وینزویلا پر ٹرمپ کا حملہ، سامراجی جارحیت مردہ باد!

|انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کا اعلامیہ|

وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں رات دو بجے امریکی سامراج نے وینزویلا کی سرزمین پر ایک مجرمانہ عسکری حملہ کیا۔ خبریں گرم ہیں کہ کاراکاس میں چھ بڑے دھماکے ہوئے ہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایل ہیگوے روت، میرانڈا، لا گویرا اور آراگوا میں بھی عسکری حملے ہوئے ہیں۔ کاراکاس کی فضاؤں میں امریکی ہیلی کاپٹر دیکھے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مادورو اور اس کی بیوی کو اغواء کر کے ملک سے باہر لایا جا چکا ہے۔ وینزویلا کی ایگزیکٹیو نائب صدر ڈیلسی روڈریگو نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ ابھی تک یہی اطلاعات موجود ہیں۔

یہ سب کچھ اچانک آسمان سے بجلی بن کر نہیں گرا۔ یہ سفاک اور سرد مہر منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جو حقیقی جارحانہ امریکی سامراجی مفادات کا اظہار ہے۔

موجودہ جارحانہ سرگرمی ایک خودمختار ملک وینزویلا کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کی ایک طویل داستان کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ یہ ملک آج تک امریکہ کے لیے کوئی براہ راست عسکری خطرہ نہیں رہا ہے۔

جارحانہ اقدامات میں سمندری قذاقی، کیریبین میں چھوٹی کشتیوں پر گولیاں اور بم برسانا اور ان کشتیوں پر سوار افراد کو دانستہ طور پر قتل کرنا سب شامل ہے۔ قتل کیے گئے مظلوموں میں یقینا تمام ہی معصوم مچھیرے ہوں گے لیکن پھر بھی یہ تمام اقدامات مضحکہ طور پر بتائے گئے ”عالمی قانون“ کی ننگی خلاف ورزی ہے۔ ان سرگرمیوں میں وینزویلا تیل بردار بحری جہازوں پر امریکی قبضہ اور ضبطی (اسے چوری پڑھا جائے) بھی شامل ہے۔

وینزویلا کے خلاف چھ مہینوں سے جاری ٹرمپ حکومت اور امریکی سامراج کی بدمعاشی اور عسکری دباؤ کا مسلسل بڑھاوا یکطرفہ جارحیت ہے جس کو کسی قسم کا جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ اس کا منشیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا ”جمہوریت“ سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ امریکہ کو کبھی بھی اس ڈھکوسلے کی پرواہ نہیں رہی۔

ٹرمپ غرور سے اپنے آپ کو امن پسند بتاتا ہے، ایک ایسا فرد جس نے امریکہ کو تمام غیر ضروری جنگوں سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی شخص نے کرسمس کے دن نائجیریا پر بمباری کی۔ اب وہ وینزویلا پر بمباری کر رہا ہے اور ایران کے خلاف ایک مرتبہ پھر عسکری جارحیت کی دھمکی دے رہا ہے۔ لیکن وینزویلا میں ایک خودمختار ریاست کے سربراہ کے جبری اغواء کا جرم بھی سرزد ہو چکا ہے۔

یہ واضح عسکری جارحیت ہے جس کا بنیادی مقصد سب کو واضح ہے کہ امریکہ پورے براعظم کو مطیع کر کے اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور جو حکومت اس کے راستے میں کھڑے ہونے کی جرات کرے گی اس کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔

اس کے نتائج انتہائی خوفناک ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ”محض“ ایک سر تن سے جدا کرنے والی جارحیت تھی جس کا مقصد وینزویلی صدر مادورو کو پکڑنا اور ملک سے باہر لے جانا تھا۔ یقیناً یہ ایک مجرمانہ قدم ہے اور عالمی سفارت کاری سے زیادہ مافیا بدمعاشی ہے۔ یہاں واضح مثال ہمارے سامنے ہے کہ ”قوانین کی بنیاد پر عالمی نظام“ کا حقیقی مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب خود ساختہ قوانین ہیں جنہیں واشنگٹن کبھی بھی کہیں بھی کسی پر بھی لاگو کر سکتا ہے تاکہ امریکی سامراجی مفادات کا تحفظ ہو۔

ان ”قوانین“ کی جو بھی ملک، حکومت یا فرد مخالفت کرے گا اسے دھمکیوں، پابندیوں، تجارتی ناکہ بندی، بمباری یہاں تک کہ مافیا انداز میں اغواء کا بھی سامنا ہو گا۔ یہ وہ نظام ہے جو امریکہ اور اس کے یورپی کٹھ پتلی حکمران پوری دنیا پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایک مرتبہ عسکری جارحیت شروع ہو جائے تو یہ کبھی واضح نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا۔ جنگ زندہ قوتوں کے درمیان کشمکش ہے۔ وینزویلا میں جنگ کا اختتام کیا اور کیسے ہو گا، اس کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں کر سکتا کیونکہ جنگوں کی اپنی منطق ہوتی ہے جس کی آغاز میں ہی پیشگوئی کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔

وینزویلا میں عسکری اور سویلین انفراسٹرکچر کی بمباری سے یقیناً شہری اموات ہوئی ہوں گی۔ اس کا نتیجہ امریکی جارحیت کے خلاف عمومی نفرت اور غم و غصہ ہو گا۔ کیا ان جذبات کو مؤثر عسکری اقدامات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اس کا دار و مدار کئی عوامل پر منحصر ہے جن میں سب سے اہم عوام کا مورال ہے۔
پادرینو (افواج کا سربراہ) اعلان کر چکا ہے کہ شہریوں کی اموات ہوئی ہیں اور اس نے اس ننگی سامراجی جارحیت کے خلاف قومی مدافعت کا اعلان کیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ تمام مسلح افواج کو تعینات کیا جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ ”انہوں نے ہم پر حملہ کیا ہے لیکن ہمیں مطیع نہیں کیا ہے“۔

لیکن ہمیں حقائق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ وینزویلا ایک چھوٹا لاطینی ملک ہے جس کی امریکی سامراج کی عسکری قوت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔

عوام پادرینو کی اپیلوں پر کیا رد عمل دیتی ہے، یہی حقیقی فیصلہ ہے۔ لیکن اتنی دوری اور حقائق کی عدم موجودگی میں یہ کہنا ناممکن ہے کہ یہ ردعمل کیا ہو گا۔ یقیناً وینزویلی سماج کی ایک بڑی تعداد، محنت کش، کسان، شہری غرباء اور وہ تمام افراد جنہیں بولیوارین انقلاب سے استفادہ ہوا ہے، اس جابرانہ سامراجی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ اگر درست قیادت فراہم ہو۔ لیکن کیا یہ کافی ہے؟

کیوبا کسی قسم کی درکار عسکری امداد فراہم کرنے سے قاصر ہے جبکہ وینزویلا کے مرکزی اتحادی چین اور روس ہزاروں میل دور ہیں۔ اس لیے یہ جنگ ایک دیو اور بونے کے درمیان ہو گی۔ یقیناً اس جنگ میں محنت کشوں کی عالمی حمایت ایک فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ یہ بات خاص طور سے پورے لاطینی امریکہ میں عوام کے رد عمل سے مشروط ہے۔

یہ لاطینی امریکہ میں باقی ملکوں کو واضح خبرداری ہے کہ سب امریکی سامراج کی خوشنودی کے لیے قطار میں حاضر ہو جاؤ! اس کا اطلاق خاص طور پر کولمبیا اور اس کے صدر گوستاوو پیترو پر ہوتا ہے۔

یہ درست ہے کہ کئی افراد، خاص طور پر لیفٹ میں موجود، کاراکاس میں موجودہ حکومت پر اعتماد نہیں کرتے۔ لیکن اس لمحہ میں ہمارے اقدامات کا تعین ان جذبات کی روشنی میں ہر گز نہیں ہو سکتا۔ نکولاس مادورو کی حکومت سے متعلق ہمارے جو بھی خیالات ہوں، یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہم ثابت قدمی اور وضاحت کے ساتھ امریکی سامراج کی جارحیت کے خلاف وینزویلی دفاع میں کھڑے ہوں۔

موجودہ جنگ میں وینزویلا کی غیر مشروط حمایت کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ نکولاس مادورو کی پالیسیوں اور اقدامات پر بھی کوئی اعتماد ہے۔ یہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے کہ ٹرمپ اور نتن یاہو کی ایران پر جارحیت کی مخالفت کا مطلب یہ نہیں کہ تہران کی کرپٹ رجعتی ملا ریاست پر ہمیں کوئی اعتماد ہے۔ ہمارے رویے کا تعین کوئی مخصوص حکومت یا پالیسی نہیں کرتی بلکہ بنیادی اصول محنت کش عالمگیریت ہے۔ اس سوال پر کسی قسم کی کمزوری یا سمجھوتہ محنت کش طبقے کے خلاف جرم اور محنت کش عالمگیریت سے دغا بازی ہے۔

محنت کش طبقے کی عالمی تحریک کا درست رد عمل، تحرک اور اس یکطرفہ سامراجی جارحیت کی مکمل اور واضح مخالفت ہے۔ یقینا آج پورے لاطینی امریکہ اور دیگر عالمی خطوں میں تمام امریکی سفارت خانوں کے باہر احتجاج منعقد ہوں گے۔ انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل وینزویلا کے دفاع کا غیر مشروط اعلان کرتی ہے اور اس تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔

ہماری پوزیشن واضح ہے:

وینزویلا پر جارحیت مردہ باد!
یانکی واپس دفع ہو!
امریکی سامراج مردہ باد!

Comments are closed.