امریکہ: مینیسوٹا کی عام ہڑتال، تاریخ کا ایک اہم موڑ

|تحریر: برائس جارڈن، ترجمہ: عبدالحئی|

مینیاپولس ایک بار پھر امریکہ میں طبقاتی جدوجہد کا مرکز بن گیا ہے۔ وہ شہر جس نے 2020ء میں جارج فلوئیڈ کی بغاوت کو جنم دیا تھا گزشتہ تین ہفتوں سے ملک بھر کے باشعور مزدوروں اور نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور ابھی تک حالات کے سست پڑنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

جب سے ٹرمپ نے مہینے کے آغاز میں تین ہزار آئس (ICE) اہلکاروں کو شہر میں تعینات کیا ہے ٹوِن سٹیز (Twin Cities) میں استحکام اور معمولاتِ زندگی کی جو بھی جھلک باقی تھی، وہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے 7 جنوری کو رینی گڈ (Renee Good) کا قتل ہوا۔ اس کے بعد ICE کے خلاف روزانہ احتجاج اور وسیع عوامی مزاحمت شروع ہوئی جو بالآخر 23 جنوری کو عملی طور پر ایک عام ہڑتال پر منتج ہوئی۔ ایک دن بعد بارڈر پٹرول (Border Patrol) نے ایک آئی سی یو نرس الیکس پریٹی (Alex Pretti) کو گولیوں سے چھلنی کر دیا اور اسی مہینے وفاقی اہلکاروں کے ہاتھوں کسی امریکی شہری کی یہ دوسرا ماورائے عدالت قتل تھا۔

مینیسوٹا کے لاکھوں عام شہری یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کا شہر وفاقی اہلکاروں کے قبضے میں ہے اور جب ڈیموکریٹس کے پاس کوئی حقیقی حل نہیں ہے تو عام لوگ خود ہی معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔

ٹوِن سٹیز میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی اہمیت بڑھا چڑھا کر بیان کرنا تو مشکل ہے۔ کمیونسٹوں کو چاہیے کہ وہ ان واقعات کا بغور مطالعہ کریں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کریں کہ ان حالات کا اکیسویں صدی کے دوسرے چوتھائی میں طبقاتی جدوجہد کے لیے اور امریکی معاشرے کی اس پیش رفت کا کیا مطلب ہے۔ ہم نے پچھلے مضامین میں رینی گڈ کے قتل اور اس کے جواب میں پیدا ہونے والی ابتدائی عوامی مزاحمت کو بیان کر چکے ہیں۔ اب ہم اسی جگہ سے بات کو آگے بڑھائیں گے جہاں ہم نے 23 جنوری ”ڈے آف ایکشن“ کے موقع پر چھوڑا تھا۔

مینیسوٹا میں 2026ء کی عام ہڑتال

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ 23 جنوری 2026ء کو امریکی طبقاتی جدوجہد کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

مقامی یونینوں اور دیگر تنظیموں کی جانب سے آئس (ICE) کی غنڈہ گردی کے خلاف ”ڈے آف ایکشن“ کی اپیل پر دسیوں ہزار مینیسوٹنز نے –9° F (–23° سینٹی گریڈ) کی شدید سردی کے باوجود بھرپور اور پُر جوش عوامی سیاسی جدوجہد میں حصہ لیا۔ اس کا نتیجہ عملی طور پر پورے شہر میں ایک عام ہڑتال کی صورت میں نکلا، جو نچلی سطح سے مسلط کی گئی تھی۔

یہ پہلی بار تھا کہ امریکہ میں گزشتہ 80 برسوں میں اس سے ملتی جلتی کوئی چیز رونما ہوئی ہو، یعنی 1946ء کی ہڑتالی لہر کے بعد، جس کے دوران اوکلینڈ، روچیسٹر اور دیگر شہروں میں عام ہڑتالیں ہوئیں تھیں۔

مزید برآں یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی عام ہڑتال تھی۔ یہ اجرتوں اور مراعات کے لیے کوئی معاشی جدوجہد نہیں تھی، بلکہ ایک کھلا سیاسی عمل تھا جس کا رخ براہِ راست قومی حکومت کے جابرانہ نظام کے خلاف تھا۔ یہ عام ہڑتال اُن مزدوروں کے دفاع میں شروع ہوئی جنہیں صرف اس وجہ سے ناحق قتل کیا گیا تھا کہ اُن کے پاس ایک مخصوص کاغذ کا ٹکڑا موجود نہیں تھا، اور اُن امریکی شہریوں کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاج کے طور پر بھی جنہیں اپنے آئینی حقوق استعمال کرنے کے جرم میں مارا گیا تھا۔ اس سب میں ابھرتے ہوئے طبقاتی شعور کے ابتدائی خدوخال کو بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

کسی لڑاکا طبقاتی جدوجہد کی قیادت موجود نہ ہونے کے باجود یہ ہڑتال خودبخود پھیل گئی اور اس کی بڑی وجہ ٹوِن سٹیز کے مختلف محلوں کی میٹنگوں اور سِگنل چیٹس میں مزدور طبقے کی خود رو تنظیم کاری تھی۔

یہاں تک کہ گریگ بووینو (Greg Bovino) امریکی بارڈر پٹرول کے سخت رجعت پسند ”کمانڈر ایٹ لارج“ کو بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا۔ جیسا کہ اس نے 20 جنوری کی پریس کانفرنس میں کہا: ”جو ہم نے یہاں دیکھا وہ [دوسرے شہروں میں امیگریشن چھاپوں سے] کچھ مختلف ہے، وہ یہ کہ کچھ گروپس کی تنظیم کاری ہے۔ یہ گروہ بہتر طور پر منظم ہیں۔ ان کے درمیان شاندار رابطہ کاری قائم ہے۔ یہ ”شاندار رابطہ کاری“ 23 جنوری کے قریب بننے والے حالات میں پوری طرح ظاہر ہوئی۔

ذرا تصور کریں کہ اگر یونینز واقعی اپنے اراکین اور وسائل کو متحرک کر کے مکمل عام ہڑتال کرتیں تو کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا تھا! جیسا کہ ہم نے 23 جنوری سے پہلے وضاحت کی تھی:

چونکہ تیار ہونے کے لیے وقت بہت کم تھا، 23 جنوری کے ڈے آف ایکشن کو مینیسوٹا میں مکمل عام ہڑتال کے لیے ایک منظم مہم کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یونین کے نمائندے مزدوروں کو ہڑتال کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کرنے اور انہیں طویل لڑاکا جدوجہد کے لیے تیار کرنے کی مہم چلائیں۔ ایک مکمل عام ہڑتال نہ صرف ICE کے خلاف مزاحمت کرے گی بلکہ مہنگائی کے بحران سے متعلق وسیع معاشی مطالبات بھی اجاگر کرے گی جس سے مزدور طبقے کی اور وسیع تر پرتوں کو بھی اس میں شامل کیا جا سکے گا۔

ایک کامیاب ہڑتال کے لیے سنجیدہ تنظیم کاری ناگزیر ہے جو ہر کام کی جگہ اور محلے میں ایکشن کمیٹیوں سے شروع ہوتی ہے۔ یہ کمیٹیاں شہری علاقوں سے نمائندے منتخب کر کے انہیں ٹوِن سٹیز (Twin Cities) کی سطح پر اجلاس میں شامل کر سکتی ہیں۔ اس سے ایک حقیقی عام ہڑتال کے لیے تنظیمی بنیاد فراہم ہو گی، ایک منتخب اور جوابدہ ادارہ جو پورے علاقے کے مزدوروں کی نمائندگی کرے گا۔ ایسے اقدام حالات کو بدل دیں گے اور مستقبل قریب میں کامیاب لڑائیوں کے لیے میدان تیار کریں گے۔

جنگل کی آگ کی طرح پھیلنا

نیچے سے دباؤ کے تحت کچھ یونینوں کے ساتھ ساتھ این جی اوز اور چرچ نے 23 جنوری کو ICE کے جبر کے خلاف احتجاج کے لیے ”ڈے آف ٹروتھ اینڈ جسٹس“ منانے کی اپیل کی۔ بالآخر مینیاپولس کی علاقائی AFL-CIO تنظیم نے اس کی حمایت کی، جس کے بعد ریاستی سطح پر موجود AFL-CIO تنظیم نے بھی اس کی توثیق کی۔

یہ مزدور تحریک کے لیے ایک اہم پیش رفت تھی، جس کی RCA نے پُر جوش حمایت کی۔ تاہم انہوں نے باضابطہ طور پر ڈے آف ایکشن کی توثیق تو کی تھی لیکن یونین کے قائدین اس کے کردار کے بارے میں مبہم تھے۔ وہ Taft-Hartley جیسے غیر جمہوری قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے کتراتے تھے، جو یونینوں کو یکجہتی ہڑتال میں شامل ہونے سے روکتے ہیں اس لیے انہوں نے صرف ایک مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور واضح طور پر لفظ ”ہڑتال“ تک نہیں کہا، ”عام ہڑتال“ کا ذکر تو دور کی بات ہے۔

تاہم عام کارکنوں اور صفِ اول کے سرگرم کارکنوں کے خیالات مختلف تھے۔ رینی گڈ کے قتل اور ICE کے غنڈوں کی طرف سے ان کے ہمسایوں اور ساتھی کارکنوں پر ڈھائے جانے والے بے انتہا تشدد سے غصے میں آ کر، دسیوں ہزار مینیسوٹنز نے فیصلہ کیا کہ بس اب بہت ہو گیا۔ ایک عام ہڑتال کا جوش روزگار کی جگہوں اور کیمپسز میں پھیل گیا، باوجود اس کے کہ امریکی میڈیا نے منصوبہ بند ”معاشی ہڑتال“ کے بارے میں تقریباً مکمل خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔

ڈے آف ایکشن کی صبح تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ کسی بھی چیز سے اس تحریک کی رفتار کو روکا نہیں جا سکتا تھا اور اس دن مینیسوٹا میں ایک بڑی چیز پنپ رہی تھی۔ نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا:

”سینٹ پال فیڈریشن آف ایجوکیٹرز، جو اساتذہ اور تعلیمی معاون عملے کی نمائندہ یونین ہے، کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن جیک اینڈرسن نے کہا کہ جمعے کی ہڑتال اور احتجاج کی خبر پچھلے دنوں میں ”جنگل کی آگ کی طرح“ پھیل گئی تھی۔ مینیاپولس اور سینٹ پال میں بیشتر کاروباری اداروں نے کام بند کرنے کا اعلان کیا۔ جمعے کے روز یوں محسوس ہو رہا تھا کہ بہت سوں نے واقعی اس وعدے پر عمل کیا تھا۔“

اسی مضمون میں آگے ذکر ہوتا ہے:

کچھ مقامی اور ریاستی یونین رہنماؤں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ آیا وہ اپنے اراکین کو عام ہڑتال میں حصہ لینے کی ترغیب دیں یا نہیں، کیونکہ یہ ریاستی اور وفاقی ہڑتالی قوانین کے تحت منظم نہیں کی گئی تھی اور اسے باضابطہ طور پر ”کام بند کرنے کا دن“ بھی قرار نہیں دیا گیا تھا۔ لیکن بائیکاٹ کی تحریک اس قدر وسیع پیمانے پر پھیل گئی تھی کہ اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا۔

ہڑتال

اس کے بعد ہونے والی عمومی کام کی بندش معمول کے ایک عوامی مظاہرے کی حدود سے کہیں آگے بڑھ گئی تھی۔ اس خیال کو شاید ٹریڈ یونینوں نے پیش کیا ہو، لیکن ریاست بھر کے مزدوروں نے اسے اپنایا اور اسے اپنی تحریک بنا لیا تھا۔

تقریباً 800 چھوٹے کاروبار اس دن بند تھے، ایسا ICE مخالف تحریک کے ساتھ حقیقی سیاسی یکجہتی کے لیے کیا گیا تھا یا ملازمین کے دباؤ کی وجہ سے جو اس تحریک میں شامل ہونا چاہتے تھے، یا اس میں یہ دونوں پہلو شامل تھے۔

شروع میں صرف چند چھوٹے کاروباروں نے کام بند کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن جوں جوں شمولیت کا دباؤ بڑھا، درجنوں اور پھر سینکڑوں چھوٹے کاروبار ڈومینوس کی طرح بند ہو گئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چھوٹے کاروباروں کی بندش کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ ”میں مینیاپولس میں جس بھی دکان میں گیا، وہ بند تھی،“ RCA کے ایک ساتھی نے کہا جو ٹوِن سٹیز میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا تھا۔ سائنس میوزیم آف مینیسوٹا، مینیسوٹا انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اور گُتھری تھیٹر جیسے ادارے بھی بند تھے۔

پبلک سکول سسٹم اور یونیورسٹی آف منیسوٹا نے بندش کا اعلان کیا تھا، بظاہر اس کی وجہ موسم کی سختی بتائی گئی تھی۔ لیکن ایسی ریاست جہاں لوگ شدید سردی کے عادی ہیں، خراب موسم صرف ایک بہانہ تھا کہ عوام کے سامنے اپنے چہرے کو بچایا جائے جبکہ در حقیقت دسیوں ہزار طلبہ کے دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دیے گئے تھے، جو حالیہ واقعات سے غصے میں تھے اور سیاسی ہو چکے تھے۔

مینیسوٹا کے بڑے آجرین جیسے ٹارگٹ، یونائیٹڈ ہیلتھ گروپ، 3M اور ایکسل انرجی، نے اس دن اپنے دفاتر بند نہیں کیے تھے اور ان کمپنیوں میں کسی بڑے پیمانے پر کام کی بندش کے آثار نہیں تھے۔ تاہم، ان جیسے اداروں میں کام کرنے والے ہزاروں کارکنوں نے اجتماعی مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے یا تو بامعاوضہ رخصت (paid time off) لی تھی یا بیماری کی چھٹی لے لی تھی۔

مینیاپولس سینٹ پال میں موجود RCA کے ساتھیوں نے بتایا کہ عمومی طور پر کام کی بڑی جگہوں پر مینیجرز نے اسے روکنے کی کوشش ہی نہیں کی، کیونکہ ڈے آف ایکشن کی کامیابی کے لیے جوش و خروش اور رفتار بہت زیادہ تھی۔ درحقیقت مزدوروں نے اجتماعی جدوجہد کے ذریعے اپنے آجرین کو بھی مجبور کر دیا تھا۔ اور اگرچہ اس کے نتیجے میں مقامی معیشت کے اہم شعبوں کی مکمل بندش نہیں ہوئی تھی، لیکن یہ یقیناً ایک عمومی کام کی بندش تھی، جس نے اس دن میٹرو ایریا کی معاشی سرگرمیوں پر نمایاں اثر ڈالا تھا۔

شہر بھر کے مزدوروں نے خود رو طور پر کوشش کی کہ وہ معیشت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور مینیسوٹا میں ”معمول کے کاروبار“ کو بند کر دیں، حالانکہ یونینوں کی طرف سے کوئی سنجیدہ قیادت فراہم نہیں کی گئی تھی۔ یہی جذبہ اُس صبح مینیاپولس ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے مظاہرے میں بھی نظر آیا، جو بالآخر پولیس کی جانب سے 100 افراد کی گرفتاری پر ختم ہوا تھا۔ اگرچہ یہ مظاہرہ پورے ایئرپورٹ کو مکمل طور پر بند کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا تھا، لیکن یہ عام کارکنوں کی طرف سے پبلک ٹرانسپورٹ کے راستوں کو بند کرنے کی معمول کی کوششوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑا تھا اور اس نے اس اہم معاشی مرکز کو مفلوج کرنے کی ضرورت کے حوالے سے ایک صحت مند فطری شعور کو ظاہر کیا تھا۔

دوپہر تک جب پچاس ہزار سے زائد افراد کا بڑا عوامی مظاہرہ جاری تھا تو بعض بڑے بورژوا میڈیا ادارے بھی اسے وہی نام دینے لگے جو وہ درحقیقت تھا۔

سی بی ایس (CBS) نیوز کی ایک سرخی میں کہا گیا: ”ہزاروں افراد نے آئس (ICE) کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مینیاپولس کے اندرونی حصے میں مارچ کیا جبکہ سرکاری محنت کشوں نے عام ہڑتال کی“۔

اُس رات پی بی ایس نیوز آر (PBS NewsHour) نے رپورٹ کیا: ”ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن اور ٹوِن سٹیز میں آئس کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں کے خلاف آج بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔ یہ عام ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کا حصہ تھا جس کی حمایت مزدور رہنماؤں اور مذہبی گروہوں نے کی تھی“۔

حتیٰ کہ دی نیو یارک ٹائمز، جسے ”ریکارڈ رکھنے والا اخبار“ کہا جاتا ہے، نے بھی اپنے مضمون کو اپڈیٹ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ”جمعے کے روز ہونے والے احتجاج دراصل ایک عام ہڑتال کا حصہ تھے جسے مقامی رہائشیوں، مذہبی رہنماؤں اور مزدور یونینوں نے منظم کیا تھا۔“

مقامی نیوز چینل فوکس 9 (Fox 9) مینیاپولس سینٹ پال نے اپنے ناظرین کو مینیسوٹا میں ”آخری“ عام ہڑتال کی مختصر تاریخ سنا دی: 1934ء کی ٹیمسٹرز ہڑتال (Teamsters Strike)، جس کے دوران ٹراٹسکیوں (Trotskyists) نے دو ماہ تک شہر کو بند رکھا تھا۔

امریکی بورژوا میڈیا جو اس ملک میں عام ہڑتال کے تصور کو برداشت کرنے کا عادی نہیں ہے۔ لیکن جیسے جیسے ہڑتال آگے بڑھتی گئی، زیادہ سے زیادہ صحافیوں کے پاس ان ہڑتالوں کے بارے میں بات کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ باقی نہ رہا۔

عوامی شعور

یقیناً، جیسا کہ کسی بھی حقیقی عوامی تحریک میں ہوتا ہے، شرکاء کے درمیان خاطر خواہ نظریاتی تفاوت اور سیاسی الجھن بھی پائی جاتی تھی۔ اور یہ کیسے ممکن نہیں ہو سکتا تھا؟ اس ملک میں طویل عرصے کے بعد ہی کسی اچھی قیادت کے ساتھ لڑاکا ہڑتال دیکھنے کو ملی ہے اور مزدور تحریک لمبے عرصے کی نیند کے بعد ابھی جاگنا شروع کر رہی ہے۔

اس ہڑتال میں بہت سے سیاسی طور پر متحرک نوجوان شریک ہوئے تھے لیکن ایسے مزدور اور چھوٹے کاروباری مالکان بھی شامل تھے جو اب بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے بارے میں کچھ خوش فہمی رکھتے ہیں۔ لبرل، پُر امن اور مذہبی نعرے زیادہ شدید مطالبات کے ساتھ موجود تھے۔ جیسا کہ مینیاپولس سینٹ پال میں موجود RCA نے رپورٹ کیا: ”بلاشبہ، ہمیں بہت سے متحرک نوجوان اور مزدور ملے، جو ہمارے ساتھ مارچ کر رہے تھے۔ تاہم، اب بھی بہت سے لبرل موجود تھے جو ’نو کنگز‘ کے حمایتی تھے اور ٹرمپ کی گالم گلوچ کرنے اور مقامی ڈیموکریٹس کے پیچھے جمع ہونے پر مرکوز تھے۔“

جیسا کہ کامریڈز نے وضاحت کی:

اس تحریک میں شامل ہر کوئی اس خواہش کا حامل نہیں تھا کہ آئس (اور تمام جبری اخراج نافذ کرنے والے اداروں) کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ ایک بڑی تعداد صرف یہ چاہتی تھی کہ آئس اپنی ریاست میں کھلے عام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عارضی طور پر بند کرے، اور وہ اس سلسلے میں ڈیموکریٹس پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان سے یہی امید کی جاسکتی ہے۔

ہجوم میں اب بھی بہت سے سیاسی طور پر متحرک لوگ موجود تھے جو ہمارے نقطہ نظر کی مکمل حمایت کر رہے تھے۔ یہ واقعات لوگوں کو سیاسی زندگی میں شامل کر رہے ہیں، اور انہیں اپنی سوچ میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے ڈیموکریٹس کی مزید دھوکہ دہی دیکھنی پڑے گی۔ اصل میں اہم بات یہ ہے کہ بہت سے ”سطحی لبرل“ اب ماضی کے مقابلے میں کمیونسٹوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے کہیں زیادہ کھلے ہیں، کیونکہ اکثر نے پہلے ہی ڈیموکریٹس کی فریب کاری دیکھی ہوئی ہے۔

ممکن ہے کہ عام ہڑتال میں شامل زیادہ تر شرکاء خود کو لازمی طور پر سرمایہ دار طبقے کے خلاف ہڑتال کرنے والے مزدور کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اپنے آپ کو ”مینیسوٹنز“ کے طور پر دیکھیں جو وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے قبضے کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔ لیکن مارکسسٹ یہ توقع نہیں رکھتے کہ مزدور طبقہ ایک دم صاف اور واضح طبقاتی شعور تک پہنچ جائے۔ جیسا کہ لینن نے وضاحت کی: ”جو شخص ’خالص‘ سماجی انقلاب کی توقع رکھتا ہے، وہ اسے دیکھنے کے لیے کبھی زندہ نہیں رہے گا ایسا شخص انقلاب کی حقیقت کو سمجھے بغیر محض زبانی کلامی دعوے کرتا ہے۔“

مزدور طبقے کی حقیقی تحریک میں ہر قسم کی الجھنیں اور تضادات شامل ہوتے ہیں، جنہیں مارکسسٹ وقت کے ساتھ مسلسل شرکت اور صبر کے ساتھ وضاحت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم، یہ انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھوک کھانے کے ساتھ بڑھتی ہے۔ عام ہڑتال کی بنیادی خصوصیت یہ تھی کہ دسیوں ہزاروں مزدوروں نے معیشت پر اپنی طاقت کا دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا تاکہ وفاقی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو اپنے شہر سے نکالا جا سکے۔ وہ خود رو طبقاتی جذبہ کہ ”ہمیں معاملات اپنے ہاتھ میں لینے ہوں گے“ نے حالیہ امریکی طبقاتی جدوجہد کی تاریخ میں سب سے واضح اظہار پایا۔ دوسرے الفاظ میں مزدور عوام یہ سمجھنا شروع کر رہے ہیں کہ وہ معیشت کو بند کرنے کی اپنی صلاحیت استعمال کر کے واقعات کا رخ تبدیل کر سکتے ہیں۔

الیکس پریٹی کا قتل

23جنوری کے بعد حوصلے بہت بلند تھے۔ لیکن ہفتے کی صبح حالات نے اچانک ایک اور زبردست موڑ لے لیا۔ مینیسوٹنز کو کامیاب ڈے آف ایکشن کے جشن منانے کے لیے صرف چند ہی گھنٹے نصیب ہوئے، اس سے پہلے کہ سوشل میڈیا اور مقامی محلے کی سگنل چیٹس میں آئس کی جانب سے ایک اور شوٹنگ کی خبر پھیلی۔ آئس نے ایک اور بدنام زمانہ ماورائے عدالت قتل کیا تھا جس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج اور بے چینی پیدا ہو گئی۔

37سالہ الیکس پریٹی، جو ایک یونین کا ICU نرس تھا اور ویٹرنز افیئرز (Veterans Affairs) ہسپتال میں کام کرتا تھا، اسے صرف اس جرم میں مار دیا گیا کہ اس نے اپنے فون سے مینیاپولس کے وِٹیئر (Whittier)محلے میں آئس (ICE) اہلکاروں کی ویڈیو بنائی۔ اس کے آخری الفاظ تھے: ”کیا آپ ٹھیک ہیں؟“ جب وہ ایک عورت کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس پر ICE نے پیپر اسپرے کیا تھا، چند لمحے بعد اسے چھ اہلکاروں کے گروہ نے زمین پر گرایا، زبردستی دبوچ کر مارا پیٹا اور دس گولیوں سے چھلنی کر دیا۔

اس خبر کے پھیلنے پر مینیسوٹنز اپنے گھروں سے بے ساختہ بڑی تعداد میں سڑکوں کی طرف نکل آئے۔ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے عوام سے ننگا جھوٹ بولا، تحقیق سے پہلے اور تمام شواہد کے برخلاف یہ بیان دیا کہ الیکس پریٹی ایک ”ملکی دہشت گرد“ تھا جس کا مقصد قانون نافذ کرنے والوں پر حملہ کرنا تھا۔ تاہم سامنے آنے والی ہر نئی ویڈیو اور ہر نئی تفصیل نے اس واقعے میں مزید آگ بھڑکا دی۔

گورنر ٹم والز (Tim Walz) نے الیکس پریٹی کے قتل کے بعد بڑے احتجاجات اور ان کی پھیلتی ہوئی خبر کے پیشِ نظر نیشنل گارڈ کو متحرک کیا۔ کچھ لوگوں نے یہ امید کی تھی کہ وہ ان فورسز کے ذریعے ICE کو نکالنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، لیکن واضح طور پر یہ اقدام صرف مینیسوٹا میں حکمران طبقے کی طرف سے ”نظم و ضبط قائم کرنے“ کے لیے تھا، تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے اور بڑی احتجاجی تحریکوں کا دباؤ کم کیا جا سکے۔

قتل کے مقام پر دوپہر 1 بجے ابتدائی طور پر ایک بڑی یادگاری تقریب طلب کی گئی تھی۔ تاہم قتل کے بعد کے گھنٹوں میں، وِٹیئر ایک جنگی میدان کی سی صورت اختیار کر گیا۔ لوگوں نے عارضی رکاوٹیں قائم کیں جبکہ مظاہرین، ہنگامی پولیس اور ICE کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اتنی زیادہ آنسو گیس استعمال کی گئی کہ دور فاصلے پر موجود MCAD کالج کے ہاسٹلوں کے چار بلاکس کو خالی کرنا پڑا کیونکہ گیس کھڑکیوں اور روشندانوں کے ذریعے اندر داخل ہو رہی تھی اور اصل یادگاری تقریب منسوخ کر دی گئی۔

جیسے ہی خبر پھیلی، X (سابقہ ٹویٹر) پر ملکی عام ہڑتال کے لیے مطالبات ٹرینڈ پہ آنے لگے۔ جب 50501 لوگوں نے اپنے انسٹاگرام کے پیروکاروں سے پوچھا کہ الیکس پریٹی کے قتل کے بعد آگے کیا کرنا چاہیے، تو رجحان میں سب سے زیادہ یہ جواب تھا: ”جب تک لوہا گرم ہے دوبارہ ایک عام ملک گیر ہڑتال کی جائے۔“

مینیاپولس سینٹ پال میں وسیع پیمانے کی عام ہڑتال کے لیے مقامی سطح پر بھی بہت جوش و خروش دیکھا گیا اور ہر جگہ بے ساختہ احتجاج پھوٹ پڑے۔

مقامی جذبات کی ایک اور حیران کن مثال جو کچھ حد تک 1989ء کے تینانمین سکوائر (Tiananmen Square) کے مشہور منظر کی یاد دلاتی ہے جب ایک دفاعی نیشنل گارڈ کی گاڑی کو روکا گیا اور مظاہرین نے بلا خوف و خطر اس کا گھیراؤ کر لیا۔

خود رو یادگاری تقریب پر مزاحمتی ماحول

چونکہ ”آفیشیل“ یادگاری تقریب منسوخ کر دی گئی تھی اس لیے اس یادگاری تقریب کی منصوبہ بندی کے لیے چند خود رو گروپ چیٹس بن گئیں کیونکہ عام شہریوں نے خود ہی شہر کے مختلف حصوں کے پارکوں میں یادگاری تقریبات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔

RCAکا ایک کامریڈ، جس نے اپنے محلے میں الیکس پریٹی کے لیے یادگاری تقریب منظم کرنے میں قیادت کا کردار ادا کیا تھا، نے ایک بہت وضاحتی رپورٹ بھیجی۔

جب منصوبے بنائے جا رہے تھے، تو اس ساتھی نے اپنے مقامی گروپ چیٹ میں پوچھا:

”کیا ہم سوچتے ہیں کہ ہمیں اس موقع کو بطور کمیونٹی بات کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے کہ آگے کا راستہ کیا ہے؟ ہمیں سوگ منانا چاہیے، لیکن ہمیں مقتول کا بدلہ بھی لینا ہے اور ICE کو ہمیشہ کے لیے باہر نکالنا ہے۔“

کامریڈ نے وضاحت کی کہ، لوگوں نے اس کی بات کا جوش و خروش سے اتفاق کیا اور پھر سوال یہ پیدا ہوا کہ کون اس بات کی وضاحت اور رہنمائی کا آغاز کرے گا۔ میں نے خود کو سامنے رکھا۔ میں نے حالیہ قتل کو 1934ء کے بلڈی فرائیڈے (Bloody Friday) اور اس کے بعد ہونے والی عام ہڑتال سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔“

کامریڈ کی اس تجویز پر گروپ نے پڑوسیوں اور گروپ چیٹ میں موجود لوگوں سے مدد طلب کی اور چھ افراد پر مشتمل ایک ٹیم بنائی جس نے محلے میں سینکڑوں لیف لیٹس تقسیم کیے، دروازوں پر دستک دی، اور سب سے اپیل کی کہ اس بات کو پھیلائیں۔ دیگر افراد نے یہ لیف لیٹس، سگنل چیٹس، انسٹاگرام اور Yik Yak کے ذریعے پھیلائے۔

تقریب میں تقریباً 300 افراد جمع ہوئے، جس کا آغاز الیکس پریٹی کے لیے تعزیتی کلمات سے ہوا اور سیٹیاں بجائی گئیں، اس سے قبل کہ ہمارے کامریڈ نے آگے بڑھنے کا راستے اور 1934ء کی ٹیمسٹرز ہڑتال (Teamsters Strike) کے اسباق کا تعارف کروایا۔ ”میرے تعارف کے چند منٹ بعد، ایک شریک نے مجھے ہچکچاتے ہوئے کہا کہ یہ صرف پرانی باتیں ہیں جن کا آج کی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں،“ کامریڈ نے رپورٹ رکھی۔ ”کچھ عمر رسیدہ لوگوں نے بھی ان شکایات میں شامل ہو کر آوازیں اٹھائیں، لیکن پھر کم از کم کچھ لوگوں نے بلند آواز جواب دیا کہ ’تاریخ خود کو دہراتی ہے‘، اور ’ہمیں تاریخ سے سیکھنا ہو گا۔“

جب کامریڈ نے بحث کا آغاز کیا، تو تمام شرکاء کے لیے موقع کھلا اور انہوں نے بھی اپنی بات رکھی۔ جیسا کہ کامریڈز نے بتایا:

ایک مزدور نے بات کی اور بتایا کہ وہ بچپن سے پولیس، ریاست اور سیاستدانوں پر بھروسہ کرتا آیا ہے۔ وہ آگے بڑھا اور وضاحت کی کہ ان میں سے ہر ایک ادارے نے ثابت کیا ہے کہ وہ عوام مخالف ہیں۔ اس نے کہا کہ صرف ہم خود ایسے لوگ ہیں جن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ اس بات پر حاضرین نے خوشی کے اظہار میں تالیاں بجائیں۔

یادگاری تقریب میں موجود ماحول کا خلاصہ کرتے ہوئے کامریڈ نے وضاحت کی، ”لوگوں نے ICE کو ایک فاشسٹ یا آمرانہ خطرے کے طور پر دیکھا جسے ہمیں ایک بڑی عوامی تحریک اور عام ہڑتال کے ذریعے بالکل ختم کرنا ہے۔ بہت سے لوگ فعال طور پر اپنے خوف سے نکل رہے تھے اور پہلی بار ایک بڑی عوامی تحریک میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے تھے۔“

انقلاب کا تدریجی عمل

یہ یادگاری تقریب مینیسوٹا میں موجودہ حالات کی صرف ایک مثال ہے، جس میں معاشرے کی تمام پرتوں میں سیاسی شعور پیدا ہونا بالکل عیاں ہے، اور ہر جگہ سیاسی گفتگو ہو رہی ہے۔

”عام حالات“ میں، مزدور طبقے کی صرف ایک چھوٹی پرت سیاسی سرگرمی میں دلچسپی لیتی ہے، جبکہ عوام زیادہ تر اسے پیشہ ور سیاستدانوں اور حکمران طبقے کے دیگر نمائندوں پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ معاشرے کو چلائیں۔ لیکن بڑے واقعات کے اثر کے تحت، معاشرے کی ایک بڑی پرت سیاسی زندگی میں دلچسپی لینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یہ بات ایک اور کامریڈ کی جانب سے اتوار کی رات بھیجی گئی ایک غیر معمولی رپورٹ میں بھی عیاں ہوئی:

ایک لمبے سیاسی مباحثے والے دن کے بعد میں نے ایک مقامی ریستوران میں کھانا کھانے کا فیصلہ کیا، جو اس جگہ سے تقریباً ایک میل دور تھا جہاں الیکس پریٹی کو قتل کیا گیا تھا۔

جب میں نے اپنا بل ادا کیا، ویٹریس سے پوچھا کہ اگر یہاں ICE پہنچ جائے تو کیا ان کے پاس کوئی منصوبہ ہے اور اس کا جواب تھا، ”ہاں!“ اس نے کارکنوں اور مینیجر کی جانب سے ترتیب دیے گئے پروٹوکول اور وہ حفاظتی اقدامات جو وہ پہلے سے کر رہے ہیں، بیان کیے۔

جب میں نے ویٹریس سے پوچھا کہ کیا انہوں نے ارد گرد کام کے ملازمین کے ساتھ پہلے سے رابطہ کیا ہے یا منصوبہ بنایا ہے، تو اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ اس نے کہا کہ یہ ایک حیرت انگیز خیال ہے اور اس نے بلند آواز میں سوچنا شروع کر دیا کہ تمام مقامی دکانوں کے درمیان رابطے کے ذرائع کیسے پیدا کیے جا سکتے ہیں، تاکہ اگر ICE آ جائے تو سارے کارکن ایک ساتھ متحرک ہو سکیں!

ہم نے ملازمین اور کارپوریٹ مالکان کے متضاد مفادات پر بات کی، خاص طور پر کام کی جگہ کی حفاظت کے مسئلے پر اور یہ کہ تحریک شہر بھر کی جمہوری قیادت کے ساتھ کس طرح آگے بڑھائی جا سکتی ہے اور دیگر شہروں کے ساتھ کس طرح جوڑی جا سکتی ہے! وہ خوشی خوشی ہمارے لیف لیٹس اپنے اور اپنے ساتھی کارکنوں کے لیے لے گئی۔

یہی جذبات ہمیں 25 جنوری کو The Atlantic میں رابرٹ ایف۔ ورتھ (Robert F. Worth) کے مضمون میں بھی نظر آئے، جسے طویل حوالہ کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے:

”مینیاپولس میں تشدد کے پیچھے جو پچھلے چند ہفتوں میں بے شمار خوفناک تصاویر میں قید ہوا ہے، ایک مختلف حقیقت ہے: شہری احتجاج کا ایک محتاط اور منظم رقص۔ آپ اسے مظاہرین کی ایک جیسی سیٹیوں، ان کے نعرے، ان کی حکمتِ عملی اور اس انداز میں دیکھ سکتے ہیں جس سے وہ ICE کے ایجنٹس کا پیچھا کرتے ہیں مگر کبھی انھیں لوگوں کو گرفتار کرنے سے حقیقی طور پر روک نہیں سکتے۔ پچھلے سال ہزاروں مینیسوٹنز کو قانونی نگران کے طور پر تربیت دی گئی تھی اور وہ طویل رول پلے مشقوں میں حصہ لے چکے ہیں، جہاں وہ بالکل ایسے مناظر کی مشق کرتے ہیں جیسا کہ میں نے خود دیکھا۔ وہ دن رات پیدل محلے کی نگرانی کرتے ہیں اور سگنل (Signal) جیسی خفیہ ایپس پر جڑے رہتے ہیں، ان نیٹ ورکس میں جو پہلی بار 2020ء میں جارج فلوئیڈ کے قتل کے بعد بنے تھے۔

بار بار میں نے لوگوں کو کہتے سنا کہ وہ خود کو احتجاج کرنے والے نہیں بلکہ اپنی کمیونٹی، اپنے اقدار اور آئین کے محافظ سمجھتے ہیں۔ نائب صدر وینس نے احتجاجات کو ”منظم سازش“ قرار دیتے ہوئے بیان کیا ہے کہ یہ سب انتہائی بائیں بازو کے کارکنوں نے مقامی حکام کے ساتھ مل کر منظم کیا ہے۔ لیکن زمینی حقیقت زیادہ عجیب اور زیادہ دلچسپ ہے۔ تحریک اس سے کہیں بڑی ہو گئی ہے جو ٹی وی نیوز کاسٹس میں دکھائی گئی احتجاجی جماعت ہے، خاص طور پر رینی گوڈ کے 7 جنوری کو قتل کے بعد۔ اس میں وہ مرکزی سمت یا ہدایت موجود نہیں ہے جس کا وینس اور دیگر انتظامی حکمران تصور کرتے ہیں۔

”کئی بار، مینیاپولس نے مجھے 2011ء میں عرب بہار کے دوران دیکھے گئے مناظر کی یاد دلائی، مظاہرین اور پولیس کے درمیان گلیوں میں جھڑپوں کا ایک سلسلہ جو جلد ہی خود سرکاری ظلم کے خلاف ایک بہت بڑی جدوجہد میں بدل گیا۔ جیسے کہ قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں ہوا تھا، مینیاپولس نے ایک تہہ در تہہ شہری بغاوت دیکھی ہے، جہاں مظاہرین کی ایک وین گارڈ جماعت نے طاقت حاصل کی ہے جبکہ بہت سے دوسرے لوگ جو سیاسی طور پر پیش قدم نہیں تھے، نے اپنے جذبات اور احساسات میں ان احتجاج میں شرکت کی ہے۔ میں نے والدین، مذہبی رہنماؤں، سکول کے اساتذہ اور ایک خوشحال مضافاتی علاقے کے بزرگ رہائشیوں میں اسی غم و غصے کا اظہار دیکھا، چند ہفتے پہلے مینیاپولس کے شہر کے رہنماؤں کے درمیان جو جھگڑے پالیسی سازی، غزہ یا بجٹ کے بارے میں تھے، وہ مدھم پڑ گئے ہیں کیونکہ لوگ ICE کے خلاف متحد ہو چکے ہیں۔“

اسی مضمون میں وہ آگے بیان کرتا ہے:

جن شرکاء سے میں نے بات کی وہ عام مظاہرین جیسے نہیں لگ رہے تھے۔ ان میں سے ایک جو ڈرائیورز ایڈ کا استاد تھا اور جس نے مجھ سے کہا کہ میں اسے صرف ”ڈیو“ (Dave) کے نام سے متعارف کراؤں، نے بتایا: ”مجھے بالکل بھی تصادم پسند نہیں ہے اور یہی ایک وجہ ہے کہ مجھے میرا ان تیاریوں میں جانا بہت عجیب لگتا ہے“ لیکن ہمارے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے پیش نظر اسے محسوس ہوا کہ اسے وہ سب کچھ درکار ہے جو تربیت دینے والوں کے پاس پیش کرنے کے لیے موجود تھا۔ اس کی 14 سالہ بیٹی جو اس کے ساتھ اس تربیت میں شریک ہوئی تھی، نے مجھے بتایا: ”یہ کچھ حد تک ذہنی طور پر بوجھل تھا۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ حد سے زیادہ ہو سکتا تھا، کیونکہ وہ صرف حقیقت پسندانہ بات کر رہے تھے۔“

وہ غیر منافع خور گروہ جو یہ تربیتی سیشن چلاتے ہیں، ٹوِن سٹیز (Twin Cities) میں جاری ICE مخالف احتجاجات کو منظم یا ہدایت نہیں کر رہے ہیں۔ درحقیقت کوئی بھی نہیں کر رہا۔ یہ ایک بے قائد تحریک ہے جیسا کہ عرب اسپرنگ کے مظاہرے تھے جو خود بخود اور انتہائی مقامی سطح پر ابھری ہے۔ وہ لوگ جو ICE کے قافلوں کا پیچھا کرتے ہیں (وہ خود کو ”کمیوٹرز“ (commuters) کہتے ہیں، جو جزوی طور پر مذاق اور کچھ حد تک حکومت کی نگرانی سے بچنے کی کوشش ہے) نے محلے کی بنیاد پر تنظیم کاری کی ہے، سگنل گروپس کا استعمال کرتے ہوئے جو شخص مجھے ICE کی چھاپوں پر لے گیا، جہاں میں نے دیکھا کہ ایک وکیل، کارکن، اور سوشل میڈیا شخصیت جس کا نام ول اسٹینسل (Will Stancil) ہے نے اپنی گاڑی کی ونڈ شیلڈ کے اوپر موبائل فون نصب کیا تھا، اور میں سن سکتا تھا کہ لوگ سگنل آڈیو چیٹ پر ICE کے قافلے کا مقام ٹریک کر رہے ہیں جب وہ ان کے محلے سے گزرتا تھا۔ یہ بالکل ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے آپ ایک پولیس گاڑی کے اندر ہوں جو ڈسپیچر سے ریڈیو اپ ڈیٹس لے رہی ہو۔

آپ کو یہ سب خود تنظیمی عمل دیکھنے کے لیے آنسو گیس میں پھنسنے کی ضرورت نہیں یہ کسی کے لیے بھی قابلِ مشاہدہ ہے جو منیاپولس کی سڑکوں پر چل رہا ہو۔ ایک سخت سرد صبح، میں ایک شخص کے پاس گیا جو ایک پرائمری سکول کے سامنے سڑک کے پار کھڑا تھا، جو ایک نیلے رنگ کی سیٹی پہنے ہوئے کھڑا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کا نام ڈینئل (Daniel) ہے (اس نے مزید شناخت نہ ہونے کی درخواست کی، کیونکہ اس کی بیوی مہاجر ہے) اور وہ ہر صبح ایک گھنٹہ چوکنا رہتا ہے تاکہ بچے محفوظ طریقے سے سکول پہنچیں۔ دیگر مقامی رضاکار باقاعدگی سے آ کر اسے کافی اور گرم اشیاء دیتے ہیں یا خبریں بانٹتے ہیں۔ یہ کمیونٹی نگران ٹوِن سٹیز کے سکولوں کے باہر ہوتی ہیں، ریسٹورنٹس اور ڈے کیئر سینٹرز کے باہر اور کسی بھی جگہ جہاں مہاجرین موجود ہوں یا جنہیں لوگ مہاجر سمجھ سکتے ہیں۔

جب میں نے پوچھا کہ سکول کی نگرانی کیسے کام کرتی ہے، تو ڈینئل نے کہا: ”یہ کچھ حد تک بے ترتیب مگر منظم ہے۔ جارج فلائیڈ نے سب کو جوڑ دیا ہے۔“

فلوئیڈ کے قتل کے بعد بننے والے مقامی نیٹ ورکس صرف نسلی امتیاز سے لڑنے کے لیے نہیں تھے۔ 2020ء کے مئی اور جون کے ان شدید ہلچل والے ہفتوں میں، سڑکوں پر ہر قسم کی لوٹ مار کرنے والے اور اشتعال انگیز موجود تھے اور پولیس کے خلاف اتنا غصہ تھا کہ انہیں شہر کے کچھ حصوں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ بہت سے محلے والوں نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے مقامی نگران منظم کرنا شروع کر دیے۔

خود تنظیمی کی صلاحیت، شعور میں تیز تبدیلیاں، ابھرنے والا طبقاتی شعور اور تحریک کو مزید بڑھانے کی زبردست صلاحیت بالکل واضح ہے۔ سینکڑوں ہزاروں عام مینیسوٹنز اپنے لیے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں اور پوری طرح ICE کو اپنی ریاست سے نکالنے پر اڑے ہوئے ہیں۔ لیکن ایک بڑی کمزوری بھی موجود ہے: تحریک کے لیے واضح سیاسی قیادت کی کمی۔ اب جو ضرورت ہے وہ ICE کو روکنے کے لیے ایک بھرپور قومی عام ہڑتال کرنے کے تیاری کی ہے، لیکن ٹوِن سٹیز کے ہر محلے اور دیگر امریکی شہری علاقوں میں جڑیں رکھنے والی انقلابی قیادت کے بغیر اس وقت کوئی ایسی تنظیم موجود نہیں جو ضروری قیادت فراہم کر سکے۔

جیسا کہ لینن نے بہت پہلے وضاحت کی تھی، ”انقلابات اور تحریکوں کے لمحات میں تنظیم تعمیر کرنا ایک بہت تاخیری ہے“ پارٹی کو ہر لمحے سرگرمی کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ”مینیسوٹا میں RCA کے کامریڈز اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے خیالات کو آگے بڑھایا جا سکے، لیکن ابھی ہمارے پاس اتنی قوتیں نہیں ہیں کہ بڑے پیمانے پر اثر ڈال سکیں۔ اسی لیے ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انقلابی کمیونزم کی قوتیں فوری طور پر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل قریب میں پیش آنے والے اور بھی اہم واقعات کے لیے تیاری کی جا سکے۔

تاریخ کی تشکیل

یہ وقت موزوں ہے کہ جب ٹوِن سِٹیز میں عام ہڑتال کا جوش بڑھ رہا تھا اور دنیا کے حاکم طبقوں کے نمائندگان ڈیووس (Davos) میں جمع ہو رہے تھے اور دوسری عالمی جنگ کے بعد کے عالمی نظام کے خاتمے کو تسلیم کر رہے تھے۔

وہ 80 سالہ غیر معمولی دور جو 1945ء میں شروع ہوا، جس میں عبوری طور پر سامراجی تنازعات اور طبقاتی جدوجہد کو کچھ عرصے کے لیے مدھم کیا گیا تھا، اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ جی ہاں، جیسا کہ لبرل پریس دکھاوا کرتا ہے، ہم دوبارہ اُس دنیا میں واپس جا رہے ہیں جہاں ”عظیم طاقتوں“ کے درمیان کھلی مقابلہ بازی ہے اور اس میں صاف طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“۔ لیکن ہم اسی وقت اُس دنیا کی طرف بھی واپس جا رہے ہیں جہاں کھلی، جارحانہ طبقاتی جدوجہد، عام ہڑتالیں اور زیادہ تر لوگوں کے خیال سے جلد انقلابی ہنگامے بھی وقوع پذیر ہوں گے۔

اپنی اقتصادی ناکامیوں اور ایپسٹین فائلز کے معاملات میں ناکامیوں پر غصہ بڑھتے دیکھ کر ٹرمپ نے بظاہر سوچا کہ منیاپولس میں ICE کی دہشت پھیلانے کی حکمت عملی توجہ ہٹانے کے لیے ایک مؤثر اقدام ہو سکتا ہے۔ لیکن منیاپولس اور ملک بھر میں طبقاتی توازن اور ICE کے خلاف غصے کے پیش نظر، وہ آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں، کیونکہ ICE کی ہر اضافی اشتعال انگیزی ممکنہ طور پر ایک قومی سماجی ہنگامہ بھڑکا سکتی ہے۔ اس لیے حیرت کی بات نہیں کہ لکھنے کے وقت، ٹرمپ بظاہر پیچھے ہٹتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اس نے ٹم والز (Tim Walz) کے ساتھ صورتحال کو کم کرنے کے لیے بہت اچھی طرح بات کی ہے۔

چاہے یہ تحریک آنے والے دنوں میں شدت اختیار کرے یا کچھ عرصے کے لیے تھم جائے، ہم پر اعتمادی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ محض وقتی جوش و خروش نہیں تھا۔ تاریخ کچھ بھی ضائع نہیں کرتی۔ منیاپولس سینٹ پال کے مناظر ہمیں ہر امریکی شہر کے مستقبل کی جھلک دکھاتے ہیں۔ ایک انقلابی پارٹی کے بغیر موجودہ تحریک محدود ہے، لیکن اس تجربے نے ایک نئی نسل کے طبقاتی جنگجوؤں کو پروان چڑھایا ہے، جس کے مستقبل پر ناقابلِ فراموش اثرات مرتب ہوں گے۔ طویل عرصے کی نیند کے بعد، امریکی مزدور طبقہ اپنی طاقت کو محسوس کرنے اور اپنی طبقاتی جدوجہد کی روایات کو دوبارہ تلاش کرنے لگا ہے۔ 23 جنوری کا دن صرف ایک ڈریس ریہرسل اور بڑے اہم واقعات کے ابتدا کی نشانی تھا۔

Comments are closed.