ وہ ووٹروں کے لیے زیادہ قابلِ قبول بن سکے۔ بی این پی کے ہزاروں کارکنوں کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔ یہاں تک کہ ایک بی این پی امیدوار نے اپنے ساتھیوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی:
”میں ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں، براہِ کرم 12 تاریخ (یعنی انتخاب کے دن) تک بھتہ خوری میں ملوث نہ ہوں۔“
مگر ان سب کوششوں کے باوجود کھینچا تانی نہیں رکی۔ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران ہونے والے سیاسی تشدد کے بیشتر واقعات میں بی این پی کے کارکنوں کے نام سامنے آتے رہے ہیں۔ خود پارٹی کے اندر بھی افراتفری جاری رہی، جہاں امیدوار منافع بخش سیاسی عہدوں کے لیے ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کرتے رہے اور یہ ایسے عہدے ہیں جو دراصل دولت بنانے کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔
بی این پی کے ایک طالبعلم کارکن، جو ایک سینئر رہنما کے خلاف الیکشن لڑ رہا تھا، نے الجزیرہ کو بتایا: ”انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں انتخابی مہم میں سرگرم رہا تو میرے ہاتھ پاؤں توڑ دیں گے۔“ یہ الفاظ قومی سطح کے سیاست دانوں کی میٹھی باتوں سے کہیں زیادہ اس انتخابی مقابلے کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں سرمایہ داروں اور ان کے حواریوں کی جو دولت بنتی ہے، وہ زیادہ تر ریاست کے راستے سے گزرتی ہے۔ ٹھیکے، زمینیں، لائسنس اور پولیس کی سرپرستی سب کچھ ریاست کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ بیرونی سرمایہ اور مقامی بنگالی تاجروں کے درمیان بھی ریاست ہی پل کا کردار ادا کرتی ہے۔
سیاسی طاقت اصل کمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور اسی لیے بنگلہ دیش کی نام نہاد ’جمہوریت‘ اقتدار پر قبضہ کرنے، اسے اپنے ہاتھ میں سمیٹنے، سرپرستی بانٹنے کے وسائل پر اجارہ داری قائم کرنے، وفاداروں کی فوج کھڑی کرنے اور منافع بخش جاگیردارانہ دائرے بنانے کی جدوجہد میں ہمیشہ خونی کشمکش میں مبتلا رہی ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ اس انتخابی دوڑ میں شامل تقریباً نصف امیدوار بنگلہ دیشی کرنسی ٹکا (Taka) میں کروڑ پتی تھے، جو اپنے مفادات کو مزید مضبوط کرنا چاہتے تھے۔
طلبہ کہاں تھے؟
اس سب کے دوران یہ سوال پیدا ہوتا ہے: وہ طلبہ کہاں تھے جنہوں نے جولائی انقلاب کی قیادت کی تھی؟
انتخابی دوڑ تک، طلبہ رہنماؤں کی طاقت مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی، یہ یونس کی بے لگام حمایت کرنے اور طلبہ رہنماؤں کے روایتی کیریئراسٹ سیاستدانوں میں تبدل ہو جانے کی وجہ سے ہوا تھا۔
اگست 2024ء میں، طلبہ رہنما اتنی طاقت رکھتے تھے کہ اگر وہ ایک انقلابی پارٹی بنانے کی کال دیتے جو جمہوری اور سماجی مطالبات کے پروگرام کے گرد عوام کو غربت سے نکالنے کے لیے تشکیل پاتی، تو یہ پارٹی فوراً ایک بڑی عوامی طاقت بن جاتی اور سب کچھ اپنے راستے سے صاف کر دیتی۔
مگر رہنماؤں نے ایسی کوئی پارٹی قائم نہیں کی۔ صرف مئی 2025ء میں، یونس کی ہدایت پر، انہوں نے اپنی پارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا: نیشنل سٹیزن پارٹی۔ اس نے مبہم انداز میں دوسری جمہوریہ، جمہوریت اور بدعنوانی کے خاتمے کا وعدہ کیا۔
تاہم، ان رہنماؤں پر گزشتہ 18 ماہ کی عبوری حکومت کے تمام اعمال کی ذمہ داری ہے۔ آخرکار، وہ باقی پارٹیوں سے کسی لحاظ سے مختلف نہیں ہیں، جو خود بھی ’اصلاحات‘ اور بدعنوانی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں اور اب نیشنل سٹیزن پارٹی کے رہنما بھی اسی بدعنوانی میں ملوث ہو چکے ہیں۔
جولائی انقلاب کے فوراً بعد، ہر کیریئراسٹ فوراً سرکاری دفاتر میں پہنچ گیا اور اپنے آپ کو تحریک کے ’سٹودنٹ کوآرڈینیٹر‘ ثابت کرنے کے لیے حقیقی یا فرضی اسناد دکھاتے ہوئے نوکری کا مطالبہ کرنے لگا۔ لیکن اس انداز کی بنیاد سب سے زیادہ نمایاں طلبہ رہنماؤں نے خود رکھی تھی۔ کئی طلبہ رہنماؤں کو اپنے آبائی شہروں میں سینکڑوں گاڑیوں کے قافلوں کے ساتھ واپس جاتے دیکھا گیا۔ دیگر نے اپنے عہدوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھتہ خوری اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کا راستہ اختیار کیا۔ مثال کے طور پر، نیشنل سٹیزن پارٹی کے ایک کوآرڈینیٹر کی کیمرہ ریکارڈنگ کی گئی، جب وہ کسی احتجاج کو ختم کرنے کے لیے رشوت طلب کر رہا تھا، جسے خود اس نے منظم کیا تھا۔
طلبہ رہنماؤں کی اس پوری خیانت کا سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ جولائی 2024ء کے طلبہ تحریک کے مرکزی مطالبے کے ساتھ کس طرح رویہ اختیار کیا گیا۔
جولائی 2024ء میں طلبہ کا اہم مطالبہ، جو لاکھوں بنگلہ دیشیوں کے دلوں کو چھو گیا، یہ تھا کہ 1971ء کی جنگِ آزادی کے شہداء کے خاندان کے افراد کے لیے سرکاری نوکریوں میں کوٹہ ختم کیا جائے۔ سب جانتے تھے کہ یہ کوٹہ صرف شیخ حسینہ کے پالتو وفاداروں کو انعام دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ہم نے اُس وقت دلیل دی تھی کہ سرکاری ملازمتوں کے بدعنوان استعمال کا حقیقی مقابلہ صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ سب کے لیے نوکریوں کا مطالبہ شامل کیا جائے۔ ایسا صرف ایک سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت ہی یقینی بنا سکتی ہے۔
اس کی بجائے، یونس کی حکومت نے کیا کِیا؟ کوٹے واقعتاً ختم کر دیے گئے اور ان کی جگہ 2024ء کے جولائی انقلاب کے شہداء کے خاندان کے افراد کے لیے نوکریوں کے کوٹے متعارف کروا دیے گئے! یعنی پرانے ٹولے کے سرپرستی نظام کو ہٹا دیا گیا اور ایک نئے ٹولے کے لیے ایک نیا سرپرستی نظام قائم کر دیا گیا۔
ان انتخابات میں نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) کے پروگرام میں کوئی بنیادی فرق نہیں تھا۔ جو بھی شخص بی این پی (BNP) کی بجائے کسی بیرونی جماعت کو ووٹ دینا چاہتا، وہ جماعتِ اسلامی کو ووٹ دیتا۔ آخرکار، NCP نے جماعتِ اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد کر لیا، اس سے کوئی بھی امتیاز باقی نہ رہا۔
طلبہ رہنماؤں کے اس شرمناک کیریئر ازم اور سرپرستی میں شامل ہونے کے ماحول میں ایک واحد واضح استثنا عثمان ہادی تھا۔ ہادی انقلاب سے پیدا ہونے والی طلبہ جماعت انقلاب مونچو (انقلابی پلیٹ فارم) کا بانی تھا اور عوامی لیگ پر پابندی کے لیے مہم چلانے جیسے مظاہروں کی صف اول میں شامل تھا۔
ہادی کی سیاست انتہائی متضاد تھی: وہ عوامی جذبات کو مذہب کے ساتھ ملا کر بھارت کے خلاف قومی اتحاد کی حکومت کا مطالبہ کرتا تھا۔ لیکن وہ بی این پی اور NCP کی بدعنوانی پر بھی تنقید کرتا تھا۔ اس کے عوامی انداز اور دیگر طلبہ رہنماؤں سے دوری نے اسے ایک مشہور شخصیت بنا دیا، بظاہر ایک ایسا غیر متاثر مجاہد جو جولائی انقلاب کے اصولوں کے لیے لڑ رہا تھا۔
وہ انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لینے کا ارادہ رکھتا تھا۔ لیکن دسمبر 2025ء میں، ہادی کو ایک قاتل نے سر پر گولی مار دی۔ فوراً اسے شہید کر دیا گیا اور ملک بھر میں بھارت کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے۔
لیکن یہ مظاہرے جولائی 2024ء کے انقلابی مظاہروں جیسے نہیں تھے۔ جولائی میں عوام کے پاس طلبہ کی شکل میں واضح قیادت تھی اور ان کے مطالبات بھی واضح تھے: کوٹہ سسٹم کے خلاف اور حسینہ کے خاتمے کے لیے جدوجہد۔ عوام نے اپنی ناراضگی کو حسینہ کے بدعنوان ٹولے پر مرکوز کیا تھا۔
ڈیڑھ سال بعد، حسینہ تو چلی گئی، لیکن حالات اور خراب ہو گئے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔ مایوس اور محدود صورت حال کا شکار مظاہرین صرف اندھا دھند حملہ کر سکتے تھے، ان چیزوں پر جنہیں وہ سیکولر، بھارت نواز پرانے نظام کی علامتی باقیات سمجھتے تھے۔
دسمبر کے مظاہروں میں بھارتی قونصل خانے کو گھیر لیا گیا۔ سابق عوامی لیگ کے رہنماؤں کے مکان جلا دیے گئے، اسی طرح ایک بی این پی رہنما کا بھی گھر جلایا گیا۔ ایک ہندو شخص کو ہجوم نے قتل کیا اور آگ لگا دی۔ سیکولر ثقافتی اداروں پر آتشزدگی کی کاروائیاں کی گئیں۔ بنگلہ دیش کے بڑے اخبارات کے دفاتر کو بھی آگ لگا دی گئی۔
بنگلہ دیش میں جمہوریت؟
آخرکار، وہ ’آزاد اور منصفانہ‘ انتخابات جن میں ایک پولنگ سینٹر پر بمباری، بیلٹ چوری اور ووٹ خریدنے کی کوششیں شامل تھیں، بی این پی کے طارق رحمان نے جیت لیے۔ اس نے جائز خدشات کو بھانپ کر کھیل کھیلا کہ جماعتِ اسلامی خواتین کے حقوق واپس لے لے گی اور زبردست کامیابی حاصل کی، 212 سیٹیں جیتیں، جب کہ جماعتِ اسلامی 77 اور NCP صرف چھ سیٹیں حاصل کر سکی۔
کم سے کم 60 فیصد لوگ ہی اس میں حصہ لینے آئے، جسے بنگلہ دیش کی تاریخ کا سب سے اہم انتخاب کہا جا رہا تھا۔ ایک رکشہ ڈرائیور نے کیفیت کو یوں بیان کیا:
”ہم نے موقع گنوا دیا۔ جولائی میں لوگوں نے اپنی جانیں دیں، مگر سب کچھ بے فائدہ۔۔
”میں پھر بھی ووٹ دوں گا، اس لیے نہیں کہ مجھے تبدیلی کی امید ہے، بلکہ کیونکہ اور کچھ کرنے کو باقی نہیں رہا۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ انتخاب میری زندگی یا ملک کو کسی معنی خیز طریقے سے بدل دے گا۔“
یہ رکشہ ڈرائیور چند جملوں میں لبرل اپوزیشن کی پوری خیانت بیان کر دیتا ہے، نہ صرف بنگلہ دیش میں بلکہ تمام نام نہاد ’جنریشن زی‘ کے انقلابوں میں۔ عوام نے اپنا موقع دیکھا اور اسے حاصل کرنے کے لیے اپنی جانیں دیں۔ لبرل اپوزیشن کے رہنماؤں نے کہا، ’نہیں، انتخابات کا انتظار کرو‘۔ انہوں نے نظام کو بحران کے اس لمحے سے بچانے میں مدد دی، اور جب انتخابات آ گئے، تو عوام مایوس، ناامید، صرف اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ ’اور کچھ کرنے کو باقی نہیں۔‘
انتخابات کے ساتھ ساتھ، بنگلہ دیشیوں سے آئین پر ریفرنڈم میں ووٹ دینے کو کہا گیا۔ یونس نے جانے سے پہلے یہ تحفہ دیا، ایک لبرل اصلاحاتی خواہشات کی فہرست، جسے اگلی حکومت نافذ کرے گی۔ یہ ایک ایسا دستاویز تھا جو بنگلہ دیش کو ایک مستحکم سرمایہ دار جمہوریت میں تبدیل کرنے، مسلسل نظم و ضبط کے قیام اور غیر جانبدار ریاستی بیوروکریسی کے قیام کا نظریہ رکھتا تھا۔
اسے منظور کیا گیا، لیکن جب عوام اپنے سر جھکائے ہوئے ہیں اور بدعنوانی اور مقام کی خواہش کا عروج جاری ہے، تو یہ ایک مردہ کاغذ بن جائے گا۔ بالکل اسی طرح، 1990ء کے انقلاب نے جنرل ارشاد کی آمریت ختم کی، تب بھی بی این پی اور عوامی لیگ نے آزاد اور منصفانہ انتخابات، ایک آزاد عدلیہ اور دیگر جمہوری اصلاحات کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن جیسے ہی عوام پیچھے ہٹے، پارٹیوں نے ایک دوسرے پر حملہ کیا اور ریاست پر قبضے کے لیے پرتشدد کشمکش میں مشغول ہو گئیں، جس کا نتیجہ آخرکار حسینہ کی آمریت کی صورت میں نکلا۔
یہ بنگلہ دیشی سرمایہ داری کی فطرت ہے۔ جہاں ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک میں ایک مضبوط، خوشحال اور آزاد بورژوا طبقہ موجود ہے جو عوام کے لیے چند چھوٹے فوائد دے کر ’جمہوریت‘ کے خواب کو قائم رکھ سکتا ہے، وہیں بنگلہ دیش میں کمزور، تاجر سرمایہ دار طبقہ اپنی بقا کے لیے غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر منحصر ہے۔
بنگلہ دیش میں امریکی سفارت خانے کی سامنے آنے والی گفتگو نے اصل صورتحال واضح کر دی۔ اُس وقت امریکہ، یہ دیکھتے ہوئے کہ بی این پی ”اپنی ہی داخلی بدعنوانی سے تباہ ہو جائے گی“، جماعتِ اسلامی سے رابطے کر رہا تھا۔ اس ریکارڈنگ میں ایک افسر خواتین صحافیوں کو یقین دلا رہا ہے کہ جماعتِ اسلامی ہمیشہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی گرفت میں رہے گی:
”بنگلہ دیش کی پوری معیشت، امریکہ کو آپ کی برآمدات کے 20 فیصد کا انحصار کئی سماجی طور پر لبرل کپڑوں کی چینز اور برانڈز پر ہے۔ اگر مزید آرڈرز نہ آئے تو بنگلہ دیش کی معیشت ختم ہو جائے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ (جماعتِ اسلامی) ہماری دوست کے طور پر رہے، تاکہ ہم فون اٹھا کر کہہ سکیں ’آپ نے جو کہا وہ ہو گیا ہے‘ پس چیزیں اس طرح آگے بڑھیں گی“
پورا معاشی ”معجزہ“ دراصل اس حقیقت پر قائم ہے کہ یہ خریدار، جو دراصل بنگلہ دیش کے حقیقی مالک ہیں، دنیا کی سب سے کم ترین اجرت پر لاکھوں بنگلہ دیشی مزدوروں کا بے رحمانہ استحصال کر سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں اس کے لیے مسلسل جابرانہ نظم و ضبط قائم رکھنے کی کوشش کی ضرورت ہے۔ اس منافع بخش نظام کو برقرار رکھنے کے لیے لاکھوں مزدوروں کو تقریباً غلامی جیسے حالات میں رکھا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں پائیدار جمہوری حقوق کی سنجیدہ بات ہی نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ایسا ہونا بنگالی ٹیکسٹائل کی مسابقتی قیمتوں کو نقصان پہنچائے گا۔
دوسری طرف، چونکہ ریاست بین البرّاعظمی اجارہ دار کمپنیوں اور مقامی استحصالیوں کے درمیان ایک دلال کا کردار ادا کرتی ہے، اس لیے بنگلہ دیش کے سرمایہ داروں کی خوشحالی کا دارومدار حکمران پارٹی کے ساتھ ان کے تعلقات پر ہے۔ کوئی بھی حکمران ٹولہ جو برتری حاصل کرے گا، وہ بھاری رشوتیں بٹورں ے کے لیے اس ”شہد کے چھتے“ پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ ایسا نظام ہے جس میں سب کچھ جیتنے والا ہی لے جاتا ہے۔ یہاں غیر جانبداری کی کوئی گنجائش نہیں۔
ایک مستحکم، غیر بدعنوان اور لبرل جمہوریت کا قیام اس نظام میں ممکن نہیں۔ اگرچہ آج یہ اتحاد اور یکجہتی کی بات کرے، لیکن بی این پی اقتدار کو مضبوط کرنے، اپنے حریفوں کو ختم کرنے اور سب سے بڑھ کر پولیس اور فوج کی بلا شرکتِ غیرے طاقت کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔
یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں ہو گا۔ سرمایہ داری کے عالمی بحران کے دوران بنگلہ دیش کی معیشت مسلسل گہرے بحران میں ڈوبتی جا رہی ہے۔ مزید لاکھوں لوگ شدید غربت میں دھکیلے جا رہے ہیں، جس سے آنے والی بدعنوانی کی یلغار عوام کی نظر میں اور بھی زیادہ قابل نفرت بن جائے گی۔ جیسے جیسے بے چینی بڑھے گی، نئی چنگاریاں اور عوامی احتجاج ناگزیر ہوں گے۔
لیکن اس پورے المناک مرحلے کا سبق یہ ہے کہ محض احتجاج اور انقلاب کافی نہیں ہوتے۔ سرمایہ داری اور اس کی ریاست کو ختم کرنا ضروری ہے۔ مگر اس کے لیے ایک ایسی جماعت درکار ہے جو لبرل ازم اور نوبل انعام یافتگان کے بارے میں کسی فریب میں مبتلا نہ ہو، بلکہ ایسی جماعت ہو جو مزدوروں کو خود اقتدار میں لانے کے لیے جدوجہد کرے۔ اس کے بغیر بڑھتی ہوئی مایوسی سے مذہبی قوتیں فائدہ اٹھائیں گی۔
یہی سبق تمام جین زی بغاوتوں سے بھی واشگاف انداز میں سامنے آتا ہے۔ جب تک ان انقلابی عوام کو ان کی اپنی ایک پارٹی، ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی سے مسلح نہیں کیا جاتا، جو سرمائے کی آمریت کی جگہ پرولتاریہ کی آمریت قائم کرنے کے لیے کوشاں ہو، معاملات بگڑ جائیں گے۔ ان تمام واقعات میں پرانا نظام شاید ہلا ضرور دیا گیا ہو، مگر گزرے ہوئے کل کی تمام ہولناکیاں دوبارہ پوری شدت کے ساتھ لوٹ رہی ہیں۔
بنگلہ دیش کا بحران، سری لنکا کا بحران، نیپال کا بحران، انسانیت کا بحران ہے، حقیقت میں انقلابی قیادت کا بحران ہے۔ اس قیادت کو ممکنہ حد تک فوری طور پر تعمیر کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں۔





















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance