برطانیہ: جیرمی کاربن کی نئی پارٹی اور کمیونسٹوں کا مؤقف

|تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: ولید خان|

24جولائی 2025ء کو جیرمی کاربن اور زارا سلطانہ نے ایک نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا جس پر بہت زیادہ عوامی حمایت اور گرم جوشی نظر آ رہی ہے۔

اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

یہ مظہر حیران کن نہیں ہے۔ سٹارمر حکومت کی رجعتی پالیسیاں ان کروڑوں لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جنہوں نے تبدیلی کی امید پر لیبر پارٹی کو ووٹ دیا تھا۔

انتخابات میں دیوہیکل فتح حاصل کرنے کے بعد حیران کن طور پر قلیل مدت میں سٹارمر برطانوی تاریخ کا سب سے زیادہ نفرت زدہ وزیراعظم بن چکا ہے۔

لیفٹ نظریات والے افراد اس سے خاص طور پر شدید نفرت کرتے ہیں جو درست طور پر اسے ایک غدار سمجھتے ہیں جس میں اور ٹوریز اور لبرلز میں کوئی فرق نہیں ہے۔

لیبر پارٹی کی لیفٹ جانب ایک دیوہیکل خلاء موجود ہے، ایک دیوہیکل سیاسی خلاء جو جلد یا بدیر پُر ہونا ہی تھا۔

موجودہ دور میں حقیقی مارکسی قوتوں کی عمومی کمزوری کے نتیجے میں یہ خلاء کوئی لیفٹ اصلاح پسند متبادل ہی پورا کر سکتا تھا۔

برطانوی سیاست میں ذرا دلچسپی لینے والا شخص بھی جانتا ہے کہ یہ کوئی حیران کن واقعہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے بہت پہلے سے قیاس موجود تھا۔

اعلان کے بعد چند گھنٹوں میں ہزاروں افراد نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر، کسی بھی فعال متبادل کی عدم موجودگی میں یہ کوئی حیران کن امر نہیں ہے۔

مایوسی کا دور دورہ

ایک طویل عرصے سے عالمی سطح اور برطانیہ میں نام نہاد لیفٹ مایوسی اور لاچارگی میں ڈوبا ہوا تھا۔

انہیں ہر جگہ رجعت نظر آ رہی تھی۔ جدلیات سے نابلد یہ بیوقوف مظاہر کا صرف سطحی تجزیہ ہی کر سکتے ہیں لیکن سطح سے نیچے کاربند ریڈیکلائزیشن کے حقیقی عوامل ان کے لیے شجرہ ممنوعہ ہیں۔ یہ حقیقت جتنی باقیوں کے لیے درست ہے اتنی ہی جیرمی کوربن کے لیے بھی درست ہے۔

اگرچہ ہم اس کی نئی پارٹی کے قیام کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن یہاں یہ کہنا بھی لازم ہے کہ یہ فیصلہ کن پیش رفت عرصہ دراز اس کی مسلسل تذبذب اور لاعلمی کا شکار رہی۔

لیکن ایک طرف نام نہاد لیفٹ مایوسی اور پریشانی میں ڈوبا پڑا تھا تو دوسری طرف عوام میں غم و غصہ اور مایوسی مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔

آپ سماج میں جہاں بھی دیکھیں شدید غم و غصہ وقت کی علامت بن چکا ہے۔ یہ خیال تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ حکمرانوں کو ہماری کوئی پرواہ نہیں ہے۔

ایک انقلابی تبدیلی کی جانب یہ دیوہیکل قدم ہے۔

کروڑوں عوام کے لیے حالات قوتِ برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔

وہ ہیجان میں مسلسل متبادل کی تلاش میں یکے بعد دیگرے آپشن آزماء رہے ہیں۔

ایک ایک کر کے تمام تنظیمیں، قائدین اور پارٹیاں تختہ مشق پر ٹٹولی جا رہی ہیں اور سب ناکام اور مایوس کن ثابت ہو رہے ہیں، کچھ جو ناکام اور مایوس کن سے زیادہ غلیظ اور مکروہ اور ردی کی ٹوکری میں پھینکے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ جیسے رائٹ ونگ شعلہ بیان اچانک نمودار ہوتے ہیں اور کچھ وقت کے لیے کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔

فرقہ پرست مسخروں اور لیفٹ اصلاح پسندوں کو اپنی تنگ نظری میں فاشزم کے علاوہ اور کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ یہ سب بکواس ہے۔ یہ انتخابی میدان میں محض شدید عوامی ہیجان کا اظہار ہے جس کا خاصہ تیز طرار پیچ و خم ہے۔

ان رائٹ ونگ شعلہ بیانوں کا ناگزیر ٹاکرا سرمایہ داری کے ناقابل حل تضادات سے ہوتا ہے جنہیں وہ حل کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔ جس تیزی سے وہ منظر عام پر نمودار ہوتے ہیں اس سے کہیں زیادہ تیزی سے ختم ہو جاتے ہیں جس کے بعد عوام کا لیفٹ کی جانب اور بھی زیادہ ہیجان آمیز اظہار ہوتا ہے۔

یہ انتشار موجودہ نظام کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔ اس لیے سرمائے کے حکمت کار ہمیں پریشانی بلکہ شدید ہیجانی کیفیت میں اپنے بال نوچتے نظر آتے ہیں۔

اچانک تبدیلیاں

اچانک اور حیران کن تبدیلیاں پوری صورتحال کا خاصہ ہیں جس میں سب سے بڑھ کر اچانک اور تیز تر شعوری تبدیلیاں نمایاں ہیں۔

اس وقت طاقتور سماجی قوتیں متحرک ہیں جو طبقات کو کھلی اور اعلانیہ طبقاتی جنگ کی راہ پر دھکیل رہی ہیں۔ اس کا فوری انقلابی نتیجہ اس لیے اخذ نہیں ہو سکتا کیونکہ لیفٹ پر فی الحال کوئی فعال متبادل موجود نہیں ہے۔

اس متبادل کی عدم موجودگی میں ہمیں انتخابات میں ناگزیر طور پر لیفٹ اور رائٹ کی جانب عوام کا تیز تر اور ہیجانی جھکاؤ دیکھنے کو ملے گا۔

لیکن ایک سوشلسٹ انقلاب کی جانب تحریک میکانکی انداز میں آگے نہیں بڑھتی۔

نام نہاد لیفٹ کے مکمل دیوالیہ پن کے نتیجے میں عوام کا غم و غصہ ہر قسم کی عجیب و غریب اور منفرد سیاسی شکل میں اپنا اظہار کر رہا ہے۔

موضوعی عنصر کی کمزوری کا لازمی نتیجہ ہے کہ اگلے دور میں عوام کی ریڈیکلائزیشن لیفٹ کی نئی اصلاح پسند شکلوں اور قائدین میں اپنا اظہار کرے گی۔

ان میں سے کچھ انتہائی ریڈیکل زبان استعمال کریں گے لیکن سب کا مقدر اصلاح پسندی کی بنیادی حدود و قیود ہیں، یعنی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور محنت کشوں کے اقتدار پر قبضے کا سوال اٹھانے کی نااہلی۔

برطانیہ میں ایک نئی لیفٹ پارٹی کا اعلان یقینا کمیونسٹوں کے لیے نئی راہیں ہموار کرے گا۔ یہ موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو ہے۔

یہ واضح ہے کہ اب برطانیہ میں اگلا دور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے لیے کئی مواقع اور امکانات لے کر آ رہا ہے۔ اس لیے ہمیں اس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اپنی حکمت عملی وضع کرنی ہو گی۔

اصلاح پسندی کا ریکارڈ

نئی پارٹی کا قیام ہمارے لیے ایک نیا اور ممکنہ طور پر نتائج سے لبریز میدان ہموار کر رہا ہے۔ لیکن ہماری فتح یا شکست کا دارومدار اس حوالے سے درست حکمت عملی پر منحصر ہے۔

یہ ہر ذی شعور کو واضح ہونا چاہیے کہ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی حکمت عملی عوام میں موجود عارضی گرمجوشی پر منحصر نہیں ہو سکتی، ایسی گرمجوشی جو کبھی بھی تحلیل ہو سکتی ہے۔

ہمیں ہر وقت اپنے اعصاب مضبوط رکھتے ہوئے اچانک تبدیلیوں اور دباؤ کا شکار نہیں ہونا ہے۔ خاص طور پر حکمت عملی کے حوالے سے یہ لازم ہے کہ صورتحال کا بغور اور کثیر پہلو جائزہ لیا جائے، ہر قسم کا مثبت اور منفی عنصر تولا جائے اور پھر ہی کوئی فیصلہ کن قدم اٹھایا جائے۔

سیاست اور جنگ میں جلد بازی کا نتیجہ ہمیشہ موت ہوتا ہے۔

خاص طور پر ہمارے ذہنوں میں اصلاح پسندی کے حوالے سے ماضی کے اسباق موجود ہونے چاہییں۔ ہم نے یونان میں سپراس، سپین میں پوڈیموس، امریکہ میں سینڈرز اور برطانیہ میں جیرمی کوربن کے تجربات سے سیکھا ہے۔

ہر مرتبہ یہ قائدین اچانک منظر نامے پر نمودار ہوئے اور کم از کم الفاظ کی حد تک ایک ریڈیکل پروگرام پیش کرنے کی بنیاد پر دیوہیکل عوامی حمایت اور گرمجوشی جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔

آغاز میں ان سب کو بہت گرمجوش حمایت حاصل ہوئی۔ لیکن ان تمام ہیجانی جذبات کا اختتام ہمیشہ آنسوؤں میں ہوا کیونکہ انہوں نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیک دیا۔

برطانیہ میں جیرمی کاربن اچانک نمودار ہوا اور لیبر پارٹی کا قائد بن گیا کیونکہ اس نے ایک نیم اصلاح پسند پروگرام پیش کیا تھا۔

اس کی کامیابی کا راز اس کی شخصیت، سیاسی ثابت قدمی یا حکمت عملی نہیں ہے۔ اس کامیابی کی بنیاد سماج میں وسیع پیمانے پر موجود غم و غصہ ہے جو بے قراری سے راہ نجات تلاش کر رہا ہے اور اسے اس کی ذات میں ایک نکتہ اظہار مل گیا ہے۔

یہ درست ہے کہ نئی پارٹی اپنی تاسیس سے پہلے ہی لاکھوں ممبران حاصل کر چکی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سماج میں موجود مسلسل دیوہیکل عدم اطمینان کا اظہار ہے۔

درحقیقت اس وقت جیرمی کو جو توجہ مل رہی ہے وہ پہلے کی نسبت کم ہے۔ اُس وقت وہ برطانیہ کا سیاسی منظر نامہ تبدیل کرنے کی پوزیشن میں تھا۔

لیکن اسے فوراً پارلیمانی لیبر پارٹی میں شدید مزاحمت کا سامنا ہوا جس نے رائٹ ونگ میڈیا کی حمایت کے ساتھ فوراً اس پر غلیظ سیاسی جنگ مسلط کر دی۔

کاربن اُس وقت یہ مسئلہ آسانی سے حل کر سکتا تھا اگر وہ ہمارے مطالبات مان لیتا، یعنی پارلیمانی لیبر پارٹی کو کچلنے کے لیے اپنی عوامی حمایت کو متحرک کرنا، رائٹ ونگ لیبر ممبران پارلیمنٹ کو غیر منتخب کر کے گھر بھیجنا۔

لیکن کاربن نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ لیفٹ ونگ اصلاح پسند ہمیشہ رائٹ ونگ اصلاح پسندوں سے چمٹے رہتے ہیں کیونکہ انہیں تقسیم کا خوف ہوتا ہے۔ جہاں تک رائٹ ونگ کا تعلق ہے تو یہ لیبر پارٹی میں کھلے عام بڑے کاروباروں کا دلال بنا ہوا ہے اور اسے اس قسم کا کوئی خوف نہیں ہے۔

انہوں نے مسلسل سبوتاژ کرنے کی سازشیں جاری رکھیں اور ایک وقت آنے پر کوربن کو حتمی شکست دے دی جو فتح تک ناقابل مصالحت جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس لیے اس کی شکست ناگزیر تھی جو خاص طور پر اس کی اپنی لیفٹ اصلاح پسند پالیسیوں کا نتیجہ تھی۔

آج یہ تاریخ سختی سے ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ کاربن کے ایک نئی پارٹی کے اعلان نے جو جوش و جذبہ ابھارا ہے اس میں ہماری سمجھ بوجھ پراگندہ نہ ہو جائے۔

ٹراٹسکی نے وضاحت کی تھی کہ ہمارا طریقہ کار ”مسخ کرنا، مرضی سے منتخب کرنا، مبالغہ آرائی کرنا، ملمع کاری کرنا نہیں ہے بلکہ جو کچھ جیسا ہے جس طرح ہے اسے ایمانداری سے بیان کرنا ہے۔“

نئی پارٹی سے متعلق ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟

موجودہ دور میں کمیونسٹوں کا کلیدی فریضہ کیا ہے؟ محنت کشوں کی جدوجہدوں اور تحریکوں میں ان کے ساتھ کھڑے ہونا اور سوشلسٹ انقلاب کا ادھورے پروگرام کو سماج کے سب سے شعور یافتہ عناصر کی ایک بنیادی انقلابی تبدیلی کی خواہش کے ساتھ جوڑنا۔

کیا ہمیں نئی پارٹی کو خوش آمدید کہنا چاہیے؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ ہم برطانیہ میں ایک نئی لیفٹ پارٹی کے قیام کو ہر گرمجوشی اور خوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

اس وقت کہنا قبل از وقت ہے کہ نئی پارٹی کی ساخت، شکل وغیرہ کیا ہو گی۔ یہ ابھی بالکل ابتدائی مراحل میں ہے۔ پہلے اشاریے بتا رہے ہیں کہ یہ توقعات کے مطابق صحت، تعلیم، رہائش اور محنت کش طبقے کو درپیش دیگر اہم مسائل کے حوالے سے کئی ریڈیکل اصلاحات کو اپنا پروگرام بنائے گی۔ یہ وہ تمام نکات ہیں جن کے لیے ہم بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔

لیکن کلیدی سوال یہ ہے کہ کیا یہ پارٹی سماج کی بنیادی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ اس سے ہماری مراد سرمایہ داری کا خاتمہ اور محنت کش طبقے کا اقتدار پر قبضہ ہے۔

ہم اس سوال کا پہلے سے جواب نہیں دے سکتے لیکن تمام امکانات یہی ہیں کہ قیادت کا لیفٹ اصلاح پسندانہ کردار اسے ایک ایسی پوزیشن پر مجبور کر دے گا کہ وہ سرمایہ داری اور نجی ملکیت سے فیصلہ کن طور پر ناطہ نہیں توڑیں گے جس کا ناگزیر نتیجہ یہ ہو گا کہ محنت کشوں کو درپیش کوئی ایک مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اس کا ایک اشارہ تو یہ ہے کہ ابتدائی اعلامیے میں امراء پر ٹیکس لگانے کی بات کی گئی ہے۔

اگر ایسا ہے تو پھر تمام وعدہ کردہ اصلاحات عمل میں بیکار رہیں گی۔ یہی کمیونسٹوں کی حقیقی سوشلسٹ پالیسیوں اور لیفٹ اصلاح پسندوں کے مبہم اور ”باہمت“ پروگرام کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ RCP اور نئی پارٹی کے درمیان کوئی ایماندار اور دوستانہ تعاون نہیں ہو سکتا؟ نہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے۔

RCPکا پروگرام ایک سوشلسٹ انقلاب ہے لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سرمایہ داری میں ثابت قدمی کے ساتھ روزانہ کی جدوجہد کے بغیر سوشلسٹ انقلاب ایک ناممکن یوٹوپیا ہے۔

ہمارے اور اصلاح پسندوں کے درمیان فرق یہ نہیں ہے کہ ہم اصلاحات کی حمایت نہیں کرتے۔ یقینا ہم کسی بھی قابل ذکر اصلاح کے لیے سخت ترین جدوجہد کے قائل ہیں جس سے محنت کش طبقے کا مفاد محفوظ ہو۔

رائٹ ونگ اصلاح پسندوں پر ہماری تنقید ہی یہ ہے کہ وہ اصلاحات کے لیے جدوجہد نہیں کرتے۔ وہ محنت کشوں کی ہڑتالوں اور دیگر سرگرمیوں کی مخالفت کرتے ہیں جن کے ذریعے محنت کش اپنی زندگیاں بہتر کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ سرمایہ داروں کے دباؤ میں آ کر نام نہاد جبری کٹوتیوں کی پالیسیاں لاگو کرتے ہیں یعنی معیارِ زندگی پر خوفناک حملے، جو ردِ اصلاحات اقدامات ہیں۔

لیفٹ اصلاح پسندوں اور رائٹ اصلاح پسندوں میں فرق یہ ہے کہ بعدالذکر اعلانیہ بینکاروں اور سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں جبکہ اول الذکر یہ سمجھتے ہیں کہ جرات مند اصلاحات اور معیار زندگی میں بہتری سرمایہ دارانہ نظام کی حدود میں رہتے ہوئے جیتے جا سکتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے۔

اس لیے نئی پارٹی کے لیے ہماری حمایت غیر مشروط نہیں ہے۔ ہم ہر وقت ہر لمحہ اپنی اصولی پوزیشن پر قائم ہیں اور پورے سماج کی مکمل تبدیلی کی جدوجہد کو آگے بڑھا رہے ہیں، سوشلسٹ انقلاب کے لیے۔

ہم پارٹی ممبران کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ ہماری تعداد ابھی قابل ذکر نہیں کہ ہم انتخابات میں کھڑے ہو سکیں، اس لیے ہم انتخابات میں ان کے ممبران کی مہم میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ہم رجعتی پریس کے ہر قسم کے ناگزیر حملوں میں ان کا تحفظ کریں گے۔

لیکن ہماری حمایت کبھی بھی غیر مشروط اور تنقید سے بالاتر نہیں ہو گی۔ یقینا لیفٹ اصلاح پسندوں کے ساتھ ایک ایماندار اور نتیجہ خیز تعاون کی پہلی شرط روز اول سے واضح حد بندیاں ہیں۔

جیرمی کاربن جب بھی درست قدم اٹھائے گا ہم اس کی حمایت کریں گے۔ لیکن وہ جب بھی غلط یا پیچھے کا قدم اٹھائے گا، جب بھی تذبذب اور پہلو تہی کا شکار ہو گا (وہ پہلے کئی مرتبہ یہ کر چکا ہے) تو ہم مکمل طور پر سخت لیکن کامریڈلی تنقید کا حق رکھتے ہیں۔

اسی طریقہ کار کے ذریعے ہم اپنی سیاسی آزادی کو قائم رکھتے ہوئے اور حقیقی کمیونسٹ پالیسیوں پر کاربند رہتے ہوئے نئی پارٹی کے ممبران کے ساتھ ایک ٹھوس، مدلل اور معنی خیز بحث مباحثہ میں اتر سکتے ہیں۔

ہم اپنے تمام ممبران کو جہاں تک ممکن ہو، نئی پارٹی کی حمایت اور اس میں اور اس کے گرد متحرک رہنے کا پیغام دیتے ہیں۔

لیکن ہم کمیونزم اور انقلابی پروگرام کے پرچار اور جدوجہد کی راہ میں کسی قسم کی کوئی بندش کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ہمارا مقصد لیفٹ اصلاح پسندوں کو اپنی پوزیشن اعلانیہ، ایماندار اور آزادانہ رکھنے سے روکنا نہیں ہے اور ہمیں توقع ہے کہ یہی عزت اور رویہ ہمارے ساتھ بھی اپنایا جائے گا۔

ہم ایک بات مکمل طور پر واضح کر رہے ہیں۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کو تحلیل کرنے کا کوئی سوال کہیں موجود نہیں ہے اور نہ ہی ہو گا۔۔ حقیقی سوشلسٹ پروگرام کی جدوجہد کی یہی واحد ضمانت ہے۔

اس سوال پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

انقلابی امکانات

کاربن کے اعلان کا جس گرمجوشی سے خیر مقدم کیا گیا ہے وہ سماج میں موجود حقیقی موڈ کی عکاسی ہے۔

سماج کی سطح پر موجود بظاہر امن کے نیچے دیوہیکل طوفان پنپ رہے ہیں۔

آج امیر اور غریب کے درمیان خلیج پچھلے سو سالوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

برطانیہ اور دیگر ممالک میں حالیہ واقعات بتا رہے ہیں کہ شعور پختہ ہو رہا ہے لیکن فتح کی جانب حقیقی راہ کی تلاش میں کئی دشت کھنگالنے ابھی باقی ہیں۔

معروضی حالات انقلاب کے لیے مسلسل پختہ ہو رہے ہیں۔ لیکن فی الحال موضوعی عنصر ابھی بہت پیچھے ہے۔

اس تضاد کے حل میں ہی مستقبل پورا روشن اور واضح ہو گا۔

لندن، 26 جولائی، 2025ء۔

Comments are closed.