کیوبا امریکی سامراج کے بدترین جبر کا مقابلہ کر رہا ہے

|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: عبدالحئی|

29جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کی گئی تیل کی بندش آہستہ آہستہ مگر یقینی طور پر کیوبا کا گلا گھونٹ رہی ہے، وہ کیوبا جو اپنی توانائی کی پیداوار کے لیے 60 فیصد تیل کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

یہ مضمون ہماری انٹرنیشنل ویب سائٹ (marxist.com) پر 24 مارچ کو شائع کیا گیا تھا۔ یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کیوبا حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں مگر یہ مذاکرات انتہائی سامراجی دھمکیوں کی شرائط کے تحت ہو رہے ہیں۔ کیوبا انقلاب کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے؟

تیل کی مکمل بندش

کیوبا کو 9 جنوری کے بعد سے، جب PEMEX کا ایک آئل ٹینکر میکسیکو سے کیوبا کے جزیرے پر پہنچا تھا، کوئی تیل یا ایندھن موصول نہیں ہوا ہے، اس کے بعد میکسیکو کی حکومت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے تحت جس نے کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے کسی بھی ملک پر تعزیری محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، تیل کی تمام ترسیل معطل کر دی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود، جس میں ٹرمپ نے اپنے ایگزیکٹو آرڈر میں جو قانونی جواز پیش کیا تھا اس کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا، میکسیکو نے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع نہیں کی ہے۔

اس بارے میں پوچھے جانے پر میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام (Claudia Sheinbaum) نے کہا کہ ”وہ مختلف طریقہ کار کا جائزہ لے کر رپورٹ کریں گے“۔ حقیقت یہ ہے کہ میکسیکو، جو کیوبا کے لیے تیل کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا تھا، امریکی دھمکیوں کے آگے جھک گیا ہے اور اس نے تیل کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ میکسیکو کی حکومت نے ہمدردی کے طور پر انسانی ضروریات کے لیے امداد فراہم کی ہے مگر تیل کے اہم سوال پر اس نے ٹرمپ کے مطالبات کو ترجیح دی ہے۔

3جنوری کو امریکہ کے سامراجی حملے کے بعد وینزویلا، جو کیوبا کا دوسرا سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک تھا، نے بھی تیل کی ترسیل بند کر دی ہے، اب صرف روس باقی رہ جاتا ہے۔ روسی حکومت نے امریکی ناکہ بندی کو مسترد کرتے ہوئے اور کیوبا کی حمایت میں عوامی بیانات جاری کیے ہیں، مگر اب تک کوئی روسی تیل کیوبا تک نہیں پہنچا ہے۔

فروری کے آغاز میں سی ہارس (Sea Horse) نامی ٹینکر کو سائپرس (Cyprus) کے ساحل کے قریب دو لاکھ بیرل روسی ایندھن سے لوڈ کر کے کیوبا کی طرف بھیجا گیا، تاہم 24 فروری کو یہ جہاز کیوبا سے تیرہ سو میل کے فاصلے پر رک گیا اور شمالی بحر اوقیانوس میں بغیر کسی واضح منزل کے رک گیا، چند دن بعد، 17 مارچ کو خبر دی گئی کہ اس نے دوبارہ کیوبا کی طرف رخ کر لیا ہے اور اس کی آمد 24 مارچ کو متوقع تھی۔

امریکا کی جانب سے روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی کا مطلب یہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ اس کے باوجود 20 مارچ تک Reuters نے رپورٹ کیا کہ Sea Horse نے اپنا راستہ بدل لیا ہے اور اب اس کی منزل ٹرینیڈاڈ (Trinidad) اور (Tobago) ٹوبیگو ہے۔ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ صرف ناکہ بندی سے بچنے کے لیے ایک چال ہے۔

دوسری طرف 18 مارچ کو رپورٹ کیا گیا تھا کہ روسی ٹینکر اناتولی کلونکو (Anatoly Klodniko) نے سات لاکھ تیس ہزار بیرل یورال خام تیل کے ساتھ کیوبا کی بندرگاہ مٹنزاس (Matanzas) کا رخ کیا ہے۔ یہ ایک ایسا آئل ٹینکر ہے جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، اس وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اسے امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ کی جانب سے روکا جائے گا، جو کیریبین میں فعال گشت کر رہے ہیں، جو پہلے ہی وینزویلا پر امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرنے والے کئی آئل ٹینکروں کو قبضے میں لے چکے ہیں۔

مزید برآں 19 مارچ کو امریکی پابندیوں کے ادارے OFAC نے 12 مارچ کے جنرل لائسنس 134 میں ترمیم جاری کی تھی جس کے تحت کیوبا کو روسی تیل خریدنے کی آزادی نہیں دی گئی حالانکہ پابندیاں ہٹا دی گئی تھیں۔ ظاہر ہے کہ وائٹ ہاؤس میں موجود شخص کیوبا پر ظالمانہ طور پر تیل کی ناکہ بندی نافذ کرنے کے لیے پختہ عزم رکھتا ہے۔

ٹرمپ اور روبیو کیا چاہتے ہیں؟

گزشتہ چند دنوں میں کیوبا کے خلاف امریکہ کی سخت گیر بیان بازی میں شدت آئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بار ہا کہا ہے کہ وہ اسے کسی نہ کسی طرح حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس نے ”پرامن قبضے“ کا اشارہ دیا ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہ زبردستی قبضہ کر لے۔ مارکو روبیو نے اس بات پر زور دیا تھا کہ کیوبا کی معیشت شدید مشکلات میں ہے اور وہ اس بات کو نظر انداز کر رہا ہے کہ اس تباہی میں امریکا کا سب سے بڑا ہاتھ ہے اور مزید کہا کہ کیوبا کی قیادت نہیں جانتی کہ اس سے کیسے نمٹا جائے اور اس لیے انہیں اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

اپنے منفرد انداز میں ٹرمپ نے بے رحم، جاہلانہ تکبر اور ایک لالچی شخص کی طرح سفارتکاری کو نظر انداز کرتے ہوئے اعلان کیا: ”میرا مطلب ہے، چاہے میں اسے آزاد کروں یا اپنے قبضے میں لے لوں، اگر سچ پوچھیں تو مجھے لگتا ہے کہ میں اس کے ساتھ جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ وہ اس وقت ایک بہت کمزور قوم ہیں۔“

گزشتہ چند دنوں میں کیوبا کے خلاف امریکہ کی سخت گیر بیان بازی میں شدت آئی ہے۔

کئی امریکی میڈیا ذرائع نے رپورٹ کیا ہے کہ کیوبا سے متعلق دو بڑے مطالبات سامنے آئے ہیں: ایک وسیع پیمانے پر معاشی اصلاحات (یعنی مکمل سرمایہ دارانہ بحالی کے مترادف) اور دوسرا کیوبا کے صدر مِگیل ڈیئاز کینل (Miguel Diaz-Canel) کو ہٹانا ایک ایسا اقدام جو واضح طور پر بتائے گا کہ کیوبا نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور یہ وہی ماڈل ہو گا جو امریکہ نے وینزویلا میں اپنایا تھا، جہاں امریکہ نے ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کیا اور صدر مادورو کو فوجی مداخلت کے ذریعے ہٹایا گیا۔

ڈیئاز کینل کو ہٹانا اس کامیابی کا ثبوت ہو گا جسے ٹرمپ دکھا کر یہ ظاہر کر سکے کہ اس نے فتح حاصل کر لی ہے۔ بنیادی مقصد یہی ہے کہ کیوبا کو امریکہ کا ایک نیم نوآبادی بنایا جائے، چین اور روس کے کسی بھی اثر و رسوخ کو ختم کیا جائے اور ملک کو امریکی کاروبار کے لیے کھولا جائے۔

واضح ہے کہ امریکہ یقینی طور پر کئی دیگر رعایتیں بھی مانگے گا جیسا کہ قیدیوں کی رہائی، بعد میں بورژوا انتخابات وغیرہ، لیکن ان کا بنیادی مقصد سرمایہ داری کی بحالی ہے اور وہ اسے امکانی طور بغیر کسی سماجی ہلچل کے، جو امریکہ کی طرف مہاجرین کی لہر کا سبب بن سکتی ہو، حاصل کرنا چاہتا ہے۔

دی اٹلانٹک سے رجوع کرنے کے بعد حکام نے صورتحال کو یوں بیان کیا: ”وہاں اربوں ڈالر کمانے کے مواقع ہیں۔“ ان کے مطابق، ٹرمپ کا نقطہ نظر یہ ہے: ”ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ ہم اپنے نصف کرہ پر کنٹرول رکھ سکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں دوسرے ممالک (روس اور چائنہ) کا کنٹرول ہمارے نصف کرہ سے باہر ہو، کیونکہ ہم سفارتکاری کی بجائے کاروباری برادری پر یقین رکھتے ہیں۔“

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کو فلوریڈا میں موجود رجعت پرست کیوبن-امریکی کمیونٹی سے بھی نمٹنا پڑے گا جو ڈیئاز کینل کی برطرفی سے مطمئن نہیں ہو گی۔ وہ کیوبا انقلاب اور اپنے والدین کی جائیدادوں کے ضبط ہونے کا بدلہ چاہتے ہیں۔ یہ شدید کمیونزم مخالف جتھہ انقلاب کا مکمل خاتمہ، ریاست کی تباہی اور ان کے تصور کے مطابق ’کمیونزم‘ کا مکمل اختتام دیکھنا چاہتا ہے۔

لیکن جیسا کہ وینزویلا میں ماریا کورینا مچادو (Maria Corina Machado) کے حمایتیوں کے ساتھ ہوا کہ اگر ٹرمپ کیوبا کی قیادت کے ایک حصے کے ساتھ بھی کوئی معاہدہ کر لے وہ اس طرح کی صورتحال سے بھی مطمئن نہیں ہوں گے۔ رجعت پسند کیوبن-امریکی کمیونٹی امریکا کی سیاست میں اپنے وینزویلا کے ہم منصبوں سے کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہے۔

16مارچ کو دی نیو یارک ٹائمز میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ”ٹرمپ انتظامیہ صدر میگل ڈیئاز کینل کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن کاسترو خاندان جو ملک کے سب سے بڑے طاقت ور افراد ہیں، کے کسی بھی رکن کے خلاف کوئی بھی کاروائی کی کوشش نہیں کر رہی“۔ اس رپورٹ کے مطابق، امریکہ کا زور اس بات پر ہے کہ کیوبا مکمل طور پر اپنی معیشت کو امریکی کاروباری افراد اور کمپنیوں کے لیے کھولے تاکہ ایک کٹھ پتلی ریاست کی بنیاد رکھی جا سکے اور ساتھ ہی مسٹر ٹرمپ کے لیے چند علامتی سیاسی کامیابیاں حاصل کی جائیں جن کا وہ اعلان کر سکے۔

اس رپورٹ نے فلوریڈا کے کئی غداروں کو غصے میں مبتلا کر دیا جو بدلے کے لیے چِلا رہے ہیں اور ممکن ہے کہ یہی ردعمل مارکو روبیو کو مجبور کرے کہ وہ اسے علانیہ مسترد کر دے اور کہے کہ دی نیو یارک ٹائمز کے ذرائع ”جھوٹے اور بے بنیاد“ ہیں۔

اسی نوعیت کی ایک رپورٹ چند دن پہلے یو ایس اے ٹوڈے (USA Today) میں بھی شائع ہوئی تھی۔ مضمون میں لکھا گیا تھا: ”اس معاہدے میں امریکیوں کے لیے ہوانا کی جانب سفری سہولت میں نرمی شامل ہو سکتی ہے۔ مذاکرات میں صدر میگل ڈیئاز کینل کے لیے ایک راستہ، کاسترو خاندان کا جزیرے پر برقرار رہنا، بندرگاہوں، توانائی اور سیاحت کے معاملات پر سودے شامل ہیں۔“

کیوبا کا ردعمل کیا ہے؟

ہفتوں تک مذاکرات سے انکار کرنے کے بعد آخر کار 13 مارچ کی صبح صدر ڈیاز کینل نے تسلیم کیا کہ یہ مذاکرات واقعی ہو رہے ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں کمیونسٹ پارٹی اور ریاست کی مکمل قیادت (سیاسی بیورو، PCC کی مرکزی کمیٹی کا سیکرٹریٹ اور کونسل آف منسٹرز کی ایگزیکٹو کمیٹی) بھی موجود تھی۔

قابل ذکر بات یہ تھی کہ راؤل کاسترو کا پوتا، راؤل گلرمو کاسترو بھی اس میٹنگ میں موجود تھا، جس کا کئی ہفتوں سے امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کی رپورٹس میں ذکر کیا جا رہا تھا، حالانکہ وہ کیوبا کی حکومت یا کمیونسٹ پارٹی میں کسی سرکاری قیادت کی پوزیشن نہیں رکھتا۔

اپنے بیان میں، ڈیئاز کینل نے کہا کہ ”وہ یہ جانچنے کی کوشش میں ہے کہ کون سے دو طرفہ مسائل ہیں جن کا حل کرنا ضروری ہے“، ”دونوں فریقین کی رضامندی کا تعین کرنا کہ وہ دونوں ممالک کے عوام کے فائدے کے لیے اقدامات کریں“ اور ”باہمی تعاون کے ایسے راستے تلاش کریں جو خطرات سے نمٹیں اور دونوں قوموں کی سلامتی اور امن کو یقینی بنانے میں مدد دیں“۔

ہفتوں تک مذاکرات سے انکار کرنے کے بعد آخر کار 13 مارچ کی صبح صدر ڈیاز کینل نے تسلیم کیا کہ یہ مذاکرات واقعی ہو رہے ہیں۔

اس نے اصرار کیا کہ مذاکرات میں کیوبن فریق نے یہ واضح کیا ہے کہ ”اس عمل کو مساوات کی بنیاد پر اور دونوں ریاستوں کے سیاسی نظام کے احترام، ہماری حکومت کی خودمختاری اور خود ارادیت کے تحفظ کے ساتھ انجام دیا جائے“۔

باتوں میں تو یہ الفاظ خوبصورت معلوم ہوتے ہیں لیکن جب امریکی سامراج کیوبا انقلاب کے سر پر بندوق رکھے ہوئے ہے، یا زیادہ درست طور پر کہا جائے اس کے گرد ایک سخت پھندہ ڈال رکھا ہے اور دن بہ دن اس کا گلا دبانے کی حکمت عملی مضبوط کر رہا ہے تو اس صورتحال میں کوئی مذاکرات باہمی فائدے، تعاون اور احترام کی بنیاد پر نہیں ہو سکتے۔

ڈیئاز کینل کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد وزیر خارجہ برائے تجارت نے اقتصادی اقدامات کا اعلان کیا تاکہ کیوبن-امریکی اور دیگر امریکی شہری براہِ راست کیوبا میں سرمایہ کاری کر سکیں (اب تک انہیں یہ کام کیوبا میں قائم کمپنیوں کے ذریعے کرنا پڑتا تھا)۔ وہ نہ صرف چھوٹے کاروباروں میں بلکہ بنیادی سہولیات کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، اور اب انہیں کیوبا کے بینکنگ سسٹم تک بھی رسائی حاصل ہے۔ اس محکمے کا وزیر آسکر پریز اولیویا فراگا (Oscar Perez-Oliva Fraga) ہے، جو ملک کا نائب وزیراعظم بھی ہے۔ وہ ان افراد میں سے ہے جنہیں امریکی سرمایہ دارانہ میڈیا کی افواہ ساز مشین ’کیوبن ڈیلسی‘ کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے، یعنی ایک ایسا شخص جو اعلیٰ رہنما کے ہٹائے جانے کے بعد امریکی سامراج کے ماتحت ہو جائے۔

مارکو روبیو نے اس اعلان کو فوراً رد کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ کافی نہیں ہے“:

”کیوبا کی معیشت ناقص ہے اور ان کا سیاسی و حکومتی نظام ایسا ہے جسے وہ درست نہیں کر سکتے۔ لہٰذا انہیں بنیادی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ جو کچھ انہوں نے کل اعلان کیا اس سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ لہٰذا، انہیں کچھ اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔“

یہ بات واضح ہے کہ امریکی سامراج محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس واشنگٹن کے زیرِ تسلط مکمل سرمایہ داری کی بحالی کی طرف فوری اور نمایاں اقدامات کا مطالبہ کرنے کے لیے ضروری اثر و رسوخ موجود ہے۔ ظاہری طور پر بھی طاقت کا توازن کیوبا انقلاب کے حق میں انتہائی غیر موافق دکھائی دیتا ہے۔

جبکہ تیل پر پابندی اب سامراجی دھمکیوں کا مرکزی ہتھیار بن چکا ہے، امریکی حکومت کیوبا میں سیاسی و عسکری قیادت کے خلاف قانونی فردِ جرم لانے کی تیاری بھی کر رہی ہے، جس میں 95 سالہ راؤل کاسترو بھی شامل ہے۔ جنوبی فلوریڈا کی ریاستی اٹارنی پہلے ہی متعدد ایجنسیوں کے تعاون سے ایک قانونی جواز تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کیوبا پر امریکی حملے کے لیے قانونی جواز فراہم کیا جا سکے۔ یہ بالکل وہی طریقہ ہے جو امریکہ نے وینزویلا میں استعمال کیا، جہاں صدر مادورو پر کارٹیل منشیات کے گروہ کے لیڈر ہونے کا الزام لگایا گیا حالانکہ امریکی تحویل میں آنے کے بعد اس جھوٹے الزام کو جلد ہی ہٹا دیا گیا تھا۔

کیوبا انقلاب کا دفاع کیسے کیا جائے؟

3جنوری کو وینزویلا پر ہونے والا حملہ کیوبا کی قیادت اور عوام کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں: سب سے پہلے، اس نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکا خود کو صرف اقتصادی اور سفارتی دھمکیوں تک محدود نہیں رکھے گا، بلکہ براہِ راست فوجی مداخلت سے بھی گریز نہیں کرے گا اور اگر وہ چاہے تو اسے انجام دینے کے لیے اس کے پاس زبردست فوجی اور تکنیکی وسائل بھی موجود ہیں۔

دوسرا سبب یہ تھا کہ وینزویلا کی سیاسی اور عسکری قیادت، جو کیوبا کے بہت قریب تھی، نے حملے کے بعد بہت کم مزاحمت کی اور امریکی سامراج کے آگے جلد ہی جھک گئے۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ کیوبا کے فوجیوں کو اس حادثے میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا جہاں 32 کیوبا اہلکار اپنے فوجی عہدے پر وینزویلا کا دفاع کرتے ہوئے امریکہ کے حملے میں مارے گئے۔ ان 32 کیوبا فوجیوں کی لاشیں جزیرے پر واپس لائی گئیں، جہاں تین دن کا قومی سوگ منایا گیا اور عوام نے دکھ کا بھرپور اظہار کیا۔

آخرکار امریکہ کی وینزویلا پر 3 جنوری کی جارحیت نے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ نہ تو روس نہ چائنا اور نہ ہی لاطینی امریکہ کے بعض خود ساختہ ترقی پسند حکومتی حلقے کارکاس کو جب سب سے زیادہ ضرورت تھی تو اسے فوجی طاقت کے ذریعے بچا سکتے تھے، لیکن فوجی امداد کرنے کی بجائے ان ممالک نے خود کو محض مذمتی جگالی تک ہی محدود رکھا۔

3جنوری کو وینزویلا پر ہونے والا حملہ کیوبا کی قیادت اور عوام کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔

گزشتہ چند ہفتوں میں، میں نے بہت سے کیوبا کے ساتھیوں سے بات کی ہے۔ کچھ باتیں جو کئی لوگوں نے مشترکہ طور پر بیان کیں وہ یہ تھیں: ”اگر وہ فوجی حملے کے ساتھ آئیں گے، تو ہم مزاحمت کریں گے، حالانکہ ہمارے تکنیکی وسائل بہت کمزور ہیں۔ لیکن یہاں وینزویلا کی طرح نہیں ہو گا۔“

کیوبا کے سب سے معروف گلوکار اور نغمہ نگاروں میں سے ایک، سلوِیو روڈریگو نے اعلان کیا، ”میں اپنے لیے AKM کا مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ حملہ کریں۔ اور یہ جان لیں کہ میں واقعی اس کے لیے تیار ہوں۔“ اس کے اگلے دن کیوبا کی مسلح افواج نے ایک عوامی تقریب میں اسے اسالٹ رائفل فراہم کیا، سلوِیو کے اس قدم سے کیوبا میں موجود ایک گہرا سامراج مخالف مزاج ظاہر ہوتا ہے۔ یہ جذبہ ان کئی لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے جو بیوروکریسی، اس کے طریقہ کار اور سرمایہ داری کی بحالی کے بڑھتے ہوئے عمل پر سخت تنقید کرتے ہیں۔

لیکن جن ساتھیوں سے میں نے بات کی، انہوں نے مزید کہا: ”لیکن اگر وہ ایسی پیشکش کے ساتھ آئیں کہ ’ہم محاصرہ ختم کرتے ہیں اور تم معاشی اصلاحات نافذ کرو، ’تو قیادت اس سے متفق ہو جائے گی اور اس کے علاوہ زیادہ تر عوام بھی اس کے حق میں ہوں گے، حالانکہ اس کا مطلب تو سرمایہ داری کی بحالی ہو گا۔“

انہوں نے مجھے یہ وضاحت دی: ”لوگ تھک چکے ہیں، کمزور ہو چکے ہیں، موجودہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہے، چارکول سے کھانا پکانا، 48 گھنٹوں میں صرف چار گھنٹے بجلی اور ہم کس طرح مزاحمت کریں گے؟ متبادل کیا ہے؟“ انہوں نے مزید کہا، ”بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ’جو کچھ بھی ہو، وہ ہماری موجودہ حالت سے بہتر ہو گا‘۔“

یہ ایک اہم پہلو ہے جسے مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ قیادت پر اپنا اعتماد کھو چکا ہے، بالکل اسی وجہ سے کہ قیادت کی جانب سے کی گئی ہر کوشش ناکام ثابت ہوئی ہے۔

سرمایہ داری کے حق میں اصلاحات کے اثرات

اس وضاحت کے لیے ہم 2011ء کے معاشی ضوابط کی طرف جا سکتے ہیں، جن پر ایک وسیع مباحثہ ہوا تھا۔ تجویز یہ تھی کہ پیداوار کی قوتوں کو آزاد کرنے کے لیے مارکیٹ کے لیے رعایتیں دی جائیں۔ بنیادی طور پر کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔

اوبامہ کے 2014ء میں سفارتی تعلقات کو دوبارہ کھولنے نے بہتری کی ایک کرن دکھائی، لیکن پھر ٹرمپ آیا اور محاصرے کو بے رحمی سے سخت کر دیا۔ اس کے بعد کرونا وباء کا زبردست دھچکا لگا، جس نے ملک کے اہم زر مبادلہ کے ذرائع یعنی سیاحت کو ختم کر دیا اور ساتھ ہی اخراجات میں اضافہ کیا۔

اس کے بعد 2020ء میں کرنسی کی یکسانیت (unification) آئی جس سے خریداری کی طاقت میں اور زیادہ کمی ہوئی اور سماجی عدم مساوات میں اضافہ ہوا۔

جب ڈیئاز کینل اقتدار میں آیا تو اس کے پاس کچھ حد تک سیاسی سرمایہ موجود تھا۔ اسے عوام کے قریب اور سادہ مزاج شخص کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب وہ سارا سیاسی سرمایہ کھو چکا ہے۔

کیوبا کی قیادت نے خاص طور پر پچھلے 15 سالوں میں سب کچھ معاشی اصلاحات پر لگا دیا جو مبینہ طور پر پیداواری قوتوں کو آزاد کرنے والی تھیں۔ دوسرے الفاظ میں، انہوں نے چینی یا ویتنامی ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے بتدریج سرمایہ داری کی بحالی کے راستے پر قدم رکھا۔ سرمایہ داری کے حق میں اصلاحات کو صرف سرمایہ دارانہ محاصرے کے سامنے ضروری رعایت کے طور پر نہیں بلکہ انقلاب کے بحران سے نکلنے کے ایک ترقی پسندانہ راستے کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ خیال کہ ریاستی منصوبہ بندی مسئلہ ہے اور مارکیٹ کی مسابقت اور نجی کاروبار حل ہیں، غالب آ گیا۔

جیوپولیٹکس پر مبنی ایک بین الاقوامی پالیسی

بین الاقوامی سطح پر، کیوبا کی قیادت کی پالیسی ’ترقی پسند حکومتوں‘ کی حمایت اور آگے بڑھنے کے لیے ’کثیر قطبیّت‘ کی وکالت پر مبنی تھی۔ مرکزی موضوع ’نیو لبرل ازم کے خلاف‘ لڑائی تھا (نہ کہ سرمایہ داری کے خلاف) اور یہ خیال غالب رہا کہ روس اور چین کے ساتھ اتحاد اور BRICS میں شمولیت کیوبا کو تنہائی سے نکال سکتے ہیں۔ 1966ء میں چی گویرا کے ذریعہ ”دو، تین، کئی ویتنام“ کا نعرہ ایک پرانی یاد بن چکا تھا۔

اسی طرح روس اور چین بھی کیوبا انقلاب کا دفاع نہیں کرتے، بلکہ اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔

عالمی انقلاب اس بحث کا حصہ بھی نہیں تھا۔ اس سے بھی بدتر صورتحال کہ جب وینزویلا میں بولیواریا کے انقلاب کے دوران موقع ملا تو کیوبا کی قیادت کی دی گئی نصیحت یہ تھی ’ہمارے ماڈل کی نقل مت کرو، ہر انقلاب کا اپنا راستہ ہوتا ہے‘۔ ’ہم انقلاب برآمد نہیں کرتے‘ کے بہانے کے تحت کیوبا انقلاب کے وہ اسباق کہ صرف سرمایہ داری کی قومی املاک کو ضبط کرنے کے ذریعے ہی قومی جمہوری مقاصد، زرعی اصلاحات اور قومی خودمختاری حاصل کی جا سکتی ہے، شیئر نہیں کیے گئے۔ اس سے بد تر ان ساری چیزوں کو چھپا کر ان کے خلاف کام کیا گیا۔

اورلینڈو بورریگو (Orlando Borrego) جو بہت زیادہ سیاسی اتھارٹی رکھتا تھا اور جس نے چی گویرا کے ساتھ بھی کام کیا تھا، وینزویلا گیا تاکہ مزدوروں کو لیکچر دے کہ مزدوروں کے کنٹرول اور انتظامی کمیٹیوں کی شکل ”رد انقلابی“ ہے اور اسے ترک کرنا چاہیے۔

نتیجہ کیا نکلا؟ بولیواریا کا انقلاب جو معاشی حوالے سے اور خاص طور پر سیاسی حوالے سے ایک مضبوط امید تھی، لیکن (کیونکہ کیوبا اب تنہا نہیں تھا) سرمایہ داری کی ضبط کاری کے ساتھ مکمل نہیں ہو سکا اور اس لیے ناگزیر طور پر ناکام ہوا اور زوال کا شکار ہوا۔ اس تمام عمل کا آخری نتیجہ 3 جنوری 2026ء تھا۔

یہ خیال کہ وینزویلا کو کیوبا کے انقلاب سے اسباق نہیں حاصل نہیں کرنے چاہییں، اس نے اس کے لیے مزید تنہائی کو جنم دیا۔

جب 2014ء کے بعد اجناس کی قیمتیں گر گئیں تو لاطینی امریکہ میں جو ممالک موجود ہیں اور کیوبا کے دفاع کرنے کے لیے ڈر رہے ہیں وہ اصلاح پسند حکومتیں بھی کمزور ہو گئیں۔ میکسیکو، کولمبیا اور برازیل، تیل پیدا کرنے والے ان تمام ممالک نے امریکہ کی دھمکیوں کی وجہ سے کیوبا کو تیل فراہم کرنے کے لیے انگلی تک نہیں ہلائی۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ علاقائی ممالک نے عملی طور پر کیوبا کے بحران میں مدد نہیں کی، بلکہ انہوں نے محض رسمی طور پر مذمتی بیانات دیے ہیں۔ اسی طرح روس اور چین بھی صرف بیانات جاری کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی اصل دباؤ آتا ہے وہ کیوبا انقلاب کا دفاع نہیں کرتے، بلکہ اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔

یہاں تک کہ کیوبا کے لیے ان کی حمایت بھی مشروط ہے۔ کچھ سال پہلے روس کے اسٹولیپن انسٹیٹیوٹ (Stolypin Institute of Russia) کے نمائندگان ہوانا گئے تاکہ سرمایہ داری کی طرف مزید پیش قدمی کی جا سکے۔ چین اور روس سرمایہ دارانہ ممالک ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے اہم حریف سے صرف 90 میل دور کسی ملک کے ساتھ تعلقات تو قائم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں مگر ان کی دلچسپی کیوبا انقلاب کے دفاع میں قطعی نہیں ہے۔

مارکیٹ کے لیے مسلسل بڑھتی ہوئی رعائیتوں کی یہ معاشی پالیسی، اصلاح پسندی اور جیوپولیٹکس کی حمایت پر مبنی یہ خارجہ پالیسی، بیوروکریسی کے بوجھ کے اثرات کے ساتھ مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ تنقیدی سوچ پر جزوی یا مکمل پابندی سماج کے سب سے متحرک اور انقلابی عناصر خاص طور پر نوجوانوں کو بیگانہ بنا دیتی ہے، جو بائیں بازو میں کوئی متبادل راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

یہ تمام بے رحم عوامل اور مسلسل سخت ہوتے اقتصادی محاصرے، سامراجی جارحیت، سرمایہ داری کی بحالی کی پالیسیاں اور کرونا وباء کے اثرات مل کر مایوسی اور افسردگی کا عمومی ماحول پیدا کر چکے ہیں۔ ایک ملین سے زائد کیوبا کے لوگ، ان میں سے زیادہ تر نوجوان نسل ملک چھوڑ چکے ہیں۔ معیشت 2022ء سے کساد بازاری کا شکار ہے۔

اور یہ پالیسیاں ٹرمپ کے حملے کے درمیان بھی جاری ہیں۔ مارچ کے شروع میں ہوانا کی ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (CUJAE) کے ایک معماری پروفیسر کا معاہدہ تجدید نہیں کیا گیا کیونکہ اس نے سوشل میڈیا پر بیوروکریسی کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ اسی دوران کیوبا حکومت نے حال ہی میں اولڈ ہومز کی دیکھ بھال کے شعبے کو نجی سیکٹر کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

انقلاب کی تعلیم، صحت اور رہائش کے شعبوں میں حاصل کردہ ٹھوس کامیابیاں شدید طور پر کمزور ہو گئی ہیں اور اسی طرح سرمایہ داری کی لعنتیں یعنی بڑھتی ہوئی سماجی تفریق، پہلے ہی موجود ہیں۔

وہ نسل جس نے 1959ء میں انقلاب کی قیادت کی تھی، تقریباً مکمل طور پر غائب ہو چکی ہے۔ اس قیادت کے بچے اور پوتے ان کے کسی بھی معیار یا خصوصیت کے حامل نہیں ہیں۔ ان میں سے بہت سے نجی کاروبار میں ملوث ہیں اور ان میں سے بدترین لوگ اپنی نئی حاصل کردہ دولت اور مراعات کو سوشل میڈیا پر بے شرمی سے دکھاتے ہیں۔

ان میں سے بیشتر، جیسا کہ ٹراٹسکی نے اپنی کتاب انقلاب سے غداری (The Revolution Betrayed) میں بیان کیا، اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ کس طرح وہ ریاستی ملازمین اور معیشت کے ریاستی شعبوں کے منتظمین سے کاروباری سرمایہ دار بن سکتے ہیں، یعنی خود کاروبار کے مالک بن جائیں۔

انقلابی کمیونسٹوں کے فرائض

کیوبا انقلاب کو درپیش خطرہ سنگین اور فوری ہے۔ دنیا بھر میں ہمارے فرائض بحیثیت انقلابی کمیونسٹوں کے یہ ہیں کہ ہم کیوبا کا دفاع کریں۔ ہم نہ صرف ایک چھوٹے خودمختار ملک کا دفاع کر رہے ہیں جو دنیا کی سب سے طاقتور اور قدامت پسند سامراجی طاقت کی جرم پر مبنی جارحیت کا شکار ہے، بلکہ ہم ایسے ملک کا بھی دفاع کر رہے ہیں جس نے سرمایہ داری کو ختم کیا۔ منصوبہ بند معیشت امریکی محاصرے، بیوروکریسی، اور فری مارکیٹ اصلاحات کی وجہ سے شدید کمزور ہو گئی ہے، لیکن یہ اب بھی موجود ہے۔

کیوبا میں سرمایہ داری کی بحالی کا مطلب ہو گا کہ ملک کا بے رحمانہ طور پر امریکی سامراجیت کے تابع ہونا اور پلاٹ ترمیم (Platt Amendment) کے دور کی واپسی، جس نے جزیرے پر امریکہ کی بالا دستی کو تسلیم کیا اور کیوبا کے عوام کی اکثریت کے معیارِ زندگی کا شدید زوال اور دولت ایک چھوٹی اقلیت کے ہاتھوں میں مرکوز ہو جائے گی۔

ہمیں ٹرمپ کے تیل کے محاصرے کے خلاف دنیا بھر کی مزدور تحریک کو اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے متحرک کرنا چاہیے۔

ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ہم اس مقام تک کیسے پہنچیں گے۔

کیوبا انقلاب کی ساری تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک ملک میں سوشلسٹ نظام قائم کرنا ناممکن ہے۔ یہ صرف انہی ادوار میں ممکن تھا جب یہ سوویت یونین کے ساتھ منسلک تھا اگرچہ اس کے نتیجے میں بیوروکریسی کے عمل پر منفی سیاسی اثر پڑا اور پھر بولیواریا کے انقلاب کے ساتھ کیوبا کو کچھ حد تک سانس لینے کی گنجائش حاصل ہوئی۔

گھریلو سطح پر سرمایہ دارانہ مارکیٹ اصلاحات اور بیوروکریسی کی پالیسی، بین الاقوامی سطح پر جیوپولیٹکس اور کثیر قطبیّت کے ساتھ نہ صرف کیوبا انقلاب کے دفاع میں ناممکن ہے بلکہ یہ نقصان دہ بھی ہیں اور انقلاب کے خاتمے میں حصہ ڈالتی ہیں۔ ان چیزوں کے خلاف لڑائی ضروری ہے، جو مزدوروں کے کنٹرول اور جمہوریت کی وسیع ترین شکلوں کے لیے ہو۔ ریاست اور معیشت کی تمام سطحوں پر ایک حقیقی پرو لتاری بین الاقوامیت کی پالیسی یعنی عالمی انقلاب کی جدوجہد بھی ضروری ہے۔

کیوبا کے باہر انقلابی کمیونسٹوں کے طور پر ہم اس ضروری بحث میں اپنی انقلابی رائے رکھیں گے جو پہلے سے ہی جاری ہے۔

ہمارا بنیادی فرض یہ ہے کہ انقلابی پارٹی کی تعمیر میں تیزی لائی جائے جو ہماری طبقاتی طاقت کو اقتدار تک پہنچا سکے، چاہے کسی بھی ملک میں ہو کیونکہ آخر کار کیوبا انقلاب کے دفاع کا واحد مؤثر طریقہ عالمی انقلاب ہے۔

Comments are closed.