|تحریر: زلمی پاسون|

خیبر پختونخواہ میں جاری دہشت گردی کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ سلسلہ کم و بیش گزشتہ دو سے ڈھائی دہائیوں سے مسلسل موجود ہے۔ نام نہاد ”وار آن ٹیرر“ کے دوران خیبر پختونخواہ سمیت پورے ملک میں دہشت گردی نے عوام کو ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار کیا۔ دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک سکول کا سانحہ ہو، کوئٹہ میں وکلاء پر حملہ ہو، یا خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں نام نہاد فوجی آپریشنز کے نتیجے میں لاکھوں افراد کا آئی ڈی پیز بن جانا، یہ تمام واقعات اسی خونچکاں عہد کی یاد دہانی ہیں۔ سابقہ فاٹا کے علاقے تو عملی طور پر دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکے تھے، جہاں امریکی سامراج اور سوویت یونین کی سرد جنگ اور بالخصوص 1978ء کے افغان ثور انقلاب کو خون میں ڈبونے کے لیے، اس پورے خطے کو لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ ایک طویل بحث ہے، جس پر ہم ماضی میں کئی بار تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔
تاہم 15 اگست 2021ء کو افغانستان میں سامراجی پشت پناہی سے اقتدار پر مسلط کی گئی قوتوں کے بعد پاکستان میں نہ صرف جشن منایا گیا بلکہ یہ دعوے بھی کیے گئے کہ اب سب کچھ کنٹرول میں آ جائے گا۔ اسی تناظر میں اُس وقت کی فوجی و سویلین اشرافیہ نے تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو خیبر پختونخواہ کے چند مخصوص علاقوں میں دوبارہ آباد کرنے، یا اُن کے کنٹرول میں دینے کی باتیں شروع کیں۔ لیکن خیبر پختونخواہ کے محنت کش عوام اس بار خاموش تماشائی نہیں تھے۔ انہوں نے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر خیبر پختونخواہ کے ہر گوشے میں عوامی مزاحمت، یعنی ”اولسی پاسون“، کے ذریعے اس عمل کی بھرپور مخالفت کی اور اسے یکسر مسترد کر دیا۔
اسی دوران امریکی سامراج کے غم و غصے میں اضافہ ہوتا چلا گیا، کیونکہ افغانستان سے شرمناک انخلاء کی تمام تر ذمہ داری وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر ڈال رہے تھے۔ اس رویے کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے پاکستان میں اقتدار کی بساط الٹ دی گئی، جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے اندرونی دھڑوں کے تضادات کھل کر سامنے آنے لگے۔
یوں جدلیاتی منطق کے مطابق حالات اپنی ضد میں تبدیل ہونے لگے۔ اس کا اظہار خیبر پختونخواہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حملوں اور دہشت گردانہ کاروائیوں میں اضافے کی صورت میں ہوا۔ بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔ اکتوبر 2025ء میں پاکستان اور طالبان کے درمیان سرحدی تنازعات سے لے کر تجارتی راستوں کی بندش تک، یہ تمام واقعات اسی عمل کا تسلسل ہیں۔ اس وقت پاکستان اور طالبان کے تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہیں اور مستقبل قریب میں ان کے معمول پر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کی کاروائیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے اور گزشتہ دو برس 2024ء اور 2025ء گزشتہ ایک عشرے کے تباہ کن ترین سال ثابت ہوئے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخواہ کے عوام میں اس وقت دہشت گردی اور اس کے نام پر کیے جانے والے نام نہاد فوجی آپریشنز کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے، جس پر آگے چل کر تفصیل سے بات کی جائے گی۔ اس تحریر میں ہم ان تمام حالات کا جامع جائزہ لیں گے اور خیبر پختونخواہ کے محنت کش عوام کے جذبات و احساسات کی درست ترجمانی کرتے ہوئے، ایک درست اور سائنسی مؤقف کے ساتھ موجودہ بحران سے نجات کے امکانات پر بحث کریں گے۔
خیبر پختونخواہ میں جاری دہشت گردی اور اس کی تاریخی وجوہات
یوں تو آج پاکستان کے محنت کش عوام کا بچہ بچہ اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ خیبر پختونخواہ سمیت پورے پاکستان میں دہشت گردی کی بنیادی ذمہ داری یہاں کی فوجی و سویلین اشرافیہ اور ان کے اشاروں پر چلنے والے سکیورٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ دہشت گردی درحقیقت ریاست کی گزشتہ پانچ دہائیوں پر محیط پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے، جن کے تحت دہشت گردی کو باقاعدہ طور پر ”ایکسپورٹ“ کیا گیا، اس کے بدلے ڈالر کمائے گئے اور بیرونِ ملک اثاثے بنائے گئے۔ اگر رسمی منطق کے تحت بات کی جائے تو پانچ دہائیوں تک دہشت گردی برآمد کرنے کے بعد، جب عالمی سطح پر اس ”ایکسپورٹ“ کی طلب میں کمی آئی تو سپلائی کا یہ تعطل ملک کے اندر پھٹ پڑا اور یہی پیداوار داخلی شکل اختیار کر گئی۔ تاہم حقیقت اس سادہ تشریح سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، جس پر آگے چل کر تفصیل سے بات کرنا ناگزیر ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ 2021ء میں افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سامراجی قوتوں کے فطری اتحادیوں، اور نام نہاد ”وار آن ٹیرر“ کے دوران طالبان کے ساتھی و ہمدردوں، یعنی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی کاروائیوں میں نمایاں شدت آئی ہے۔ 2024ء اور 2025ء کے اعداد و شمار اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں، جن میں سینکڑوں افراد مارے گئے، ہزاروں زخمی ہوئے اور بے شمار لوگ مستقل طور پر معذور ہو گئے۔ مختصراً، 2021ء کے بعد خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کی حالیہ لہر غیر معمولی طور پر تباہ کن رہی ہے۔ اسی دوران کالعدم دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی نے اپنی تنظیمی ساخت میں تبدیلیاں کرتے ہوئے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ کشمیر، گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر علاقوں تک اپنے نیٹ ورک کو پھیلانے کی منظم کوششیں تیز کر دی ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی ریاستی پالیسیوں ہی کی پیداوار ہے۔ جو عناصر اسے محض پشتون خطے میں سامراجی کھلواڑ یا کسی نسلی مسئلے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہ یا تو شدید سیاسی نادانی کا شکار ہیں یا پھر دانستہ یا غیر دانستہ طور پر خوف کے باعث ایسا مؤقف اپناتے ہیں تاکہ انہیں ٹی ٹی پی کی کھلی مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ درحقیقت یہ دہشت گردی اسی ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے جس کا آغاز افغان ثور انقلاب کو خون میں ڈبونے کے بعد ہوا اور جسے امریکی سامراج اور سعودی عرب کی سرپرستی میں بدنامِ زمانہ پیٹرو ڈالر جہاد کے ذریعے پورے خطے میں پھیلایا گیا۔
گزشتہ پانچ دہائیوں سے پشتون خطے میں جاری دہشت گردی، جنگ اور عدم استحکام محض ایک داخلی سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی سامراجی پالیسیوں، بالخصوص افغانستان میں نام نہاد سٹریٹیجک ڈیپتھ کی حکمتِ عملی، کا براہِ راست تسلسل ہے۔ پشتون خطے کی غیر معمولی جغرافیائی اہمیت، جو افغانستان، وسطی ایشیا، چین، ایران اور برصغیر کے درمیان ایک اسٹریٹیجک راہداری کی حیثیت رکھتی ہے، نے اسے ریاستِ پاکستان کی سامراجی مہم جوئیوں کا مستقل میدانِ جنگ بنا دیا۔ اسی سٹریٹیجک ڈیپتھ کی پالیسی کے تحت نہ صرف اس خطے کو مسلسل عدم استحکام میں رکھا گیا بلکہ اس کے قدرتی وسائل، سرحدی تجارت، زمینی راستوں اور افرادی قوت کو ریاستی اشرافیہ اور سامراجی مفادات کے لیے بے رحمی سے استعمال کیا گیا، جبکہ مقامی محنت کش آبادی کو غربت، بے دخلی، تباہی اور خوف کے سوا کچھ نہ ملا۔
یہاں اس امر کی وضاحت نہایت ضروری ہے کہ محض ”پشتون ہونا“ یا نسلی بنیادوں پر پشتون قوم کو ٹارگٹ کرنا ہمیں درست طبقاتی اور انقلابی مؤقف سے دور لے جاتا ہے۔ دہشت گردی کسی قوم کی فطری یا ثقافتی خصوصیت نہیں بلکہ مخصوص ریاستی اور طبقاتی پالیسیوں کی پیداوار ہوتی ہے۔ مسئلہ پشتون قوم نہیں، بلکہ وہ سامراجی ریاستی ڈھانچہ ہے جو پشتون خطے کو ایک اسٹریٹیجک مہرے اور وسائل کے ذخیرے کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔
اسی پالیسی کے تحت خیبر پختونخواہ کے محنت کش عوام کو مسلسل جنگی کیفیت میں دھکیلا گیا، تاکہ وہ نہ امن سے جی سکیں اور نہ ہی ایک متحد، منظم اور باشعور سیاسی قوت کے طور پر ابھر سکیں۔ اس حکمتِ عملی کی جڑیں ریاست کو بنگال کی آزادی کے تلخ تجربے سے ملتی ہیں، جہاں ایک مظلوم قوم کی طبقاتی و قومی بیداری نے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اسی خوف نے ریاست کو مجبور کیا کہ پشتون محنت کش عوام کو ہر قیمت پر منتشر رکھا جائے۔
اسی لیے ریاستِ پاکستان کی سامراجی پالیسیوں نے پشتون عوام کو محض سیاسی یا نظریاتی سطح پر ہی نہیں بلکہ مادی اور انفراسٹرکچرل بنیادوں پر بھی منقسم کر دیا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں ترقی اور رابطہ کاری کا پورا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا گیا کہ پشاور اور اس کے مضافاتی علاقے موٹرویز اور دیگر منصوبوں کے ذریعے اسلام آباد سے کہیں زیادہ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ صوبے کے دیگر حصے دانستہ طور پر اس نام نہاد ترقی سے محروم رکھے گئے۔ دوسری جانب سابقہ فاٹا کو دہائیوں تک ریاستی سامراجی پالیسیوں کے تحت الگ تھلگ رکھا گیا، جس نے وہاں سماجی، معاشی اور سیاسی پسماندگی کو مزید گہرا کر دیا۔ یہ مصنوعی علیحدگی آج اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ان علاقوں کو حقیقی معنوں میں آپس میں جوڑنا کسی بنیادی انقلابی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
اسی طرح پشتون قوم کو انگریز سامراج کے دور سے ہی تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور یہ تقسیم آج تک برقرار ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخواہ کے اندرونی تضادات بھی نہایت گہرے ہیں۔ پشاور اور اس کے مضافاتی علاقے ایک الگ سماجی تشکیل رکھتے ہیں، جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا بالکل مختلف سماجی و معاشی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ شمالی اضلاع ایک تیسری تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ تقسیم جزوی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کی عمومی ناہمواریوں کا نتیجہ ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ ریاست کی طویل المدت سامراجی پالیسیوں کا براہِ راست شاخسانہ ہے۔
چونکہ پشتون قوم پاکستان کی دوسری بڑی قوم ہے، اس لیے اگر وہ پرامن حالات میں بالخصوص طبقاتی بنیادوں پر متحد ہو کر برابری، روزگار، زمین، وسائل اور دیگر بنیادی و جائز حقوق کا مطالبہ کرے، تو یہ سرمایہ دارانہ ریاست کے لیے ایک سنجیدہ اور حقیقی چیلنج بن سکتی ہے۔ بالخصوص اس لیے کہ پشتون محنت کش طبقہ آج محض خیبر پختونخواہ یا سابقہ فاٹا تک محدود نہیں رہا بلکہ کراچی سے لے کر پنجاب، سندھ، کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے اور معیشت کے کلیدی شعبوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ محنت کش طبقہ دیگر قومیتوں کے محنت کشوں کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر جڑ جائے تو یہ ریاستی ڈھانچے کے لیے نہایت خطرناک صورتِ حال پیدا کر سکتا ہے۔
اسی ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر ریاستی سرپرستی میں کبھی مذہبی بنیاد پرستی، کبھی عسکریت پسندی، کبھی قوم پرستی کی کھوکھلی سیاست اور کبھی پاپولسٹ نعروں کو فروغ دیا گیا، تاکہ پشتون عوام کو نظریاتی، سیاسی اور سماجی بنیادوں پر مسلسل منقسم رکھا جا سکے اور انہیں ایک مشترکہ طبقاتی جدوجہد کا حصہ بننے سے روکا جا سکے۔
تاہم یہ کہنا بھی ایک سنگین نظریاتی غلطی ہو گی کہ پشتون قوم پرست سیاست کا موجودہ زوال محض ریاستی سامراجی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ ریاستی جبر اور سامراجی مداخلت نے اس سیاست کو محدود ضرور کیا ہے، لیکن اس زوال کی بنیادی وجوہات خود قوم پرست قیادت کا نظریاتی دیوالیہ پن، سرمایہ دارانہ نظام کے اندر اصلاحات تک محدود سیاست، بدلتے ہوئے طبقاتی تضادات کو سمجھنے میں ناکامی اور بالآخر ریاستی بیساکھیوں کی تلاش ہیں۔ آج سرمایہ دارانہ نظام کے عالمی بحران میں قوم پرستی بطورِ نظریہ نہ صرف فرسودہ ہو چکی ہے بلکہ کسی بھی قوم کے محنت کش طبقے کو اپنی طرف مائل کرنے کی صلاحیت بھی کھو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتون قوم پرست سیاست بتدریج عوامی حمایت سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔
اب یہ حقیقت تیزی سے واضح ہو رہی ہے کہ پشتون عوام کے مسائل کا حل نہ تو ریاستی سامراجی پالیسیوں کے اندر موجود ہے اور نہ ہی زوال پذیر قوم پرستانہ نظریات میں۔ اس کا واحد راستہ ایک متبادل، طبقاتی بنیادوں پر استوار انقلابی سیاست اور پورے پاکستان کے محنت کشوں کی مشترکہ جدوجہد ہے۔
پاکستان اور افغان طالبان
پاکستانی ریاست اور افغان طالبان کے درمیان نام نہاد رومانوی تعلقات اب تقریباً اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ریاستِ پاکستان کی گزشتہ پانچ دہائیوں پر محیط نام نہاد تزویراتی گہرائی کی پالیسی نہ صرف مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے بلکہ اب وہ کھل کر بیک فائر بھی کر رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس بیک فائر کے تمام تر نتائج ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف بسنے والے مظلوم محنت کش عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
افغان طالبان کے ساتھ ریاستِ پاکستان کی یاری اب تیزی سے دشمنی میں تبدیل ہو رہی ہے، جس کے اثرات پچھلے تین برسوں سے افغان محنت کش مہاجرین کی جبری بے دخلی کی صورت میں پہلے ہی ظاہر ہو چکے ہیں۔ مگر یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات آگے مزید شدت اختیار کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ پاکستان اور طالبان کے تعلقات میں اب معمول کی فضا کی بحالی کے امکانات انتہائی محدود ہو چکے ہیں، اور یہ حقیقت ریاستِ پاکستان کی فوجی و سویلین اشرافیہ بخوبی جانتی ہے۔ اسی لیے دونوں جانب پرانی دوستیوں اور دشمنیوں کو اپنی ضد میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تعلقات کی اس بگڑتی ہوئی کیفیت میں پاکستانی ریاست تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ایک ایسے آلے کے طور پر پیش کر رہی ہے جسے دونوں ریاستوں کے تعلقات میں ابتری کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کے انفراسٹرکچر، قیادت اور افغانستان میں موجودگی کو مرکزی مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اگرچہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ انہیں جدید امریکی اسلحہ افغان طالبان کے ذریعے حاصل ہو رہا ہو، لیکن افغان طالبان اگر اس عمل کو روکنا بھی چاہیں تو وہ عملاً اس پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کیونکہ طالبان کے اندرونی تضادات بھی ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرنے کی شکتی دینے کی صلاحیت سے افغان طالبان کو محروم کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ افغان طالبان اب خود کو ایک نسبتاً خودمختار قوت کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پاکستان کے دباؤ کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔
خصوصاً افغان طالبان کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات ریاستِ پاکستان کی اشرافیہ کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان نہ صرف ٹی ٹی پی کو بھارت سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ افغان طالبان کو بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ بھارت کا اتحادی یا دلال قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں داعش اور دیگر مذہبی بنیاد پرست تنظیموں کو بھی طالبان سے جوڑنے کی بات اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
اس پوری بحث کا مقصد واضح ہے؛ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کی ذمہ داری براہِ راست اور بلاواسطہ طور پر ریاستی پالیسیوں اور اس کی سامراجی گماشتگی پر عائد ہوتی ہے۔ بیرونی دشمنوں کو موردِ الزام ٹھہرانا نہ صرف حقائق سے دانستہ چشم پوشی ہے بلکہ یہ ریاستی اشرافیہ کی جانب سے اپنے مجرمانہ کردار پر پردہ ڈال کر ملک کے پچیس کروڑ محنت کش عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
یہ بات محض ہم نہیں کہہ رہے، بلکہ خود پاکستانی فوج اور سویلین اشرافیہ کے کئی سنجیدہ اور اہم نمائندے متعدد مواقع پر اس امر کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ریاست نے ایک مجرمانہ کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اس مجرمانہ کردار کی سزا کس کو، کب اور کیسے ملے گی، اس کا فیصلہ موجودہ نظام اور ریاستی سیٹ اپ میں ممکن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کبھی کبھار اگر اپنے ہی طبقے کے کسی فرد کو سزا دی بھی جاتی ہے تو وہ محنت کش عوام کے مفاد میں نہیں ہوتی بلکہ حکمران اشرافیہ کے اندرونی طبقاتی تضادات کے تحت کی جاتی ہے۔ حقیقی انصاف کا فیصلہ صرف پاکستان کے محنت کش عوام ہی ایک فیصلہ کن عوامی تحریک کے ذریعے کر سکتے ہیں۔
ٹی ٹی پی کی موجودہ دہشت گردی کی لہر کے حوالے سے ہم اختصار کے ساتھ محنت کش عوام اور سیاسی قوتوں کے عمومی مؤقف کا ذکر کریں گے۔ ریاست پہلے ہی یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ دہشت گردی سے نجات کو محض فوجی آپریشنز کے ذریعے ممکن سمجھتی ہے، مگر خود ریاستی مؤقف شدید تضادات کا شکار ہے۔ بالخصوص اسٹیبلشمنٹ کا وہ مغلوب دھڑا، جو اگرچہ زوال پذیر ہے اور بظاہر اختتام کے دہانے پر کھڑا ہے، لیکن اس کے مکمل خاتمے کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا ابھی ممکن نہیں۔ اس دھڑے کے طالبان سے قریبی روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔
انہی تضادات کے باعث دہشت گردی کے خلاف ریاستی حکمتِ عملی غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس محنت کش عوام اور مختلف سیاسی قوتیں اس نکتے پر بڑی حد تک متفق ہیں کہ محض فوجی حل نہ تو امن قائم کر سکتا ہے اور نہ ہی دہشت گردی کے اس مسئلے کا کوئی مستقل اور پائیدار حل فراہم کر سکتا ہے۔
دہشت گردی اور محنت کش عوام
افغان طالبان کو مسندِ اقتدار پر بٹھانے کے بعد اُس وقت کی ریاستی پالیسیوں کے تحت پاکستانی طالبان، یعنی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے کم و بیش چھ ہزار دہشت گردوں کی دوبارہ آباد کاری یا خیبر پختونخواہ کے چند علاقوں کو ان کے کنٹرول میں دینے کے خلاف عوامی مزاحمت شاید سب کو یاد ہو۔ اسی پس منظر میں پورے خیبر پختونخواہ میں ایک احتجاجی تحریک اٹھی، جسے عوامی سطح پر ”عوامی انقلاب“ کا نام دیا گیا۔ یہ تحریک کسی باقاعدہ سیاسی قیادت کے بغیر چلائی گئی، مگر اس کے باوجود محنت کش عوام نے نہایت بے باکی اور دو ٹوک مؤقف کے ساتھ ریاست کی اس پالیسی کو مسترد کر دیا۔
اب تک خیبر پختونخواہ کے محنت کش عوام کا دہشت گردی اور اس کے خلاف نام نہاد فوجی آپریشنز کے حوالے سے مؤقف بالکل واضح ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع، بالخصوص جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا میں، متعدد بار جرگے منعقد کیے گئے۔ ان جرگوں میں شریک افراد اور سیاسی کارکنوں کے بیانات منظرِ عام پر آئے، جن میں ریاستی پالیسیوں، دہشت گردی کی کاروائیوں اور نام نہاد فوجی آپریشنز کی کھلے الفاظ میں مذمت اور مخالفت کی گئی۔ بعض جرگوں میں تو یہاں تک کہا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی سیکیورٹی اداروں یا فوجی آپریشنز کی بجائے عوام خود لڑیں گے۔ اس ضمن میں باجوڑ کے علاقے میں سالارزئی قبیلے کے جرگے کا فیصلہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
کئی جرگوں میں یہ فیصلے بھی سامنے آئے کہ اگر کسی شخص نے دہشت گردوں کی معاونت کی تو اس کے گھر کو نذرِ آتش کر دیا جائے گا اور اسے علاقے سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ بعض مقامات پر یہ فیصلے سیکیورٹی اداروں سے تعاون کے حوالے سے بھی سامنے آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ بنوں، ٹانک، شمالی و جنوبی وزیرستان، خیبر، اورکزئی، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک اور لکی مروت کے بے شمار واقعات سوشل میڈیا پر موجود ہیں، جہاں عوام نے دہشت گردوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والوں کو چھڑایا اور دہشت گردی کے خلاف اپنے اجتماعی ردِعمل کا واضح اظہار کیا۔
مختصراً یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پورے خیبر پختونخواہ اور بالخصوص دہشت گردی کی حالیہ لہر سے متاثرہ اضلاع کے عوام، اس وقت دہشت گردی اور نام نہاد فوجی آپریشنز کی تباہ کاریوں سے مکمل طور پر تنگ آ چکے ہیں۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف بندوق اٹھانے کی پالیسی کو خوشی یا شوق سے اپنانا چاہتے ہیں۔ عوام کا واضح مؤقف یہ ہے کہ اگر دہشت گردوں کو عوامی حمایت حاصل نہ ہو تو وہ کسی صورت اس سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ نام نہاد ”وار آن ٹیرر“ کے دوران خیبر پختونخواہ کے عوام دہشت گردوں اور ان کی کاروائیوں سے خوفزدہ تھے، مگر وقت کے زخموں اور مسلسل تباہ کاریوں نے انہیں یہ سکھا دیا ہے کہ اب کسی مسیحا کے انتظار کی بجائے نام نہاد ریاستی دہشت گردی اور ناکام پالیسیوں کے خلاف خود سینہ سپر ہونا ہو گا۔ اسی تناظر میں عوام کی بڑی تعداد بہت حد تک اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ فوجی آپریشنز کا ناکام راستہ مزید آزمانے کی بجائے کسی متبادل حل کی ضرورت ہے۔
تاہم بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ باجوڑ، خیبر، تیراہ اور کئی دیگر علاقوں میں عوام کو ایک بار پھر محدود مدت کے لیے مہاجر بننا پڑا۔ اس کی بنیادی وجہ ایک طرف عوام کی ناگفتہ بہ حالت ہے، تو دوسری جانب کسی منظم سیاسی قوت کا فقدان ہے جو عوامی جذبات اور مزاحمت کو درست سمت میں منظم کر سکے۔ ان مہاجرین کی جہاں کہیں بھی ویڈیوز منظرِ عام پر آئی ہیں، وہاں یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ وہ نہ صرف جبری بے دخلی اور فوجی آپریشنز کے سخت خلاف ہیں بلکہ ان آپریشنز سے کسی بھی قسم کی امید بھی وابستہ نہیں رکھتے۔
سیاسی پارٹیوں اور تحریکوں کا مؤقف
اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے، کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے مسئلے پر زیادہ تر سیاسی پارٹیاں اور تحریکیں شدید نظریاتی دیوالیہ پن کا شکار نظر آتی ہیں۔ ان کے پاس نہ تو کوئی واضح اور مربوط پروگرامیٹک لائن موجود ہے اور نہ ہی وہ اس مسئلے کی طبقاتی و مادی جڑوں کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کرتی ہیں۔ دہشتگردی کو یا تو محض ”سکیورٹی کا مسئلہ“ بنا کر پیش کیا جاتا ہے یا پھر ریاستی پالیسیوں کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات، مذاکرات اور وقتی انتظامی اقدامات کو حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح تمام تر مباحثہ سرمایہ دارانہ ریاست اور اس کے جبر آمیز ڈھانچے کے چوکاٹ میں قید رہتا ہے، جہاں سامراجی جنگوں، مقامی سرمایہ دارانہ مفادات اور ریاستی تضادات کو چھیڑے بغیر مسئلے کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے۔ نتیجتاً یہ پارٹیاں عوام اور محنت کشوں کو منظم انقلابی متبادل دینے کی بجائے اصلاح پسندی، پارلیمانی فریب اور وقتی نعروں تک محدود رہتی ہیں، جو نہ دہشتگردی کو ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ باقی ہم کوشش کریں گے کہ اختصار کے ساتھ پارٹیوں کے مؤقف پر بات رکھیں، تاکہ ہمارے قارئین کو درست طریقے سے افہام حاصل ہو۔
اس وقت خیبر پختونخواہ میں سرگرم سیاسی پارٹیوں کے مؤقف میں واضح طور پر دو بڑی تقسیمیں نظر آتی ہیں۔ ایک جانب وہ پارٹیاں ہیں جو وفاق میں برسرِ اقتدار ہیں، جیسے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی۔ یہ دونوں جماعتیں مرکزی سطح پر فوجی آپریشنز کی حمایت کرتی ہیں اور انہی آپریشنز کو دہشت گردی یا درست الفاظ میں نام نہاد مسلط شدہ ریاستی دہشت گردی، کا حل سمجھتی ہیں۔ تاہم صوبائی سطح پر ان کا بیانیہ اکثر مرکزی پالیسی سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر یہ دونوں پارٹیاں اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی ”بی ٹیم“ کے طور پر کام کر رہی ہیں اور اس کے فیصلوں کے خلاف ایک لفظ بولنے کی سکت نہیں رکھتیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف ہے، جو اس وقت خیبر پختونخواہ میں برسرِ اقتدار ہے اور موجودہ حکومت اس کی تیسری مدت ہے۔ تحریک انصاف فوجی آپریشنز کی مخالفت دو بنیادی وجوہات کی بنا پر کر رہی ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وقتی محاذ آرائی کی کیفیت میں ہے۔ دوسری اور اس سے بھی زیادہ اہم وجہ، یہ ہے کہ تحریک انصاف کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا شدید خوف لاحق ہے۔ اسی خوف کے باعث وہ فوجی آپریشنز کی مخالفت کر رہی ہے، کیونکہ وہ عوامی نیشنل پارٹی کے 2008ء سے 2013ء کے دورِ حکومت کے تجربے سے سبق سیکھ چکی ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تحریک انصاف کوئی نظریاتی پارٹی نہیں، بلکہ خالصتاً پاپولسٹ سیاست کے تحت وجود رکھتی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران اس جماعت نے خیبر پختونخواہ کے محنت کش عوام کو جس ”ٹرک کی بتی“ کے پیچھے لگایا، اس کا حاصل سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نہیں نکلا۔
اسی طرح مذہبی سیاسی جماعتیں، جیسے جماعتِ اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن)، بھی فوجی آپریشنز کی مخالف ہیں۔ تاہم ان کی مخالفت عوامی نقطہ نظر یا اصولی بنیادوں پر نہیں بلکہ زیادہ تر اپنی قیادت اور کارکنوں کی حفاظت تک محدود ہے۔ یہ جماعتیں بخوبی جانتی ہیں کہ اگر وہ کھل کر ریاستی پالیسیوں کی مخالفت کریں گی تو انہیں بھی شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جیسا کہ حالیہ برسوں میں جمعیت علمائے اسلام کے خلاف داعش کے حملوں کی صورت میں دیکھا جا چکا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے اس جائزے کے آخری حصے میں پشتون قوم پرست پارٹیوں اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے مؤقف پر بات کرنا ضروری ہے۔ پشتون قوم پرست جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی شامل ہیں۔ ان میں سے مؤخر الذکر، یعنی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، کا مؤقف اس کے چیئرمین کے مطابق بالکل واضح ہے: وہ ٹی ٹی پی کو سامراجی جنگوں اور نام نہاد فوجی آپریشنز کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور انہیں ”اپنے وطن کے لوگ“ سمجھتے ہوئے ان کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کاروائی کی حمایت نہیں کرتے۔ یہ مؤقف نہایت غیر سائنسی، موقع پرستانہ، حقائق سے چشم پوشی پر مبنی اور خوف سے عبارت ہے۔
دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کا مؤقف ایک دوسرے سے خاصا ملتا جلتا ہے۔ یہ جماعتیں ٹی ٹی پی کو ریاستی پالیسیوں اور سامراجی جنگوں میں ریاست کی گماشتگی کا نتیجہ سمجھتی ہیں اور اسے ریاست کے اندرونی تضادات کا اظہار قرار دیتی ہیں، تاہم وہ فوجی آپریشنز کے معاملے پر واضح اور فیصلہ کن مؤقف اختیار کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر عوامی نیشنل پارٹی فوجی آپریشنز کی مخالفت کرتے ہوئے یہ مؤقف رکھتی ہے کہ اگر 21 فوجی آپریشنز امن قائم نہیں کر سکے تو 22واں آپریشن بھی اس مسئلے کا حل نہیں ہو گا۔ اے این پی (عوامی نیشنل پارٹی) کے مطابق دہشت گردی کا حل سیاسی عمل اور مقامی قیادت کی سربراہی میں امن کے اقدامات، قبائلی روایات اور جرگوں کے ذریعے تربیت یافتہ مذاکرات، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور پرامن سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
جولائی 2025ء میں عوامی نیشنل پارٹی کی صدارت میں منعقد ہونے والے ایک جرگے میں خیبر پختونخواہ کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ اس جرگے میں متفقہ طور پر نئے فوجی آپریشنز کی مخالفت کا فیصلہ کیا گیا اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو فوجی آپریشنز کی آڑ میں اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرے گی۔ اس کے علاوہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے دس روزہ ڈیڈ لائن دی گئی اور آئندہ کے لائحہ عمل میں اسلام آباد یا راولپنڈی میں ممکنہ احتجاجی دھرنے پر مشاورت بھی شامل تھی۔ تاہم دیگر جرگوں کی طرح اس جرگے کو بھی اب لگ بھگ چھ ماہ گزر چکے ہیں، مگر آج تک کوئی ٹھوس اور عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ اس جرگے میں نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا مؤقف بھی تقریباً یہی تھا۔
پشتون تحفظ موومنٹ کا خیبر پختونخواہ سمیت دیگر پشتون علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف حالیہ فوجی آپریشنز پر شروع سے ہی سخت تنقیدی مؤقف رہا ہے۔ پی ٹی ایم ریاستی فورسز اور سیکیورٹی اداروں کی پالیسیوں کو پشتون قوم پر مسلط دہشت گردی اور ریاستی جبر کے طور پر دیکھتی ہے اور فوجی آپریشنز کو پشتون عوام کے خلاف ظلم و استبداد قرار دیتی ہے۔ پی ٹی ایم کے قائد منظور پشتین کے مطابق ریاست انسدادِ دہشت گردی کے نام پر درحقیقت پشتون علاقوں میں ریاستی دہشت گردی کر رہی ہے۔
تاہم جب اسی ریاستی دہشت گردی کے خلاف کسی عملی حل کی بات آتی ہے تو پی ٹی ایم کے پاس کوئی واضح، منظم اور قابلِ عمل لائحہ عمل نظر نہیں آتا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کا راستہ کیا ہونا چاہیے۔ اکتوبر 2024ء میں منعقد ہونے والے خیبر جرگے میں پی ٹی ایم نے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے چند اہم نکات پیش کیے، جن میں تمام مسلح دہشت گرد گروہوں اور پاکستانی فوج سے یہ مطالبہ شامل تھا کہ وہ دو ماہ کے اندر پشتون علاقوں سے نکل جائیں۔ اسی جرگے میں منظور پشتین نے ایک بڑی، عوامی اور غیر مسلح رضاکار فورس کے قیام کی تجویز بھی پیش کی، جس کا مقصد پشتون عوام کے حقوق کا تحفظ اور امن کے لیے جدوجہد بتایا گیا۔ تاہم اس تجویز پر جرگے کے متعدد شرکاء نے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس مطالبے کو وسیع مشاورت کے بغیر شامل کیا گیا ہے۔
مختصراً، پی ٹی ایم کے زیرِ اہتمام یہ تاریخی جرگہ اپنے انعقاد کے فوراً بعد ہی عملی طور پر غیر فعال ہو گیا، جبکہ دوسری جانب دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، فوجی آپریشنز کی بھرمار ہے، عوام مارے جا رہے ہیں اور لوگ ایک بار پھر دربدر ہونے پر مجبور ہیں۔
عوام اور سیاسی قیادت کے درمیان خلیج! کیوں؟
دہشت گردی کے خلاف اس تحریر میں محنت کش عوام اور مختلف سیاسی رجحانات کے مؤقف کو واضح کیا جا چکا ہے۔ بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ دہشت گردی جیسے ناسور کے خلاف، کم از کم الفاظ کی حد تک، سب کی مذمت اور مخالفت ایک ہی صفحے پر ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ پھر وہ کون سا مسئلہ ہے جو عوام اور سیاسی قیادت کے درمیان حائل ہے؟ دوسری جانب یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ ریاست اور اس کے دلال محنت کش عوام کے برعکس مخالف سمت میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ایک بار پھر طاقت، عسکری کاروائیوں اور سیکیورٹی اداروں کے ذریعے اس بحران کو حل کرنا چاہتے ہیں۔
جیسا کہ پہلے بھی واضح کیا جا چکا ہے، عوام اور اکثریتی سیاسی رجحانات کے درمیان دہشت گردی اور اس کے خلاف ریاستی رویے پر ایک ظاہری اتفاق ضرور موجود ہے، مگر گہرائی میں دیکھا جائے تو اصل تضاد اور بحران عوام اور موجودہ سیاسی قیادت کے درمیان موجود خلیج میں پوشیدہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی انقلابی قیادت کا بھی مکمل فقدان ہے جو عوامی جذبات کی درست اور شعوری ترجمانی کر سکے۔ یہ خلیج محض بیانیوں یا بیانات کے فرق تک محدود نہیں، بلکہ ایک گہرا سیاسی اور ساختی مسئلہ ہے، جو خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے مستقل خاتمے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
عوام جو کچھ چاہتے ہیں اور جس شعوری سطح تک پہنچ چکے ہیں، سیاسی قیادت اس سے کہیں پیچھے کھڑی نظر آتی ہے۔ محنت کش عوام کے لیے دہشت گردی اور ریاستی فوجی آپریشنز ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، کیونکہ دونوں صورتوں میں تباہی اور بربادی کا شکار عام لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اسی لیے عوامی شعور اب اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ نہ تو مسلح گروہوں کی موجودگی سے ممکن ہے اور نہ ہی ریاستی طاقت کے بے لگام استعمال سے۔
اس کے برعکس سیاسی قیادت عملی میدان میں ریاستی فریم ورک سے باہر قدم رکھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ اسمبلیوں میں قراردادیں تو پیش کی جاتی ہیں، مگر وہ انتہائی مبہم، محتاط اور بے ضرر نوعیت کی ہوتی ہیں۔ جرگوں اور کانفرنسوں میں امن کی بات ضرور کی جاتی ہے، لیکن جب ذمہ داری کے تعین کا مرحلہ آتا ہے تو تذبذب کا شکار ہو کر اصل ذمہ داروں کی نشاندہی، ان کی پالیسیوں پر تنقید اور کسی متبادل راستے کی بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عوام اور سیاسی قیادت کے درمیان خلیج پوری شدت سے عیاں ہو جاتی ہے۔ عوام سوال کرتے ہیں: دہشت گردی کی جڑیں کہاں ہیں؟ ریاست نے کیوں اور کیسے ان قوتوں کو پروان چڑھایا؟ اور ہر بار اس کی قیمت پشتون عوام ہی کیوں ادا کرتے ہیں؟ ان بنیادی سوالات پر اکثریتی سیاسی جماعتیں خاموشی اختیار کر لیتی ہیں، اگرچہ چند پارٹیاں اور پی ٹی ایم جیسی تحریکیں ریاستی اور سامراجی پالیسیوں کا نسبتاً درست ادراک ضرور رکھتی ہیں۔
مگر یہاں مسئلہ ان جماعتوں اور تحریکوں کے ساتھ بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ نظریاتی طور پر ”ہوا میں معلق“ دکھائی دیتی ہیں۔ اپنی فرسودہ سیاسی سوچ کے باعث وہ عوام کو منظم اور جیتنے کی بجائے یا تو ریاستی بیساکھیوں کی طرف دیکھتی ہیں یا پھر محض شخصیات مخالف سیاست تک محدود ہو جاتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ عوامی جذبات اور اجتماعی شعور کی حقیقی ترجمانی کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت کا بنیادی مسئلہ بھی اسی نظریاتی اور سیاسی لائحہ عمل سے جڑا ہوا ہے۔ وہ دہشت گردی کے ناسور کی درست تشخیص تو کرتی ہے، مگر جب علاج کی بات آتی ہے تو گویا کینسر کا علاج سادہ پیناڈول سے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سے مریض کو افاقہ ہونے کی بجائے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ حالات میں پی ٹی ایم کی پسپائی اور محدودیت کی اصل وجہ مسئلے کی تشخیص نہیں، بلکہ ایک واضح، ٹھوس اور متبادل پروگرام کی عدم موجودگی ہے۔
بعض اوقات پی ٹی ایم یا دیگر حلقوں سے یہ بات بھی سننے کو ملتی ہے کہ ریاست یا سیکیورٹی ادارے، یعنی اسٹیبلشمنٹ، جان بوجھ کر ریاستی دہشت گردی کو پی ٹی ایم یا دیگر سیاسی رجحانات کے ساتھ ٹکرانے کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے ”احتیاط“ ضروری ہے۔ ساتھ ہی یہ مؤقف بھی سامنے آتا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ اسی ریاست کی ذمہ داری ہے جس نے دہشت گردی کو پروان چڑھایا ہے۔ یہاں ایک نئی کنفیوژن جنم لیتی ہے: اگر فوجی آپریشنز نہیں تو پھر سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کا خاتمہ کیسے کریں گے؟
اس سوال کے جواب میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ دہشت گردوں کو اب بھی ریاست کی سرپرستی حاصل ہے اور اگر ریاست اس سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لے تو دہشت گردی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ رسمی منطق کے لحاظ سے یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے، مگر اسی بنیاد پر سیاست کرنے والے حلقے اکثر دہشت گردی کو سازشی نظریات میں تحلیل کر دیتے ہیں اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دہشت گرد مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں ہیں اور ریاست جب چاہے انہیں ختم کر سکتی ہے۔
اس تمام صورتحال کا حتمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے خلاف ایک حقیقی، عوامی اور مؤثر جدوجہد جنم نہیں لے پا رہی۔ عوام غصے، خوف اور بے بسی کے عالم میں ہیں، جبکہ سیاسی قیادت ان جذبات کو ایک منظم، باشعور اور انقلابی سیاسی قوت میں ڈھالنے میں بری طرح ناکام ہے۔ جب تک عوام اور سیاسی قیادت کے درمیان یہ خلیج برقرار رہے گی، جب تک ایک واضح متبادل قیادت اور پروگرام جنم نہیں لیتا، تب تک دہشت گردی کے خلاف ہر حکمتِ عملی یا تو ریاستی جبر کی نذر ہوتی رہے گی یا محض بیانات اور قراردادوں کی حد تک محدود رہے گی۔
دہشت گردی کا خاتمہ مگر کیسے؟
اس بحث کو درست طور پر سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے کہ ریاستِ پاکستان اس وقت ایک شدید اور ہمہ گیر بحران کا شکار ہے۔ ریاستی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، معیشت دیوالیہ پن کے دہانے پر ہے اور حکمران اشرافیہ اپنی بقا کے لیے جبر اور انتشار کو واحد ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ فوج بظاہر اب تک وہ واحد ادارہ ہے جس میں نام نہاد نظم و ضبط اختلافات کو دبائے رکھے ہوئے ہے، مگر اس نظم کے اندر دراڑیں کورٹ مارشلز، داخلی کشمکش اور پالیسی تضادات کی شکل میں بار بار سامنے آ رہی ہیں۔
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں ریاست کی سامراجی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں تو یہ بات تاریخی اور سیاسی طور پر بالکل درست ہے۔ مگر جدلیاتی منطق ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ سماجی و سیاسی مظاہر جامد نہیں رہتے۔ وہ حالات کے دباؤ میں اپنی ضد میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان اب اسی ریاست کے لیے ایک بوجھ اور خطرہ بن چکے ہیں جس نے انہیں ماضی میں پروان چڑھایا تھا۔ یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ ان تنظیموں کے اندر آج بھی ریاستی سرپرستی کے کچھ دھڑے موجود ہو سکتے ہیں، مگر ریاست مجموعی طور پر اب اس پوزیشن میں نہیں رہی کہ وہ ماضی کی طرح ان گروہوں کو مکمل کنٹرول میں رکھ سکے۔
اس کھوکھلے پن کا اظہار ہمیں خیبر پختونخوا میں ریاستی جبر کی شدت، جبری بے دخلیوں، محدود فوجی آپریشنز اور مسلسل عدم استحکام کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبر پختونخوا کو غیر مستحکم رکھنا، وہاں کے محنت کش عوام کو منتشر کرنا اور مستقل سیکیورٹی بحران کو جواز بنا کر فوجی انسٹالیشنز اور وسائل کی لوٹ مار کو جاری رکھنا ریاستی سامراجی پالیسیوں کا ایک اہم ستون ہے۔
دوسری جانب یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی اور نام نہاد فوجی آپریشنز، دونوں سے بیزار ہو چکے ہیں۔ عوام کسی نئی جنگ، کسی نئی خانہ جنگی یا کسی نئے ”آپریشن“ کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا شعور اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ نہ مسلح گروہوں کی موجودگی سے ممکن ہے اور نہ ہی ریاستی طاقت کے اندھے استعمال سے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ عوام جانتے ہیں کہ وہ کیا نہیں چاہتے، لیکن انہیں یہ نہیں بتایا جا رہا کہ کیا کرنا ہے۔
یہی وہ خلا ہے جہاں سیاسی قیادت کی ناکامی مکمل طور پر عیاں ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی پارٹیاں نہ صرف عوامی شعور سے پیچھے کھڑی ہیں بلکہ وہ خوف، مراعات اور ریاستی فریم ورک سے باہر قدم رکھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو چکی ہیں۔ بعض قوم پرست حلقے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ریاست چاہتی ہے سیاسی قوتوں اور دہشت گردوں کو آپس میں لڑایا جائے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کھلی سیاسی-عسکری محاذ آرائی خیبر پختونخوا کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے گی، جو خود ریاست کے لیے بھی ناقابلِ برداشت ہو گی۔ اسی لیے ریاست محدود پیمانے پر تشدد، عدم استحکام اور کنٹرولڈ انتشار کو ترجیح دیتی ہے۔
یہ بات بھی خارج از امکان نہیں کہ دہشت گرد سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنائیں، جیسا کہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ہوا، مگر ایسی کسی بھی صورتِ حال میں سب سے زیادہ نقصان خود ٹی ٹی پی اور ریاست دونوں کو ہو گا، کیونکہ اس سے ان کی رہی سہی ساکھ اور رِٹ مزید بے نقاب ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران اشرافیہ مکمل محاذ آرائی سے فی الحال گریز کر رہی ہے، اگرچہ محدود پیمانے پر ایسے حربوں کا استعمال جاری رہ سکتا ہے۔
دہشت گردی کا خاتمہ جرگوں، کانفرنسوں اور محض بیانات سے ممکن نہیں۔ یہ مسئلہ سنجیدہ، سائنسی اور انقلابی حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ منظم عوامی قوت کے بغیر کسی بھی مسلح ردِانقلابی طاقت کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ اسی تناظر میں واحد قابلِ عمل راستہ جمہوری طور پر منتخب عوامی دفاعی کمیٹیوں کی تشکیل ہے۔
یہ دفاعی کمیٹیاں ہر سطح پر بنائی جانی چاہئیں؛ ضلع، تحصیل، یونین کونسل، گلی، محلہ، تعلیمی ادارے، کارخانے، کھیت، فیکٹریاں، یعنی جہاں جہاں محنت کش عوام موجود ہیں۔ یہ کمیٹیاں نہ صرف دہشت گردوں کے لیے عوامی حمایت کا مکمل خاتمہ کریں گی بلکہ ریاستی جبر، جبری بے دخلیوں اور نام نہاد آپریشنز کے خلاف بھی اجتماعی دفاع فراہم کریں گی۔
ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف ملک گیر طبقاتی یکجہتی ناگزیر ہے، جو صرف محنت کش طبقہ ہی فراہم کر سکتا ہے۔ اسی لیے یونینائزڈ محنت کشوں، فیکٹری مزدوروں، اساتذہ، طلبہ اور سرکاری ملازمین کی شمولیت ان دفاعی کمیٹیوں کی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ محنت کش طبقے کی شرکت کے بغیر یہ جدوجہد نہ پائیدار ہو سکتی ہے اور نہ ہی کامیاب۔
یہ بھی واضح ہے کہ عوام کو منظم کرنے کے لیے سیاسی قیادت ناگزیر ہے۔ منتشر غصہ خودبخود منظم قوت میں تبدیل نہیں ہوتا۔ پی ٹی ایم ایک موقع پر اس خلا کو پُر کر سکتی تھی، مگر نظریاتی کمزوری اور واضح متبادل پروگرام کی عدم موجودگی نے اسے محدود کر دیا ہے۔ مگر کسی مسیحا کے انتظار کی بجائے اب خود عوام کو آگے بڑھنا ہو گا۔
اسی تناظر میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھیوں پر ایک تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خیبرپختونخوا سمیت پورے پاکستان میں ایک انقلابی، طبقاتی اور عوامی متبادل کی تعمیر کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں۔
امن، روٹی اور قدرتی وسائل پر محنت کش عوام کا حق، یہ نعرہ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو یکجا کر سکتا ہے بلکہ اس پورے غیر انسانی سرمایہ دارانہ سماج کے خاتمے اور ایک نئے، انسانی سماج کی تعمیر کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔
ہم خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان کے نوجوانوں، محنت کش عوام، طلبہ اور سنجیدہ سیاسی کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس انقلابی متبادل کی تعمیر میں ہمارا ساتھ دیں۔ تاکہ ہم نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کر سکیں بلکہ اس جبر، استحصال اور خونریزی پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کو بھی ہمیشہ کے لیے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک سکیں۔
پیر، 28 جنوری 2026ء




















In defence of Marxism!
Marxist Archives
Progressive Youth Alliance