روس کی سامراجی طاقت کا ابھار

|تحریر: الیگزینڈرا سبلینا، ترجمہ: ولید خان|

اگرچہ تجزیہ کار تیل کی قیمتوں اور تزویراتی داؤ پیچ پر تبصرہ کر رہے ہیں لیکن مشرق وسطیٰ کی جنگ کی حقیقت کا پیمانہ گراف نہیں بلکہ انسانی زندگیاں ہیں۔ محض چند دنوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد قتل ہو چکے ہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایرانی سویلین انفرسٹرکچر پر بمباری کے نتیجے میں ان ہلاک ہونے والوں میں 165 سکول کی طالبات اور اسٹاف بھی شامل ہیں۔

خلیج فارس سے لے کر شام اور فلسطین تک پورے خطے میں میزائلوں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے جبکہ عوام تہہ خانوں اور زیر زمین پارکنگ لاٹوں میں چھپنے پر مجبور ہیں۔ آغاز میں ہونے والا طاقت کا اظہار اب ایک ایسی جنگ بن چکا ہے جس کا کنٹرول تیزی سے امریکی سامراج کے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔

امریکہ اور خاص طور پر ٹرمپ کے لیے ذاتی طور پر یہ مہم حالیہ مہینوں میں تزویراتی مہم جوئیوں کے برعکس بہت زیادہ پیچیدہ ثابت ہو رہی ہے۔ گھیرے میں پھنسے ایران کے پاس پسپائی کا راستہ نہیں ہے اور اس نے منہ توڑ جارحانہ جواب دیا ہے۔ واشنگٹن کے قریبی اتحادی جیسے قطر، کویت، امارات اور سعودی عرب اس وقت اس بڑھتی جنگ کا شکار ہو رہے ہیں۔

اس بحران کا مرکز آبنائے ہرمز ہے جو عالمی توانائی نظام کی ایک کلیدی شریان ہے۔ عالمی تیل اور گیس کا ایک بڑا حصہ اس تنگ راہداری سے گزرتا ہے اور کسی قسم کا خلل فوری طور پر عالمی منڈیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ایک علاقائی جنگ میں اب یہ امکان موجود ہے کہ وہ پورے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تختے پشتے اکھاڑ دے۔

کروڑوں افراد مسائل کا شکار ہیں جبکہ دیگر کی منافع خوری جاری ہے۔ متضاد طور پر، اس جنگ سے معاشی طور پر روس بھی مستفید ہو سکتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ روس نے جنگ شروع کی ہے یا اس میں براہ راست ملوث ہے۔ اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ روس ایران کے لیے براہ راست جنگ میں ملوث ہو گا اگرچہ اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہے۔ جنگ کا غیر متوازن کردار ایران کو فاتح بنا سکتا ہے اگر وہ قائم و دائم رہے جبکہ قیاس ہے کہ روس سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی اور معاشی اقدامات کے ذریعے معاونت کر رہا ہے۔ لیکن روس جنگ سے باہر ہے اور اسی وجہ سے وہ اس سے جنم لینے والے عالمی انتشار سے مستفید ہو رہا ہے۔

موجودہ روسی حکومت عالمی انتشار میں کشتی رانی کی ماہر ہو چکی ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں، تجارتی بہاؤ میں تبدیلیاں اور مسابقتی سپلائرز میں انتشار ایک اہم خام مال برآمدی کے طور پر روس کی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے مشرق وسطیٰ میں جنگ وقتی طور پر روسی معیشت کو مضبوط کر سکتی ہے۔

ایک دیوہیکل تبدیلی کا عمل جاری ہے جس میں امریکی سامراج کا نسبتی زوال کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ بطور ایک عالمی اجارہ دار سامراجی قوت اپنی حیثیت کھو چکا ہے جس میں سرمایہ داری کا نامیاتی بحران بھی شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں منڈیوں، وسائل، سپلائی چینز اور حقلہ اثر و رسوخ کے کنٹرول کے لیے جھگڑے شدت اختیار کر رہے ہیں جن میں سب سے بڑے حریف خود امریکہ اور چین ہیں۔ اسی سامراجی تباہی و بربادی میں روس اپنے آپ کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تیل اور عالمی معیشت کا خون

مغرب میں روسی معیشت میں ہائیڈروکاربن کے کردار کو اکثر مبالغہ آرائی سے پیش کیا جاتا ہے۔ روسی معیشت محض ہائیڈروکاربن کو زمین سے نکالنے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے لیکن اس کے GDP کا 17 فیصد اور فیڈرل بجٹ کا 30 فیصد تیل اور گیس سے ہی آتا ہے اور یہ روسی برآمدات کا دیوہیکل حصہ ہے۔

جب سامراجی تناؤ، جیسے مشرق وسطیٰ میں جنگ، آبنائے ہرمز جیسی سپلائی راہداریوں کو خطرناک بنا دیتا ہے تو تیل کی عالمی قیمتیں فوراً آسمانوں کو چھونے لگتی ہیں۔ روس جیسے بڑے درآمدی ملک کے لیے بلند قیمتوں کا مطلب درآمدی کمائی میں اضافہ ہے اگرچہ پابندیوں کی وجہ سے اس تیل کو کم قیمت پر بیچنا مجبوری ہے۔

ٹرمپ نے عارضی طور پر روس پر لگی پابندیوں کو نرم کر دیا ہے تاکہ بڑھتی قیمتوں کو روکا جا سکے۔ پھر اس نے انڈیا پر دباؤ ڈالنا بھی بند کر دیا ہے کہ وہ روس کا تیل خریدنے سے باز رہے۔ انڈین ریفائنریوں نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کے آغاز میں ہی روس سے 3 کروڑ بیرل تیل خرید لیا تھا۔

روس کی پیداواری لاگت عمومی طور پر کم ہے، یعنی عالمی قیمتوں میں اضافہ توانائی کمپنیوں کے منافع اور ریاست کی ٹیکس آمدن میں اضافہ ہے۔ عملی طور پر ماسکو کو اضافی بیرونی کرنسی میسر ہو گی، بجٹ مستحکم ہو گا اور حکومتی اخراجات میں مدد ہو گی جس میں عسکری اخراجات بھی شامل ہیں۔

اس دوران توانائی ترسیل میں مسائل کے در پیش روس کے کچھ مسابقتی ممالک عالمی منڈیوں میں انتشار میں اضافے کی وجہ سے کمزور ہوں گے جبکہ بڑے درآمدی ممالک، خاص طور پر ایشیاء میں، متبادل سپلائی کے ذرائع مستحکم کرنے کی کوششیں کریں گے۔ اس طرح روس عدم استحکام حالات میں ایک قابل اعتماد سپلائر کی پوزیشن حاصل کر سکتا ہے جس سے اس کا معاشی اثر و رسوخ اور سفارتی قد کاٹھ بڑھے گا۔

پس، تیل کا بحران روسی معیشت کو زیادہ صحت مند نہیں بناتا لیکن وقتی طور پر اس کی مرکزی قوت کو مستحکم کرتا ہے۔۔ ایک ایسی دنیا میں درآمدی منڈی کے بڑے حصوں پر قبضہ کر کے جو اچانک مستحکم سپلائی کے لیے بے قرار ہے۔

لیکن یوکرین جنگ میں جس طرح روس نے اپنے بیرونی معاشی تعلقات ازسرنو منظم کیے ہیں، ان کے بغیر یہ عارضی استحکام بھی ممکن نہیں تھا۔ 2022ء میں پابندیاں لاگو ہونے کے بعد ماسکو تیزی سے تجارتی، مالیاتی اور سپلائی چینز کو یورپ سے ایشیائی منڈیوں کی جانب موڑنے پر مجبور ہو گیا تھا۔

اس تبدیلی میں چین نے کلیدی کرادار ادا کیا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں بیجنگ روس کا سب سے بڑا تجارتی حلیف بن چکا ہے، جو ان نئی ترتیب شدہ توانائی کی درآمدات کا ایک قابل ذکر حصہ جذب کر رہا ہے اور بدلے میں مشینری، الیکٹرونکس، گاڑیاں اور دیگر صنعتی سامان سپلائی کر رہا ہے جنہوں نے کئی مغربی درآمدات کی جگہ لے لی ہے۔

چینی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں نے متوازی تجارتی نیٹ ورکس کی بھی معاونت کی ہے جن کے ذریعے روس پابندیوں میں جکڑے اجزاء اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر رہا ہے۔ اس دوران باہمی تجارت اور روسی مالیاتی ریزروز میں چینی یوان کرنسی کا استعمال ڈرامائی انداز میں وسعت حاصل کر چکا ہے جس نے جزوی طور پر ماضی میں مغربی کرنسیوں کی جگہ لے لی ہے۔

اس تمام منصوبہ بندی نے روسی معیشت کو اس طرح کے انہدام سے بچا لیا ہے جس کی کئی تجزیہ کار روسی پابندیوں کے اجراء کے وقت پیش گوئی کر رہے تھے۔ اس کے برعکس ہم نے استدلال پیش کیا تھا کہ یورپی پابندیوں کے نتیجے میں یورپ کو زیادہ بڑا نقصان ہو گا۔ حقیقت نے ہماری پیش گوئی پر سچائی کی مہر ثبت کر دی ہے۔

مشرق کی جانب رجوع

روس کی موجودہ خارجہ پالیسی کو سمجھنے کے لیے ہمیں 2000ء کی دہائی کے اوائل کی جانب رجوع کرنا ہو گا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد روس نے اس دور میں اپنے آپ کو مغربی معاشی نظام کا حصہ بنانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ اس دوران چین تیزی سے اپنی معیشت کو ریاستی مرکزیت اور منڈی کے طریقہ کار کے ذریعے ترقی دے رہا تھا۔

دو دہائیوں کے عرصے میں چینی معیشت نے دیوہیکل ترقی کی اور امریکہ کا مرکزی معاشی مسابقتی ملک بن گیا۔ اس دوران روس نے طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوششیں کیں۔ روسی کو امید تھی کہ وہ مغربی سامراجی طاقتوں کے کلب کا حصہ بن کر، G8 میں شمولیت اختیار کرے گا اور یورپ اور امریکہ کے ساتھ اثر و رسوخ کے دائروں کا حصہ دار بن جائے گا۔ لیکن جلد ہی یہ سراب بخارات بن کر اڑ گیا۔ فیصلہ کن لمحہ 2008ء کا عالمی معاشی بحران اور NATO کی مشرق کی جانب مسلسل وسعت ثابت ہوا۔

روسی حکمران طبقہ یوکرین اور جارجیا کی NATO میں ممکنہ شمولیت کو اپنے مفادات کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا تھا۔ 2014ء میں رونماء ہونے والے واقعات اور پابندیوں کے بعد روس نے تیزی سے مشرق کی جانب اپنی معاشی منصوبہ بندی مبذول کر دی۔ یہ وہ وقت تھا جب چین کے ساتھ معنی خیز تعلقات استوار ہونا شروع ہو گئے۔

اس سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات عارضی اور خطے میں مفادات کے تحت طے تھے جن کا نتیجہ عملی معاشی پراجیکٹس کے برعکس زیادہ تر نیک خواہشات کے اعلانات کی صورت میں تھا۔ 2022ء اور پھر مغربی پابندیوں کے بعد روس کے معاشی انہدام سے بچاؤ کی سب سے بڑی وجہ چین تھا۔

روس نے تقریباً 80 فیصد تیل انڈیا اور چین کو بیچنا شروع کر دیا۔ ظاہر ہے کہ اس کی قیمت قابل ذکر ڈسکاؤنٹ تھی، ایک بیرل تیل پر 20-30 ڈالر تک کمی، لیکن روسی درآمدات کا دیوہیکل حجم اور عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں کی بنیاد پر اس کا GDP بڑھا اور یورپی منڈیوں تک عدم رسائی نے اسے کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچایا۔

چین نے بھی ان پابندیوں سے متبادل راستہ نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا یعنی الیکٹرانکس کی سپلائی، متوازی درآمدات، توانائی پراجیکٹس کی سرمایہ کاری اور بڑی روسی کمپنیوں کو قرضوں کی فراہمی۔

روسی ہوا بازی، دوا سازی اور آئی ٹی میں چینی سپلائی نے قابل ذکر ٹیکنالوجی کے خلیج کو ختم کیا۔ روسی زرمبادلہ ذخائر کی شکل و صورت بھی قابل ذکر طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت روسی ریاست کے لیے یوان سب سے بڑی ریزرو کرنسی بن چکا ہے۔ اس کی ایک مثال MS-21 ہوائی جہاز ہے، ایک روسی تعمیر جو ممکنہ طور پر روسی ہوا بازی سیکٹر میں مغربی ہوائی جہازوں کا سنجیدہ متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔ پوری دنیا میں روس واحد ملک ہے جو ایک پورا جہاز اپنے بل بوتے پر تعمیر کر سکتا ہے، اگرچہ اس میں کچھ چینی پرزہ جات لگتے ہیں۔ بہرحال یہ کافی سنجیدہ معاملہ ہے۔

روس عرصہ دراز سے دنیا کا ایک کلیدی ہتھیار بیچنے والا ملک ہے اور موجودہ یوکرین جنگ نے متضاد طور پر اس پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے۔ پابندیوں اور سیاسی تنہائی کے باوجود روسی عسکری صنعتی کمپلیکس عالمی ہتھیار منڈی میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

اس جنگ نے روس کو جدید جنگ کے لیے ایک دیوہیکل تجربہ گاہ بنا دیا ہے جہاں ہتھیاروں کا نظام، ڈرونز، الیکٹرانک جنگی ہتھیار، ایئر ڈیفنس ٹیکنالوجیاں اور جنگی میدان کے لاجسٹکس مسلسل ارتقاء پذیر اور عملی تجربات میں نکھر رہے ہیں۔ یہ حقیقی جنگی تجربہ ہتھیاروں کی عالمی صنعت کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں ممکنہ خریدار یہ جانچتے ہیں کہ حقیقی جنگی حالات میں ہتھیاروں کی کارکردگی کیا ہے۔

نتیجتاً، روس ایک قابل اعتماد ہتھیار سپلائر ہونے کے ساتھ ساتھ۔۔ خاص طور پر ایشیاء، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں۔۔ عملی آپریشنل تجربات کا ذخیرہ بھی ہے جس سے اس کے دفاعی شعبے کی مسابقت مزید مضبوط ہوتی ہے۔

جنگ کے دوران جنوبی کوریا کی روس کو معاونت بھی بہت اہم ہے۔ ماسکو نے اتحادیوں کا ایک ایسا نیٹ ورک بنا لیا ہے جو پابندیوں کے باوجود معاشی، عسکری اور سیاسی طور پر معاونت اور تعاون کے لیے تیار ہے۔ بیجنگ کے نکتہ نظر سے جنگ کو جاری رکھنے کی اہلیت، غیر مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں وسعت اور اندرونی استحکام قائم رکھنا ثابت کرتا ہے کہ یوریشیاء (Eurasia) میں طاقتوں کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے اس جنگ نے روس کی تزویراتی پوزیشن کو اس قدر کمزور نہیں کیا جتنا کئی تجزیہ کار توقع کر رہے تھے۔۔ کچھ اثناء میں ابھرتی کثیرقطبی دنیا میں ماسکو کی بطور ایک مرکزی کردار کی حیثیت مستحکم ہوئی ہے۔

روس کے عالمی معیشت میں کردار کو محض ایک ”پیٹرول پمپ جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں“ تک محدود کرنا ایک سنگین غلطی ہو گی۔ پچھلی ایک دہائی میں مغربی سیاسی مبصرین میں یہ لیبل بڑا مقبول ہوا ہے لیکن حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ یہ کتنی بڑی خود فریبی ہے۔ یورپ نے روسی توانائی اور خام مال کی اہمیت کو نظرانداز کرنے کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔

اسی طرح روس اور چین کے درمیان مسلسل بڑھتی قربت کو ’روس چین کی ایک کالونی بن رہا ہے‘ سمجھنا بھی ایک فاش غلطی ہو گی۔ ظاہر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات غیر متوازی ہیں؛ چینی معیشت کا بے پناہ حجم ہے، اس کی صنعتی بنیادیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور اس کی تکنیکی صلاحیت بہت وسیع ہے۔ لیکن عدم توازن کا فوری مطلب نوآبادیاتی انحصار نہیں ہوتا۔

ایک کلیدی فرق پیداواری اثاثہ جات کی ملکیت ہے۔ چین روسی معیشت کے کلیدی سیکٹروں کو کنٹرول نہیں کرتا۔ کلیدی تیل اور گیس کمپنیاں، توانائی انفراسٹرکچر، صنعتی کارخانے اور قدرتی وسائل روسی ریاست یا مقامی سرمائے کی ملکیت ہیں۔

چینی سرمایہ کاری ہو رہی ہے لیکن ان کا ارتکاز روسی ذرائع پیداوار کی ملکیت کے برعکس مخصوص پراجیکٹس اور سیکٹروں میں ہے۔ یہ کلاسیکی یا نیم کلاسیکی نوآبادیاتی انحصار سے بالکل مختلف اور اہم فرق ہے۔

دونوں ممالک میں توانائی کے شعبے میں تعاون اس تعلق کو واضح کرتا ہے۔ پائپ لائن انفراسٹرکچر میں منظور شدہ وسعت، خاص طور پر پاور آف سائبیریا دوم پراجیکٹ، روسی گیس کی چین کو ترسیل میں بے پناہ اضافہ کرے گا۔ ایک مرتبہ یہ پراجیکٹ شروع ہو جائے تو پائپ لائن سے اتنی ہی گیس کی ترسیل ہو سکتی ہے جتنی روس پہلے یورپ کو سپلائی کیا کرتا تھا۔

یعنی روس اپنی زیادہ تر یورپی گیس کی منڈی سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے لیکن اس کے متوازی وہ ایشیاء میں طویل مدت متبادل تعمیر کر رہا ہے۔ اس تزویراتی تبدیلی کی اہمیت ابھی سے روسی پالیسی بحث مباحثے کا حصہ ہے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن نے حکومت کو احکامات جاری کر رکھے ہیں کہ یورپی توانائی منڈی سے مکمل اور تیز تر انخلاء کے امکانات کو پرکھا جائے کیونکہ روس کے لیے زیادہ منطقی یہی ہے کہ وہ اضافی یورپی پابندیوں کے برعکس ابھرتی ایشیائی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرے۔

سامراجی الحاق

روس اور چین کے درمیان تعاون خام مال کی تجارت یا توانائی کے بہاؤ کی تبدیلی سے متعلق محدود نہیں ہے۔ اس کا اطلاق کئی تزویراتی صنعتی سیکٹروں پر بھی ہوتا ہے جنہیں دونوں ریاستیں طویل مدتی تزویراتی اور معاشی مفادات کے تحت دیکھ رہی ہیں۔

ان میں سب سے اہم جوہری توانائی، آرکٹک قدرتی وسائل کو نکالنا اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا وسیع انفراسٹرکچر ہے۔ یہ پراجیکٹس ماسکو اور بیجنگ کے درمیان اشتراک کا عملی اظہار ہیں۔۔ روسی قدرتی وسائل، انجینئرنگ تجربہ اور ریاستی توانائی کمپنیوں کا چینی سرمائے، صنعتی سپلائی چینز اور توانائی کی طویل معیاد ضرورت کا گٹھ جوڑ۔

سیاسی طور پر اہم ترین اشتراکی سیکٹروں میں سے ایک سویلین جوہری توانائی ہے۔ روسی ریاستی کارپوریشن روساتوم (Rosatom) چین کے ساتھ دہائیوں سے کام کر رہی ہے اور ان چند ایک غیر ملکی کمپنیوں میں سے ایک ہے جو چینی جوہری توانائی وسعت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ روسی انجینئرز کا بڑے تین وان جوہری پاور پلانٹ (Tianwan Nuclear Power Plant) کی تعمیر میں اہم کردار تھا اور حال میں دونوں ممالک میں تین وان اور شوداپو (Xudapu) میں نئے ری ایکٹر تعمیر کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

ان پراجیکٹس میں روس نے ری ایکٹر ٹیکنالوجی، جوہری ایندھن اور انجینئرنگ مہارت فراہم کی جبکہ چین نے فنانسنگ، تعمیراتی صلاحیت اور دنیا میں تیز ترین وسیع ہوتی الیکٹرک منڈی تک رسائی فراہم کی۔ اگرچہ جوہری تعاون کا کمرشل حجم تیل یا گیس تجارت سے کم ہے، بہرحال اس کی تزویراتی اہمیت قابل ذکر ہے۔

تعاون کا ایک اور اہم سیکٹر آرکٹک (Arctic) توانائی کے وسائل کی تعمیر ہے۔ آرکٹک اس وقت دنیا میں تزویراتی مسابقت کے حوالے سے اہم ترین علاقہ بن چکا ہے کیونکہ وہاں نئے بحری راستے اور قدرتی گیس، تیل اور انتہائی اہم معدنیات کے وسائل کھل رہے ہیں۔ روس کے پاس آرکٹک کی سب سے بڑی ساحلی پٹی ہے اور اس کے پاس انتہائی شدید قطبی حالات میں کام کرنے کا قابل ذکر تکنیکی تجربہ بھی موجود ہے۔

لیکن ان سیکٹروں کی تعمیر و ترقی کے لیے دیوہیکل سرمایہ، ماہرانہ انفراسٹرکچر اور عالمی منڈیوں تک رسائی درکار ہے۔ اس لیے ماسکو ایشیائی اتحادیوں، خاص طور پر چین، سے رجوع کر رہا ہے تاکہ دیوہیکل آرکٹک پراجیکٹس کی فنانسنگ اور معاونت حاصل کر سکے۔

اس کی سب سے بہترین مثال یمل LNG (Yamal LNG) پراجیکٹ ہے جسے روسی کمپنی نوفاٹیک (Novatek) چلا رہی ہے۔ چینی ریاستی ادارے، جن میں چائنہ نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن (CNPC) اور سلک روڈ فنڈ شامل ہیں، پراجیکٹ میں اربوں ڈالر سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور چینی بینکوں نے بڑے قرضے جاری کیے ہیں۔

پابندیوں کے لاگو ہونے کے بعد مغربی سرمایہ نکال لیا گیا تھا اور اس فنانسنگ نے اس معاملے میں بہت مدد کی ہے۔ اب یہ پراجیکٹ آرکٹک میں سب سے بڑے LNG کے برآمدی مراکز میں سے ایک بن چکا ہے جس کا مال ایشیاء اور یورپ کی منڈیوں کو شمالی سمندری راستہ کے ذریعے پہنچ رہا ہے۔ چینی کمپنیوں نے اس کے بعد والے پراجیکٹ آرکٹک LNG-2، میں بھی سرمایہ کاری کر لی ہے جس سے خطے میں روسی مائع قدرتی گیس میں مزید پیداواری وسعت پیدا ہو گی۔

آرکٹک پارٹنرشپ کے دائرہ کار میں سمندری کشید ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر پلیٹ فارم بھی شامل ہیں۔ روس نے آرکٹک سمندر میں کام کرنے کے لیے انجینئرنگ کے مخصوص طریقے ایجاد کیے ہیں جن میں آف شور تنصیبات شامل ہیں جو انتہائی درجہ حرارت اور برفانی دباؤ برداشت کر سکتی ہیں۔

ان میں سے ایک مشہور مثال پریرازلومنایا (Prirazlomnaya) پلیٹ فارم ہے جو پیچورہ سمندر (Pechora Sea) میں کام کر رہا ہے اور ابتدائی آرکٹک آف شور تنصیبات میں سے ایک ہے جسے خاص طور پر قطبی حالات کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس طرح کے پراجیکٹس کے لیے جدید ڈرلنگ ٹیکنالوجی، برف کش ڈھانچے اور ایک پیچیدہ لاجسٹک نیٹ ورک چاہیے ہوتا ہے جن میں آئس بریکر، سپورٹ جہاز اور مخصوص بندرگاہیں شامل ہیں۔

چین کے لیے آرکٹک توانائی کی تعمیر میں شمولیت وسائل تک رسائی کے ساتھ تکنیکی مہارت اور نئے ٹرانسپورٹ روٹ تک رسائی ہے۔ بیجنگ مسلسل ایک ”پولر سلک روڈ“ (Polar Silk Road) کا خیال پیش کر رہا ہے جو آرکٹک کے بحری راستوں کو بیلٹ اینڈ روڈ پیش قدمی سے منسلک کرتا ہے۔

روسی آرکٹک ساحل کے ساتھ موجود شمالی سمندری راستہ ایشیاء اور یورپ کے درمیان ٹرانسپورٹ ٹائم کو سویز کنال (Suez Canal) کے روایتی راستے سے بہت زیادہ مختصر کر دیتا ہے۔ نتیجتاً چینی بحری کمپنیاں، توانائی کمپنیاں اور فنانس ادارے روسی بندرگاہوں سے منسلک آرکٹک انفراسٹرکچر پراجیکٹس، LNG ٹرمنلز اور ٹرانسپورٹ راہداریوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

روسی چینی تعلق نوآبادیاتی انحصار ہے اور نہ ہی ایک مثالی متوازی اتحاد ہے۔ بلکہ یہ ایک عملی تزویراتی پارٹنرشپ ہے جس میں دو بڑی قوتوں کے کچھ مفادات ایک بدلتے عالمی نظام میں مشترکہ ہیں اور وہ اپنی پوزیشن کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

2000ء کے اوائل میں ایک محتاط تعلق کی ابتداء آج قریبی سیاسی اور معاشی تعلق میں تبدیل ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک امریکہ کو اپنے تزویراتی عزائم کی رکاوٹ سمجھتے ہیں اور عالمی اداروں اور تجارتی ڈھانچوں میں امریکی سامراجی قوت کی مخالفت دونوں کے مفاد میں ہے۔

اس دوران یورپ اندرونی بحران میں داخل ہو چکا ہے۔ معاشی جمود، توانائی عدم استحکام، سیاسی انتشار اور سماجی تناؤ میں مسلسل اضافے نے یورپی پراجیکٹ کے اتحاد کو کمزور کر دیا ہے۔

ستم ظریفی ہے کہ روس پر یورپی توانائی کا انحصار ختم کرنا خود یورپی یونین میں سیاسی لڑائی کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔ ممبر ریاستوں کی پابندیوں، تجارتی راستوں اور توانائی سپلائی پر چپقلش نے اہم دراڑوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس میں خاص طور پر ہنگری اور یوکرین کے درمیان گیس سپلائی اور انتظام پر جھگڑا نمایاں ہے۔

سب سے اہم یہ کہ سستی روسی گیس کی درآمدات کے خاتمے نے عالمی منڈی میں یورپی صنعت کی عدم مسابقت کو ننگا کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پورے براعظم میں صنعتوں کی بندش کا ایک عمل جاری ہے۔ اس بحران کے دوران 27 مختلف یورپی ریاستیں اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں۔

ان دراڑوں نے یورپی حکومتوں کے لیے روس اور چین کی جانب ایک مشترکہ تزویراتی منصوبہ بندی کا کام اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔

اس بدلتی دنیا کا نتیجہ ایک نیا انتظام ہے جس میں روس اور چین دونوں اپنی پوزیشن مستحکم کر رہے ہیں۔ چین کو سستے توانائی وسائل، نئے تجارتی راستے اور یوریشیاء (Eurasia) میں ایک مستحکم تزویراتی پارٹنر مل رہے ہیں۔

دوسری طرف روس کو اپنی برآمدات کے لیے ایک دیوہیکل منڈی، مغربی درآمدات کی متبادل ٹیکنالوجی اور امریکہ کے ساتھ وسیع ٹاکرے کے لیے ایک طاقتور اتحادی مل گیا ہے۔ یہ اتحاد کئی حوالوں سے غیر متوازی ہے لیکن موجودہ عالمی صورتحال میں یہ باہمی مفاد کی بنیاد ہے۔

یعنی امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی ممالک کی روس کو تنہاء کرنے کی کوششوں سے وہ تزویراتی نتائج حاصل نہیں ہوئے جو متوقع تھے۔ اس کے برعکس روس اور چین کی بنیاد پر ایک یوریشیائی معاشی اتحاد تیزی سے مستحکم ہوا ہے جو اب مغربی معاشی اور سیاسی تسلط کو چیلنج کر رہا ہے۔

عالمی بحران میں تیراکی

جنگ، پابندیوں اور عالمی معاشی انتشار میں روسی سیاسی نظام اس وقت مضبوط اندرونی استحکام کا مظہر ہے۔ اس استحکام کا مطلب یہ نہیں کہ حکمران طبقہ تناؤ اور تضاد سے عاری ہے۔ اس کے برعکس پچھلے چند سالوں میں واضح طور پر لڑائیاں، از سر نو نظم اور اشرافیہ کے کچھ حصوں میں کرپشن مخالف مہمات نظر آئی ہیں۔

کئی افسرانِ بالا کو کرپشن کے الزام میں ان کے عہدوں سے فارغ کیا گیا ہے جن میں ڈپٹی وزیر برائے دفاع اور دیگر اعلیٰ بیوروکریٹ شامل ہیں۔ لیکن اس طرح کے واقعات کو حکومت کے انہدام کی نشانیاں نہیں سمجھ لینا چاہیے۔۔ وہ نشانیاں جن کی کھوج اور انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں مغربی تجزیہ نگار ہر لمحہ مستعد نظر آتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ ایک ایسا انداز ہے جو بوناپارٹسٹ سیاسی نظام کا خاصہ ہے جن میں مرکزی اتھارٹی وقتاً فوقتاً اشرافیہ میں موجود مختلف متحارب دھڑوں کی سرکوبی کرتے ہوئے اپنا تسلط قائم رکھتی ہے جبکہ ان اقدامات کو ’کرپشن‘ یا ’نااہلی‘ کے خلاف ایک مہم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے اندرونی تطہیر اور فردی تبدیلیاں ساختی اصلاحات نہیں بلکہ حکمران طبقے میں طاقتوں کے توازن کو مستحکم رکھنے کا طریقہ کار ہوتا ہے۔

اس دوران روسی معیشت کے استحکام نے یورپی اور امریکی تجزیہ کاروں کی امیدوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ افراط زر موجود ہے اور گھرانوں کے لیے ایک پریشانی ہے لیکن یہ صورتحال فی الحال قابو سے باہر نہیں ہے۔

درحقیقت، کئی اثناء میں یہ یورپ کے کئی حصوں میں موجود افراط زر سے بھی کم رہا ہے۔ سرمائے پر کنٹرول، تجارتی بہاؤ کی نئی تشکیل، اشیاء کی فروخت سے زیادہ آمدن اور ریاستی اخراجات کے امتزاج نے جنگ اور پابندیوں کے باوجود استحکام قائم رکھنے میں مدد دی ہے۔ توانائی کی برآمدات، خاص طور پر تیل، غیر ملکی کرنسی حصول کا بڑا ذریعہ ہیں جبکہ ایشیائی منڈیوں کے ساتھ تجارت نے یورپی معاشی نقصان کو جزوی طور پر پُر کر دیا ہے۔

لیکن حکومت کا استحکام اور میکرواکنامک نظام کی لچک کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سماجی حالات میں بھی بہتری ہو رہی ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتوں اور تزویراتی عدم استحکام کے نتیجے میں حاصل ہونے والے زیادہ تر معاشی فوائد ریاست سے منسلک کمپنیوں اور سیاسی اشرافیہ کی ایک پتلی پرت میں مرکوز ہیں۔

ریاستی مشینری سے منسلک توانائی کمپنیاں، فنانس ادارے اور بڑے صنعتی گروپ عالمی توانائی کے جھٹکوں سے حاصل ہونے والے زیادہ تر اضافی منافعوں کو ہڑپ کر رہے ہیں۔ توانائی اور عسکری صنعتی (Military-industrial) شعبوں میں کام کرنے والے انتہائی ہنر مند مزدوروں کی ایک چھوٹی پرت کو بھی اپنی محنت کے نتیجے میں زیادہ اجرتوں یا مانگ کے ذریعے بلاواسطہ فائدہ ہوا ہے۔

باقی عوام کے لیے صورتحال بہت مختلف ہے۔ عوامی اخراجات کا ایک بڑا حصہ سوشل سروسز اور فلاحی اخراجات کے برعکس عسکری پیداوار، سیکیورٹی ڈھانچوں اور تزویراتی صنعتوں میں خرچ ہو رہا ہے۔ نتیجتاً توانائی کی بڑھتی قیمتوں سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن زیادہ تر افراد کی زندگیوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں لائی ہے۔ کئی شعبوں میں افراط زر اور بڑھتے اخراجات زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی اجرتیں منجمد یا کم ہوئی ہیں۔

یہ صورتحال قوت محن کی پیداوار میں بحران کے ذریعے ایک وسیع مسئلے کو گھمبیر کر رہی ہے۔ مستحکم معاشی تعمیر و ترقی میں پیداوار کے ساتھ محنت کش کی پیداوار بھی لازم ہوتی ہے، یعنی سستی رہائش، صحت، تعلیم اور خاندانی سپورٹ ڈھانچے۔

لیکن روس میں یہ معاملات مسائل کا شکار ہیں۔ زندگی کے اخراجات میں اضافہ، کئی عوامی شعبوں میں محدود طویل معیاد کیریئر اور معیشت کی عسکریت نئی نسل کے لیے ایک خوشحال مستقبل فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

یہ دباؤ آبادیات (demodraphic) کی صورت میں اپنا اظہار کر رہے ہیں۔ روس میں افزئش نسل میں کمی ہو رہی ہے، آبادی عمر رسیدہ ہو رہی ہے اور علاقائی تضادات بڑھ رہے ہیں۔ کئی نوجوان محنت کشوں کے لیے ایک فیملی شروع کرنے کے معاشی مراعات کمزور ہیں جبکہ بچوں کی پیدائش و پرورش کی گراں قدری، خاص طور پر بڑے شہروں میں، مسلسل بڑھ رہی ہے۔

یعنی موجودہ صورتحال میں روسی ریاست عارضی طور پر مستحکم اور سیاسی حکومت مضبوط ہوئی ہے لیکن روسی سماج میں موجود گہرے مسائل اور تضادات حل نہیں ہو سکے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور تزویراتی عدم استحکام سے جو حاصلات ملی ہیں وہ زیادہ تر طاقت اور دولت کی تقسیم کے موجودہ نظام کو مضبوط کرنے میں خرچ ہو رہے ہیں۔

روسی سرمایہ داری میں تضادات موجود ہیں لیکن اس وقت ان کا کردار مغرب میں موجود تضادات سے مختلف ہے۔ مغرب میں سرمایہ کاری کے لیے منافع بخش سیکٹر موجود نہیں ہیں۔ روس میں معیشت جمود کا شکار نہیں ہے لیکن شدت اختیار کر رہی ہے، یعنی درکار محنت کش موجود نہیں ہیں۔

موجودہ حالات میں یہ امکانات موجود ہیں کہ مشرق وسطیٰ کا بحران روسی بجٹ خسارے کو کم کرتے ہوئے فنانس منڈیوں کو مستحکم اور عالمی مذاکرات میں ماسکو کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط کرے۔ لیکن محنت کشوں کو اس کے ثمرات نصیب نہیں ہو رہے ہیں۔

عالمی سرمایہ داری کے موجودہ بحران کے پیش نظر، روسی سماج میں موجود تضادات ختم ہونے کی بجائے مزید شدید ہوں گے۔ لیبر اور سرمایہ، ریاستی وسائل کا ارتکاز اور عوام کی روزمرہ زندگی کے معاشی حالات، ان میں خلیج مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اشیاء کی بڑھتی قیمتوں سے حاصل ہونے والا معاشی استحکام ایک عارضی بند ہے جو گہرائی میں پنپتے تضادات کا وقتی طور پر راستہ روک رہا ہے۔

اس حوالے سے روس کی موجودہ پوزیشن اس لیے مضبوط ہے کیونکہ امریکی سامراج دنیا میں انتشار پھیلا رہا ہے۔ بحران ختم نہیں ہوا ہے۔ وہ محض تعطل کا شکار ہے۔ جب یہ بحران اپنا اظہار کرے گا تو روسی کمیونسٹوں کی تیاری بھرپور ہونی چاہیے۔

Comments are closed.